آئیے ٹیلی ویژن ڈراما اور فلم لکھیں
اسکرین پلے:
جب نثر لکھی جاتی ہے، تو اس میں منظر نگاری، کردار نگاری، مکالمے، سب الگ طریقے سے بیان ہوتا ہے۔ نثر لکھنے والا بہ راہء راست قاری سے مخاطب ہوتا ہے۔ اسے قاری کا ہاتھ پکڑ کے، اپنے ساتھ لے کے چلنا ہوتا ہے۔ قاری کے لیے لکھنا، اور اسکرین کے لیے لکھنا، اس کا فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔ یہی وہ نُکتہ ہے، جس کے لیے ساری تمہید باندھی گئی۔ ہمارے یہاں بہت سے مصنف جن کی کئی کئی کتابیں شایع ہو چکی ہیں، جب ٹیلی ویژن یا فلم کے لیے لکھتے ہیں، تو ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کِہ انھوں نے رسمی یا غیر رسمی طریقے سے اسکرین پلے کی تعلیم نہیں حاصل کی ہوتی۔
پبلشرز جتنی جان توڑ محنت کر لے، کتاب رائٹر کی ہوتی ہے۔ تھیٹر یا اسٹیج اداکار کا مانا جاتا ہے۔ اسکرین پلے بنیادی طور پر ہدایت کار کا میڈیم ہے۔ اس بیان سے کہیں یہ غلط فہمی نہ پیدا ہو جائے، کِہ فلم میں ہدایت کار کے سوا کوئی اور کچھ نہیں ہوتا۔ ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن، یا فلم میکنگ بنیادی طور پہ ٹِیم ورک ہے۔ اس میں اسکرپٹ یا رائٹر کا مرکزی کردار ہے۔
جیسے ہر ٹِیم کا ایک قائد ہوتا ہے، کپتان ہوتا ہے، ایسے ہی ٹیلی ویژن پروگرام یا فلم کا کپتان ہدایت کار ہوتا ہے۔ کپتان اپنی ٹِیم کی صلاحیتوں کو کیسے استعمال کرتا ہے، اور ٹِیم کے دیگر کھلاڑی کپتان کی سوچ کا کتنا ساتھ دیتے ہیں، کسی بہ ترین پروڈکشن کا انحصار اسی پر ہوتا ہے۔ پروڈیوسر ایک اچھی ٹِیم کا انتخاب کرتا ہے، اور کپتان ٹِیم کو اچھے سے کھلاتا ہے۔ ٹِیم کے ہر کھلاڑی کا اپنا کردار ہوتا ہے، ہر رُکن اس منصوبے کے مطابق کھیلتا ہے، جو کپتان نے بنایا ہوتا ہے۔
ٹِیم کے باقی ارکان کی طرح ایک اسکرین پلے رائٹر کو پہلے یہ سممجھنا چاہیے، کِہ اُس کے ہدایت کار کی اپروچ کیا ہے، ہدایت کار دکھانا کیا چاہتا ہے۔ ایک اچھے اسکرین پلے رائٹر کو ہدایت کار کے ذہن سے لکھنا ہوتا ہے۔ اسے دوسرے لفظوں میں کہیں تو ہر اسکرین پلے رائٹر کو ہدایت کا ہاتھ پکڑ کے، اُس کے ساتھ چلنا ہوتا ہے، یا ہدایت کار کا ہاتھ پکڑ کے، اپنے ساتھ چلانا ہوتا ہے۔
ہمارے یہاں ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے، کہ ابھی ہدایت کار کا انتخاب نہیں ہوتا، اور رائٹر سے کہا جاتا ہے، آپ اسکرین پلے لکھ بھیجیں۔ ایسی صورت ہو تو رائٹر کو چاہیے، وہ پروڈیوسر سے متوقع ہدایت کار کا نام پوچھ لے، تا کہ وہ اندازہ کر سکے، کہ کس ہدایت کار کے اپروچ کے مطابق چلنا ہے۔ اگر رائٹر، ڈائریکٹر کے نام، ہدایت کار کے کام سے واقف نہیں ہے، تو پھر اس کی مجبوری ہے، کہ وہ خود سے اسکرپٹ تیار کرے۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن پروگرام میں زیادہ تر ایسی ہی صورت ہوتی ہے۔ بعض حالات میں رائٹر کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا، اس کے اسکرپٹ کا پروڈیوسر کون ہو گا۔
نئے لکھنے والے جو سراسر شوق کی خاطر لکھنے کا آغاز کرتے ہیں، ان کے سامنے نہ پروڈیوسر ہوتا ہے، نہ ہدایت کار۔ وہ ایک خیال پہ کام کرتے ہیں، اسکرپٹ لکھتے ہیں، اور پھر اسے کسی پروڈکشن ہاوس میں پیش کرتے ہیں۔ اگر تو اسکرین پلے رائٹر تربیت یافتہ ہے، یا بہت تجربے کار ہے، تو اس کا اسکرپٹ تکنیکی طور پہ اتنا مضبوط ہو گا، کہ اس کی تکنیکی خامیاں کم سے کم ہوں گی، یا بالکل نہیں ہوں گی۔ اور یہی وہ تکنیک ہے، جسے نئے لکھنے والوں کو سیکھنا ہے۔ اس بات کو دُہراتا چلوں، کِہ اسکرین پلے بنیادی طور پہ ہدایت کار کی صواب دید ہے۔ ایک اچھا اسکرین پلے رائٹر، ایک اچھا ہدایت کار بھی ہو سکتا ہے۔ اگر فلموں، ٹی وی ڈراموں کے کریڈٹس دیکھے جائیں، تو معلوم ہوتا ہے، اسکرین پلے ہدایت کار ہی کا لکھا ہوتا ہے۔ یا ڈائریکٹر، رائٹر کے ساتھ بیٹھ کے اسکرین پلے لکھواتا ہے۔
اُلجھنیں:
آپ نے اسکرین پلے رائٹنگ کی کی بہت سی کتابیں پڑھی ہوں گی۔ اُن میں سے شاید ہی کوئی اردو میں لکھی گئی ہو۔ اسکرین پلے رائٹنگ پہ اردو میں کوئی کتاب ہو بھی، تو زیادہ امکان یہ ہے، وہ کسی انگریزی کتاب کا ترجمہ ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم وہ کتاب پڑھتے ہیں، اور اپنے یہاں کے حالات دیکھتے ہیں، تو اُس میں کوئی مماثلت نہیں دکھائی دیتی۔
میں جن دنوں پاکستان ٹیلی ویژن اکیڈمی سے پروگرام پروڈیوسر کی تربیت لے رہا تھا، تو بتایا گیا، جرمنی میں ٹیلی ویژن پروڈیوسر کو پچاس منٹ کے ایک پروگرام کے لیے کم از کم ساٹھ روز پہلے بتایا جاتا ہے۔ اگر پروگرام پروڈیوسر کو ساٹھ دن سے کم دیے جائیں تو پروڈیوسر وہ پروگرام کرنے سے انکار کا حق رکھتا ہے۔ لیکن ہمارے یہاں ایسی آئڈیل سچو ایشن نہیں ہوتی۔ کئی بار تو ایک دو ہفتے، یا چند دن پہلے بتایا جاتا ہے، کِہ آپ نے کل پرسوں تک یہ پروگرام تیار کرنا ہے۔ اس لیے جب ہم بیرون ملک لکھی کتابیں پڑھتے ہیں، تو اس میں ایسی آئڈیل سچو ایشن ہی بیان کی جاتی ہیں۔
ان کتابوں کو دیکھیں تو ایسا بھی لکھا ہو گا، آوٹ ڈور میں ایک شاٹ اگر دُپہر تین بجے رِکارڈ کرنا ہے، تو دُپہر تین بجے ہی رِکارڈ کیا جائے، کیوں کہ اس شوٹنگ پلیس پہ دُپہر تین بجے لائٹ ایک خاص زاویے سے پڑتی ہے، ممکن ہے ساڑھے تین بجے لائٹ بدل کے کچھ سے کچھ ہو جائے، اور وہ تاثر نہ پیدا ہو، جو مطلوب ہے۔ اب اس حد تک آئڈیل سچو ایشن پاکستان میں نہیں ہے۔
یہاں اکثر کام بندوق کی نال پہ ہو رہا ہوتا ہے۔ ہدایت کار کو ٹاسک دے کے بھیجا جاتا ہے، آج دِن میں اتنے مناظر رِکارڈ کرنے ہیں۔ اداکار اس طرح وقت پہ نہیں آتے، جیسے مغرب کی شو بز انڈسٹری میں وقت کی قدر ہے۔ حتا کہ ہندوستان میں بھی، کوئی سپر اسٹار ہے، تو ہو گا، اسے طے شدہ وقت ہی پر پہنچنا ہے۔ جیسا کِہ کہا گیا، فلم اور ٹیلی ویژن پروڈکشن ٹِیم ورک ہے۔ ٹِیم کا ایک رُکن بھی آگے پیچھے ہو جائے، تو سارا شوٹنگ پلان اتھل پتھل ہو جاتا ہے۔ باہر کے ممالک میں تو اداکار دیے ہوئے وقت سے لیٹ ہو جائے، ہدایت کار پیک اپ کی آواز لگا کے سیٹ چھوڑ دیتا ہے، لیکن ہمارے یہاں ایسا خال خال دیکھنے میں آتا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


سر آپ کی تحریر بہت اچھی ہے یقینا لکجنئلکھنے والوں کےلئے رہنمائی ہے اس میں ۔لیکن سر نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے ۔بڑے رایٹرز چھوٹے رائٹرز کے آیڈیاز حتی کہ ان کی کہانی اور پورا پورا ناول چرا لیتے ہیں ۔لیکن ان کا چانس نہیں ملتا ۔چینلز نئے رائٹرز کا رسک نہیں لیتے ۔اس لیے اسے طرح کی رہنمائی بے معنی ہو جاتی ہے