آئیے ٹیلی ویژن ڈراما اور فلم لکھیں
مکالمہ نگاری:
جیسے کہا گیا، اسکرین پلے ہدایت کار کا اختیار ہے، ویسے یہ کہتا چلوں، فلم یا ٹی وی میں رائٹر کو کسی چیز کا کریڈٹ ملتا ہے، تو وہ مکالمے ہیں۔ چاہے وہ مکالمہ اداکار نے خود سے شامل کر لیا ہو، ہدایت کار نے مکالموں میں یہ اضافہ یا تبدیلی منظور کر لی ہو، اس مکالمے کی داد اسی کے کھاتے میں جائے گی، جس کا نام مکالمہ نگاری میں آیا ہے۔
کہا جاتا ہے، ہم برصغیرپاک و ہند کے عوام بولنے کے اور سُننے کے رسیا ہیں ہندستان پاکستان میں کسی بھی فلم یا ٹی وی ڈرامے میں مکالموں کی بھر مار ہوتی ہے، جب کہ مکالمہ کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے ہونا چاہیے۔ یا جو بات آپ اسکرین پلے میں نہیں کَہ پاتے، اس کے لیے آپ مکالمے کی مدد لیتے ہیں۔ اس پہ بعد میں بحث کریں گے، کِہ جو بات اسکرین پلے میں کہی جا سکتی ہے، اسے مکالمے میں کیوں نہیں کہنا چاہیے۔ بہ ہر حال یہ کوئی لگا بندھا اصول نہیں ہے، کہ کس اسکرین پلے میں کتنے فی صد مکالمے ہونے چاہیے، بل کِہ آرٹ کی کسی بھی فارم میں کوئی رائے حتمی نہیں ہوتی۔ اس لیے کِہ کوئی بھی فن ریاضی کی طرح دو اور دو کا جواب چار نہیں دیتا۔ یہاں دو اور دو کا جواب پانچ بھی ہو سکتا ہے، تین بھی اور صفر بھی۔ لیکن اسکرین پلے چوں کہ ارٹ سے زیادہ کرافٹ کا کھیل ہے، تو اس میں ریاضی کاعمل دخل رہتا ہے۔
یہ نہیں کہ اسکرین پلے رائٹنگ آرٹ نہیں ہے۔ آرکیٹکٹ نقشہ بناتا ہے، تو ریاضی کے اصولوں کی پے روی کرتا ہے، لیکن نقشہ بناتے اس میں اس کا دِل شامل ہوتا ہے۔ اسکرین پلے رائٹر نقشہ نویس ہے، پھر راج مستری، مزدور، الیکٹریشن، رنگ روغن کرنے والے اپنا اپنا کام دکھاتے ہیں۔ سب کچھ اس بنیادی نقشے کے اندر رہتے ہوتا ہے۔ تو اسکرین پلے رائٹر کسی فلم یا ٹی وی ڈرامے کا آرکیٹیکٹ ہوتا ہے۔ عمارت کے حُسن اور مضبوطی کا انحصار اس نقشے کے ڈزائن پر ہوتا ہے۔
اسکرپٹ میں مکالمہ نگاری اسکرپٹ کی مینا کاری ہے۔ کسی عمارت میں کہاں مینا کاری ہونی چاہیے، کتنی ہونی چاہیے، یہ ہر عمارت کا نقشہ دیکھ کر ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کوئی اسکرپٹ مکالمے پر انحصار کرتا ہو، اور یہ بھی کہ کوئی اسکرپٹ ایسا ہو جس میں مکالمے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
مکالمہ بنیادی طور پہ جذبات و احساسات کے پہلو بہ پہلو کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے ہوتا ہے۔ کہانی کی رفتار تیز کرنے کے لیے، یا ابلاغ کو عام فہم کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ مکالمہ اسکرین پلے کی بائنڈنگ فورس کا کام بھی دیتا ہے۔ مکالمے سے جہاں کردار کے جذبات و احساسات کا اظہار ہوتا ہے، وہیں اس کی شخصیت کا پتا بھی ملتا ہے، کِہ اُس کا اندازِ فکر کیا ہے۔ کہانی میں پیش آئے واقعات پر جب وہ مکالمہ کرتا ہے، تو ناظر و سامع پہ اُس کی سوچ واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح مکالمے کی مدد سے کردار کی کیفیات کا پتا بھی چلتا ہے۔ معلوماتی، تفہیمی، خبریہ، حرکات و سکنات یا ارادے کا اظہاریہ، تقریری یا مناظراتی، یہ مکالمے کی چند ایک صورتیں ہو سکتی ہیں، جو ابھی میرے ذہن میں آ رہی ہیں۔
مکالمے کی ایک صورت، جو اسکرین پلے کو آگے بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ ہماری فلموں، ٹی وی ڈراموں میں یہ مثال عام ہے۔ ایک کردار زید، دوسرے کردار سے، بکر کے بارے میں پوچھتا ہے، "بکر کہاں ہے”؟ اسکرین پلے میں ہم اگلا منظر بکر کی مصروفیت کا دکھاتے ہیں۔ تو اس طرح یہاں مکالمے کے ذریعے اگلے منظر کا جواز پیدا کیا گیا ہے۔
مکالمے کی ایک صورت وہ ہے، کِہ جس سے کردار کا تعارف کروایا جاتا ہے۔ گبر سنگھ ابھی اسکرین پر نمودار نہیں ہوا۔ بستی کے لوگ اس کا ذکر کرتے اس کی بربریت کو بیان کر رہے ہیں۔ ناظر نے ابھی گبر کو دیکھا نہیں ہے، لیکن وہ گبر سے آشنا ہو رہے ہیں۔ انھیں بستی والوں کے مکالموں سے گبر کے پیشے، گبر کی دہشت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان مکالموں میں گبر یعنی ایک کردار کے بارے میں معلومات بھی ہیں۔ اس کردار کی صفات بھی بیان ہو رہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ناظر و سامع پر اس ان دیکھے کردار کی ہیبت بھی بٹھائی جا رہی ہے۔
بحث کو محدود کرتے ہوئے اتنا کہنا ہے، کِہ مکالمہ بہت جامع ہونا چاہیے۔ مکالمے میں ایک لفظ آگے پیچھے ہو جانے سے مفہوم کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے۔ مکالمہ لکھتے، ہمیشہ ذہن میں اس منظر کی تصویر ہونی چاہیے۔ جو منظر آپ کے تخیل میں ہے، جس منظر میں کردار موجود ہیں، اُسے پہلے خود پہ بہت واضح کر لیں۔ منظر میں کمرے کی دیواروں پہ کیسی پینٹنگز آویزاں ہیں؟ کمرے میں کرسیاں ہیں، سوفا سیٹ رکھا ہے؟ کھڑکیاں، پردے، پنکھا، اے سی، الغرض لکھنے والے کو معلوم ہونا چاہیے، وہ جن کرداروں کے مکالمے لکھنے چلا ہے، وہ کردار جس منظر میں موجود ہیں، اس منظر کا موسم کیسا ہے، درجہ حرارت کیا ہے۔ نا صرف یہ کِہ موسم کا درجہ حرارت، بل کِہ کہانی میں اس منظر کا درجہ حرارت بھی معلوم ہو کہ کیا ہے۔
ریڈیو کے مکالمے اور اسکرین پلے کے مکالموں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک کرادر عائشہ، دوسرے کردار بُشری سے کہتی ہے، "تم نے سر پہ جو لال دُپٹا اوڑھ رکھا ہے، یہ مجھے دے دو”۔ تو یہ ریڈیائی مکالمہ ہو سکتا ہے۔ یہی بات اسکرین پلے کے مکالمے میں کہی جائے گی، تو اس مکالمے میں "لال دُپٹا” اضافی ہے۔ مزید یہ کہ "تم نے سر پہ جو اوڑھ رکھا ہے”، بہت ممکن ہے، اس مکالمے میں یہ الفاظ بھی اضافی محسوس ہوں۔ اسکرین پلے اور ریڈیو میں تصویر نہیں ہوتی۔ سامع کو لفظوں کے ذریعے تصویر بنا کے دکھانی ہوتی ہے۔ اسکرین پہ تصویر ہوتی ہے۔ بشری نے کیا پہن رکھا ہے، کس رنگ کا پہن رکھا ہے، کیا اوڑھ رکھا ہے، کس رنگ کا اوڑھ رکھا ہے، اسکرین پہ دکھائی دے گا۔ یہ تفصیل کاغذ پہ دائیں ہاتھ پر لکھی ہوتی ہے۔ اسکرپٹ کے ہدایات کے خانے میں لکھا جائے گا، "بشری نے سُرخ رنگ کا دُپٹا اوڑھ رکھا ہے۔ عائشہ اُسے کہتی ہے: "یہ دُپٹا مجھے دے دو”۔ یا شاید اتنا کہنا کافی ہو، "یہ مجھے دے دو”۔ کیوں کِہ ایسا کہتے، عائشہ کا اشارہ اُس کے سر کے دُپٹے کی طرف ہے، اور ناظر یہ منظر دیکھ رہا ہے۔
یہ وہ مثال ہے، جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں ہو چکا، کِہ جب شروع شروع میں ٹی وی ڈرامے لکھے گئے، تو ان پر ریڈیو کے اثرات تھے۔ لکھنے والوں کی مشق، ریڈیو ڈراما لکھنے کی تھی، ریڈیو ڈرامے میں مکالموں کے ذریعے منظر کشی کی جاتی ہے۔ ٹی وی یا اسکرین کے لیے ایسا لکھتے، ان کے مکالموں کی یہ خامی بن گئی، جو ریڈیو کے لیے لکھتے خوبی کہلاتی ہے۔
اسی طرح تیس چالیس پچاس سال پہلے کی فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں طویل مکالمے اسٹیج سے متاثر ہو کے لکھے جاتے رہے۔ اسٹیج پہ بار بار منظر نہیں بدلتا۔ ایک ایکٹ، دو ایکٹ، تین ایکٹ کے ڈرامے اسٹیج ہوتے تھے، جن میں کردار طویل مکالمے بولتے تھے۔ مکالموں ہی کے ذریعے ڈرامائی صورت احوال پیدا کی جاتی تھی، اور ان مکالموں سے کہانی آگے بڑھائی جاتی تھی۔ اسٹیج پہ منظر نہیں بدلتے، بل کِہ کردار اپنے اپنے مکالمے ادا کر کے اسٹیج چھوڑتے جاتے ہیں، یا دوبارہ اِنٹری لیتے ہیں۔ اسکرین پہ ہمارے پاس یہ سہولت ہے، کِہ ہم اپنی کہانی کی ضرورت کے مطابق، یا کہانی بیان کرنے کی رفتار کے مطابق منظر تبدیل کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔اس لیے جس منظر میں، مکالمے کی جس حد تک ضرورت ہے، اتنے ہی مکالمے لکھے جاتے ہیں اور پھر منظر بدل جاتا ہے۔ ڈرامائی صورت احوال پیدا کرنے کے لیے مکالمے ہی کی مدد نہیں لی جاتی، بل کِہ منظر کشی میں ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں، کِہ ڈرامائی صورت احوال نمودار ہو جاتی ہے۔ اسکرین پہ طویل مکالموں کی ضرورت وہیں پڑتی ہے، جہاں کوئی ڈرامائی صورت احوال پیدا ہو چکی ہو، جذبات کی شدت ہو۔اور ایسے میں کردار کے مکالمے اُس کی کیفیت اس کے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔
ڈرامائی صورت احوال میں مکالمے طویل بھی ہوں، تو دیکھنے سننے والے پہ گراں نہیں ہوتے۔
پھر واضح کر دوں کِہ فن کاری دو اور دو چار کرنے کا نام نہیں، دو اور دو آٹھ، دو اور دو دس بھی ہو سکتے ہیں۔ کوئی ایسا فارمولا نہیں ہے، جو ہر ایک جگہ فِٹ آ جائے۔ اس لیے اب تک جتنی بھی بحث ہوئی، وہ آپ کے غور و فکر کرنے کے لیے ہے۔ نا کِہ آپ اسے کوئی فارمولا سمجھ بیٹھیں، کِہ جب سَر میں درد ہوا، آپ نے یہ پھکی لی، اور پانی سے نِگل لی۔ لیجیے سَر درد کو آرام آ گیا۔ ایسا نہیں ہے۔ اس سَر درد کی وجہ، ہر بار جُدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے فن کاری دکھانے کے لیے کوئی ایسی پھکی نہیں بنی، جو کھاتے ہی سَر کو سکون آ جائے۔ فن کاری وہ حکمت ہے، جو خبر دیتی ہے، کِہ کس پھکی کی کس مریض کو، کس وقت ضروت ہے۔ کردار کی مطابق مکالموں کا انتخاب ہی کسی مکالمہ نگار کو دوسرے سے ممتاز کرتا ہے۔
یہ لیکچر اسکرین پلے رائٹنگ (آن لائن کورس) کی پہلی کلاس میں پیش کیا گیا۔


سر آپ کی تحریر بہت اچھی ہے یقینا لکجنئلکھنے والوں کےلئے رہنمائی ہے اس میں ۔لیکن سر نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے ۔بڑے رایٹرز چھوٹے رائٹرز کے آیڈیاز حتی کہ ان کی کہانی اور پورا پورا ناول چرا لیتے ہیں ۔لیکن ان کا چانس نہیں ملتا ۔چینلز نئے رائٹرز کا رسک نہیں لیتے ۔اس لیے اسے طرح کی رہنمائی بے معنی ہو جاتی ہے