پیر سائیں کا شمامۃ العنبر عطر اور لچھی کی اقلیتی کرسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”لچھی“ اس نے دونوں ہاتھ پلنگ کے کناروں پہ جما کے گھٹنا اوپر رکھا ہی تھا کہ پیچھے سے ایک دم اماں کی آواز نے اسے وہیں روک دیا۔ یہ بالکل پہلی یاد تھی جو اس کے دماغ میں پتھر پہ کھدی تحریر کی طرح پختہ اور واضح تھی۔ اس سے پہلے کبھی اسے پلنگ پہ بیٹھنے سے منع کیا گیا ہو یا بیٹھنے دیا گیا ہو اسے بالکل یاد نہیں۔ تب اس کی عمر شاید تین یا اس سے کچھ زیادہ رہی ہو گی۔ زمین سے اوپر کہیں بیٹھنا یاد تھا تو وہ ماں یا دادی کی گود تھی۔

پھر یہ اعزاز بھی چھن گیا جب وہ کچھ بڑی ہوئی اور ماں کی گود میں اس سے چھوٹا بھائی آگیا۔ کہنے کو وہ اکلوتی بیٹی تھی مگر اسے کبھی پتا نہیں چلا کہ اکلوتا ہونا کوئی اعزاز ہے۔ باپ جو دونوں بیٹوں کو ہمیشہ پلنگ پہ ساتھ بٹھاتا تھا اسے اپنے ساتھ بٹھانا تو دور کی بات نام لے کر بلانا تک گوارا نہیں کرتا تھا۔ باپ کو شاید یاد بھی نا ہو کہ اس کا نام لکشمی کماری ہے اور سب اسے لچھی بلاتے ہیں۔ مزدوری سے واپس آتے ہی وہ سب سے پہلے اسے دیکھ کر حکم دیتا

”اے چھوکری! پانی پلا اورماں کو کہہ کھانا لاکر دے۔ “ پورے دن میں شاید یہ واحد موقع ہوتا تھا جب وہ لچھی کو براہ راست مخاطب کرتا تھا۔ لچھی یا باقی لڑکیوں کے لیے یہ عجیب بات تھی بھی نہیں، کیوں کہ گاؤں کے چند ایک مردوں کو چھوڑ کے سب کا رویہ گھر کی عورتوں سے یہی تھا۔

اس نے کبھی کسی جوان عورت کو زمین سے اونچی جگہ بیٹھے نہیں دیکھا تھا۔ ہاں البتہ اس کی دادی اور اس کے عمر کی دوسری بوڑھی عورتیں پلنگ پہ بیٹھ جاتی تھیں مگر وہ بھی ایسی عورتیں جن سے بڑا مرد گھر میں نا ہو۔ اس کی دادی کی ساس یعنی اس کی پر دادی بھی زندہ تھی اور جب پر دادی اور دادی ایک جگہ ہوتے تو دادی چہرے پہ گھونگٹ ڈالے پر دادی کے پیروں کے پاس زمین پہ ہی بیٹھتی تھی۔ وہاں سب عورتیں اپنی ساس اور جیٹھانی سے چہرہ چھپاتی تھیں۔

یہ اسی طرح روز مرہ کی بات تھی جیسے زمین پہ بیٹھنا۔ لچھی کو باقی کسی بات سے کوئی مطلب نہیں تھا شاید اس لیے کیوں کہ ابھی تک وہ پابندی اس پہ نہیں لگی تھی۔ ابھی تو وہ بغیر دوپٹے بھی سارے گاؤں میں گھوم لیتی تھی۔ مگر یہ زمین سے پلنگ کا فاصلہ اسے ہمیشہ کھٹکتا تھا۔ کبھی کبھی وہ کھیل چھوڑ کے بہت دیر تک کھڑی خالی پلنگ کو تکتی رہتی تھی۔ اسے غصہ آتا کہ بھگوان اس کی ٹانگوں کے بیچ بھی وہی کچھ دے دیتا جو اس کے بھائیوں کے پاس تھا تو یہ ذرا سی اونچائی اتنی ناقابلِ تسخیر نہ ہوتی۔

روز شام ڈھلتے ہی بر آمدے کے کونے میں رکھے، مٹی کے چھوٹے سے مندر میں پھولوں کے ڈھیر کے نیچے دبے کپڑے کے ننھے سے ”بھگوان“ کے سامنے دیا جلاتی تو یہ شکوہ بھی کرتی۔ تھوڑی بڑی ہوئی تو اپنی اور بھگوان جی کی قسمت ایک جیسی لگنے لگی اسے زمین پہ دھرے بھگوان سے زیادہ، دروازے پہ سب کے سروں سے اوپر ٹنگے پلاسٹک کے ہنومان جی پسند تھے جو دونوں ہاتھ ہوا میں پھیلائے، ایک دھاگے سے بندھے، یوں ڈولتے رہتے جیسے بلندیوں کی طرف اڑے جارہے ہوں۔

شام سات بجے وہ جہاں بھی ہوتی ٹی وی کے سامنے پہنچ جاتی جہاں ہنومان جی کے کارٹون آتے تھے۔ ویسے تو سارا دن گھر میں بھارتی چینل چلتے تھے۔ لیکن جب ابا گھر پہ ہوتا تو کوئی سندھی خبروں والا چینل لگا رہتا تھا۔ بس یہی سات سے آٹھ تک کا وقت بچوں کے لیے تھا۔ وہ بہت غور سے کارٹون دیکھتی تھی تاکہ سیکھ سکے کہ ہنومان جی اڑتے کیسے ہیں جتنا اسے سمجھ آیا اس حساب سے تو وہ کیوں کہ سب کی مدد کرتے تھے اس لیے اڑتے تھے۔ یہی کوشش وہ بھی کرتی اسے اڑنا نہیں تھا بس زمین سے پلنگ تک پہنچنا تھا۔

ابا اور بھائیوں کے برابر۔ یونہی ایک دن کارٹون کے بیچ میں اشتہار آنے لگے شاید کسی ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار تھا جس میں بہت سے بچے اجلے کپڑے پہنے کلاس روم کی کرسیوں پہ بیٹھے تھے۔ یہ اشتہار وہ کئی بار دیکھ چکی تھی مگر پتا نہیں کیوں یہ خیال پہلے نہیں آیا تھا۔ کارٹون ختم ہوتے ہی وہ ماں کے پاس پہنچ گئی کہ اسے اسکول میں داخل کروایا جائے۔ اس کے دماغ میں مسلسل وہ صاف ستھری کرسیاں گھوم رہی تھیں جہاں سب لڑکے لڑکیاں ایک جتنی بلندی پہ بیٹھے تھے۔

اماں ابا کو اس کے اسکول جانے نا جانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا مگر ابا اس کے لیے وقت نکال کے اسکول جانے پہ تیار بھی نہیں تھا۔ اور اماں کو تو گھر سے نکلنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔ اس نے روز ضد کر کر کے اماں کو عاجز کر دیا آخر کار اماں نے چاچا تیرتھ مل کے ساتھ داخلے کے لیے بھیج دیا۔ چاچا کی اپنی تین بیٹیاں اسکول جاتی تھیں اور چوتھی جو ابھی چلنا بھی شروع نہیں ہوئی تھی ہر جگہ چاچا کی گود میں نظر آتی تھی۔

اس دن بھی چاچا گود میں جانکی کو اٹھائے اور لچھی کا ہاتھ پکڑے، داخلے کے لیے اسکول پہنچ گئے۔ چاچا تو پرنسپل آفس چلے گئے وہ دھیرے دھیرے چلتی اسکول کے واحد کمرے کی کھڑکی پہ پہنچ گئی۔ کہنے کو یہ پرائمری اسکول تھا مگر یہ واحد کمرہ پہلی سے پانچویں تک کے بچوں کو سموئے تھا۔ اس نے کھڑکی کی گرل پکڑ کے پنجے اونچے کیے اور سر بھی گرل سے ٹکا دیا تاکہ اندر جھانک سکے۔ کمرے کی دیواروں کے ساتھ چار پانچ سیدھی سیدھی بینچیں رکھی تھیں جس پہ لڑکے بیٹھے تھے اور نیچے فرش پہ لڑکیاں بیٹھی تھیں۔ اس نے بے جان ہوتے ہاتھوں سے گرل چھوڑ دی۔

اگلے دن وہ اسکول جانے کو تیار ہوئی تو اماں نے پہلی بار اپنے پرانے دوپٹے کو آدھا کرکے اسے چھوٹا سا دوپٹہ اوڑھا دیا جس کی موتیوں والی کناری اس کے ماتھے پہ ٹکی تھی اور کمر پہ بنا سِلی کناری سے نکلے دو تین دھاگے چپکے تھے، تھوڑی دیر بعد ایک پلاسٹک کے شاپر میں ایک کاپی، پینسل اور شاپنر ڈالے وہ بھی انہی لڑکیوں کے ساتھ فرش پہ بیٹھی تھی۔ شاید اسے ساتھ بیٹھنا ہی کہا جاتا ہو۔ پچھلی دیوار کے ساتھ سیلن زدہ نیم تاریک سے کونے میں چاچا تیرتھ کی تینوں بیٹیاں سِری، کِیرتی اور پونم، ان کے ہی محلے کی ایک اور لڑکی ریوتھی اور لچھی بیٹھتی تھیں۔ پھر ایک صف کا فاصلہ چھوڑ کے آگے باقی ساری لڑکیاں۔ سر کا کہنا تھا کہ کچھ بچیاں چھٹی پہ ہیں ان کی جگہ چھوڑنی ہوتی ہے، اگر وہ آجائیں تو!

ویسے تو باقی کمرہ کافی روشن تھا، دونوں طرف کھڑکیاں تھیں مگر لچھی کے پاس والی کھڑکیاں پتا نہیں کب سے پھول کے چوکھٹے میں پھنس گئی تھیں۔ جس دیوار سے وہ ٹیک لگا کے بیٹھتی تھی اس کے بالکل بیچ میں ایک پرانا سا بلب ہولڈر بھی تھا جس میں ایک ٹوٹا ہوا بلب آدھا لٹک رہا تھا مگر اسے روشن ہونے کے لیے بھی بجلی کی ضرورت تھی جو اس نے کبھی اسکول میں نہیں دیکھی تھی شاید اسی لیے اس ادھ ٹوٹے بلب کو بدلنے کی زحمت نہیں کی گئی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 54 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *