مشترکہ خاندانی نظام استحصال کی منڈی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ جب چار برتن ایک ساتھ پڑے ہوتے ہیں تو وہ بجتے ہیں یعنی کہ شور مچاتے ہیں اب وہ شور کیوں ہے؟ اس کو سمجھنا بہت اہم ہے خاص طور پر والدین کے لیے جن کا ماننا ہے کہ ہمارے بچے اپنے کزنوں سے بہت سسیکھتے ہیں بچے پیدا کرکے اپنا فرض پورا کر دیا ہے اب وہ جو سیکھیں گے اپنے سے بڑے کزنز یا مشترکہ خاندانی نظام کی قائم کردہ حدود و قیود سے سیکھیں گے جس میں اگر بچوں کے حقوق کا استحصال نہ ہو تو یہ بہت نا ممکن سی بات ہوگی۔ مشترکہ خاندانی نظام کا مطلب اجتماعی رہن سہن اور صدیوں سے چلتے جانے والے رسم و رواج کو تسکین دینا ہے۔

مشترکہ خاندانی نظام آپ کو کبھی بھی خود کو بدلنے کی ہر گز اجازت نہیں دیتا جس کے بغیر ترقی کرنا نا ممکن ہے۔ جھوٹی انا کی تسکین کی خاطر ہمیں اس ثقافت اور رسم و رواج کا حصہ بنایا جاتا ہے جو کہ بسا اوقات ہمارے انسان ہونے کی شناخت کو مسخ کر رہا ہوتا ہے ثقافت کی خوبصورتی یہی ہوتی ہے کہ وہ وقت کے ساتھ اپنے رنگوں کو بدلتی ہے اور ترقی پسند ہونے کے شعور کو جانتی ہے اور مجھ جیسے بہت سے انسان مشترکہ خاندانی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے جو رسم وراج سے بنائی گئی دیوار ہے اس کے پار دیکھنے کی جستجو رکھتے ہیں ہم چاہتے کہ دیوار کے اس پار جو رنگ موجود ہیں ان میں ہمارا بھی بنایا ہوا رنگ ہونا چاہیے۔ وہ رنگ جو دیوار کے اس پار بنانے کی روایت میں شامل نہیں ہوتا لہذا اگر ہم یہ سب کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی کمر کس لینی چاہیے۔

اس نظام میں جو سب سے زیادہ پسنے والے لوگ ہوتے ہیں وہ بیشک وہی ہوتے ہیں جو اس نظام کی پستی کو جلدی سمجھ جاتے ہیں اور اس نظام سے خود کو آزاد کرنا چاہتے ہیں اگر خاندان کا پہلا بچہ تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا تو بجائے اس میں تعلیمی شعور اجاگر کرنے کے اس کو خاندان کا پہلا لاڈلا بچہ سمجھ کر ایک مہان ہستی بنا کر خاندان کی نوجوان نسل کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے جو یہ فیصلے کرتا ہے کہ باقی سب کزن کس تعلیمی اداروں میں جائیں گے یا پھر نہیں بھی جائیں گے چونکہ وہ بڑے بھائی کی پہلی اولاد ہوتا ہے لہذا اس کے ہر فیصلے پر سر تسلیم خم کیا جاتا ہے۔ میں نے جس نظام میں اپنی زندگی کے سترہ سال گزارے اپنے ارد گرد اسی نظام کے تحت پیدا ہونے والے بگاڑ دیکھے جس میں سب سے پہلے میں نے ہوش سنبھالتے جو نا انصافی برداشت کی وہ یہ تھی کہ اس نظام میں بس وہ انسان سچا اور پرہیز گار ہے جو طاقتور ہے جو کمزور ہے وہ سچ کے ساتھ بھی کمزور ہے

