بائی فوکل کلب – مشتاق احمد یوسفی
قوالی شروع ہوئی ہے تو ہم پانچویں صف میں دو زانو بیٹھے تھے۔ نہیں، محض دو زانو نہیں۔ اس طرح بیٹھے تھے جیسے التحیات پڑھتے وقت بیٹھے ہیں۔ لیکن جیسے ہی محفل رنگ پر آئی، ہم حال کھیلنے والوں کے دھکے کھاتے کھاتے اتنے آگے نکل گئے کہ رات بھر ٹانگیں غلیل کی طرح پھیلائے ایک ہارمونیم کو گود میں لیے بیٹھے رہے۔ ایک نووارد نے ہمیں ایک روپیہ بھی دیا۔ ہمارا حشر یعنی چائے پانی بھی قوالوں کے ساتھ ہوا۔ دھکوں کے ریلے میں ہم قوالوں کی ٹولی کو چیرتے ہوئے دوسرے دروازے سے کبھی کے باہر نکل پڑے ہوتے، مگر بڑی خیریت گزری کہ ایک کلارنیٹ نے ہمیں بڑی مضبوطی سے روکے رکھا۔ یہ کلارنیٹ کوئی سوا گز لمبا ہو گا۔ اس کا بے ضر ر سرا تو سازندے کے منہ میں تھا، لیکن پھن ہمارے کان میں ایسا فٹ ہو گیا تھا کہ زور کے دھکوں کے باوجود ہم ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔
آخر شب حضرت نے بطور خاص فرمائش کر کے طوائف سے اپنی ایک، بحرسے خارج غزل گوائی، جسے اس غیرت ناہید نے سر تال سے بھی خارج کر کے سہ آتشہ کر دیا۔ حضرت اپنا کلام سن کر اس قدر آبدیدہ ہوئے کہ چھپا ہوا رومال (جس کے حاشیے پر چند اشعار کھانے کی فضیلت میں رقم تھے ) تر ہو گیا۔ مقطع جی توڑ کر گایا اور زباں پہ بار خدایا شاعر کا نام آیا تو ناچتے ہوئے جا کر سر سامنے کر دیا۔ حضرت نے از راہ پرورش اصلی چھوہارے کی گٹھلیوں کی ہزار دانہ تسبیح اپنے دست غنا آلود سے اس کے گلے میں ڈال دی۔
اور اپنی خاک پا اور حجرۂ خاص کی جاروب بھی مرحمت فرمائی۔ چار بجے جب سب کی جیبیں خالی ہو گئیں تو بیشتر کو حال آ گیا۔ اور ایسی دھمال مچی کہ تکیہ کے گنبد کی ساری چمگادڑیں اڑ گئیں۔ کسی کے پاؤں کی ضرب مستانہ سے حضرت کے خلیفہ کی گھڑی کا شیشہ چور چور ہو گیا اور اب وہ بھی اپنی دستار خلافت، جبہ، بائی فوکل اور چاندی کے بٹن اتار کر میدان میں کود پڑے۔ صرف انگوٹھی اور موزے نہیں اتارے۔ سو وہ بھی بحالت مستی کسی نے اتار لیے۔ نوٹوں کی بوچھار بند ہوئی اور اب ہر بیت پر جزاک اللہ کا غلغلہ بلند ہونے لگا۔ اس بھاگ بھری نے جو دیکھا کہ بندوں نے اپنا ہاتھ کھینچ کر اب معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا ہے تو جھٹ آخری گلوری کلے میں دبا کے کہروے پر محفل ختم کر دی۔
پانچ بجے صبح ہم کان سہلاتے محفل سمع خراشی سے لوٹے۔ کچھ مہمل کلام کا، کچھ خود رفتگیِ شب کا خمار، ہم ایسے غافل سوئے کہ صبح دس بجے تک سناتے رہے۔ اور بیگم ہمارے پلنگ کے گرد منڈلاتے ہوئے بچوں کو سمجھاتی رہیں ”کمبختو! آہستہ آہستہ شور مچاؤ۔ ابا سو رہے ہیں۔ رات بھر اس منحوس مرزا کی مصاحبی کی ہے۔ آج دفتر نہیں جائیں گے۔ اری او نبیلہ کی بچی! گھڑی گھڑی دروازہ مت کھول۔ مکھیوں کے ساتھ ان کے ملاقاتی بھی گھس آئیں گے۔
” شام کو مرزا چلتے پھرتے ادھر آ نکلے اور (وہ روحانی طمانیت اور رونق دیکھ کر جو ہمارے منہ پر دفتری فرائض ادا نہ کرنے سے آ جاتی ہے ) کہنے لگے، “ دیکھا! ہم نہ کہتے تھے ایک ہی صحبت میں رنگ نکھر آیا۔ رات حضرت نے توجہ فرمائی؟ قلب پر کوئی اثر مرتب ہوا؟ رؤیا ہوا؟ ”ہم نے کہا، “ رویا وؤیا تو ہم جانتے نہیں۔ البتہ صبح ایک عجیب و غریب خواب دیکھا کہ بغداد میں سفید سنگ مرمر کی ایک عالیشان محل سرا ہے، جس کے صدر دروازے پر قومی پرچم کی جگہ ایک ”بیکنی“ لہرا رہی ہے۔
