ٹریولز آف دین محمد: 18ویں صدی کے ہندوستان میں سونے چاندی کے ڈھیر اور بھوک سے مرتے انسان
انگریز افسروں کے انڈیا میں ٹھاٹھ باٹھ
دین محمد نے جہاں اپنے سفر نامے میں نوابین اور راجاؤں کی آن بان بیان کی وہیں برطانوی راج کے افسران کے ہندوستان میں ٹھاٹھ باٹھ کا بھی ذکر کیا ہے۔
پٹنہ میں راجہ ستپ رائے کے محل میں یورپی افسران کی دعوتوں کی منظر کشی کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’راجہ ستپ رائے شاندار محل میں یورپی افسران کے لیے پرتکلف ضیافتوں کا اہتمام کرتے رہتے تھے۔ ان ضیافتوں پر بہت خرچ اٹھایا جاتا تھا۔ میری والدہ کا گھر راجہ کے محل سے زیادہ دور نہیں تھا اور میرا دھیان ہر وقت ادھر سے گزرنے والے یورپی افسران کی طرف رہتا۔
’محل کے دروازے پر چوکیدار موجود تھے لیکن میرے والد کی شہرت (دین محمد کے والد راجہ کی فوج میں ملازم تھے) کی وجہ سے مجھے داخلہ مل گیا۔ یورپی افسران شام سات اور آٹھ بجے کے درمیان محل کا رخ کرتے۔ سب سے پہلے ان کی چائے اور قہوے سے تواضع کی جاتی۔
وہ لوگ مِل کر ناچ کا بھی لطف اٹھاتے تھے۔ پھر گرمی دالان کا رخ کرنے پر مجبور کر دیتی جہاں ان کو خوبصورت ریشم کی دوہری تہہ سے بنے ہوئے شامیانوں کے نیچے بٹھایا جاتا۔ یہ شامیانے آٹھ بانسوں کے سہارے کھڑے تھے۔ فرش پر خوبصورت قالین تھا۔
’راجہ مہمانوں کے بیچ میں اپنی نشست سنبھالتا۔ راجہ کے ذاتی معاون خاص اور خادم خدمت کے لیے چوکنا رہتے۔ پھر رقاصائیں پیش ہوتیں جو سازندوں کی مدد سے نہ صرف انتہائی مدھر اور سریلے گیت سناتیں بلکہ اپنے بےباک ناچ میں ایسی ادائیں دکھاتیں جو کسی سنیاسی کا بھی دل گرما دیں۔
’اسی دوران راجہ کے خادم آتش بازی کا حیرت انگیز مظاہرہ جاری رکھتے جس میں پرندوں اور جانوروں کی شکلیں بنائی جاتیں۔ ایسے مظاہرے کی نظیر میں نے یورپ میں بھی نہیں دیکھی۔ ہر طرف روشن شاخیں تھیں اور چراغاں کا سا ماحول تھا۔
’اس سب خاطر مدارت کے بعد یورپی مہمان دسترخوان کا رخ کرتے۔ کھانا راجہ کے خاص ملازم کی طرف سے تیار کیا گیا ہوتا تھا۔ آئس کریم، طرح طرح کے پرندوں کے گوشت اور دنیا کے بہترین پھلوں سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی۔ راجہ کی خوشی کا یہ عالم ہوتا کہ وہ غیر مسلموں کے ہاتھ سے بھی پھل قبول کرتا حالانکہ اس کا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔
’یہ محفل آدھی رات کو برخاست ہو جاتی۔ راجہ اپنے محل کا رخ کرتا اور یورپی افسران اپنے کوارٹروں کا۔‘
یورپی چھاؤنی
دین محمد نے اپنے سفر نامے میں برطانوی فوج کی ان چھاؤنیوں کا منظر بھی بیان کیا ہے جہاں انھیں قیام کا موقع ملا۔
’بانکی پور پٹنہ سے چند کلومیٹر دور ہے اور ہم نے گنگا کے کنارے ایک وسیع میدان میں پڑاؤ ڈالا۔ یہ سن 1769 کی بات ہے۔ اس مقام سے اردگرد کے علاقے کا انتہائی خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ ہمارا کیمپ چار رجمنٹوں، ایک یورپی رجمنٹ، دو گھڑ سوار کمپنیوں اور توپخانے کی ایک یورپی کمپنی پر مشتمل تھا۔ کرنل لیزلی ہمارے کمانڈر ان چیف تھے۔
’کیمپ دو سیدھی قطاروں میں پھیلا ہوا تھا۔ ایک طرف دریا کے ساتھ ساتھ پٹنہ کی طرف پھیلے ہوئے یورپی افسران کے بنگلے تھے۔ اس سے بالکل متوازی قطار میں تقریباً دو سو گز کے فاصلے پر سامنے افسران کی بیرکیں تھیں اور ان کے پیچھے عام فوجیوں کی۔ ان کے درمیان والی جگہ مشقوں کے لیے مخصوص تھی جو ہر صبح باقاعدگی سے ہوتیں۔ سپاہیوں کی چھاؤنیاں اس سے ایک میل دور تھیں اور ان سے کچھ فاصلے پر گھوڑوں کے اصطبل تھے۔
’افسران کے بنگلے مقامی طرز تعمیر پر بنائے گئے تھے۔ بنگلے تقریباً چوکور تھے جن کی چھت مقامی کسانوں کے گھر کی چھتوں کی طرح بانس اور تنکے سے بنی تھی۔ چٹائی سے دیوراوں کا کام لیا گیا تھا اور چھت کے سہارے کے لیے ستون تھے۔ کرنل اور میجر صاحب کے بنگلے دوسرے افسران سے بڑے تھے۔ ان بنگلوں کے ساتھ ہی نوکروں کے کمرے اور اصطبل تھے۔ سامنے کی طرف بائیں جانب کرنل کا گارڈ ہاؤس تھا۔ افسران کے بنگلوں کے بیچ میں درختوں کا سدا بہار جھنڈ تھا۔ وہاں نوابوں کی بنائی ہوئی خوبصورت عمارات بھی تھیں۔ ان میں جناب ہربرٹ اور ہیلمبری کا بینک، مسٹر بیری اور کنٹریکٹ ایجنٹ کی رہائش گاہیں اور بارودخانہ بھی تھا۔
بانکی پور میں چند ہی سرکاری عمارات تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر مسٹر گولڈن کا گھر تھا جو کیمپ سے تقریباً ایک میل دور تھا۔ یہ بلندی پر انگریزی طرز تعمیر پر بنی ایک کشادہ عمارت تھی۔ اس کا شاندار گنبد نیچے معطر میدانوں اور مصالحوں کے جھنڈوں سے سجے ماحول پر حاوی تھا۔ اس عمارت سے بل کھاتی ہوئی گنگا کے پھولوں سے لدے کنارے اور ارد گرد زرخیز علاقے کے خوبصورت منظر کا لطف اٹھایا جا سکتا تھا۔
مکان کے مالک مسٹر گولڈن کی دیگر افسران میں بہت عزت تھی۔ وہ بہت وضع دار اور مہمان نواز انسان تھے۔ مسٹر گولڈن سے کچھ ہی دور مسٹر رمبل کی رہائشگاہ تھی جن کے پاس کمپنی کے لیے کشتیاں اور دیگر سامان فراہم کرنے کا ٹھیکہ تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


