آئیے ٹیلی ویژن ڈراما اور فلم لکھیں


پس آئڈیا پیش کرنے والے کے لیے رسمی یا غیر رسمی تعلیم پانا ضروری نہیں۔ وہ ان پڑھ بھی ہو سکتا ہے، فرزانہ بھی اور ممکن ہے دیوانہ بھی۔ آئڈیا پیش کرنے والے کا مشاہدہ محدود بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن کہانی لکھنے والے کا مشاہدہ کم زور ہو تو وہ بات نہیں بنتی جو بننی چاہیے۔ آئڈیا پیش کرنے والا اس مجمِع کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، جہاں مداری اپنا تماشا دکھا رہا ہے۔ تماشائی مداری سے کہتا ہے، "ارے تم مداری ہو! جو تم دکھا رہے ہو، یہ سب کرتب تو اپنی جگہ ٹھیک ہیں، لیکن کیا تم ایسا کرتب بھی دکھا سکتے ہو، جیسا میں بتاوں”؟ یہاں یہ بھی ذہن نشین رہے، لکھنے والا ہر ایک کے کہے کا پا بند نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہے، کِہ وہ ہر ایک کے مطالبے پر لکھنے بیٹھ جائے، لیکن پروفیشنل رائٹر کی ایسی تربیت ہوتی ہے، کہ وہ کلائنٹ کی فرمایش پر لکھتا ہے۔

ابھی ہم اُس تماشائی کی مثال پہ رہتے ہیں، جو اپنی مرضی کا تماشا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ایک ایسے کرتب کا مطالبہ کرتا ہے، جو مداری نے ابھی تک نہیں دکھایا۔ یہاں مداری کو کیا کرنا ہے؟ یہ تو نہیں کہ مداری نے مجمِع میں سے ہر ایک کی سننی ہے، لیکن کوئی بات اس کے دِل کو لگتی ہے، تو وہ اس آئڈیے کو لے لیتا ہے۔
اس ساری گُفت کا خلاصہ یہ ہے:
لازم نہیں، کِہ آئڈیا دینے والا خود بھی کرتب دکھا سکتا ہو۔

ہم تھوڑا اور آگے بڑھتے ہیں۔ فرض کیجیے، کہ کوئی یوں آئڈیا سُناتا ہے:

"ایک سابق پہلوان، جو چیمپئن بننا چاہتا تھا، نہ بن پایا، تو اب اپنی اولاد کو پہلوانوں کا چیمپئن بنتے دیکھنا چاہتا ہے”۔

یہ تو ہوا آئڈیا۔ فلم میکر کے طور پہ دیکھنا یہ ہو گا، کہ اس آئڈیے میں دَم کتنا ہے۔ میری فہم کے مطابق ابھی تک اس آئڈیے میں چونکانے کو کچھ کم ہے۔ ناظر کو چونکانا، قصہ گو کی صلاحیتوں میں سے خاص صلاحیت ہے۔ چونکانا کیا ہوتا ہے؟ دھماکا؟ دھماکے سے بھی چونکایا جا سکتا ہے، لیکن چونکانا یہی کچھ نہیں ہے۔ حسِین چہرہ، حسِین منظر بھی چونکا دیتا ہے۔ مداری ٹوپی میں سے کبوتر نکالتا ہے، تو وہ حاضرین کو چونکاتا ہے۔ حیرت میں مبتلا کرتا ہے۔ یہ حیرت بڑے کام کی شے ہے۔ غور کیجیے تو حسن میں حیرانی ہے۔ حسِین منظر، حسِین چہرہ، پینٹنگ، پھول، خوش خطی، شاعری، رقص، موسیقی، خوش الحانی، خوش کلامی، الغرض حسن کے ان گنت رُوپ ہیں۔ مداری سیدھے سبھاو کبوتر نکال کے نہیں دکھاتا، بل کہ پہلے حاضرین کی دل چسپی کے لیے اور بہت سے کرتب دکھاتا ہے، جو حاضرین کو اس ٹرانس میں لے جاتے ہیں، جس کا وہ متمنی ہوتا ہے۔ جادو گر کے لیے اپنے معمول کو ٹرانس میں لینا بہت ضروری ہے۔ فلم میکنگ جادو گری ہی ہے۔

 اب اس آئڈیے کو دیکھتے ہیں: ایک پہلوان جو بوجوہ چیمپئن نہیں بن سکا، اپنی اولاد کو ریسلنگ چیمپئن بنتے دیکھنا چاہتا ہے۔ میرے لیے یہاں تک یہ سیدھا سا خیال ہے۔ اس میں یہ شامل کر لیں، کہ اس کی اولاد جس میں سے کسی ایک کو وہ چیمپئن بنتے دیکھنا چاہتا ہے، ان میں تمام کی تمام لڑکیاں ہیں۔ میرا ماننا ہے، ایسا کرنے سے اس آئڈیے میں دل چسپی کا عنصر بڑھ جاتا ہے۔

اسی آئڈیے کو مغرب میں پیش کیا جائے گا، تو ہمارے یہاں کی نسبت وہاں اس کی تاثیر میں فرق ہو گا، شاید وہاں فی میل ریسلرز کا ہونا معمول کی بات ہو، جب کہ ہندستان پاکستان میں یہ غیر معمولی واقعہ کہلائے گا۔ یہاں کا ناظر الگ طرح چونکے گا۔ اس میں وہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے، جو پہلے بیان ہوئی، کہ قصہ گو کے لیے اپنے ناظر کے احوال، رسم و رواج، بود و باش، انداز فکر سے آگاہی ہونی چاہیے۔

آئڈیے کو ایک پروفیشنل رائٹر جب مختصرا بیان کرتا ہے، تو اسے "ون لائن” کہتے ہیں۔ آپ پروفیشنل رائٹر بنیں گے، تو آپ اپنی کہانی کسی کے پاس لے کے جائیں گے، کہ یہ میں نے لکھی ہے، اسے خرید لیں۔ تصور کیجیے کہ کسی پروڈکشن ہاوس، کسی ٹی وی چینل کے منسلک شعبے کے کرتا دھرتا کے پاس ہر روز کتنے مصنف اپنی کہانیاں لے کے آتے ہوں گے! کیا اس کے پاس اتنا وقت ہو گا، کہ وہ سب کے اسکرپٹ سُنے؟ ان پہ غور کرے؟ اور پھر فیصلہ کرے کہ کس کا اسکرپٹ رکھنا ہے، کس کا نہیں؟

احوال یہ ہے کِہ اس کے پاس زائد وقت نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ مصنف سے کہتا ہے، اپنا آئڈیا سناو۔ ایک سطر میں اپنی بات کہو۔ مجھے نہیں معلوم اس بات میں کتنی حقیقت ہے، لیکن شو بز کے حلقوں میں یہ قول عام ہے، جو کہانی ایک سطر میں نہیں سنائی جا سکتی، اسے کہنے کے لیے سیکڑوں، ہزاروں لاکھوں سطریں بھی گھسیٹ لو، تو اس کہانی میں دَم نہیں پیدا ہو گا۔

آئڈیا حتمی شکل اختیار کر لے، تو اسے کم سے کم لفظوں، یا ایک سطر میں ڈھال کے پیش کرنا ہوتا ہے۔ فالتو لفظوں کی قطعی کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔ اسکرین پلے رائٹنگ کلاس کا یہ سبق ہمیشہ یاد رکھیں، کہ کم سے کم الفاظ میں اپنی بات کہنے کی مشق کریں۔ کسی پروفیشنل کے پاس ایک بھی اضافی لفظ سننے کا وقت نہیں ہوتا۔ جب کوئی مصنف کم لفظوں میں اپنی بات کہنا سیکھ لے، تو اس ایک سطر کو پھیلانا، کوئی بات ہی نہیں۔ بات کو ایسے پھیلانا، کہ قاری کی، یا ناظر کی دل چسپی قائم رہے۔ اسے زیبِ داستاں کہتے ہیں۔ داستان کی یہی مینا کاری یا زیبایش ایک قصہ گو کو دوسرے قصہ گو سے ممتاز کرتی ہے۔

اگر آپ نے ہندستانی سنیما کی فلم "دنگل” دیکھ رکھی ہو، تو اس کو ون لائن میں کیسے بیان کریں گے؟ شاید یوں:
"ایک پہلوان جو چیمپئن نہیں بن سکا، اپنی بیٹی کو ریسلنگ چیمپئن بنتے دیکھنا چاہتا ہے”۔
میرا خیال ہے، یہ نکتہ آپ پہ واضح ہو چکا ہو گا!

کہانی:

بعض اوقات یا اکثر یوں ہوتا ہے، کہ پروڈکشن ہاوس کے پاس آئڈیا ہوتا ہے، اور وہ کسی رائٹر کو بلا کے اسے وہ آئڈیا سناتا ہے۔ کانٹینٹ پہ بات ہوتی ہے، پلاٹ منتخب کیا جاتا ہے۔ کردار سوچے جاتے ہیں۔ کہانی ڈویلپ کی جاتی۔

کہانی کیا ہے؟ اس کے ساتھ یہ سوال بھی رکھ لیتے ہیں، کہ واقعہ کیا ہوتا ہے۔ واقعے میں کہانی ہوتی ہے، اور کہانی میں واقعہ یا کئی واقعات۔ واقعے میں جذبات و احساسات شامل نہیں ہوتے۔ کسی اخباری رپورٹ کے طرح واقعہ بیان ہو جاتا ہے (اب اس کا کیا کیجیے کہ آج کل ہمارے اخبارات، ہمارے نیوز چینل واقعے کو کہانی کی طور پر بیان کرنے لگے ہیں۔ رپورٹنگ میں ایسی خبر، جس میں رپورٹر یا نیوز کاسٹر کے جذبات شامل ہو جائیں، وہ رپورٹنگ کا عیب تصور ہوتا ہے)۔

جس واقعے میں جذبات و احساسات شامل نہ ہوں، وہ کہانی نہیں، رپورٹ رہتی ہے۔ مثال کے طور پہ:
ایک بس کا حادثہ ہوا، تین لوگ مر گئے، دس زخمی ہوئے۔
یہ رپورٹ ہے۔ کہانی میں یہ تین مرنے والے، دس زخمی اور حادثے میں محفوظ رہنے والے محض نام نہیں، کردار ہیں۔ ان کرداروں سے جڑے بہت سے اور کردار بھی ہو سکتے ہیں۔ واقعے میں کردار نہیں، نام ہو سکتے ہیں۔ کہانی میں کردار ہوتے ہیں، یا کرداروں کی کہانی ہوتی ہے؟

پہلے کردار جنم لیتے ہیں یا کہانی؟ میرے نزدیک یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے، کہ کردار پہلے جنم لیتے ہیں، یا کہانی۔ یہ ایسی بحث ہو سکتی ہے، جیسے پوچھا جائے، کِہ انڈا پہلے آیا، یا مُرغی! میرا قیاس ہے، مُرغی کو پہلے ہونا چاہیے۔ اسی طرح کردار پہلے، اور انڈا یعنی کہانی بعد میں جنم لیتی ہے۔

ایک کہانی کار کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وہ رپورٹر نہیں ہے۔ وہ محض رپورٹنگ نہیں کر رہا، جسے حقائق کو مدِ نظر رکھنا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے، کِہ مصنف کہانی میں اپنی فکر کو، اپنے نظریات کو بیان کر بھی رہا ہے، تو کرداروں کی زبان میں، کردار کے لبادے میں رہتے بیان کرے گا، نا کہ کردار کچھ ہوں، اور مکالمے رائٹر کی زبان بول رہے ہوں۔ یہ الگ موضوع ہے، جس پر تب تفصیل سے بات کریں گے، جب مکالمے لکھنے کی تکنیک پر بات ہو گی۔

تو طے یہ ہوا، کِہ سب سے پہلے ایک آئڈیا منتخب کِیا جائے گا، پھر اس آئڈیے سے لگا کھاتا پلاٹ منتخب ہو گا۔ اگر تو آئڈیا کسی ناول سے اخذ کردہ ہے، تو ناول میں کہانی بھی ہو گی۔ یا تو اسی کہانی کو لیا جائے گا، یا آئڈیا اس ناول کا رہنے دیا جائے گا، کہانی کوئی اور بن لی جائے گی، یا کہانی کا کچھ حصہ اس ناول سے لیا جائے گا، کچھ جوڑ توڑ اپنی طرف سے کر لیا جائے گا۔ اگر آپ پہلی بار اسکرین پلے لکھنے بیٹھیں تو میرا مشورہ یہ ہو گا، آپ اپنی کہانی خود تیار کریں۔ ایسے آپ بہت سی جھنجٹوں سے بچ جائیں گے، جن کا آپ کو شروع میں اندازہ تک نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پہ آپ نے کہانی کسی ناول سے لی ہے، بعد میں ناول نگار اسے فلمانے کی اجازت نہیں دیتا، یا ممکن ہے کوئی آپ سے پہلے اسی ناول پر اسکرین پلے تیار کر کے پروڈکشن ہاوس سے معاہدہ کر لیتا ہے، تو آپ کی ساری محنت غارت جائے گی۔

آئڈیا، کہانی اور اسکرین پلے، یہ تینوں ایک ہی شعبے کے تین جزو ہیں، چوتھا جزو ہے مکالمہ نگاری۔ ہم دیکھ سکتے ہیں، کہ کسی فلم کے کریڈٹس میں مرکزی خیال، کہانی، اسکرین پلے اور مکالمے کے کریڈٹس واضح طور پہ دیے جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن کی ابتدا چوں کہ پی ٹی وی کارپوریشن سے ہوئی اور وہاں کہانی، اسکرین پلے، اور مکالمے لکھنے والا ایک ہی شخص ہوتا تھا، تو کریڈٹ الگ الگ نہیں دیے جاتے تھے۔ اس لیے یہ سب تفصیل سے بیان کیا جا رہا ہے، تا کِہ آپ سمجھ سکیں آئڈیا، اسٹوری، اسکرین پلے اینڈ ڈائلاگ، یہ الگ الگ لوگوں کے بھی ہو سکتے ہیں، اور کسی ایک شخص کے بھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

One thought on “آئیے ٹیلی ویژن ڈراما اور فلم لکھیں

  • 16/04/2020 at 11:33 شام
    Permalink

    سر آپ کی تحریر بہت اچھی ہے یقینا لکجنئلکھنے والوں کےلئے رہنمائی ہے اس میں ۔لیکن سر نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے ۔بڑے رایٹرز چھوٹے رائٹرز کے آیڈیاز حتی کہ ان کی کہانی اور پورا پورا ناول چرا لیتے ہیں ۔لیکن ان کا چانس نہیں ملتا ۔چینلز نئے رائٹرز کا رسک نہیں لیتے ۔اس لیے اسے طرح کی رہنمائی بے معنی ہو جاتی ہے

Comments are closed.