بائی فوکل کلب – مشتاق احمد یوسفی


عینک پر پھبتیاں سنتے سنتے ہمارا کمسن کلیجہ چھلنی ہو گیا تھا۔ لہٰذا دوسال بعد جب دادا جان کا موتیا بند کا آپریشن ہوا تو ہم نے اس خوشی میں بچوں کو لیمن ڈراپ تقسیم کیں۔ در اصل ہم سب بچے انہیں ”پرابلم“ بزرگ سمجھا کرتے تھے۔ وہم کے مریض تھے۔ آپریشن سے پہلے مصنوعی بتیسی کے ایک اگلے دانت میں دردمحسوس کر رہے تھے، جس کا علاج ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹرسے کرانے کے بعد، انہوں نے وہ دانت ہی اکھڑوا دیا تھا۔ اور اب اس کی کھڈی میں حقے کی نقرئی مہنال فٹ کر کے گھنٹوں ہمارے تاریک مستقبل کے بارے میں سوچا کرتے تھے۔

ہاں تو ہم کہہ رہے تھے کہ آپریشن کے بعد وہ آدھ انچ موٹے شیشے کی عینک لگانے لگے تھے، جس سے ان کی غصیلی آنکھیں ہم بچوں کو تگنی بڑی دکھائی دیتی تھیں۔ اللہ جانے خود انہیں بھی اس سے کچھ دکھائی دیتا تھا یا نہیں۔ اس کا کچھ اندازہ اس سے ہوتا تھا کہ اسی زمانے میں ابّا جان چوکیداری کے لیے ایک سنہری رنگ کا بوڑھا کتا لے آئے تھے، جسے کم نظر آتا تھا، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دادا جان کو کتا اور کتے کو وہ نظر نہیں آتے تھے۔

ہماری یہ ڈیوٹی لگی ہوئی تھی کہ ہر دو فریقین کو ایک دوسرے کے حلقۂ گزند سے دور رکھیں۔ بالخصوص مغرب کے وقت۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ ہماری غفلت سے وہ وضو کر کے ہرن کی کھال کے بجائے کتے پر بیٹھ جاتے اور مؤخر الذکر، اول الذکر پر بھونکنے لگتا تو وہ راقم الحروف پر چیختے کہ اندھا ہو گیا ہے کیا؟ عینک لگا کے بھی اتنا بڑا کُتا نظر نہیں آتا!

دعویٰ تو مرزا اور عینک ساز دونوں نے یہی کیا تھا کہ بالائی غرفے سے دور کی اور زیریں غرفے سے پاس کی چیزیں صاف نظر آئیں گی۔ پروفیسر قاضی عبد القدوس نے تو یہاں تک امید بندھائی تھی کہ دور کے شیشے سے اپنی بیوی اور پاس کے شیشے سے دوسرے کی بیوی کا چہرہ نہایت بھلا معلوم ہو گا۔

غافل نے اِدھر دیکھا، عاقل نے اُدھر دیکھا
لیکن قدم قدم پر ٹھوکریں کھانے کے بعد کھلا کہ بائی فوکل سے نہ دور کا جلوہ نظر آتا ہے نہ پاس کا۔ البتہ صبر آ جاتا ہے۔ یہاں تک تو بسا غنیمت ہے کہ ہم بندوق کی سببی نچلے شیشے اور مکھی اوپر والے شیشے سے ملاحظہ فرمائیں۔ اور اگر تیتر بندوق کی نال میں چونچ ڈالے کارتوس کا معائنہ کر رہا ہے تو پھر بچ کے نہیں جا سکتا۔ خیر، شکار کو جانے دیجئے کہ یوں بھی ہم جیو ہتیا کے خلاف ہو گئے ہیں۔ (زین بدھ ازم اور اہنسا کی تعلیمات سے قلب ایسا رقیق ہوا ہے کہ اب دلی خواہش یہی ہے کہ خوبصورت پرند کو جان سے مارے بغیر اس کا گوشت کھا سکیں۔ ) لیکن زینہ سے اترتے وقت

آنکھ پڑتی ہے کہیں، پاؤں کہیں پڑتا ہے

اور جہاں پاؤں پڑتا ہے، وہاں سیڑھی نہیں ہوتی۔ مرزا سے اس صورت خاص کا ذکر کیا تو کہنے لگے کہ عینک ہر وقت لگائے رکھو۔ لیکن جہاں نظر کا کام ہو، وہاں ایک خوب صورت سی چھڑی ہاتھ میں رکھا کرو۔ لاہور میں عام ملتی ہیں۔ ہم نے کہا، لاہور میں جو خوب صورت چھڑیاں عام ملتی ہیں، وہ ہمارے شانے تک آتی ہیں۔ ہم انہیں ہاتھ میں نہیں رکھ سکتے۔ بغل میں بیساکھی کی طرح دبائے پھر سکتے ہیں۔ مگر لالہ رخساران لاہور اپنے دل میں کیا کہیں گے؟ بولے، تو پھر ایک کتا ساتھ رکھا کرو۔ تمہاری طرح وفا دار نہ ہو تو مضائقہ نہیں، لیکن نابینا نہ ہو۔

