بائی فوکل کلب – مشتاق احمد یوسفی
اور یہ بڑی بات ہے۔ اس لئے کہ مرزا (جو بیس سال سے خود کو مرحوم کہتے اور لکھتے آئے ہیں ) اب تک چھوٹے بڑے ملا کر 37 معاشقے کر چکے ہیں۔ ہر محبوبہ کی یاد کو ’لیبل‘ لگا کر اس طرح رکھ چھوڑا ہے جیسے فٹ پاتھ پر مجمع لگا کے دوائیں بیچنے والے زہریلے سانپوں اور بچھوؤں کو اسپرٹ کی بوتلوں میں لئے پھرتے ہیں۔ ان معاشقوں کا انجام وہی ہوا جو ہونا چاہیے، یعنی ناکامی۔ اور یہ اللہ نے بڑا فضل کیا، کیونکہ خدا نخواستہ وہ کامیاب ہو جاتے تو آج مرزا کے فلیٹ میں 37 نفر دلہنیں بیٹھی بلکہ کھڑی ہوتیں۔
لیکن پے در پے ناکامیوں سے مرزا کے پائے حماقت میں ذرا لغزش نہ آئی۔ دو چار ٹانگیں ٹوٹنے سے کھنکھجورا کہیں لنگڑا ہوتا ہے؟ 32 ویں ناکامی کا البتہ قلب نے بڑا اثر لیا۔ اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ راوی کے ریلوے پل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لیں۔ لیکن اس میں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں پہلے ہی ٹرین سے نہ کٹ جائیں۔ متواتر تین چار شب دوسرا سنیما شو بھی اس سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دیکھنے گئے کہ واپسی میں مال پر انہیں کوئی بے دردی سے قتل کر دے۔
لیکن کسی غنڈے نے جاگتی جگمگاتی سڑک پر ان کے فاسد سے خون سے اپنے ہاتھ نہیں رنگے۔ ستم یہ کہ کسی نے وہ جیب تک نہ کاٹی، جس میں وہ حفاظتی پستول بھی چھپا کر لے جاتے تھے۔ سب طرف سے مایوس ہو کر انہوں نے حضرت داتا گنج بخش کی درگاہ کا رخ کیا کہ اسی کا مینار سب سے بلند و قریب پڑتا تھا۔ مگر وہاں دیکھا کہ عرس ہو رہا ہے۔ آدمیوں پر آدمی ٹوٹے پڑتے ہیں۔ موسم بھی کچھ مناسب سا ہے۔ چنانچہ فی الحال ارادہ ملتوی کر دیا اور بانو بازار سے چاٹ کھا کر واپس آ گئے۔ ذرا اتفاق تو دیکھیے کہ دو دن بعد یہ مینار ہی گر گیا۔ مرزا نے اخبار میں خبر دیکھی تو سر پکڑ کے بیٹھ گئے۔ بڑی حسرت سے کہنے لگے، صاحب! عجیب اتفاق ہے کہ میں اس وقت مینار پر نہیں تھا۔ برسوں اس کا قلق رہا۔
اپنی اپنی فکر اور اپنی اپنی ہمت کی بات ہے۔ ایک ہم ہیں کہ جو راتیں گناہوں سے توبہ و استغفار میں گزرنی چاہئیں، وہ اب الٹی ان کی حسرت میں ترستے پھڑکتے بیت رہی ہیں۔ نین کنول کھلے بھی تو پچھلے پہر کی چاندنی میں۔ اور ایک مرزا ہیں کہ نظر ہمیشہ نیچی رکھتے ہیں، لیکن حسینان شہر میں سے آج بھی کوئی سلوک کرے اس سے انکار نہیں۔ انہی کا قول ہے کہ آدمی بو الہوسی میں کمزوری یا کاہلی دکھائے تونری عاشقی رہ جاتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ حالات کیسے ہی نہ مساعد ہوں، بلکہ اگر بالکل نہیں ہوں، لیکن طبیعت حاضر ہے تو مرزا سنگلاخ چٹانوں سے جوئے شیر ہی نہیں، خود شیریں کو برآمد کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔ بلکہ ایک آدھ دفعہ تو یہ چوٹ بھی ہوئی کہ وہ کندن، کو ہنز برآوردن!
1958 کا واقعہ ہے۔ ہمارے اصرار پر بے بی شو (شیر خوار بچوں کی نمائش) میں جج بننا منظور کیا اور وہاں ایک والدہ پر عاشق ہو گئے۔ پہلا انعام اسی کو دیا۔
4 اگست 66۔ دوپہر کا وقت۔ دن پہلے پیار کی مانند گرم۔ بدن کوری صراحی کی طرح رس رہا تھا۔ ہم گرد اڑاتے، خاک پھانکتے مرزا کو اکتالسویں سال گرہ کی مبارکباد دینے گل برگ پہنچے۔ مرزا کراچی سے نئے نئے لاہور آئے تھے اور مقامی ’کلر اسکیم‘ سے اس درجہ اختلاف تھا کہ سفیدے کے تنوں کو نیلا پینٹ کروا دیا تھا۔ ان کے بیرے نے برآمدے سے ہی ہانک لگائی کہ صاحب جی! وہ جو موٹر سائکل رکشا کے آگے ایک چیز لگی ہوتی ہے، صرپھ اس پر بیٹھ کے ایک صاحب ملنے آئے ہیں!
