کمزور سہیل کی باکرہ دلہن
کیا مسئلہ ہے تمھیں، میں نے نرمی سے سہیل سے پوچھا، وہ کچھ نہ بولا، دو دن ہوئے ہیں شادی کو ابھی تو کمرے میں سجائے پھولوں سے بھی خوشبو آ رہی ہے، اور تم نے طلاق کی بات کر دی، آخر کیوں میری بیوی نے بھی پوچھا، سہیل سر جھکائے بیٹھا رہا، سب نے باری باری پوچھا، مجھے سہیل پر غصہ آنے لگا، لیکن ضبط کرتا رہا، وہ باکرہ نہیں ہے، سہیل نے سر جھکائے کہا، سب حق و دق رہ گئے
کیا مطلب ہے اس بات کا، میرے دوسرے بھائی نے برہمی سے پوچھا، اب یہ بھی میں بتاوں آپ لوگوں کو، آپ سب مجھ سے بڑے ہیں، اچھی طرح میری بات کا مطلب سمجھتے ہیں، تم یہ فورا نہیں کہہ سکتے، دو دن ہوئے ہیں، تمھاری شادی کو، میں نے کہا، اچھا آپ کو کب معلوم ہوا تھا کہ بھابھی باکرہ ہیں، بکواس بند کرو، میں نے کہا، میری بیوی کمرے سے نکل گئی، دوسرے بھائی نے سہیل سے کہا، ایسی باتیں نہیں کرتے، پھر کیسی باتیں کروں، آپ لوگوں نے میرے لئے بد کردار لڑکی دیکھی
میری بھابھیاں چپ اور حیران تھیں، جب کہ میں سوچ رہا تھا کہ میری اتنی عمر ہو گئی ہے، کیا مجھے انسانوں کی پہچان نہیں ہوئی، کیا واقعی نادیہ بدکردار ہے، میری دونوں بھابھیاں بھی کمرے سے نکل گیئں، ہم چاروں بھائی کمرے میں رہ گئے، طلاق ہو گی تو خاندان میں باتیں بنیں گی، شادی پر اتنا خرچہ ہوا ہے، میرا بھائی بولا، میں تو شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا، آج کل لڑکیاں ایسی ہی ہو گئیں ہیں، آپ لوگ خوش قسمت ہیں، کہ اچھی لڑکیاں مل گیئں، میری قسمت خراب کہ مجھے بدکراد لڑکی ملی، سہیل نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا
تم ایسا نہ سوچو، میرا بھائی بولا، اچھی لڑکیوں کی کمی نہیں ہے، کیا مطلب ہے اس بات کا، سہیل نے پوچھا، مطلب دوسری شادی کر لینا کسی اچھی لڑکی سے، سہیل ایک دم کھڑا ہو گیا، مجھے شادی کرنی ہی نہیں ہے، مجھے کسی پر بھروسا نہیں ہے، میں نے اسے غور سے دیکھا، جلد بازی کی ضرورت نہیں ہے، میں خود نادیہ سے بات کروں گا، میں نے کہا، آپ کیا بات کریں گے، میرے بھائی نے پوچھا، بس کروں گا کچھ بات، اصل میں مجھے بھی کسی پر بھروسا نہیں ہے، یہ کہہ کر میں کمرے سے نکل آیا، سہیل تیزی سے میرے پیچھے آیا، لیکن کمرے سے باہر تینوں بھابھیوں کو کھڑا دیکھ کر واپس کمرے میں چلا گیا، میں بھی اپنے کمرے میں آ گیا
تینوں عورتیں کچھ دیر باتیں کرتی رہیں، پھر میری بیوی بھی کمرے میں آ گئی، اب کیا ہو گا، نادیہ ایسی لگتی تو نہیں، کتنی گھنی ہیں آج کل کی لڑکیاں، صبر ہی نہیں ہے، بد گمان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے، ایسا کچھ نہیں ہے، میں نے اسے جھڑکا، آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں، میری بیوی حیران ہو گئی، کیونکہ میں عقل استعمال کرتا ہوں، کیا مطلب ہے، کچھ نہیں سو جاو، میری نیند اڑ چکی ہے، آپ کیا سوچ رہے ہیں، آپ کو غصہ نہیں آ رہا، کہ ہم کو دھوکہ دیا گیا، میں کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگا، میری بیوی کچھ دیر بولتی رہی، پھر میری طرف سے کوئی جواب نہ پا کرخاموش ہو گئی۔
صبح ہونے پر میں نیچے آیا، جمعدار کچرا لینے کے لئے بیل بجا رہا تھا، میں نے کچرے کو دیکھا، اور پھر کچرا دان اسے دے دیا، کچرا دان واپس لے کر اور دروازہ بند کرکے آیا، تو میری بیوی بھی نیچے اتر رہی تھی، چائے بناؤ میں نے اسے کہا، وہ چپ چاپ ناشتہ بنانے لگی، ناشتے کے بعد میں اپنے آفس پہنچا، آدھا دن گزار کر پہلے صدر بازار گیا، پھر ٹیکسی کر کے نادیہ کے گھر پہنچا، نادیہ کے والد مجھے دیکھ کر حیران پریشان سے ہو گئے، آپ پریشان نہ ہوں، مجھے سکون سے بیٹھنے دیں، وہ مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر چلے گئے، کچھ دیر کے بعد نادیہ کی والدہ اور والد دونوں کمرے میں آ گئے
کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں، پھر نادیہ کی امی نے پوچھا، سہیل کو ساتھ کیوں نہیں لائے، وہ بھی آئے گا، بے فکر رہیں، تھوڑی دیر کے بعد نادیہ کمرے میں داخل ہوئی، مجھے سلام کیا اور بیٹھ گئی، میں نے اس کی طرف دیکھا، وہ پر سکون نظر آتی تھی، میں نے اس کے والدین سے کہا، مجھے نادیہ سے اکیلے میں بات کرنی ہے، ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، اور کمرے سے نکل گئے، نادیہ میری طرف دیکھتی رہی پھر سر جھکا لیا
میں نے کہا، سہیل نے الزام لگایا ہے کہ تم باکرہ نہیں ہو، وہ یہی کر سکتے تھے، وہ تلخی سے بولی، مجھے معلوم ہے، کہ یہ صرف الزام ہے، اس نے چونک کر میری طرف دیکھا، میرے والدین کو بہت صدمہ ہو گا، اس نے کہا، بات نہیں بڑھے گی صرف چند دن تم صبر کر لو، میں نے کہا، چند دن میں وہ ٹھیک ہو جائیں گے، نادیہ نے پوچھا، میں نے ہاتھ جوڑ دیے، ہم تمھارے مجرم ہیں، ایسا نہ کہیں، وہ بولی، ایسا ہی ہے مجھے عین وقت پر معلوم ہوا ورنہ میں کبھی یہ شادی نہ ہونے دیتا، نادیہ چپ رہی
میں نے شہر کے ایک اچھے ڈاکٹر سے وقت لیا ہے اگلے ہفتے سہیل کو لے جاوں گا، فیصلہ تمھارے اوپر ہے ساتھ چلو گی یا پھر علیحدگی اختیار کرناچاہو گی، نادیہ چپ رہی، تھوڑی دیر بعد گویا ہوئی، اگر میں واقعی باکرہ نہ ہوتی تب بھی آپ یہی کرتے، میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا، میں تب بھی یہی کرتا، غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں، سہیل پر غصہ ہے لیکن کیا کروں؟
مجھے بتاؤ کوئی حل، میرے پاس کوئی آپشن ہی نہیں سوائے آپ کی بات ماننے کے، خاندان کی عزت اور اپنی زندگی کو سوالوں سے بچانے کے لئے، وہ بولی اور اٹھ کر چلی گئی، میں کچھ نہ کہہ سکا، تھوڑی دیر کے بعد وہ پرس اور چادر لے کر آ گئی، اس کی والدہ نے مجھے کہا، سہیل کو لے کر آتے تو اچھا ہوتا، اب لے کر جا رہے ہیں تو ہماری بیٹی کا خیال رکھئے گا، میں بولنے کے قابل نہ تھا، میں نے ٹیکسی منگوائی، نادیہ چپ چاپ بیٹھ گئی، راستے میں ایک دیوار پر لکھا نظر آیا، ہر قسم کی کمزوری کا شافی علاج کیا جاتا ہے، میں سوچنے لگا کہ ہم کس کس کمزوری کا علاج کریں گے، ہماری تو ان گنت اخلاقی کمزوریاں ہیں، نہ ہم درست ناپ تول۔
کرتے ہیں، نہ دفاتر میں ذمہ داری سے کام نمٹاتے ہیں، نہ ٹریفک قوانین کا احترام کرتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہوئے سوچتے ہیں حتی کہ شادی جیسے مقدس بندھن کا آغاز بھی دھوکے اور لالچ کی بنیاد پر رکھتے ہیں، پھر ایمان اور حیا کا پرچار کرتے ہیں، صاحب کون سی گلی میں موڑوں، ٹیکسی ڈرائیور کی آواز نے مجھے چونکا دیا، میں نے راستہ بتایا، گھر کے دروازے کے سامنے سہیل اور اس کا دوست کھڑے تھے، سہیل نادیہ اور مجھے دیکھ کر شسدر رہ گیا، نادیہ اتر کر گھر کے اندر چلی گئی، میں نے سہیل کے دوست کو کہا، تم اچھے حکیم کے پاس نہیں لے گئے سہیل کو، میں نے ڈاکٹر سے وقت لے لیا ہے، یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ سہیل درشتی سے بولا، میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں، زیادہ ہوشیار بننے کی ضرورت نہیں ہے، ایک ہفتے سے گھر کا کچرا میں ہی جمعدار کو دے رہا ہوں۔ سہیل مجھے دیکھتا رہ گیا، میں گھر کے اندر داخل ہو گیا، تھوڑی دیر کے بعد سہیل بھی سر جھکائے گھر میں داخل ہو گیا۔

