اپسرا – ایک عورت ڈھائی فسانے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”تو مجھ سے شادی کرے گی؟“
”کر لوں؟“ مایا نے دھیمے سے لہجے میں، دِل باختگی سے پُوچھا۔
”اللہ کا نام ہے، کہیں ہاں ہی نہ کَہ دینا۔“ شکیل مَتذَبذِب ہنسی کے بیچ میں گویا ہوا۔
”جس طرح میرا بیٹا تم سے اٹیچڈ ہے، دِل کرتا ہے، میں تم سے شادی کر لوں۔“ مایا نے بڑی لگاوٹ سے جِتلایا۔
”اچھا چھوڑو، ابھی تم نواز ہی کے بارے میں سوچو۔ میرے ساتھ تم خوش نہیں رہ سکتیں۔“ دونوں مایا کے گھر کے ڈرائنگ رُو م میں بیٹھے تھے۔
جی پی او میں کلرک کے عہدے پر فائز مایا کو دو سال ہوئے، اُس کا شوہر طلاق دے چکا تھا۔ شوہر سے اُس کا ایک بیٹا تھا، جس کی عمر تین سال تھی۔ وہ اپنے بچے کے ساتھ، بیوہ بہن کے یہاں رہتی تھی۔ شکیل شاعروں کے حلقے میں معروف تھا، اور شاعروں کا جیسا احوال ہوتا ہے، وہ ویسا ہی تھا۔

مایا نو آموز تھی۔ اپنی ٹوٹی پھوٹی شاعری پر شکیل سے اِصلاح لِیا کرتی۔ شکیل اُس کی نثری کاوش کو منظوم کر دیتا۔ شکیل ہی اُسے مشاعروں تک لے کر گیا۔ مایا نے مشاعروں میں، جس غزل پر سب سے زیادہ داد سمیٹی، وہ در حقیقت شکیل ہی کے فن کا کمال تھا۔ شکیل کا کہنا تھا، تم خود غزل ہو۔ ایسی غزل جسے کئی بحروں میں لکھا جا سکتا ہے۔ احوال یہ تھا، کِہ ایک بچے کی ماں بننے کے با وجُود مایا کے بَدن کا رَدِیف قافِیَہ ایسا چست تھا، کِہ اُسے دیکھتے ہی مردوں کے پَسینے چھُوٹ جائیں۔ شکیل کا خیال تھا، وہ زَرا سی فربہ ہے۔ اپنا وزن کم کرے تو اور بھی پر کِشش دِکھائی دے گی۔ مایا جواب دیتی، کِہ نواز کو وہ اِسی حال میں قبول ہے۔ اُس نے شکیل کو یہ قِصہ بھی سنایا تھا، کِہ نواز نے جب پہلی مرتبہ اُسے بے لباس دیکھا، تو اُس کی آنکھوں میں پسندیدگی کی چمک دیکھتے، مایا نے شریر لہجے میں پوچھا، کیا مَیں اپنا وزن کم کروں؟ تو نواز کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا، کبھی نہیں۔

”ایک طرف تم نواز کو چاہتی ہو، دوسری طرف تُم سعید سے پِینگیں بڑھا رہی ہو! تم آخر کرنا کیا چاہتی ہو، میری سمجھ سے باہر ہے؟!“
”کیا کروں! مجھے آپ اپنی سمجھ نہیں آتی۔“
”برباد کر رہی ہو، اپنے آپ کو۔ نواز اچھا آدمی ہے، اُسے دھوکا مت دو۔“
”ہاں! تم صحیح کہتے ہو۔ لیکن مَیں کیا کروں، مجھے خود پر قابو نہیں ہے۔ تم ٹھیک کہتے ہو، مَیں اچھی عورت نہیں ہوں۔ دِلوں سے کھیلتی ہوں۔“
”مَیں نے یہ کب کہا، کِہ تُم اچھی عورت نہیں ہو؟ مَیں تو ہمیشہ یہ کہتا آیا، کِہ تم نیک رُوح ہو۔“
”نیک رُوح ہوں، تو مَیں یہ کیا کر رہی ہوں؟ تم جانتے ہو، میرا دِل کسی ایک مرد پر نہیں ٹھیرتا۔ مَیں بہت بری عورت ہوں۔“