ہم نو اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شاہان سلف، بالخصوص بعض مغل فرماں روا، اپنے سرکش صوبیداروں، شورہ پشت شہزادوں اور تخت و تاج کے دعویدار بھائیوں کی جلاد سے آنکھیں نکلوا کر خود کو تاریخ ہند مؤلفہ ایشوری پرشاد میں خواہ مخواہ رسوا کر گئے۔ ان سب کو (بشمول ایشوری پرشاد) بائی فوکل لگوا دیتے تو اوروں کو کان ہو جاتے اور یہ دکھیارے بھیک مانگنے کے لائق بھی نہ رہتے۔ ہمارا خیال ہے کہ نہ دیکھنے کا اس سے زیادہ سائنٹیفک آلہ آج تک ایجاد نہیں ہوا۔ ذرا کھل کر بات کرنے کی اجازت ہو تو ہم یہاں تک کہہ گزریں گے کہ بائی فوکل عفت نگاہ کا ضامن ہے۔ مثلاً عینک کے بالائی حصے سے مقابل بیٹھے ہوئے بت سیم تن کے سرتاج کی جبر جنگ مونچھ کا ایک ایک بال گنا جا سکتا ہے، لیکن جب ریشمی ساری ہمارے ہی رخ سرک کر پنڈلی سے اوپر یوں چڑھ جائے کہ

نہ دیکھے اب تو نہ دیکھے، کبھی تو دیکھے گا

تو صاحب! اس بے حیائی کا مطالعہ یکسوئی سے نہ اوپر کے شیشے سے کیا جا سکتا ہے، نہ نیچے کے شیشے سے۔ اور یوں گرہستی آدمی ایک گناہ سے بچ جاتا ہے

وہ اک گنہ جو بظاہر گناہ سے کم ہے

اتنا ضرور ہے کہ اسے لگانے کے بعد مزید تین عینکوں کا اہتمام لازم آتا ہے۔ ایک دور کی۔ دوسری پاس کی اور تیسری بغیر شیشوں والی۔ ۔ ۔ دیکھنے کے لیے۔ یہ آلات تشدد اس لئے بھی ضروری ہیں کہ یوں دکھانے کے ادھیڑ آدمی کے منھ پر آنکھ، آنکھ میں پتلی، پتلی میں تل اور تل میں غالباً بینائی بھی ہوتی ہے، لیکن تین سے پانچ فٹ دور کی چیز کسی طور بائی فوکل کے فوکس میں نہیں آتی۔ ایک سانحہ ہو تو بیان کریں۔ پرسوں رات دعوت ولیمہ میں جس چیز کا ڈونگا سمجھ کر ہم نے جھپا جھپ اس میں سے پلاؤ کی ساری بوٹیاں گرا لیں، وہ ایک مولوی صاحب کی پلیٹ نکلی جو خود اس وقت زردے کی کشتی پر بری نظر ڈال رہے تھے۔ یا کل رات گھپ اندھیرے سینیما حال میں انٹرول (جسے مرزا وقفہ تاک جھانک کہتے ہیں ) کے بعد شانے پر ہاتھ رکھے، جس سیٹ تک پہنچنے کی کوشش کی، وہ سیٹ ہماری نہیں نکلی۔ اور نہ وہ شانہ ہماری اہلیہ کا!

انسان کی کوئی محرومی خالی از حکمت نہیں۔ جیسے جیسے کچھ درد بقدر ہماری تاب و تحمل کے ہمیں عطا ہوتا ہے، قلب بصیرتوں سے گداز ہوتے چلے جاتے ہیں۔ انسان جب چشم و گوش کا محتاج نہ رہے اور اسے اٹکل سے زندگی گزارنے کا ہنر آ جائے تو صحیح معنوں میں نظم و ضبط کا آغاز ہوتا ہے۔ مرزا کے علاوہ بھلا یہ اور کس کا قول ہو سکتا ہے کہ کایا کا سکھ چاہو تو جوانی میں بہرے بن جاؤ اور بڑھاپے میں اندھے۔ ہوس سیر و تماشا تو خیر پرانی بات ہوئی، ہم تو اب بینائی کا بھی ہڑکا نہیں کرتے۔

ہو ہو، نہ ہو نہ ہو۔ اب تو ہر چیز کو اپنی جگہ رکھنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ الماری میں دائیں طرف پتلون، بائیں طرف پرانی قمیض جنہیں اب صرف بند گلے کے سوئٹر کے نیچے پہن سکتے ہیں۔ دوسرے خانے میں سلیقے سے تہ کیا ہوا بند گلے کا سوئٹر جو اب صرف بند گلے کے کوٹ کے نیچے پہنا جا سکتا ہے۔ آنکھ بند کر کے جو چاہو، نکال لو۔ غرض کہ ہر چیز کا اپنا مقام بن جاتا ہے جا نماز کی جگہ جا نماز۔ رقت انگیز ناول کی جگہ آنسوؤں سے بھیگی ہوئی چیک بک۔ محبوبہ کی جگہ منکوحہ۔ ۔ ۔ تکیہ کی جگہ گاؤ تکیہ!

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7