بائی فوکل کلب – مشتاق احمد یوسفی


ذرا ترتیب بگڑی اور آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی۔ لیکن جس گھر میں بفضلہ تین بچے ہوں وہاں یہ رکھ رکھاؤ ممکن نہیں۔ اور رکھ رکھاؤ تو ہم نے تکلفاً کہہ دیا ورنہ سچ پوچھیے تو کچھ بھی ممکن نہیں۔

دل صاحب اولاد سے انصاف طلب ہے

ایک دن ہم نے جھنجھلا کر بیگم سے کہا، یہ کیا اندھیر ہے۔ تمہارے لاڈلے ہر چیز جگہ سے بے جگہ کر دیتے ہیں۔ کل سے چاقو غائب تھا۔ ابھی عقدہ کھلا کہ اس سے گڑیا کا اپینڈکس نکالا گیا تھا! تنک کر بولیں، اور کیا کلہاڑی سے گڑیا کا پیٹ چیرا جاتا؟ ہم نے جھٹ ان کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، ہاں! یہ کیسے ممکن ہے۔ اس لئے کہ کلہاڑی کے ڈنڈے سے تو اس گھر میں کپڑے دھوئے جاتے ہیں! تم ہی بتاؤ، صبح تازہ مضمون کی ناؤ بلکہ پورا بیڑا ٹب میں صفحہ وار نہیں چل رہا تھا؟

تمہارے گھر میں ہر ایک چیز کا نیا طریقۂ استعمال، ایک نیا فائدہ دریافت ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ سوائے میرے! تمہارے سامنے کی بات ہے۔ کہہ دو، یہ بھی جھوٹ ہے۔ پرسوں دوپہر اخبار پڑھتے پڑھتے ذرا دیر کو آنکھ لگ گئی۔ کھلی تو عینک غائب۔ تم سے پوچھا تو الٹی ڈانٹ پڑی ”ابھی سے کا ہے کو اٹھ بیٹھے۔ کچھ دیر اور سو لو۔ ابھی تو گڈو میاں تمہارا بائی فوکل لگائے اندھا بھینسا کھیل رہے ہیں! بالکل اپنے باپ پر پڑے ہیں۔ “ بچے سبھی کے ہوتے ہیں۔ مگر گھرکا گھر وایا کہیں نہیں ہوتا۔ صبح دیکھو تو سگریٹ لائٹر کی لو پر ہنڈ کلیا پکائی جا رہی ہے۔ شام کو خود بیگم صاحب گیلے بال بکھیرے، پندرہ گز گھیر کی شلوار میں ہماری پینسل سے سٹ سٹ کمر بند ڈال رہی ہیں۔

سرخ چوڑیاں چھنکا کر سہاگ راگ چھیڑتے ہوئے بولیں، ہائے اللہ! دفتر کا غصہ گھر والوں پر کیوں اتار رہے ہو؟ کسی نے تمہاری پنسل سے کمر بند ڈالا ہو تو اس کے ہاتھ ٹوٹیں۔ میں نے تو تمہارے ”پار کر“ سے ڈالا تھا! چاہے جس کی قسم لے لو۔ رہے بچے، تو ان کے نصیب میں تمہاری استعمال لی ہوئی چیزیں ہی لکھی ہیں۔ پھر بھی آج تک ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے چیز واپس وہیں نہ رکھی ہو۔ ہم نے کہا یقین نہ ہو تو خود جا کر اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھ لو۔ سیفٹی ریزر کا بلیڈ غائب ہے۔ بولیں، کم از کم خدا سے تو ڈرو۔ ابھی ابھی میرے سامنے نبیلہ نے پنسل چھیل کر واپس ریزر میں لگایا ہے۔ وہ پجاری خود احتیاط کرتی ہے!

مرزا نے موضع چاکسو (خورد و کلاں ) کے نیم بزرگوں کی انجمن کی داغ بیل ڈالی تو ہفتوں اس تذبذب میں رہے کہ نام کیا رکھا جائے۔ پروفیسر قاضی عبد القدوس ایم۔ اے۔ (گولڈ میڈلسٹ) نے ”انجمن افسردہ دلان چاکسو، رجسٹرڈ“ تجویز کیا جو اس بنا پر مسترد کر دیا گیا کہ ممبری کا دار و مدار محض افسردہ دلی پر رکھا گیا تو چاکسو کے تمام شاعر مع غیر مطبوعہ دیوان گھس آئیں گے۔ خاصی بحث و تمحیص کے بعد طے پایا کہ اس غول کہولاں کا نام ”بائی فوکل کلب“ نہایت موضوع رہے گا کہ بائی فوکل ایک لحاظ سے تمام دنیا کے ادھیڑوں کا قومی نشان ہے۔

انسان کی فطرت بھی ایک طرفہ تماشا ہے۔ بوڑھا ہو یا بچہ، نوجوان ہویا ادھیڑ آدمی ہر منزل پر اپنی عمر کے باب میں جھوٹ ہی کو ترجیح دیتا ہے۔ لڑکے اپنی عمر دو چار سال زیادہ بتا کر رعب جماتے ہیں۔ یہی لڑکے کو جب نام خدا جوان ہو جاتے ہیں تو نوجوان کہلانا پسند کرتے ہیں۔ جو ادھیڑ مرد نسبتاً راست گو واقع ہوئے ہیں، وہ اپنی عمر دس برس کم بتاتے ہیں۔ عورتیں ہمیشہ سچ بولتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ وہ ایک دوسرے کی عمر ہمیشہ صحیح بتاتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خون، مشک، عشق اور ناجائز دولت کی طرح عمر بھی چھپائے نہیں چھپتی۔ بائی فوکل، السر، بد نظری، گاف، نئی نسل سے بیزاری، رقیق القلبی اور آسودہ حالی۔ ۔ ۔ یہ عمر وسطیٰ کی جانی پہچانی نشانیاں ہیں۔ ان سات صفات میں سے چھ کی بنا پر (یعنی آسودہ حالی کو چھوڑ کر) جو ہماری ذات کے کوزے میں بند ہو گئی تھیں، ہمیں بلا مقابلہ بائی فوکل کلب کا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا۔

کلب کی رکنیت کی بنیادی شرط یہ ہے کہ آدمی چالیس سال کا ہو۔ اور اگر خود کو اس سے بھی زیادہ محسوس کرتا ہو تو کہنا ہی کیا۔ حضرت حفیظ جالندھری کے الفاظ میں یہ وہ عجب عمر ہے کہ آدمی کو

ہر بری بات، بری بات نظر آتی ہے!

یہ وہ دور عافیت جب آدمی چاہے بھی تو نیکی کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتا۔ انڈونیشیا کے سابق صدر سوئیکارنو کا قول ہے کہ تیس بہاروں کے بعد ربر کا درخت اور بنت حوّا کسی مصرف کے نہیں رہتے، جبکہ مرد کسی عمر میں حسن سے مامون نہیں۔ ایسے مقولے کی تردید یا تائید ہمارے بس کا کام نہیں۔ سوئیکارنو تو بزرگ مردم دیدہ و زن گزیدہ ہونے کے علاوہ صدارت کے صدمے بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ ہم تو ان سے بھی محروم ہیں۔ پھر یہ کہ چھوٹے منھ کو بری بات زیب بھی نہیں دیتی۔

ربر کے بارے میں ہم ابھی صرف اتنا دریافت کر پائے ہیں کہ غلطیوں کو مٹانے کے لئے خاصی کارآمد چیز ہے۔ رہی صنف نازک، سو اپنے محتاط تجربے و مشاہدے کی بنا پر ہم کوئی خوبصورت جھوٹ نہیں بول سکتے۔ شیرنی کو کچھار میں کلیلیں کرتے دیکھنا اور بات ہے اورسرکس کے پنجرے میں بینڈ کی دھن پر لوٹیں لگاتے ہوئے دیکھنا اور بات۔

البتہ اپنے ہم جنسوں کے بارے میں بہت سے بہت کہہ سکتے ہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ سائیں سائیں کرتا ریگستان جو راتوں رات جیتی جیکو زمین کو نگلتا چلا جاتا ہے، وہ لق و دق صحرائے اعظم جو سن رسیدہ سینوں میں دما دم پھیلتا رہتا ہے، وہ کسی بھی لمحے نمودار ہو سکتا ہے کہ دل آنکھ سے پہلے بھی بوڑھے ہو جایا کرتے ہیں۔ اس ہو کے صحرا میں گونج کے سوا کوئی صدا، کوئی ندا سنائی نہیں دیتی اور کیکٹس کے سوا کچھ نہیں لگتا۔ مرزا اس بنجر، بے رس، بے رنگ، بے امنگ دھرتی کو NO WOMAN ’S LAND کہتے ہیں۔ جس کی ملی جلی سرحدیں صرف بائی فوکل سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ بڑھتے ہوئے سایوں اور بھینی بھینی یادوں کی سر زمین ہے جس کے باسی پیاس کو ترستے ہیں اور بے پیاس پیتے ہیں کہ انہیں

اس کا بھی مزا یاد ہے، اس کا بھی مزا یاد

ایک دن ہمیں اوپر کے شیشے سے صفحہ نمبر اور نچلے سے فٹ نوٹ پڑھتا دیکھ کر مرزا منہ اوپر نیچے کر کے ہماری نقل اتارنے لگے۔ حاضرین کو ہمارے حال پر خوب ہنس اچکے، تو ہم نے جل کر کہا، اچھا، ہم تو محض نیک چلنی کی وجہ سے قبل از وقت اندھے ہو گئے، لیکن تم کس خوشی میں یہ بوتل کے پیندے جتنی موٹی عینک چڑھاتے پھرتے ہو؟ فرمایا، مگر یہ بائی فوکل نہیں ہے۔ ہم نے کہا، تو کیا ہوا؟ جس عینک سے تم منہ اندھیرے تفسیر ماجدی کی ہل ہل کے تلاوت کرتے ہو، اسی سے رات ڈھلے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے ستر کشا کیبرے دیکھتے ہو! فرمایا برخوردار! اسی لئے آج تک ہمارا دل سالم ہے!

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7