شکیل نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ ”دیکھو! تم مردوں کو نہیں جانتیں۔ تمھیں پَرَکھ نہیں ہے، مرد کی۔“
”تم بھی تو مرد ہو، تمھیں پَرکھ کے دیکھ تو لیا!“
”بیچ میں مت بولا کر، میری بات پُوری ہونے دیا کر۔ بہت بری عادت ہے، تیری۔“ شکیل چِڑ چِڑے پن کا شکار ہو رہا تھا۔
”اچھا بول! کیا کہتا ہے۔“
کبھی تو، کبھی تم، کبھی آپ۔ اُن کے بیچ میں تَخاطُب کے انداز بدلتے رہتے۔ شکیل نے اُسے دوسری طرح سمجھانا چاہا۔ ”تم مردوں کی خَصلت سے واقِف نہیں۔ مرد بڑا حرامی ہوتا ہے، عورت کو چٹکیوں میں بے وقوف بنا دیتا ہے۔ عورت تَعرِیف کے جال سے بچ ہی نہیں سکتی۔ تم تو بالکل نہیں۔“
مایا نے اُس کی بات سنی ان سنی کرتے پوچھا، ”مَیں تمھاری بات کراوں، سعید سے؟“
”نہیں نہیں! مت کراو۔ کوئی پَردَہ رہنے دو۔“ شکیل نراش تھا، کِہ مایا اُس کی نصحیتوں پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہے۔
”لے! تجھ سے کیا پَردہ؟ ہر بات تو بتاتی ہوں، تجھے۔ سعید کو خبر ہے، کِہ تو میری اور اُس کی دوستی کے بارے میں جانتا ہے۔“
”تیری اور اُس کی دوستی کی بات نہیں ہو رہی۔ مَیں نے یہ کہا، کِہ سعید کی بات مُجھ سے مت کیا کر۔“
مایا نے حیران آنکھوں سے دیکھتے سوال کِیا، ”کیوں؟۔۔ جلتا ہے، تو؟“
”مَیں کیوں جلوں گا، یار!؟“ شکیل پر جھُنجلاہٹ طاری ہوگئی۔ ”مَیں ہر فیصلے میں تیرے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں۔۔ اور تو۔۔۔ تو مجھے یہ کَہ رہی ہے؟“
مایا نے اُسے مِٹھاس بھری نظروں سے تکتے کہا، ”جلتا ہے، تو۔“
”اچھا جلتا ہوں۔۔۔ تو ایسے کہاں مانے گی۔ آگے بول!“ شکیل نے اِس موضُوع سے جان چھُڑانے کے لیے کَہ دیا۔
”کیا ہو گیا ہے۔ تو اتنا پریشان کیوں ہے؟ سعید کو نہیں پَتا کیا؟ سب بتاتی ہوں، کِہ میرا تجھ سے کوئی پَردَہ نہیں ہے۔ وہ جانتا ہے، کِہ ہر بات تجھے بتاتی ہوں۔ راز دار ہے تو میرا۔“

شکیل کے چہرے سے بیزاری صاف ظاہر تھی۔ ایسے میں مایا کو اُس پہ پیار آیا۔ اُس نے بے ساختہ شکیل کو اپنے سے لپٹا کے، اُس کے لَبوں سے لَب مِلا دیے۔ ڈرائنگ رُوم میں کسی بھی لمحے مایا کی بہن یا بچے آ سکتے تھے۔ اِس خدشے کے پیشِ نظر، بوسہ کاری کی یہ عبادت چند ثانیوں سے زیادہ ممکن نہ ہوئی۔ شکیل سَر تا پا پِگھل گیاتھا۔ مایا خُوب جانتی تھی، کِہ کیسے شکیل سے اپنی بات منوانی ہے۔ بعد میں شکیل نے اپنی ایک نظم میں لکھا:
”ہر وہ بوسہ مُقدس ہوتا ہے، جو بے ساختہ اَدا ہو۔“
”دیکھو! نواز کو تمھارے سعید سے بات کرنے پر اعتراض ہے، مَیں نہیں سمجھ پاتا، کِہ تم شادی کے بعد سعید سے تعلق کو کیسے مینیج کرو گی؟“
”نواز سے شادی کے بعد سعید کو چھوڑ دوں گی ناں۔۔۔ بَس دِل میں کوئی حسرت تو نہیں رہے گی۔۔ سمجھ رہے ہو؟۔۔ میں نواز سے شادی کرنے سے پہلے اپنی یہ حَسرت پوری کرنا چاہتی ہوں۔“
نواز جی پی او میں مایا کا افسر تھا۔ اپنی بیوی سے اُس کے تعلقات کشیدہ تھے۔ ایسے میں مایا اُس کی زندگی میں داخل ہوئی۔ نواز جانتا تھا کِہ شکیل، مایا کا قریبی دوست ہے، اور وہ اُس سے شاعری کی اِصلاح لیتی ہے۔ نواز کو یہ بھی معلوم تھا کِہ مایا، شکیل کو بہت مان دیتی ہے۔ اِس لیے جب جب مایا اُس سے ناراض ہوتی، وہ مایا کی بے اعتنائی کا گِلہ شکیل ہی سے کِیا کرتا، کِہ وہ مایا کو سمجھائے۔ نواز کو شکیل پر اِتنا اعتماد تھا، کِہ پچھلے دِنوں مایا، شکیل کے ساتھ مشاعرہ پڑھنے مَری گئی، تو اُس نے بَہ خوشی اجازت دے دی تھی۔
’شکیل بھائی! ایک آپ ہی ہیں، جس پر میرا ایمان ہے۔“


دوسری طرف سعید، شکیل کا دوست تھا۔ سعید کا مَری میں اپنا ہوٹل تھا۔ مشاعرے کے اختتام پر شکیل اور مایا اُس کے ہوٹل کے کمرے میں ٹھیرے تھے۔ یہیں سے یہ کہانی شُروع ہوئی۔
”سعید پہلی نظر میں مجھے بھا گیا تھا۔ سعید بھی یہ کہتا ہے، مَیں اُسے پہلی نظر میں اچھی لگی تھی۔“
”یہ سب میرا قصور ہے۔ تمھیں وہاں لے کے ہی نہیں جانا چاہیے تھا، مجھے۔“
”تیرا تو احسان ہے، مجھ پر۔ تو نے ہی تو ملوایا ہے، اُس سے۔۔۔ مَیں اُس پر فِدا ہو چکی ہوں، شکیل۔“
”چل اے! تیری تو عادت ہے۔ مرد دیکھا نہیں، اور مَر مِٹی نہیں۔“
”ٹھیک کہتا ہے، تو۔ مَیں ہوں ہی بری۔“
”یہ مَیں نے کب کہا؟ تو تو نیک رُوح ہے۔“
”ایک تو ہی مجھے اجازت دے سکتا ہے۔ تیری اِتنی سنتی ہوں۔ سوچتی ہوں، تجھی سے شادی کر لوں۔“
شکیل جانتا تھا، مایا اُس کا دِل رکھنے کو کہتی ہے، ورنہ اُس کا ایسا کوئی اِرادہ نہیں ہے۔
”سوچنا بھی مت۔ تم میرے ساتھ خوش نہیں رہ سکتیں۔ اور وجہ تم جانتی ہو، کِہ کیوں۔“
”ہاں! یہی تو سوچ کر چپ کر جاتی ہوں۔“
”تمھیں خوش حال شخص چاہیے، جو تمھاری ہر خوشی پوری کر سکے۔ اور مَیں ٹھیرا فقط شاعر۔“
”اچھا چلو چھوڑو! میرا موڈ آف مت کرو۔ کوئی اور بات کرتے ہیں۔“ مایا نے منہ بِسور لِیا۔
شکیل جب جب ذہنی دباو کا شکار ہوتا توسوچا کرتا، وہ کس جال میں آ پھنسا ہے۔ مایا اور اُس کے تعلق کا تاگا، مَکڑی کا ایسا جالا ہے،جِس سے چھوٹنے کے لیے جتنے ہاتھ پاوں مارو، وہ مزید اُلجھتا جاتا ہے۔
”یار! مَیں تمھارے لیے فِکر مَند ہوں۔“ شکیل نے پریشانی بیان کی۔
”چل! اُس کے پاس چلتے ہیں۔ سعید کے پاس جاتے ہیں، مَری۔“ مایا کی سوئی سعید پہ اٹکی ہوئی تھی۔
”مَیں کیوں؟۔۔ تم اکیلی جاو۔ مجھے کیوں کباب میں ہڈی بنا کے لے جانا چاہتی ہو!؟“
”تو میرا شہزادہ ہے۔ ایسی بات مت کر۔ ویسے تو اُسے ایک اشارہ کروں، خُود ہی آ جائے۔ تجھے نہیں پَتا، بہت چاہتا ہے، مجھے۔“
”بھول ہے، تیری۔ وہ تجھ سے شادی نہیں کرے گا۔“
”مَیں نے شادی کا کب کہا؟“ مایا نے شکیل کو یوں دیکھا، جیسے کسی احمق کو سمجھا سمجھا تھک گئی ہو۔ ”مَیں اُسے چاہتی ہوں، بَس!۔۔ اِتنا بہت ہے۔۔ شادی تو میں نواز سے کروں گی۔“

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 291 posts and counting.See all posts by zeffer-imran