گم شدہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر این، ان دنوں ہمیں شیلے جیکسن کا لکھا ہوا سنسنی خیز مواد پڑھنے کے لئے دے رہی تھیں اور ہر نیا مضمون یا اقتباس پڑھتے ہی، ہم مخصوص ذہنیت کے حامل ایشیائی ریسرچرز پسپائی اختیار کرنے کا سوچ لیتے تھے۔ مگر ڈاکٹر این بضد تھیں کہ تلاش کیا جائے کہ آخر کیوں یہ محترمہ اپنے زنانہ اعضائے غریبہ و رئیسہ سے یکساں طور پر، ایک ہی نوعیت کا کام لینے پر بضد تھیں۔ یہی نہیں بلکہ جب ڈاکٹر این نے ایک پھڑکتا بلکہ تڑتڑ کر کے جلتا سلگتا ناول مختلف رنگوں سے نشان زدہ کر کے میرے شوقِ اشتیاق اور کئیوں کے شوق اشتہا پر پہ در پے جملے کیے تو یقین مانیں کہ ساؤتھ ایسٹ ایشین شاگردوں کی گھگھی بندھ گئی۔

کافی پینے کا وقفہ کیا ملا، معلوم ہوا کہ ہم سب بغیر کسی پلاننگ کے کوریڈور میں کھڑے ایک دوسرے کو دُرزیدہ نگاہوں سے تکتے ہوئے یہ سوچ رہے تھے کہ یہ نسوانیت کی علمبردار پروفیسرز کہیں ہماری گفتگو میں پوشیدہ ایشیائی مردانہ مغلوبیت کے زیراثر صدیوں پرانی سوچیں اور خیالات نہ دریافت کر لیں۔ قدرے شرمیلی اور حیرت و اشتیاق کی آمیزش سے پیدا ہونے والی جھینپی جھینپی مسکراہٹوں کا بولتی آنکھوں سے تبادلہ ہوا تو ایک دوسرے کے ذہن کو پڑھنے کی کوشش میں مسکراہٹوں کے رنگ مزید گہرے ہو گئے۔ پہلے تو ہنسی کا جلترنگ بجا، پھر اس میں پھلجڑیاں چھوٹیں اور پھر سب سے زیادہ تجربے کار بنگالی خاتون نے چھتیس سالہ غیر شادی شدہ صالحہ سے پوچھا۔

کیسا لگ رہا ہے؟
سادہ سے پوچھے گئے اس سادہ سے سوال نے دلوں میں گدگدی مچا دی اور کئی قہقہے بلند ہوئے۔

صالحہ چھینپ سی گئی۔ کیونکہ آج ہی پہلے پیریڈ میں پروفیسراسٹیفنی نے ایسٹ ایشیاء کے ممالک میں بیس سال سے کم عمرلڑکیوں کے سیکشوئل مسائل پر لیکچر دیتے ہوئے۔ ازراہ تفنن کسی خاتون کا حوالہ دیا جو کہ پینیتس برس کی عمر میں ”فخریہ مجرد“ تھی اور پروفیسر اسٹیفنی نے فوری تجزیہ کرنے سے پہلے اپنی رائے کچھ اس طرح دی تھی کہ ”پینتیس سال کی عمر تک سیکس کا تجربہ نہ کرنا۔ کیا بذاتِ خود ایک بڑی ٹریجڈی نہیں ہے؟ “ میں نے صالحہ کو آنکھ مار کر آہستہ سے کہا۔

”سُن لو! “ صالحہ جس صدمے سے گزر رہی تھی وہ اس کے چہرے سے مترشح تھا۔ پروفیسر اسٹیفنی اور ڈاکٹر این کے لیکچرز کے بارے میں سب اپنا اپنا تجزیہ بتانے پر مصر ہوئے توکسی کی رائے سننے سے پہلے انڈین محقق نے مراٹھی لہجے میں انگریزی زبان سے انتقام لیتے ہوئے کہا کہ وہ تو اس بات پر شکر ادا کر رہی تھی کہ اس کی ماں اور دادی یہاں موجود نہیں ہیں ورنہ۔ ۔ ۔

