احفاظ الرحمن کے آخری نو دن: صحافت اور محبت کا آخری پڑاؤ
1977۔ 78 کی صحافیوں کی تحریک کے بارے میں احفاظ کی کتاب ”سب سے بڑی جنگ“ کے مقدمہ میں وہاب صدیقی نے لکھا ”20 دسمبر 1971 کو جب پیپلز پارٹی نے عنان اقتدار سنبھالی تو اس کے واضح وعدوں کے پیش نظر پی ایف یو جے کو اس سے بہت سی توقعات تھیں لیکن افسوس کہ اقتدار سنبھالنے کے صرف دو ماہ بعد ہی حکومت نے لاہور کے دو ہفت روزوں“ پنجاب پنچ ”اور“ زندگی ”اور ایک ماہنامہ“ اردو ڈائجسٹ ”پر ماشل لا آرڈر کے تحت پابندی لگا دی، ان کے ایڈیٹروں کو نہ صرف قید کر دیا گیا بلکہ انہیں آئندہ دس سال تک کسی بھی پرچے کی ادارت کے لئے نا اہل قرار دے دیا گیا۔ انہیں عام ملکی قوانین کے تحت مقدمہ چلانے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ پی ایف یو جے نے اس حقیقت کے باوجود کہ ماضی میں“ زندگی ”اور اردو ڈائجسٹ کے مدیروں نے پی ایف یو جے پر سنگین الزام تراشی کی تھی، ان پرچوں پر پابندی اور مارشل لا کے تحت ایڈیٹروں کی گرفتاری پر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کو رہا کیا جائے اور جریدوں پر عائد پابندی ختم کی جائے یا پھر ان پر عام قوانین کے تحت مقدمے قائمکیے جائیں“۔
احفاظ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا ”1973۔ 75 میں حکومت نے ڈان گروپ کے اخبارات، روزنامہ حریت، نوائے وقت، ہفت روزہ الفتح کے سرکاری اشتہارات بند کر دیے۔ کئی دوسرے اخبارات اور جرائد کو جن میں روزنامہ جسارت، کراچی، روزنامہ جمہور لاہور، ہفت روزہ چٹان لاہور، روزنامہ فرنٹیئر گارجین پشاور، اور ہفت روزہ آؤٹ لک کراچی شامل تھے، ان کا نیوز پرنٹ روک کر سزا دی گئی۔ تا ہم اس اقدام کو بھی کافی نہیں سمجھا گیا۔ دو ستمبر 1973 کو حکومت نے کراچی کے روزنامہ حریت اور جسارت اور حیدرآباد کے روزنامہ مہران جیسے اختلافی نقطہ نظر رکھنے والے اخبارات کو غیر معمولی قوانین کے تحت بند کر دیا۔ 1974 میں جب بھٹو حکومت اپنے اقتدار کے عروج پر تھی، مساوات لاہور کے اٹھارہ کارکنوں کو جبری طور پر بر طرف کر دیا گیا۔ اس جابرانہ کارروائی کے خلاف ایپنک اور پی ایف یو جے نے تاریخی جدوجہد کی۔
مساوات کراچی سے نکالنے والی پہلی ادارتی اور میگزین ٹیم میں شوکت صدیقی اور احفاظ کے ساتھ عنایت حسین، اسلم شاہد، شمیم عالم، ناصر بیگ چغتائی، سلیم مبارک، آغا مسعود حسین، شہزاد منظر اور دیگر شامل تھے۔ وہ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کا زمانہ تھا اور ٹی وی پر شوکت صدیقی کے شہرہء آفاق ناول ’خدا کی بستی‘ کو ڈرامائی شکل میں پیش کیا جا رہا تھا۔ اس میں اہم کردار ادا کرنے والے ثاقب ملک مساوات میں ہمارے کولیگ تھے۔ صفورا خیری بھی ابتدائی دنوں میں ساتھ رہیں۔ دلاور فگار کی نظمیں باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں۔ فوٹو گرافرز میں الطاف رانا، زاہد حسین اور حسان سنگرامی شامل تھے۔ میگزین ٹیم میں باقی لوگوں کو عملی صحافت کا شاید پہلے سے تجربہ رہا ہو لیکن میں اور شمیم عالم تو اس کوچے میں بالکل نو وارد تھے اور اس پر مستزاد احفاظ جیسا PERFECTIONISTمیگزین ایڈیٹر۔ شمیم عالم تو دوسرے تیسرے دن ہی ”گر یہی ہے شرط وصل لیلیٰ تو استعفیٰ میرا بصد حسرت و یاس“ کہہ کر گھر جا کے بیٹھ گئے لیکن احفاظ انہیں منا کر واپس لے آئے تھے۔
اس وقت تک سب ایڈیٹرز کی ماہانہ تنخواہ تین چار سو روپے ہوتی تھی۔ بھٹو نے تنخواہوں میں اضافہ کیا اور سب ایڈیٹرز کی تنخواہ سات سو یا اس سے بھی زیادہ ہو گئی۔ سینئیر صحافیوں کو پلاٹ دیے گئے۔ ہمارے کنوارے مرد کولیگز خوش تھے کہ اب لڑکی والے صحافیوں کو رشتہ دینے سے انکار نہیں کریں گے۔ احفاظ کی اور میری شادی کے علاوہ اسلم شاہد، عنایت حسین اور شمیم عالم کی شادی مساوات کے زمانے میں ہی ہوئی۔
”ذوالفقار علی بھٹو نے بر سر اقتدار آنے کے بعد حسب وعدہ 1970 کی ہڑتال میں مختلف اخبارات سے برطرفکیے جانے والے عامل صحافیوں کو بحال کرایا، 1973 کا کنڈیشن سروس ایکٹ منظور ہوا اور اخباری کارکنوں کے لئے ویج بورڈ اور امپلی مینٹیشن ٹریبونل کو قانونی تحفظ حاصل ہوا لیکن ان کے دور میں جہاں MPO، DPR اور PPO جیسے جمہوریت دشمن قوانین نافذ ہوئے، وہاں انہوں نے پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس منسوخ کرنے اور نیشنل پریس توڑنے کے وعدے سے بھی انحراف کیا“۔
فیفے کی پیدائش کے بعد گھریلو مسائل کی وجہ سے میں نے روزنامہ مساوات سے استعفیٰ دے دیا اور فری لانسنگ شروع کر دی۔ احفاظ کی جدوجہد جاری رہی۔ ایک طرف مساوات کے اندرونی مسائل سے نمٹنا، دوسری طرف کے یو جے، ایپنک اور پی ایف یو جے کی سرگرمیاں اور پریس کلب کے الیکشن ان کی توجہ کا مرکز ہوتے تھے۔ جمہوریت اور صحافت کے لئے بد ترین دور کا آغاز ضیا الحق کے اقتدار میں آنے سے ہوا۔ کچھ عرصہ بعد ہی اس کی حکومت نے روزنامہ مساوات کراچی کی اشاعت پر پابندی لگا دی۔ اور یوں 1977۔ 78 میں پاکستان میں صحافیوں کی سب سے بڑی جنگ کا آغاز ہوا۔ پی ایف یو جے منہاج برنا کی قیادت میں ایک مضبوط ترین تنظیم تھی۔ انہیں نثار عثمانی، حفیظ راقب، احفاظ الرحمٰن جیسے بہت سے کمیٹڈ اور دلیر صحافیوں کی ٹیم میسر تھی۔ ضیاءالحق کے سیکریٹری اطلاعات جنرل مجیب کو اعصابی جنگ کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ ان لوگوں نے پی ایف یو جے کو توڑنے کی ٹھانی۔
مجھے وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ احفاظ کو تحریک کے سلسلے میں لاہور جانا تھا۔ میں گھر کے گیٹ تک انہیں چھوڑنے آئی۔ ایک سفید داڑھی والے گورے چٹے صاحب انہیں لینے آئے تھے۔ وہ کاتب تھے اور اگر مجھے صحیح یاد ہے تو ان کا نام نسیم تھا۔ دونوں کراچی سے اکٹھے گئے مگر ساتھ واپس نہیں آئے۔ ان کی راہیں الگ ہو گئیں۔ ضیا الحق کی حکومت پی ایف یو جے کی صفوں میں دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ چند دنوں بعد رشید احمد صدیقی کا الگ گروپ بن گیا تھا۔ احفاظ نے اپنی کتاب ”سب سے بڑی جنگ“ میں لکھا ہے ”اس تحریک کے دوران دو انتہائی شرمناک اور قابل مذمت واقعات پیش آئے۔ 13 مئی 1978 کو فوجی عدالت کے حکم پر تین صحافیوں کو کوڑے لگائے گئے جس پر پوری دنیا کی صحافی برادری اور جمہوریت پسند حلقوں نے پر زور مذمت کی، ایک طرف دنیا بھر کے لوگ اس واقعے کی مذمت کر رہے تھے، دوسری طرف صرف پانچ دن کے بعد رسوائے زمانہ چار غداروں پر مشتمل ٹولہ اسلام آباد جا پہنچا۔ ہوائی اڈے پر انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران نے ان کا خیر مقدم کیا اور ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے“ پی ایف یو جے اور ایپنک کے لیڈروں کی اسلام آباد آمد کی خبر نشر ہوئی۔ اسی دن ضیا الحق کے سیکریٹری اطلاعات جنرل مجیب ا لرحمنٰ نے ان سے ملاقات کی۔ سب نے اس نکتے پر اتفاق کیا کہ پی ایف یو جے اور ایپنک تخریب پسندوں پر مشتمل ہیں (یہ کوئی نیا الزام نہیں تھا۔ یوں بھی ضیا الحق سرعام کہہ چکے تھے کہ میں منہاج برنا اور اس کی سات پشتوں کو الٹا لٹکا دوں گا)۔ اس ملاقات کے نتیجے میں ایک پاکٹ یونین قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جو رشید صدیقی گروپ کے نام سے موسوم ہوا۔ ان غداروں نے سوچ سمجھ کر یہ سودا کیا تھا۔ رشید صدیقی جو ایک عام رپورٹر تھے۔ بعد میں مشرق اور این پی ٹی کے اعلیٰ ترین عہدے پر براجمان ہوئے۔ باقی تین غداروں کو بھی فیاضی کے ساتھ انتہائی پرکشش ”انعامات“ سے نوازا گیا۔ انعام تو مل گیا، نام سیاہی کے سمندر میں ڈوب گیا۔ ’
جنرل مجیب الرحمنٰ اعصابی جنگ کے ماہر رہے ہوں گے لیکن وہ منہاج برنا اور ان کے ساتھیوں کے اعصاب توڑنے میں قطعی ناکام رہے اور پی ایف یو جے اور ایپنک کی مجلس عاملہ نے گرفتاریاں پیش کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جو فوجی جنتا کے لئے اعصاب شکن ثابت ہوا۔ ورکرز کو آرڈینیشن کمیٹی نے بھی اس تحریک میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا۔ اس کے علاوہ ہاری کمیٹی اور کچھ طلبہ تنظیمیں بھی شامل ہو گئیں۔ گرفتاریاں پیش کرنے کی تحریک کو منظم کرنے کے لئے نثار عثمانی، حفیظ راقب اور احفاظ الرحمنٰ نے روپوشی اختیار کی۔ یہ تینوں جلدی جلدی ٹھکانے بدلتے رہتے تھے۔ کبھی عارف حسن کے گھر میں، کبھی تاج حیدر، کبھی غازی صلاح ا لدین کے والد اور کبھی کہیں تو کبھی کہیں۔ شمیم عالم اور الطاف صدیقی پیغام رسانی کے فرائض انجام دیتے تھے اور جیسا کہ احفاظ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے، ارشاد راؤ اور وہاب صدیقی گرفتاریاں پیش کرنے والے دستے منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ کراچی کی پولیس دیوانہ وار احفاظ کو تلاش کر رہی تھی۔ ’ایک بار ہاتھ آ گیا تو ایسی مار لگائیں گے‘ کہتے پھرتے تھے۔ روپوشی کے دنوں میں، میں اور فیفے کبھی کبھی احفاظ سے ملنے چلے جاتے تھے۔ ’ایک دن احفاظ نے مسکراتے اور شرماتے ہوئے بتایا ”حفیظ راقب کہتے ہیں، یہ ہمیں گرفتار کروائے گی۔ ‘ جن دنوں احفاظ تاج حیدر کے گھر چھپے ہوئے تھے اور میں اور فیفے ان سے ملنے گئے تو وہ ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایک دور دراز پکنک اسپاٹ پر لے گئے۔ جب تک نثار عثمانی اور شاید حفیظ راقب بھی واپس لاہور جا چکے تھے۔ مجھے اور دیگر ساتھیوں کو جیسے ہی اطلاع ملتی تھی کہ آج فلاں جگہ پہ گرفتاری پیش کی جائے گی ہم وہاں پہنچ جاتے تھے۔ جیسے ہی دستہ نمودار ہو کر نعرے بلند کرتا، پولیس ان لوگوں پر جھپٹ پڑتی اور جیپ میں ڈال کے لے جاتی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں





بہت خوبصورت تحریر جو ایک ہیرو کوزندہ جاوید کرگئی۔مہناز آپا اور لواحقین کو اللہ صبر جمیل دے اور انھیں۔جنت میں بہترین مقام عطا۔فرمائے
Bhuattttttt Aalaa Ma’am….aap ko apni yaadain, baatain silsila waar share karni chahien.ye aap ki nai nasal ke liay bhuat bharri khidmat hogi.Allah paak apko sabr e jameel ataa karay.Bilashuba aap ki apny mehboob shohar se muhabbat o aqeedat misali he.
A great man, always be remember.