پیر سائیں کا شمامۃ العنبر عطر اور لچھی کی اقلیتی کرسی
وہی ہوا جو لچھی نہیں چاہتی تھی اس سے نکاح نامے پہ بھی دستخط کروائے گئے اور مذہب کی تبدیلی کے اقرار نامے پہ بھی۔
لچھی کو پتا تھا کہ سب معلوم ہونے کے باوجود پولیس کو کبھی مجرم نہیں مل پائیں گے۔
لچھی کو وہ پرچہ بھی دیا جسے پڑھ کے اسے وڈیو رکارڈ کروانی تھی۔ لچھی نے ایک بار غور سے پرچہ پڑھا پھر وڈیرہ سائیں کے آدمی کو واپس پکڑا دیا۔
”میں یہی بیان دوں گی مگر میری شرط ہے۔ یہ بیان میں میڈیا کے سامنے دوں گی۔ “
انہیں اندازہ نہیں تھا کہ لچھی اتنی آسانی سے میڈیا کو بیان دینے پہ راضی ہوجائے گی۔ اسے اگلے ہی دن پریس کلب لے جایا گیا۔ وہاں وڈیرہ سائیں بھی موجود تھے لچھی کے بیان سے پہلے انہوں نے ایک دھواں دھار قسم کی سیاسی تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ حکومت اور کچھ دوسرے شر پسند عناصر وڈیرہ سائیں کے علاقے میں مذہب کی تبلیغ میں روڑے اٹکا رہے ہیں اور مذہب دشمن عناصر کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اور ان کی سیاسی جماعت تندہی سے مذہب کی خدمت کی کوششوں میں لگی ہے اور اسی کوشش سے آج ایک اور لڑکی اسلام کی طرف آگئی ہے۔
ان کی تقریر کے بعد سب کی نظریں مائک اور کیمرے لچھی کی طرف تھے۔
لچھی کے نیچے کرسی اور دل میں بھگوان جی تھے اس نے بات شروع کرنے سے پہلے ایک دفعہ آنکھیں بند کرکے دل میں بسے بھگوان جی کو ایک بار دوبارہ یاد کیا۔
”میں آپ سب کے سامنے“ اس نے کہنا شروع کیا مگر اندازہ ہوا کہ اس کے ہونٹ تو ہلے مگر آواز نہیں نکلی تھی۔ اس نے گہرا سانس لے کر دوبارہ مزید بلند آواز سے بات شروع کی۔
”میں لکشمی کماری ولد رام چند آپ سب کے سامنے یہ بیان دینا چاہتی ہوں کہ میرا جو نکاح نامہ اور اقرار نامہ دکھایا جارہا ہے وہ جھوٹا ہے اور مجھ سے زبردستی دستخط کروایا گیا ہے۔ ایک ہفتے تک میری عزت لوٹی جاتی رہی اور پھر نکاح نامے پہ دستخط کروائے گئے۔ “
روز کی غیر دلچسپ خبر ایک دم ”ایکسکلیوسیو“ ہوچکی تھی۔ لچھی کو فوراً پولیس کی تحویل میں لے لیا گیا اور دارالامان پہنچا دیا گیا۔ اس کی ہر ہر پیشی پہ میڈیا کا مجمع ہوتا۔ اسے کسی نے بتایا کہ اس کے کیس کی مکمل پشت پناہی ایک اور سیاسی تنظیم کے کچھ رہنما اور کارکن کر رہے ہیں۔ اور گھر والوں کی حفاظت بھی کروا رہے ہیں۔
آخر کار فیصلہ اس کے حق میں ہوا عدالت نے اس کا نکاح غلط قرار دے دیا۔ عدالت سے نکل کر دارالامان آنے تک کئی چینل والوں نے اس کے انٹرویو لیے۔ وہ جب گھر پہنچی تو کئی رپورٹر اس کے گھر میں پہلے سے موجود تھے کوئی ماں کا انٹرویو لے رہا تھا کوئی دادی کا۔
کئی دنوں تک اسے مختلف چینلز پہ بلایا جاتا رہا۔ وہ اپنے نیچے کرسی کی مضبوطی محسوس کرتی تو لہجے میں مزید اعتماد آجاتا تھا۔
ایک این جی او نے اس کی تعلیم کی ذمہ داری لے لی۔ آہستہ آہستہ یہ دھول بھی بیٹھ گئی مندر میں بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ اس کے انٹر کے امتحانات کے کچھ ہی عرصے بعد ایک دن مندر کے دروازے پہ ایک گاڑی آکر رکی۔ اسے وڈیرہ سائیں کی مخالف پارٹی نے اس کے علاقے سے الیکشن میں اقلیت کی کونسلر کے طور پہ سیٹ دینے کی بات کی تھی۔ اس کے حامی بھرنے کی دیر تھی ملک بھر میں وہ مثال بن گئی اس کے الیکشن میں حصہ لینے کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا تھا۔ مگر ان لوگوں کا کہنا تھا کہ لچھی کے الیکشن میں شامل ہونے کی خبر کو یادگار بنا دیا جائے گا۔ اسے تقریر فراہم کر دی گئی تھی جو اسے اپنی پریس کانفرنس میں کرنی تھی۔
پریس کانفرنس کی سب تیاری ہوچکی تھی مگر مہمانِ خصوصی کا انتظار تھا۔ لچھی اسٹیج پہ بالکل درمیانی کرسی پہ بیٹھی تھی۔ اس کے دونوں طرف سیاسی جماعت کے کچھ نمایاں رہنما بیٹھے تھے اس کے بالکل برابر میں مہمانِ خصوصی کی اونچی سی کرسی تھی۔ جو سب سے نمایاں تھی۔ اس کی کرسی اس کے قد کے مقابلے میں ذرا اونچی تھی اس نے ذرا آگے کھسک کے پنجے فرش پہ ٹکا لیے۔
کافی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ مہمانِ خصوصی کو کچھ دیر ہو جائے گی اس لیے لچھی کی تقریر کے علاوہ سب تقاریر کروا لی جائیں۔ ایک کے بعد ایک تقریر ہوگئی اب بس لچھی رہ گئی تھی۔
کچھ دیر سوال جواب بھی کروا لیے گئے آخر کار جب زیادہ دیر ہوگئی تو لچھی کو تقریر کے لیے بلایا گیا۔ اسٹیج کے نسبتاً دائیں کنارے کی طرف رکھے ڈائس کی طرف بڑھتے ہوئے لچھی کو اپنا دل کنپٹیوں میں دھڑکتا محسوس ہورہا تھا۔ ڈائس کے ساتھ ہی اسٹیج پہ براہ راست داخل ہونے کا دروازہ تھا۔ لچھی نے بات کرنی شروع کی۔
” میں لکشمی کماری ولد رام چند یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کر رہی ہوں کہ۔ “
”لچھی۔ “ کسی نے اسے بیچ میں روک دیا۔ سب کی نظریں ساتھ دروازے سے اندر آتی بھیڑ کی طرف تھیں چند لوگ کسی شخصیت کو گھیرے میں لے کر اندر داخل ہورہے تھے۔ لچھی کو شکل نظر نہیں آئی صرف ایک تیز عطر کی خوشبو کا احساس ہوا وہ خوشبو جسے وہ کبھی نہیں بھلا سکتی تھی۔ سامنے کے چند لوگ ہٹے تو پیر سائیں اندر آتے دکھائی دیے جنہیں مہمانِ خصوصی کی کرسی تک لے جایا گیا۔
لچھی کے ہاتھ پسینے سے پسیجنے لگے۔ ہاتھوں کے نیچے رکھی تقریر کے الفاظ گیلے ہوکر ایک دوسرے میں مدغم ہوگئے اس نے دوبارہ اپنی تقریر شروع کی
میں لکشمی کماری ولد رام چند یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کر رہی ہوں کہ میں اپنے برادری کی بھلائی کے لیے اس سال انتخابات میں اقلیت کی نمائندگی کروں گی۔ میں شکر گزار ہوں جناب میر سائیں کی جنہوں نے مجھے یہ موقع دیا اور حکومتِ پاکستان کی وجہ سے ہمیں ہمشیہ اپنے علاقے میں برابر کے شہری کے حقوق ملے اور تعلیم کی سہولت ملی اب وقت آگیا ہے کہ ہم بھی پاکستانی ہونے کے ناتے ثابت کردیں کہ ہم بھی ہر پاکستانی کی طرح اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں۔ ”
لچھی کا چہرہ سپاٹ تھا اور الفاظ رک رک کے ادا ہورہے تھے۔