اس بات پر بے ساختہ قہقہے برسے اور اس کے بعد تقریباً سبھی ریسرچرز کے تبصرے قریب قریب اینٹی فیمسٹ تھے۔ کافی پینے کے اس تھوڑی دیر کے وقفے میں اچانک میں نے غور کیا کہ نہ صرف برصغیر بلکہ عراق، ایران، لبنان اور اردن کے ریسرچرز بھی اِسی رُخ پر بات کر رہے تھے۔ اسلامک بلاک کا تصوراور وہ بھی یورپ کے عین درمیان بسی یونیورسٹی میں، بین الاقوامی منظر نامے کے ایک اور رخ کی عکاسی کر رہا تھا۔ اس مختصر وقفے کے بعد ہم سب کلاس کے گول دائرے میں رکھی کرسیوں پر براجمان ایک دوسرے کے سامنے تھے۔

تمام پی ایچ ڈی ریسرچرز کے سامنے ایک ایک صفحہ تھا۔ میں نے دیکھا ہم اسلامی ممالک سے وابستہ سبھی کرداروں نے بڑے پژمردہ انداز میں اس صفحے کو بھرا۔ جس میں ناول کے خدوخال اور اس کی انفرادیت کو بیان کرنا تھا۔

شیلے جیکسن کے اس ناول کی بنت انقلابی تونہیں مگر چونکا دینے والی ضرور تھی۔ ناول کا مرکزی کردار بدقسمتی سے کسی ایسے جسم میں محبوس تھا جو اس کے لئے نہیں بنا تھا۔ گوبات بڑی سیدھی سی تھی کہ دنیا۔ دو رنگوں یا دو جہتوں کے مابین منقسم نہیں ہے۔ اس کی کئی جہتیں اورکئی رنگ ہیں مگر چونکہ ہم سیدھی بات کو ٹیڑھی بنا کر پیش کرنے یا دیکھنے کے عادی ہیں لہٰذا جس ادراک و فہم اور فکر و تصور کے مناسب ذخیرے کی ضرورت تھی وہ شاید ہمارے پاس مفقود تھا۔

ناول کا یہ کرداراپنے وجود میں مقید رہ کر بھی آزادی کا خواہشمند تھا اور زندگی کو جینا چاہتا تھا۔ یہی جرم تھا اس کا۔ لہٰذا مشرقیت و مغربیت کے غیر لچکدار رویوں اور نظریات کے محافظوں اور علمبرداروں نے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو انفرادی سوچ رکھنے والوں کا ہوتا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار جو بظاہر عورت تھا، وہ عورت جو بیوی بھی بنی، ماں بھی، طلاق بھی لی اور جینے کی کوشش میں کٹہرے میں کھڑے ہو کر اس نے یہ ماجرا بھی دیکھا اور سنا کہ جن تین بچوں کو اس نے خونِ جان سے سینچا تھا، اسے اس کی کسٹڈی میں اس وقت تک نہیں دیا جائے گا جب تک کہ، بقول عدل و انصاف کے علمبردار، وہ اپنے غیر فطری و جبلی تقاضوں (جو کہ اس کردار کی نظر میں مکمل فطری تھے ) سے دستبردار نہیں ہو جاتی۔

”بچوں سے جبراً محرومی اوروہ بھی زیرسایہٴ حکومتِ وقت“ نامی باب نہایت دلدوز تھا۔ خاصا دل شکن اور افسردہ کر دینے والا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھی جو کہ ”لیسبین“ اور ”گے“ جیسے لفظوں کو بلاسوچے سمجھے تفریح حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں مگر ناول پڑھتے ہوئے مجھے اپنے آپ سے شرمندگی سی محسوس ہونے لگی۔

ناول کے اس باب میں ماں کے آنسو، باپ کی شقی القلبی، بچوں کی بے بسی اوران کے معصومانہ سوال، فطرت کی کج روی، معاشرے کی بے حسی اور لکھنے والی کے بے پناہ کرب کو پڑھتے ہوئے بار بار میری آنکھیں اشکبار ہوئیں اور مجھے اپنے خیالات سے رجوع کرنے کی سخت ضرورت درپیش آئی۔ ذہن، گو نئی سوچ کو قبول کرتے ہوئے ہچکچا رہا تھا مگر ادیبہ کا سفاک قلم، معاشرے کے ایک جبری اتہاس سے پردہ اٹھا کر مجھے آئینہ دکھانے کے درپے تھا۔ مجھے احساس ہے کہ میرا لکھا ہوا ایک صفحے کا مضمون، اس ناول کے ساتھ قطعی کوئی انصاف نہ کر پایا تھا۔

