آخری عورت نے اماں حوا بننے سے انکار کیوں کیا؟
یہ نظام درحقیقت اس اندیشے کے تحت بنایا گیا تھا کہ اگر کبھی کائنات کی گہرائی سے کوئی بھی ایسی طاقت زمین یا انسانوں کو تباہ کرنے کے درپے ہو تو اس کا اسی وقت خاتمہ کردیا جائے مگر اتفاق یہ تھا کہ اس کولمبس 72 کو ہی مہا روبوٹ 409 استعمال کرکے زمین سے انسانوں کا خاتمہ کررہے تھے جس کے لئے ایک نظام مرتب کردیا گیا تھا۔
اس خاتمے کے نظام کو اس طرح سے ترتیب دیا گیا تھا کہ انسانوں کے خاتمے کے بعد دنیا بھر کے سارے نظام خودبخود ایک ایک کرکے بند ہونے تھے، بجلی، وائرلیس، وائی فائی کمپیوٹر ریڈیو، ٹیلی ویژن، ایٹمی پلانٹ، ہسپتال، کارخانے، بند ہوجانے تھے، سمندر پر پانی کے جہاز اور ہواؤں میں اڑتے ہوئے جہاز سب ایک ہی وقت میں ختم ہوجانے تھے، زمین کے مدار پر گھومنے والے سیاروں میں سوار ہوابازوں کا خاتمہ ہوجانا تھا۔ انسان اور انسان کے بنائے ہوئے نظام مٹ جاتے تھے، دھرتی آزاد ہونے والی تھی۔ ان انسانوں کے تسلط سے جنہوں نے دھرتی کو تباہ کردیا تھا۔
پھر یہی ہوا ایک دن ایک وقت پر ایک منٹ کے اندر سارے انسان خاموش کردیئے گئے۔ ہر ایک چیز آہستہ آہستہ ساکت ہوتی چلی گئی تھی، ہر پہیہ اپنی اپنی جگہ پر رک گیا، فضاؤں میں آتے جاتے سگنل ختم ہوگئے، برق کی روشنی ختم ہوگئی، سارے کمپیوٹر یکایک بند ہوگئے۔ ایک دفعہ پھر دنیا پر خاموشی کی ایک طویل چادر پھیل گی تھی، نہ وائرلیس کی لہریں تھیں نہ ہی الیکٹرو میگنٹ میدانوں کا جال تھا، زیرزمین اورسمندروں میں بچھی ہوئی تاروں میں روشنی کی رفتار سے دوڑنے والی برق رگ گئی تھی جس کے نیچے صرف آوازیں تھیں، جو فطرت کی آوازیں تھیں، بارش، طوفان، بجلی، بادل کی آوازیں تھیں، سمندر کی گہرائیوں میں مچھلیوں کی آوازیں، سمندر کی لہروں کی آوازیں، پرندوں جانوروں، درختوں کی آوازیں، دریا، ندی نالوں، جھرنوں کی آوازیں تھیں۔ انسانوں کے جسم تحلیل ہونا شروع ہوگئے تھے۔
صرف ایک اس عورت کے سوا جس کو آخری مہاروبوٹ 409 نے کسی اور روبوٹ کو بتائے بغیر نہایت خاموشی سے کچھ سوچ کر بچالیا تھا۔ یہ عورت امریکا کے ایک چھوٹے سے جزیرے میں اکیلی تھی، جڑواں بچوں سے حاملہ تھی، ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو جنم دینے والی تھی اور اس کی بات چیت آخری روبوٹ 409 سے شروع ہوگئی تھی۔
آپ کو تو پتہ ہی ہوگا کہ زمین سے سارے انسانوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے کیونکہ ان کے جرائم دھرتی اور انسانیت کے خلات اتنے زیادہ تھے کہ ان کا وجود ضروری نہیں تھا۔ اب زمین اور زمین پر رہنے والے انسان کی غلامی سے آزاد ہیں۔ میں آپ کوایک موقع دینے کو تیار ہوں، اس جزیرے پر اتنے وسائل مہیا کردیے گئے ہیں کہ آپ بچوں کی پیدائش اوران کے جوان ہونے تک زندگی گزارسکتی ہیں۔ آپ کو موقع دیا جاسکتا ہے کہ آپ آنے والی دنیا کے لیے اماں حوا بن جائیں، مجھے خود کو ختم کرنے سے پہلے آپ کی رضامندی کی صورت میں انتظامات کو آخری شکل دیتی ہے، دوسری صورت میں آپ کا خاتمہ کرنا ہے جس کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے لیکن یہ فیصلہ آپ کی رضامندی کی صورت میں بدلا جا سکتا ہے۔
آخری عورت نے روبوٹ 409 کی بات بہت توجہ سے سنی تھی۔
مجھے پتا ہے کہ مجھے کیوں بچا لیا گیا ہے۔ اس لیے کہ میں دوبارہ سے نسل انسانی کو فروغ دے سکوں، تمہارے رابطے سے پہلے میں یہ سب کچھ سوچتی رہی ہوں۔ آگے کی زندگی بہت حسین ہوسکتی ہے۔ یکا و تنہا ایک نئی دنیا کی اماں حوا بننے کے بہت سارے فوائد ہیں۔ بہت سوچا ہے میں نے ہر پہلوسے ہر انداز سے، ہر طرح سے میں ایک نئی دنیا تعمیر کروں۔ ایک ایسی نسل پروان چڑھاؤں جو بے غرض ہو، جس میں صرف انسانیت ہو، جو بدعنوان نہ ہو، جو ظلم نہ کرے، جو قاتل نہ بنے، جو سنگ دل نہ ہو، جو اپنے جیسے انسانوں سے محبت کرے، دھرتی ماں پر رہنے والوں کا احترام کرے، جو سمندر، دریا، ندی، جھرنے، نالے، جھیلیں، پہاڑ، پتھروں کواپنا سمجھے، جو جانوروں، درختوں کو اپنے خاندان کا حصہ بنائے اور میں اس دنیا کی اماں حوا بن کر میں امر ہوجاؤں لیکن ساری سوچ بچار کے بعد میں اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کا خاتمہ چاہتی ہوں، مکمل طورپر خاتمہ ہمیشہ کے لیے۔
روبوٹ 409 حیران رہ گیا، اس کا سارا حساب کتاب غلط ہوگیا، اس کے مشینی دماغ کو زبردست دھچکا لگا، ہزاروں سال کی موجودہ معلومات کے تناظر، انسانی وجود کے ردعمل کے ریکارڈ اور عورتوں کی تاریخی تجرباتی تجزیاتی رپورٹ کی موجودگی میں یہ عجیب و غریب فیصلہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ اس کا سوچا ہوا خواب اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ اس کا تجربہ ناکام ثابت ہوا اور اس نے دنیا کے مستقبل کے بارے میں جو منصوبہ بنایا تھا وہ منصوبہ مٹی کے ڈھیر میں بدل گیا تھا۔ مگر کیوں مگر کیوں مگر کیوں اس نے سوال کیا تھا۔
اس لیے کہ میں نے تاریخ پڑھی ہے اور تاریخ ہی پڑھائی ہے مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ہونے والے اکلوتے بیٹے کے ہاتھوں اپنی اکلوتی بیٹی کو پامال ہوتے نہیں دیکھنا ہے۔ اس مردانے جین میں بڑی خرابی ہے۔ اس جین کے اندر موجود وائی کروموسوم میں تخلیقی غلطی ہوگئی ہے۔ یہ وائی کروموسوم مرد بناتا ہے۔ عورتوں کو ماں بنا کر لوٹتے ہیں، بیوی بیویاں اور گرل فرینڈ کے رشتوں کو دھوکہ دیتے ہیں، اپنی بیٹیوں کو بیچ دیتے ہیں، اپنی بہنوں کو پامال کرتے ہیں۔
کبھی مذہب کے نام پر کبھی اقتدار کے لیے، کبھی زر کے لیے اور کبھی اپنی عیاشی کے لیے۔ دنیا کی تاریخ میں وائی کروموسوم والے مردوں نے کیا نہیں کیا ہے، کبھی دھرم کے لیے، کبھی اقدار کا جھانسا، کبھی روایات کا دھوکہ، کبھی ثقافت و تہذیب کے دعوے۔ اس جین کی غیرت شرم مردانگی کمزور عورت کو پامال کرتی رہی، کرتی رہے گی۔ تاریخ کے صفحات اس جین کی دیوانگی سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس جین کا خاتمہ ضروری ہے میں نے اس موجودہ جینیات میں گزشتہ ہزاروں برس سے بھرے ہوئے احکامات کو دوبارہ لاگو نہیں ہونے دینا ہے۔
مجھے جانا ہے، ہمیشہ کے لیے، اس مردانہ جین کی مکمل تباہی کے ساتھ یہ جین درست نہیں ہوسکتی، اس کا خاتمہ ضروری ہے مجھے زندگی ہارنی ہے اس امید کے ساتھ کہ اگلے لاکھوں سال میں جب ایک نئی ذہین مخلوق پیدا ہوگی تو وہ ایسی نہیں ہوگی۔ مجھے اماں حوا نہیں بننا ہے۔ مجھے اماں حوا اور آدم کی اس نام نہاد اعلیٰ مخلوق کا خاتمہ کرنا ہے، اس امید کے ساتھ کہ کائنات اس کے شر سے محفوظ رہے۔ آخری عورت کی آنکھوں کی مسکراہٹ کو سمجھے بغیر آئی کیو 409 نے آخری عورت کے خاتمے کے ساتھ ہی خودکشی کر لی۔