لیکن مرزا نے نہ یہ اعلان سنا اور نہ ہماری موٹر سائکل کی پھٹ پھٹ، اس لئے کہ اس وقت وہ سالگرہ کے مرغن لنچ کے بعد آرام کرسی پر آنکھیں بند کے ’کیس نمبر 29‘ کو آغوش توجہ میں لئے بیٹھے تھے۔ ہم نے شانہ جھنجھوڑ کر مداخلت بجا کرتے ہوئے کہا، مرزا! عجیب بات ہے۔ ہر سالگرہ ہماری عینک کے نمبر اور بے دلی میں اضافہ کر جاتی ہے اور ہمیں ہر شے میں ایک تازہ دراڑ پڑی نظر آتی ہے۔ مگر تم ہو کہ آج بھی ستاروں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہو۔ بولے، شکریہ! نشے کا فیضان ہے۔ ہم نے کہا مگر ہمارا مطلب فلمی ستاروں سے تھا! فوراً شکریہ واپس لیتے ہوئے فرمایا ”۔ ۔ ۔ ET TU BRUTUS؟ “
دو چار برس کی بات نہیں، ہم نے مرزا کا وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب
گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھی
پر بوند ابھی نہیں پڑی تھی
ابھی وہ اس لائق بھی نہیں تھے کہ اپنے ٹویاں طوطے کی کفالت کر سکیں، لیکن دل نا صبور کا یہ رنگ تھا کہ الجبرا کے گھنٹے میں بڑی محویت سے اپنے ہاتھ کی ریکھاؤں کا مطالعہ کرتے رہتے۔ عمر کی لکیر ان کی ذاتی ضرورت سے کچھ لمبی ہی تھی۔ مگر شادی کی فقط ایک ہی لائن تھی، جسے رگڑ رگڑ کے دیکھتے تھے کہ شاید پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کوئی شاخ پھوٹی ہو۔ مدت العمر متعدد خاندانی بزرگ ان کی جوانی پر سائے فگن رہے۔ بارے ان کے گھنے گھنے سائے سر سے اٹھے تو پتہ چلا کہ دنیا اتنی بری جگہ نہیں۔
لیکن ایک مدت تک مالی حالات نے رخصت آوارگی نہ دی اور جی مار مار کے رہ گئے۔ ورنہ ان کا بس چلتا تو بچی کھچی متاع عمر کو اس طرح ٹھکانے لگا دیتے، جیسے دلی کے بادشاہ لدے پھندے باغ لونڈیوں سے لٹوا دیا کرتے تھے۔ مرزا 1948 تک مرزایانہ بسر کرتے رہے۔ یعنی مجاز رئیسانہ اور آمدنی فقیرانہ رکھتے تھے۔ شادی کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ خدا بھلا کرے پروفیسر قاضی عبد القدوس کا، جنہوں نے اپنی ہتھیلی پر ایک دن قلم سے ضرب تقسیم کر کے مرزا کو اعداد و شمار سے قائل کر دیا کہ جتنی رقم وہ سگریٹوں پر پھونک چکے ہیں، اس سے سگھڑ شوہر چار دفعہ مہر بییاق کر سکتا تھا۔
آخر ہم سب نے لگ لپٹ کر ان کی شادی کروا دی۔ دو چار دن تو مہر معجل کی دہشت سے سہمے سہمے پھرے اور جیسے تیسے اپنے آپ کو سنبھالے رکھا، لیکن ہنی مون کا ہفتہ ختم ہونے سے پہلے اس حد تک نارمل ہو گئے کہ بے تکلف دوستوں کو چھوڑ دیے، خود نئی نویلی دلہن کی زبان پر بھی یوں ہی کوئی زنانہ نام آ گیا تو مرزا تڑپ کر مجسم سوال نامہ بن گئے :
کہاں ہے؟ کس طرف ہے؟ کدھر ہے؟
انہی کے ایک برادر نسبتی سے روایت ہے کہ عین آرسی مصحف کے وقت بھی آئینے میں اپنی دلہن کا منہ دیکھنے کے بجائے مرزا کی نگاہیں اس کی ایک سہیلی کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ دنیا گواہ ہے (دنیا سے یہاں ہماری مراد وہی ہے، جو مرزا کی، یعنی عالم نسواں ) کہ مرزا نے جس پہ ڈالی، بری نظر ڈالی، سوائے اپنی بیوی کے۔ موصوف کا اپنا بیان ہے کہ بندہ شیر خوارگی کے عالم میں بھی بیس سال سے زیادہ عمر کی آیا کی گود میں نہیں جاتا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