ناول کا سارا مواد سنی اور کہی داستانوں یا قصہ گوئی کی گولائیوں اور گہرائیوں سے باہر کی چیز تھا۔ یہ باتیں، واقعات اورلفظیات حسرت و بیچارگی کے اَن دیکھے اور غیر محسوس کردہ پیمانے تھے جنہیں چھونے کی تمنا کرنے والوں کے ہاتھ جل جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔ ناول کا ایک دوسرا رخ وہ ناکام یا کامیاب تجزیے اورتجربے تھے جو صدیوں سے انسان رتی رتی جمع کرتا، اکیسویں صدی تک لے آیا ہے۔ مگر یہاں بحث یہ بھی تھی کہ آیا یہ انسانی تجربات ہیں یا صرف مردانہ تجربات اور ان سے اخذ کردہ نتائج کا نچوڑ؟

نہ غم تھا، نہ غصہ بس اصرار تھا۔ لکھنے والی کا اصرار کہ اگر موجود اور تاریخی اعتبار سے قابل قبول بیس صدیوں تک عورت کو دنیا کی تجربہ گاہ میں مردوں کے تجربات کے لئے ایک آبجیکٹ کی طرح استعمال کر ہی لیا گیا ہے، تو اب ذرا اس آبجیکٹ کے احساسات سے بھی رجوع کر لیا جائے تاکہ سماج اور نظام کی اکائیوں اور دہائیوں کے مرتب کردہ ڈھانچے میں سسکتی روحوں کے درد تک رسائی کا کوئی درِ امکان تو کھلے۔ اب عورت، بحیثیت انسان اس نظامِ حیات اور حیاتِ کائنات میں اپنا گمشدہ حصہ تلاشنے کے ساتھ ساتھ، ماضی اور حال میں شراکت داری کی بنیاد پر مستقبل میں اپنے حقوق اور متوازن حصے کے لئے اصرار کرتی ہے تو دنیا کے ایوانوں میں ہلچل کیوں؟

تاریخ، سماجیات، مذاہب اور قوانین کی ازسرنو تشکیل کے تقاضے پر اتنا واویلا کیوں؟ کیا انسان اکیسویں صدی میں بھی اتنا پابند اور اپنے وجود کے اثبات کا ادراک کروانے میں ایسا ناکام ہے کہ کسی معتوب کو حق دینے کے سوال پر قدغن لگی، کہن، سیاہ پوش و سیاہ بخت شخصی و گروہی اجارہ داریوں کے محل متزلزل ہونے لگیں؟

اگلے دن میں ہی نہیں بلکہ کئی ایسے ریسرچرز تھے جو ڈاکٹر این کے سامنے کھل کر بات کرنے سے کترا رہے تھے۔ بہرحال۔ ڈاکٹر این اپنے مختصر انٹروڈکٹری لیکچرمیں ایل، جی، بی، ٹی کودرپیش مسائل اورمعاشرتی رویوں کا ذکر کرتی ہوئی ”قویر تھیوری“ پر آ گئیں۔

اینغم کی قسمت خراب کہ وہ ابھی تک ذہنی طور پر بغداد میں تھی اورصدام حسین کے غم سے پوری طرح باہر نہ نکل سکی تھی، عین اس وقت جب ڈاکٹراین تاریخی ادوار سے لے کر اکیسویں صدی کے امریکہ میں ”گے کپلز“ کو کچلنے کے لئے سرکاری ومعاشرتی ظالمانہ قوانین و اقدامات کے بارے میں بات کر رہی تھیں، سوال پوچھ بیٹھی ”مگر ڈاکٹر این کیا یہ رویہ ابنارمل نہیں۔ کم از کم ہمارے خطے میں تو اسے قابلِ نفرت ہی سمجھا جاتا ہے؟ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Latest posts by ڈاکٹر شہناز شورو (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *