ٹریولز آف دین محمد: 18ویں صدی کے ہندوستان میں سونے چاندی کے ڈھیر اور بھوک سے مرتے انسان
قحط
دین محمد نے اپنے سفر نامے میں جہاں آن بان اور خوبصورتی کی جھلکیاں دکھائی ہیں وہیں لوگوں کی زندگی کی مشکلات پر بات کی ہے۔ انھوں نے ایک قحط کا آنکھوں دیکھا حال یوں بیان کیا۔
’مجھے یاد ہے میں نے اس برس بڑی تعداد میں لوگوں کو قحط سے مرتے دیکھا تھا۔ بارش کی کمی اور گرمی کی زیادتی سے زمین سوکھ گئی تھی۔ زمین سے حاصل ہونے والی تمام نعمتیں پانی کی کمی کا شکار ہو کر مر گئی تھیں۔ بڑی تعداد میں لوگ گلیوں اور شاہراہوں میں گرے پڑے تھے۔
’صرف وہی لوگ فائدے میں رہے جن کی زمینیں کنوؤں سے سیراب ہوتی تھیں۔ ایسے کچھ نوابین اور یورپی افسران نے جس حد تک ممکن تھا اپنے آنگنوں اور گھروں میں جمع ہونے والے ہجوموں میں چاول اور کھانے پینے کی دیگر اشیا تقسیم کیں لیکن کمزوری کا شکار بیچارے لوگ جو بھوک سے ہار چکے تھے ان کی موجودگی میں ہی زمین پر گر کر بے جان ہو رہے تھے۔
’کچھ رینگ کر باہر نکلنے کی کوشش کرتے اور سب کی نظروں کے سامنے مر جاتے۔ اس موقع پر اس ملک کے خزانے ان لوگوں کے کسی کام نہ آئے۔ اس وقت ان لوگوں کے لیے تھوڑے سے چاولوں کی بروقت فراہمی سونے اور چاندی سے زیادہ اہم تھی۔
پانی کی قدر
دین محمد نے پھُلوریا سے چرمنسا کا سفر کیا۔ ایک تو راستے میں دریا بھی تھا جسے پار کرنے میں تین روز لگ گئے لیکن جو بات قابل ذکر ہے وہ گرمیوں کے موسم میں سفر کا تجربہ جو انہوں نے بیان کیا۔
دین محمد لکھتے ہیں ’سڑک کے کنارے لگے پھل دار درختوں کے سائے کی وجہ سے سفر خوشگوار تھا۔ کیلے، آم اور املی کے درختوں کی ٹہنیاں پھلوں کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھیں۔ ان درختوں کے ساتھ ساتھ بہت سے کنویں اور ندیاں تھیں جن کے پانی کی مثال پوری کائنات میں نہیں ملتی۔
’ایسے کنویں اور ندیاں ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ یہ قدرت کی مہربانی تھی جس نے تھکے ہارے مسافروں کے لیے اس علاقے کی گرمی کا سامنا کرنے کا ایسا انتظام کیا تھا۔‘
دین محمد نے اپنے انگریز قارئین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہاں کے ’پرانے لوگوں نے پانی کے ذخائر کے تحفظ کے لیے لوگوں کے دلوں میں کنوؤں کا ایسا تقدس پیدا کیا کہ کوئی بدکردار شخص بھی ان میں ملاوٹ کا نہیں سوچ سکتا۔ اسی لیے یہ پانی آج تک پاک اور صاف ہے۔
’راستے میں جب بھی کنویں آئے ہم نے سپاہیوں کو تازہ ہونے اور بیل گاڑیوں پر لدی ہوئی چمڑے کی مشکیں پانی سے بھرنے کا موقع فراہم کیا۔ کچھ خادم بھی مشکیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر چلتے تھے۔‘
سات کنوؤں والا گاؤں
دین محمد اپنی کمپنی کے ساتھ 1772 میں سیتاکنڈ نامی چھوٹے سے گاؤں پہنچے جس کی خاص بات اس کے گرد سات کنویں تھے۔
وہ لکھتے ہیں ’دو کنویں صرف برہمنوں کے لیے مخصوص ہیں۔ وہ کسی غیر برہمن کو وہاں کے پانی کے قریب نہیں آنے دیتے۔ ہاں ان لوگوں کو ضرور اجازت مل جاتی ہے جو بیمار ہوں اور اس ایمان کے ساتھ وہاں آئیں کہ اس پانی کے استعمال سے ان کا علاج ہو جائے گا۔ باقی پانچ کنویں کوئی بھی استعمال کر سکتا تھا۔
’برہمنوں کے دونوں کنویں ساتھ ساتھ ہیں لیکن دونوں سے حاصل ہونے والے پانی کا معیار ایک دوسرے سے بہت فرق ہے۔ ایک میں شفاف اور ٹھنڈا پانی ملتا ہے جبکہ دوسرے کے پانی کی رنگت سیاہ ہے اور ہر وقت ابلتا رہتا ہے۔
’برہمنوں کے کنووں کا پانی مٹی کے برتنوں میں دور دور تک پہنچایا جاتا تھا۔ لوگوں کا اندھا اعتقاد ان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو رہا تھا۔ ان کنوں کا پانی گنگا کے شمال میں کلکتہ اور بنگال کے دیگر اضلاع سے بھی منگوایا جاتا تھا جہاں کہ ہندو اس پانی کو بہت مقدس سمجھتے تھے۔‘
عقائد اور روز مرہ زندگی
دین محمد کا سفر نامہ اپنے پڑھنے والوں کو ہندوستان کے باشندوں کی روزمرہ زندگی کے علاوہ ان کے عقائد کے بارے میں بھی بتاتا ہے۔
دربار کی خدمت کرنے والا شیر
’مونگ ہیر سے 12 میل دور پیپاہارا کی پہاڑی تھی جس پر ایک مشہور تاریخی عمارت تھی۔ ہماری تاریخ میں دلچسپی ہمیں اس طرف کھینچ لے گئی۔
’یہ کسی بزرگ کا مزار تھا جو گول ستونوں پر سنگ مرمر کی چٹان کے سہارے کھڑا تھا اور اِس پر تراشے ہوئے پتھر سے بنی ایک محراب بھی تھی لیکن جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ تھی کہ ہر پیر اور بدھ کو پہاڑی کے دامن میں ایک غار سے ایک شیر یہاں آتا تھا اور اپنی دم سے اس کی سیڑھیوں کی صفائی کرتا تھا۔
’اس نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا بلکہ اس کے راستے میں آنے والے بچے اور عورتیں بھی اس سے محفوظ تھیں۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ مزار مقدس جگہ تھی لیکن ہمارے آرٹلری کے ایک افسر کے ساتھ جو کچھ یہاں پر ہوا اس کے بعد یہاں کے لوگوں کا اس جگہ پر اعتقاد یقیناً اور بڑھ گیا ہو گا۔ تجسس اس افسر کو مزار تک کھینچ لایا تھا۔ اس نے مقامی لوگوں کے اس مزار اور اس میں دفن بزرگ کے بارے میں اعتقاد کو توہم پرستی سے تعبیر کیا اور ان کا مذاق بھی اڑایا۔
’کپتان نے کسی کی پرواہ کیے بغیر مزار کی سیڑھیوں پر پیشاب کر دیا۔ واپسی کے لیے ابھی وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا ہی تھا کہ کسی ان دیکھی قوت نے اسے جکڑ لیا اور وہ زمین پر آ گیا جہاں وہ کچھ دیر بے حرکت لیٹا رہا۔ اسے پالکی پر مونگ ہیر پہنچایا گیا لیکن وہ زیادہ دیر نہ جی سکا اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
’اس واقعے میں ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو اپنی تنگ نظری کی وجہ سے اپنے ہی جیسے انسانوں کے عقائد کا صرف اس لیے مذاق اڑاتے ہیں کہ ان کی عبادت کا طریقہ مختلف ہے۔‘
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