چھت وینس ڈی ملو کے مجسموں پر ٹھہری ہوئی ہے۔ حمام کی دیواریں شفاف بلور کی ہیں۔ مرکزی قالین کے گرد اگرد غیر محفوظ فصل سے مخملی گاؤ تکیوں کی جگہ تنک لباس کنیزیں آڑی لیٹی ہیں اور شیوخ ان کی گداز ٹیک لگائے ایک دوسرے کو گاؤ تکیے کو آنکھ مار رہے ہیں۔ سامنے ایک زن پر فن نقاروں پر، اپنی آنکھیں انجیر کے پتے سے ڈھانپے، برہنہ رقص کر رہی ہے اور پاؤں سے انہی نقاروں پرتال دیتی جاتی ہے۔ دل بھی اسی تال کے مطابق دھڑک رہے ہیں۔
غرض کہ ایک عالم ہے۔ امراء کے آزو بازو کنیزوں اور پیش خدمتوں کے پرے کے پرے منتظر ہیں کہ ابروئے طلب کی جنبش نیم شبی پر اپنی لذتیں اس پر تمام کر دیں۔ یہ وقفہ وقفہ سے شراب، کباب اور اپنے آپ کو پیش کرتی ہیں۔ اسی قالین کے سیاہ حاشیے پر چالیس غلام ہاتھ باندھے، نظریں جھکائے کھڑے ہیں۔ اور میں ان میں سے ایک ہوں! اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ، بھاری بدن، نیند میں بھری ہوئی آنکھیں۔ داڑھی اتنی لمبی کہ ٹائی لگائیں تو نظر نہ آئے۔ سبز جریب ٹیکے آ رہے ہیں۔ ہم نے اپنی ہتھیلی پرسو روپے کا نوٹ رکھ کر پیش کیا۔ حضرت نے نوٹ اٹھا کر وہ جگہ چومی، جہاں نوٹ رکھا تھا اور بشارت دی کہ بارہ برس بعد تیرے بھی دن پھر جائیں گے۔ تو باون سال کی عمر میں ایک بھرے پرے حرم کا مالک۔ ۔ ۔ ۔ ”
مرزا کا چہرہ لال انگارہ ہو گیا۔ قطع کلام کرتے ہوئے فرمایا
”تم جسم شاعر کا، مگر جذبات گھوڑے کے رکھتے ہو! “
پھر انہوں نے لعن طعن کے وہ دفتر کھولے کہ عاجز نے کھڑے کھڑے تمام مکینوں کو، مع لباس مختصر، حرم سے نکال باہر کیا۔
تین نووارد گیشائیں تھیں کہ جن کے ویزا کی ابھی آدھی مدت بھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ کیسے کہوں کہ انہیں بھی اس ہڑبونگ میں زاد راہ دیے بغیر نکال دیا!
اور ان کے ساتھ ساتھ تصوف کا خیال بھی ہمیشہ ہمیش کے لیے دل سے نکال دیا۔ سنیے۔ عینک ہمارے لیے نئی چیز نہیں۔ اس لیے کہ پانچویں جماعت میں قدم رکھنے سے پہلے ہماری عینک کا نمبر 7 ہو گیا تھا۔ جو قارئین ننگی آنکھ (انگریزی ترکیب ہے، مگر خوب ہے ) سے دیکھنے کے عادی ہیں انہیں شاید اندازہ نہ ہو کہ 7 نمبر عینک کیا معنی رکھتی ہے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ اندھا بھینسا کھیلتے وقت بچے ہماری آنکھوں پر پٹی نہیں باندھتے تھے۔
ہمارا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ناک صرف اس لیے بنائی ہے کہ عینک ٹک سکے۔ اور جو بچارے عینک سے محروم ہیں، ان کی ناک محض زکام کے لیے ہے۔ ۔ ۔ دادا جان قبلہ کا عقیدہ تھا کہ عربی نہ پڑھنے کے سبب سے ہم نصف نابینا ہو گئے ہیں۔ ورنہ اس معزز خاندان کی تاریخ میں ڈیڑھ سو سال سے کسی بزرگ نے عینک نہیں لگائی۔ اللہ اللہ! سستاسماں اور کیسے سادہ دل بزرگ تھے کہ گرلز پرائمری اسکول کی بس کا راستہ کاٹنے کو تماش بینی گردانتے تھے!
آج ہمیں اس کا ملال نہیں کہ وہ ایسا کیوں سمجھتے تھے، بلکہ اس کا ہے کہ ہم خود یہی کچھ سمجھ کر جایا کرتے تھے! اور جب ہم چوری کی چونی سے بائیسکوپ دیکھ کر رات کے دس بجے پنجوں کے بل گھر میں داخل ہوتے تو ڈیوڑھی میں ہمیں خاندان کے تمام بزرگ نہ صرف خود گارڈ آف آنر دیتے، بلکہ اپنی کمک پر بیرونی بوڑھوں کو بھی بلا لیتے تھے کہ مقابلہ ہمارے فسق و فجور سے تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

