نیشنل کمیشن فار مینارٹیز کا قیام سنجیدہ کاوش ہے یا لالی پاپ


چند روز قبل سوشل میڈیا پر امریکہ کے ایک چرچ کی ویڈیو نظر سے گزری، جس میں بتایا گیا کہ بوسٹن شہر کے مرکزی علاقے میں واقع قدیم ’کیتھڈرل چرچ سینٹ پال‘ کے ایک فلور کو گزشتہ دو دہائیوں سے مسلمانوں کے لئے جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے مختص کیا گیا ہے، چرچ کے اس فلور پر جمعہ کے روز وہاں کے مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔ چرچ انتظامیہ نے گزشتہ سالوں کے دوران لاکھوں ڈالر خرچ کرکے مسلمانوں کے لئے وضو کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے سہولیات فراہم کی ہیں۔

اس چرچ کو مذہبی رواداری اور امن کا گہوارہ مانا جاتا ہے۔ ’آل سینٹ چرچ‘ کوہاٹی گیٹ، پشاور میں واقع ہے، چرچ کا طرز تعمیر مسجد نما ہے۔ اس چرچ کا افتتاح 27 دسمبر 1883 میں ہوا، مسجد کے گنبد نما اس چرچ کا طرز تعمیر مذہبی رواداری اور امن کے طور پرجانا جاتا ہے۔ 22 ستمبر، 2013 اتوار کے دن دو خودکش حملہ آوروں نے وہاں پر عبادت کرنے والے سو سے زائد افراد کو ہلاک کردیا جبکہ حملہ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

جون 2014 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس واقعہ کے سوموٹو کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ جلد اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے نیشنل کمیشن فار مینارٹیز تشکیل دیا جائے۔ مگر اس وقت سے لے کر اب تک حکمران ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔ گزشتہ دنوں کے دوران وزارت مذہبی امور کی جانب سے نیشنل کمیشن فار مینارٹیز کے قیام کی سمری تیار کی گئی جسے وفاقی کابینہ کے پاس منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ اگرچہ اس کی تفصیلات تو ابھی تک سامنے نہیں آسکی تاہم اس طرز تشکیل کو دیکھ کر ملک میں بسنے والی تمام اقلیتوں نے اس مسودے کو رد کردیا ہے۔

یہ سمری ’نیشنل کمیشن فارمینارٹیز‘ کم اور ”بین المذاہب ہم آہنگی کمیشن“ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ معلوم نہیں حکومت اقلیتوں کے مسائل اور حقوق کے تحفظ کے لئے واقعی سنجیدہ ہے یا لالی پاپ دے رہی ہے۔ دنیا بھر میں اس قسم کے کمیشن کی تشکیل کا مقصد بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے اور یہ کمیشن ملکی قوانین کے تحت آزاد اور خود مختار ادارے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جس کا بجٹ اور اختیارات ملکی آئین کی روشنی میں وفاقی حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں اور اسے انسانی حقوق کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔

جبکہ وزارت مذہبی امور کی جانب سے تیار کی گئی اس سمری میں واضح تضادات موجود ہیں۔ اول تو یہ کمیشن آزاد نہیں بلکہ سیکرٹری مذہبی امور کے ماتحت ہے جس میں 6 سرکاری افسران شامل ہیں جو یقیناً اکثریتی آبادی کے افراد ہوں گے۔ اس کے علاوہ مزید دو مسلمان افراد کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ یہ کمیشن آزاد نہیں ہوسکتا۔ حکومت نے سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ کمیشن کی سفارشات کو بھی مدنظر نہیں رکھا اور نہ ہی اسے پارلیمنٹ سے منظور کروایا ہے۔

بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ حکومت اس سے قبل ”نیشنل کمیشن فارہیومن رائٹس“ قائم کرکے پریشان ہے جس کی سالانہ رپورٹ سال 2019 پر وزیر انسانی حقوق تحفظات کا اظہار کرچکی ہے اور بسا اوقات ایسے شگوفے چھوڑتی رہتی ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں وزیر صاحبہ نے این سی ایچ آر کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایسے کارنامے بھی گنوائے ہیں جن کا وزارت کی کارکردگی سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت یہ کمیشن قائم کرکے پچھتارہی ہے۔ ایسے میں وہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ”آزاد اور خود مختار“ ادارہ تشکیل دے کر اپنے لیے کیسے مشکل کھڑی کریں گے۔ کیونکہ اسی سمری میں ”احمدی“ جماعت کے فرد کو شامل کرنے کا کہہ کر وہ عوام کے ردعمل کو دیکھ چکے ہیں جس کے بعد موجودہ سمری تیار کی گئی۔ ویسے تو حکومت کو اس سمری کی منظور ی سے قبل ہی اقلیتوں کاردعمل سمجھ آگیا ہوگا لہذا یہ لالی پاپ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر حکومت اقلیتوں کے مسائل اور حقوق کے تحفظ کے لیے واقعی سنجیدہ ہے تو سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں باقاعدہ پارلیمنٹ کی منظوری کے ساتھ ملکی آئین کے تحت آزاد اور خود مختار ادارہ تشکیل دے، ورنہ ایسا لولالنگڑا کمیشن بنا کر دنیا کو دھوکہ تو دیا جاسکتا ہے مگر حقوق کا تحفظ نہیں ہوگا اور نہ ہی سپریم کورٹ کے حکم کی تکمیل۔

سچ پوچھیں تو میری نظر میں اگر حکومت آزاد اور خود مختار کمیشن بنا بھی دیتی ہے تو اس ملک میں اقلیتوں کے حالات نہیں بدل سکتے، خصوصاً مسیحیوں کے کیونکہ گزشتہ چند دہائیوں سے جو کچھ ہورہا ہے یا کہ لوگ کررہے ہیں اس سے کہیں سے ایسا نہیں لگتا ہے کہ اپنے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ ہیں۔ شاید انفرادی سطح پر کچھ لوگوں کو فائدہ ہوجائے البتہ مجموعی طور پر عام مسیحی کی زندگی میں تبدیلی آتی ہوئی نظر نہیں آتی۔

پاکستان میں اگرچہ جدید طرزاسلام کے ماننے والے انسانیت کی بنیاد پر ملک میں بسنے والی اقلیتوں کو سپیس دیتے ہیں تاہم حکومت شروع سے تعصب پسند اور کٹر مسلمانوں کے نرغے میں رہی ہے لہذا ایسی صورتحال میں ایک آزاد اور خود مختار ’نیشنل کونسل فارمینارٹیز‘ کا قیام ایک خواب ہی محسوس ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS