پیر سائیں کا شمامۃ العنبر عطر اور لچھی کی اقلیتی کرسی


آخر دو ہفتے بعد اماں کے منع کرنے پہ بھی لچھی اسکول جانے کے لیے نکل گئی۔

چاچا تیرتھ کئی مہینوں تک روز شہر کے پریس کلب کے سامنے جا کر احتجاج کرتا رہا پتا نہیں چاچا کی محنت کا ثمر تھا یا آتے ہوئے الیکشنز کا دباؤ پتا چلا علاقے کے وڈیرے نے چاچا تیرتھ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے پولیس پہ دباؤ بڑھا دیا تھا۔ سری واپس تو نہیں آئی مگر اس کا بیان خبر والے چینلوں پہ چلنے لگا۔

” میں سری کماری ولد تیرتھ مل نے اپنی مرضی سے اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا ہے اور اللہ وسایا ولد دھنی بخش سے شرعی نکاح کیا ہے۔ اب مجھے رحمت بی بی بلایا جائے۔ “

کرسی پہ بیٹھی سری کا سپاٹ چہرہ اور رک رک کے دیا بیان کچھ اور داستان سنا رہا تھا مگر تیرتھ کو چپ کروانا بھی ضروری تھا شاید۔ لچھی کو بیان تو کیا سمجھ آتا بس سری کا سپاٹ چہرہ اور کرسی یاد رہ گئی۔

اس کے بعد تیرتھ چپ تو ہوگیا لیکن کیرتی اور پونم دوبارہ اسکول نہیں گئیں۔ اماں نے لچھی کو بھی اسکول سے اٹھانا چاہا مگر چاچا تیرتھ نے ایسا نہیں کرنے دیا۔ بلکہ روز لچھی اور ریوتھی کو اسکول لے جانے کی ذمہ داری اٹھالی۔ اسکول کے گیٹ پہ دونوں کو چھوڑ کے چاچا ان کے کمرے میں جانے تک گیٹ کی چوکھٹ پکڑے انہیں دیکھتا رہتا تھا۔ ایک دو دفعہ ایسا ہوا کہ لچھی نے مڑ کے چاچا کو دیکھا مگر پھر اسے ان آنکھوں سے ڈر لگنے لگا جن میں خوف، حسرت، بے بسی نمی بن کے چھلکنے پہ آمادہ ہوتی۔

ایک سال، اور گزرا، ریوتھی بھی پانچویں کرکے چلی گئی لچھی تیسری میں آگئی نتیجہ اس سال بھی وہی تھا۔

ہاں اس سال ہاجرہ اور سکینہ کی چادروں میں نقاب کا اضافہ بھی ہوگیا۔ ہفتے میں ایک بار آنے والی بیبیاں اب مہینے دو مہینے بعد ایک آدھ بار نظر آتی تھیں۔

یہ سال بغیر کسی ہلچل کے ختم ہوگیا لچھی اس دفعہ نتیجے والے دن اسکول گئی ہی نہیں۔ چوتھی کی کلاسیں شروع ہوئیں تو پتا چلا کہ دونوں بیبیاں اب شہر کے اسکول میں پڑھیں گی۔ کمرے سے وہ دونوں کرسیاں ہٹا دی گئیں۔ اگلے دو سال لچھی اول آئی مگر وہ پھر بھی نتیجہ لینے نہیں گئی اسے اپنی رپورٹ کارڈ سے گھن آتی تھی ایسا لگتا تھا جیسا اول پوزیشن سکینہ کے تھوک سے لکھی ہو۔

اس سے زیادہ تعلیم دینے کی اس اسکول کی اوقات نہیں تھی۔

پانچویں سے فارغ ہوکے لچھی نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے محلے کے سب بچوں کو صبح صبح مندر میں جمع کرلیتی تھی۔ ایک طرف چار اینٹیں ملا کر اپنے بیٹھنے کی جگہ بنا لی تھی۔ یہاں بھگوان جی ذرا اونچے طاق میں رکھے تھے اس لیے کسی کو اس کے اینٹوں پہ بیٹھنے پہ اعتراض نہیں ہوا۔ اور ویسے بھی ”مس“ تو بچوں سے اوپر ہی بیٹھتی ہے۔ ایک طرف وہ کرسی پہ بیٹھنے کے شوق میں سارے محلے کے بچوں کو پڑھانے میں لگ گئی۔

گوٹھ کے حالات مزید بگڑ رہے تھے پچھلے کچھ عرصے میں ان کے محلے کی کئی لڑکیاں گم ہوئیں کچھ کو گھروں میں گھس کے اٹھا لیا گیا اور بعد میں پتا چلا کہ انہوں نے اسلام قبول کرکے شادی کرلی تھی مگر ان میں سے ایک دو ہی سولہ سال یا اس سے کچھ بڑی ہوں گی۔ وہ بیان جو پہلے لچھی کو سمجھ نہیں آتے تھے اب بہت اچھی طرح سمجھ آنے لگے تھے۔ اسے نہیں پتا کہ ان لڑکیوں نے مذہب کیوں بدلا مگر اتنا اسے پتا تھا کہ ان کے دلوں میں اب بھی بھگوان جی ہی ہوں گے۔

کبھی کبھی وہ سوچتی کہ اگر اسے کرسی اور بھگوان جی میں سے کسی کو چننا پڑے تو وہ کیا کرے گی۔ وہ اندر تک لرز جاتی تھی اسے اب تک جو دیا بھگوان جی نے ہی تو دیا تھا وہ انہیں کیسے چھوڑ سکتی تھی۔ اسے یہ اپنی ذہانت کے لیے چلینج لگتا تھا کہ کرسی بھی مل جائے اور بھگوان جی بھی نہ چھوڑنے پڑیں۔ اور اسے اپنی ذہانت پہ پورا اعتبار تھا۔

انہی دنوں اس نے سنا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے بچپن کی شادیوں پہ پابندی لگا دی گئی ہے اور کرنے اور کروانے والے کو پولیس پکڑ کے لے جائے گی۔ اسے کچھ اطمینان ہوا اور افسوس بھی کاش یہ قانون پہلے پاس ہوا ہوتا۔ چاچا تیرتھ کے تکیے کے نیچے اب بھی وہ اخباری تراشے رکھے تھے جس میں سری کے اغوا اور مذہب بدلنے کی خبریں چھپی تھیں۔ بلوغت کی سرخی چھائی تو ہر مہینے کے ایک ہفتے اسے باورچی خانے سے دور کردیا جاتا۔ وہ جو سمجھ رہی تھی کہ اب وہ یہ بلندی کسی نہ کسی طرح پالے گی اسے لگنے لگا کہ اسے کسی نے زمین سے بھی نیچے کسی پاتال میں پٹخ دیا ہے۔

گرمیوں کی حبس زدہ رات تھی کئی مہینوں سے اردگرد کے، کسی ہندو برادری کے علاقے سے کسی اغوا اور شادی کی خبر نہیں آئی تھی۔ ایسا لگتا تھا حکومت نے سب کنٹرول کر لیا ہے۔ لچھی بہت دیر سے سونے کی کوشش کر رہی تھی مگر گرمی سے عجیب سی گھبراہٹ ہورہی تھی۔ حلق بالکل خشک ہورہا تھا۔ کمر پہ آتے پسینے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے باریک باریک چونٹیاں کمر پہ رینگ رہی ہیں۔ لچھی کچھ دیر پیاس برداشت کرنے کی کوشش کرتی رہی پھر آخر کار کمرے سے نکل آئی۔

باہر چاند کی ہلکی ہلکی روشنی پھیلی تھی۔ درخت اتنے ساکت تھے جیسے دم سادھے کچھ ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لچھی نے درخت کے نیچے رکھے گھڑے پہ سے اسٹیل کا گلاس اٹھایا۔ گلاس آہستہ سے، گھڑے سے ٹکرایا اور ٹھن کی آواز سے ایک دم لچھی کے ہاتھ کانپ گئے۔ پانی پیتے پیتے اسے مثانہ بھاری محسوس ہونے لگا۔ وہ کمرے کی پچھلی طرف بڑھ گئی اسے اپنے ایک ایک قدم کی آواز چاروں طرف گونجتی ہوئی محسوس ہورہی تھی پیچھے جھاڑیوں سے بنی چھوٹی سی جگہ پہنچ کے اس نے قمیض ٹھوڑی کے نیچے دبائی اور کمر بند دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔

ایک دم اس کے منہ پہ کسی کا ہاتھ سختی سے جم گیا اور دوسرا ہاتھ اس کے پیٹ کے گرد۔ وہ جو بھی تھا اسے گھسیٹتا ہوا پتا نہیں کہاں لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ مچلنے کی کوشش کر رہی تھی مگر نہ چیخ پارہی تھی نا خود کو چھڑا پارہی تھی۔

اس کا بدترین خوف حقیقت بن گیا تھا۔ اسے اتنا تو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ کسی گاؤں کا ہی چھوٹا سا کمرہ ہے مگر کس گاؤں کا یہ اندازہ نہیں ہورہا تھا۔ دن میں ایک عورت کھانا دے جاتی تھی۔ رات گہری ہوتے ہی وہی عورت آکر اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کے آنکھوں پہ بھی پٹی باندھ دیتی تھی۔ پھر عطر کی اتنی شدید خوشبو پھیلتی کہ اس کا سر درد سے پھٹنے لگتا تھا کوئی اسے چھوتا تھا تار تار کرتا تھا اور صبح ہونے سے کچھ پہلے نہ وہ خوشبو رہتی نہ چھونے والا۔ تقریباً ایک ہفتے بعد وڈیرہ سائیں کا خاص آدمی ایک مولوی اور ایک اور لڑکے کے ساتھ آیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 115 posts and counting.See all posts by absar-fatima