اس کے بعد کم عمری کی شادی، بیش بہا دولت کے باوجود بھی تعلیمی فقدان، شعوری فکر کی بجائے دقیانوسی رسم ورواج کوترجیح دینا عورتوں پر تشدد، ایک عورت کو غلامی اور روایتوں کی زنجیر میں قید کرنا، کسی بھی فیصلے میں اس کی رائے کو اسی وقت کسی گہری کھائی میں پھینک دیا جاتا ہے جب وہ ایسے خاندانی نظام میں آنکھ کھولتی ہے اس کی جسمانی صحت کو برباد کرنے کے لیے یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر وہ بچے زیادہ پیدا کرے گی تو اس کا خاندان میں رعب و دبدبہ بڑھ جاتا ہے اور اگر وہ عورت بیٹے جنم دیتی ہے تو ایسی عورت سے بات کرتے ہوئے بھی لوگ خوف محسوس کرتے ہیں اس کے برعکس وہ عورت جو یکے بعد دیگرے دو بیٹیوں کو ہی جنم دے دیتی ہے اس کے لیے خاندانی نظام بہت حساس اور غیرت کے پیمانے سے لبریز ہوجاتا ہے اور یہاں وہ عورت بھی طاقت ور ہوجاتی ہے جس کے پانچ نکمے بیٹے ہوتے ہیں اور وہ عورت جس کی دو قابل اور بہادر بیٹیاں ہوتی ہیں وہ اس نظام کے دباؤ میں دو وقت کی روٹی اور چند کپڑوں کے لیے ان کو اس نظام کا سب سے اہم اور بڑا شکار بنا رہی ہوتی ہے۔

والدین اس نظام میں جو بچوں کو سب سے زیادہ سکھاتے ہیں وہ بڑوں کا احترام کرنا ہوتا ہے جس کو حقیقی معنوں میں خاموشی کہا جاتا ہے جہاں اظہار جذبات کی آزادی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی معصوم بچوں کا بچپن استحصال کی نذر ہوجاتا ہے کہا جاتا ہے کہ انسانی ذہن وہ مقام ہے جو جنت کو جہنم اور جہنم کو جنت بنا سکتا ہے تو جارج برنارڈ سوال کرتا ہے کہ جنت کیا ہے؟ ایک خوشحال گھرانہ ہی جنت ہوتا ہے جہاں تمام افراد کو انسانی بنیاد پر ان کے حقوق کی مکمل فراہمی ملتی ہے، آزادی رائے کا پورا حق ہوتا ہے اور فیصلہ سازی میں بھی آزادی ہوتی ہے دنیا میں سب سے کم طلاق کی شرح پاکستان میں ہے کیونکہ یہاں کی مشرقی عورت کو برداشت اور صبر کی مٹی سے گوندھا گیا ہے وہ بچوں میں مناسب وقفے کا فیصلہ تو دور یہ فیصلہ نہیں کر پاتی کہ اس کو اپنے حقوق حاصل کرنے بھی ہیں یا نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں طلاق کی شرح سب سے زیادہ یورپ میں پائی جاتی ہے جس پر میرا یہ کہنا ہے کہ وہاں کی عورت معاشی اور جذباتی طور پر مضبوط ہوتی ہے اگر اس کو اپنی ازدواجی زندگی میں سکون میسر نہیں ہوتا تو وہ لوگ بہت ہنسی خوشی اور عزت کے ساتھ اپنی راہیں الگ کر لیتے ہیں مگر اپنے بچوں کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں ہماری ثقافت اور جذبات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے جس کی بنا پر ہم ساری زندگی استحصال کا شکار ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا ہے مشترکہ خاندانی نظام آج کے دور میں کسی زحمت سے کم نہیں ہے بندے کو خدا ماننا اسی نظام سے شروع ہوتا ہے جب کہ انسان سراسر غلطیوں کا پُتلا ہے اور یہیں سے سیکھنے کا عمل شروع ہوتا ہے

مشترکہ خاندانی نظام میں یہ کیسے ممکن ہے کہ دو الگ سوچوں اور رویوں کے لوگ ایک جگہ پر سکون کی زندگی بسر کر سکیں ویسے تو مشترکہ خاندانی نظام میں محبت کے لمبے لمبے راگ الاپے جاتے ہیں لیکن دوسری طرف اس نظام کے خلاف کھڑے ہونے والے کو معاشرے کی نظروں میں گرانے والا بھی یہی مشترکہ خاندانی نظام ہے ماں باپ کی لاڈلی کو روٹی اور کپڑے کی ملازمہ بنانے میں بھی مشترکہ خاندانی نظام سر فہرست ہے اور رہے گا زندگی اتنی تیز چلتی ہے کہ بھاگ کر بس پکڑنی پڑتی ہے ہمیں اپنی نسلوں کی بقاکے لیے اس نظام کو رد کرنا ہو گا۔ خاندانوں کو اجڑنے سے بچانے کے لیے اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا انفرادی نظام میں بہت خوش رہ سکتے ہیں انسان باہم مربوط بھی ہیں اور ان کے درمیان کچھ فاصلے بھی ہیں انسان سماجی روایات و اقدار کا پابند بھی ہے اور بہت حد تک نجی زندگی میں آزاد بھی ہے اگر ان دونوں میں توازن برقرار رکھا جائے تو گھر اور معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے ایک پنجابی شاعر کہتا ہے کہ

کتھے ٹر گیا دور پرانا، پے گیا کیہڑی راہ
سارا ٹبر پی لہندے سن پائیا دودھ دی چاء
اب اگر کوئی چائے پسند نہ کرتا ہو اسے کافی پسند ہو تو آج کے اس دور میں وہ کیسے ایک پاؤ دودھ سے اپنی کافی کے لیے مناسب مقدار میں دودھ نکال سکتا ہے اگر نکالتا ہے تو خود غرض نہیں نکالتا تو اپنی پسند کو ختم کرنا ہوگا جو کہ ایک انسانی فطرت کے برعکس ہوگا اور ہمارے سیانے بزرگ چاٰئے کے ساتھ حُقہ پینا بھی پسند کرتے تھے جب کہ اب ہماری نوجوان نسل کو ایک سگریٹ کی بنیاد پر اس کے کردار کا خلاصہ تھما دیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ چھپ کر اس عمل کو سر انجام دیتا ہے اور کبھی کبھار یہ چھپن چھپائی کا کھیل سگریٹ سے منشیات کے اعلی درجے پر پہنچ جاتا ہے اور مشترکہ خاندانی نظام میں یہی بچہ جب مختلف قسم کی نازیبا زبان کو سنتا ہے سیکھتا ہے اور باہر نکل کر بولتا ہے تو بد تہذیب کہلاتا ہے میں نے اپنے خاندان میں ان بچوں کو جوان ہوتے دیکھا ہے جو اپنے بڑے کزنوں کے ہاتھوں جسمانی زیادتی کا نشانہ بنے لیکن اپنے تحفظ کے لیے کچھ نہ کر سکے والدین کو بتایا تو انہوں نے خاندان کی بقا کے لیے بچے کو خاموش رہنے کی ہدایت کی۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کیا ایسا بچہ کبھی اپنے لیے لڑ سکے گا؟ کبھی اپنے لیے بہتر فیصلہ کر سکے گا اس کی دماغی حالت کیا مثبت پہلوؤں پر غور وفکر کر سکتی ہے؟

کچھ ہفتے پہلے میں ایک خاتون سے ملی ان سے حال احوال جانتے ہوئے ان کے کچھ شکوے سنے جس میں وہ اپنے جیٹھ کی بہو اور بیٹے کے بارے میں بتا رہی ہوں کہ بس کیا بتاؤں کمرے سے باہر نہیں نکلتے۔ میرے بچے مجھ سے جب پوچھتے ہیں تو مجھے شرم آتی ہے کہ بچوں کو کیا بتاؤں کہ کیوں دروازہ بند ہے۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا یہ نو بیاہتا جوڑا باہر گھومنے نہیں گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ کہاں جائیں گے تم جانتی ہو اپنے خاندان میں ایسے رواج نہیں ہیں جوان بچیوں والا گھر ہے تو میں نے کہا کہ آپ یا تو جوان بچیوں کو مؤثر انداز میں سمجھا دیں یا اس بات کو تسلیم کریں کہ وہ اپنے کمرے کے علاوہ کس جگہ پر جائیں جہاں رسم و رواج کو آنچ نہ آئے۔

مجھے بہت تاسف ہوا کہ ہماری نوجوان نسل کو یہ تو پتہ ہوتا ہے کہ جس کمرے میں ہم بیٹھے ہیں وہ کس سامان سے بنا ہے جب کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کمرہ ہمارے سامنے تعمیر نہیں بھی ہوا ہوتا پھر بھی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریت، بجری، سیمینٹ اور سریا سے بنا ہے مگر جن حقائق سے ہماری تعمیر ہوئی ہے، ان کو جاننے کی اجازت اس نظام میں موجود نہیں ہوتی۔ مشترکہ خاندانی نظام کو سماجی کینسر کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ یہ دیمک کی طرح انسان کو اندر سے کاٹتا رہتا ہے اور ایک دن انسان خود کو کھوکھلا محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔ جو انسان خود کو اس کینسر سے بچانا چاہتا ہے اس کے ساتھ عزیز واقارب نامناسب رویہ رکھتے ہیں۔ اکثر والدین اپنی اولاد سے قطع تعلق بھی کر لیتے ہیں اور بہت سے لوگ اسی خوف سے چپ چاپ ظلم سہتے رہتے ہیں۔ ظلم پر مبنی اس نظام کا سب سے بڑا شکار عورت ہوتی ہے اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے کہ زچگی کے وقت عورت کو اسپتال نہیں لے جایا جاتا کہ بڑے بھائی کی بیوی کو اسپتال نہیں لے جایا گیا تھا اور عورت کو ایک پیناڈول کی گولی کھلا کر گھر کے کام کاج میں مصروف رکھا جاتا ہے۔ عورت کے روز روز کے تقاضے میاں بیوی کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر رہے ہوتے ہیں اورشوہر چاہتے ہوٰئے بھی کچھ نہیں کرپاتا کیونکہ اس کو یہ لگتا ہے کہ اگر وہ اس نظام کے خلاف کچھ بولے گا تو اس کو طرح طرح کے طعنے دے کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اس مشترکہ نظام میں عورت پر اتنا دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ مختلف ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہے اور ایک بیمار عورت ان حالات میں کیسے اپنے بچے کی بہتر پرورش کرسکتی ہے۔

ہمارے یہاں ستر فیصد سے زیادہ دیہی آبادی والے ملک میں اکثریت آج بھی مشترکہ خاندانی نظام کے تحت زندگی گزار رہی ہے۔ بڑے شہروں میں یہ نظام کافی حد تک کم ہو رہا ہے مگر چھوٹے شہروں میں آج بھی یہی نظام چل رہا ہے شادی کے دن دلہا ڈرا سہما رہتا ہے کہ کہیں کوئی چاچا، ماما یا پھوپھی خالہ کوئی جھگڑا یا ٖضد نہ کرلیں۔ بچوں کی لڑائیوں سے لے کر پیشانی کی شکنوں تک سے رشتوں میں کڑواہٹ پھیلنے لگتی ہے۔ اخلاقی اقدار کے جنازے اٹھتے ہیں، دلوں میں کدورتیں بڑھتی ہیں، نفرتیں اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ معصوم بچوں کے ذہنوں کو بھی پراگندہ کر جاتی ہیں۔ حقوق و فرائض کی جنگ میں الجھی مائیں اپنے بچوں کو تخریب کاری ہی سکھاتی ہیں کیونکہ تخلیق کاری تو ذہنی سکون میں ممکن ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام نہ تو مذہب سے ملتا ہے اور نہ ہی فطرت سے۔

اپنا مال بچاؤ اور دوسرے کا ہڑپ کر جاؤ یہ فارمولا بھی مشترکہ خاندانی نظام کا ایجاد کیا گیا ہے اور یہی عمل ہمارا معاشی رویہ بن جاتا ہے قیمتی مراعات کے لیے نرم دل انسان کو گھیر لیا جاتا ہے اور اپنا سرمایہ اس وقت کے لیے محفوظ کیا جاتا ہے جب اس نظام سے جان چھوٹے گی۔ یہی اعمال بڑے بڑے فسادوں میں بدل کر نیند بھی خراب کرتی ہے اور عید بھی۔ جھگڑے گھروں سے گلیوں میں پھیل جاتے ہیں اور پھر جو مسئلہ آپس میں مل بیٹھ کر حل ہونا ہوتا ہے وہ کوئی تیسرا باہر سے حل کرکے لا رہا ہوتا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ بجائے دلوں میں دراڑیں پڑیں، گھروں میں دیواریں کر لی جائیں۔

آخر میں اپنا تجربہ بتاتی چلوں کہ ہمارا مشترکہ خاندانی نظام تھا۔ میرے والد کے چار بھائی ہیں۔ آج سے پانچ سال پہلے ہم سب لوگ دو کنال کے بنے گھر میں رہتے تھے پیشے سے ہم لوگ تاجر تھے، کپڑے کے کارخانے تھے جب بٹوارہ ہوا تو میں نے اپنے والد سے الگ گھر اور کاروبار کی ضد کی تھی اور آج جب ہم الگ رہ رہے ہیں تو میرے والد بتاتے ہیں کہ پانچ سال میں وہ لمحہ یاد نہیں کر پا رہا جو میں نے اُس گھر میں اپنے لیے بھی جیا ہو گا۔ تو دوستو زندگی ایک بار ملتی ہے، اس کو ایسے جینا چاہیے کہ زندگی آپ پر رشک کر اٹھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *