احفاظ الرحمن کے آخری نو دن: صحافت اور محبت کا آخری پڑاؤ


احفاظ جب پی ایف یو جے کے صدر بنے ( 2003۔ 2004 کے آس پاس) تو اُس وَقت انہیں شدت سے اِس بات کا احساس تھا کہ پی ایف یو جے اپنا پرانا وقارکھو چکی ہے، لہذا جو احفاظ کی عادت تھی، انہوں نے اپنی پوری اخلاقی قوت سے اِس تنظیم کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔ اک بڑا مسئلہ تمام میڈیا ہاؤسز کی جانب سے ویج بورڈ ایوارڈ کا عدم نفاذ ہی تھا۔ احفاظ نے پی ایف یو جے کو ملک بھر میں متحرک کیا اور کئی احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ مشہور کارٹونسٹ فیکا سے کہہ کر اک بِلڈنگ جتنا، بہت لمبا کپڑے کا پوسٹَر بنوایا جس پر مالکان اخبارا ات کو آدَم خور سرمایہ دار کی صورت میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ پوسٹر بہت عرصے پریس کلب کی بلڈنگ پر اوپر سے نیچے تک لٹکتا رہا۔ اِس کے علاوہ متعدد ریلیوں میں تِین بڑے یپبلشنگ ہاؤسز کے مالکان یعنی کہ، میر شکیل الرّحمٰن، حمید ہارون اور مجید نظامی کے پتلے جلائے گئے! اس وقت بھی احفاظ جنگ ہی میں ملا ازمت کر رہے تھے لیکن چونکہ ان کی عمر 60 سے زیادہ ہو چکی تھی، ان کی ملازمت کنٹریکٹ پر شفٹ ہو گئی تھی جس کی سالانہ توسیع ہوتی تھی۔ ظاہر ہے میر شکیل صاحب کو احفاظ کے یہ سب احتجاجی اقدامات پسند نہیں آئے اور اُس سال احفاظ کا کنٹریکٹ ختم کر دیا گیا! انہوں نے اپنی زندگی میں اک بار پِھر بے روزگاری کا شرف حاصل کیا۔ احفاظ اندر سے دکھی تو ہوئے ہوں گے لیکن کبھی بولے نہیں۔ یہی کہتے : ”بھئی کھیل میں یہ تو ہوتا ہے“۔ صرف ایک مرتبہ جب بے روزگاری کے دوران میری امی نے ان کی شکل پر پریشانی دیکھی اور دلاسہ دیا تو احفاظ نے کہا: ”بس امی، جو بویا وہ کاٹ رہا ہوں“۔ اس بات پر امی نے ان کی ہمت بڑھائی اور انھیں یاد دلایا کہ وہ ایک مرد مجاہد ہیں اور ان کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

اس دور کے پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل سی آر شمسی صاحب نے احفاظ کے انتقال پر ان کی صدارت کے دور کے بارے میں اور باتوں کے علاوہ یہ جملہ بھی لکھا: ”یہ حقیقت ہے کہ تنظیم کے وہ آخری صدر تھے جنہوں نے پی ایف یو جے کے وقار اور طاقت میں کمی نہیں آنے دی“!

ان کی زندگی کے آخری نو دنوں میں جب وہ نیم غشی کے عالم میں رہتے تھے، میں ان کے سرہانے بیٹھ کر انہیں یہی باتیں یاد دلاتی تھی۔ ’آپ نے ضیاءالحق جیسے آمر کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑی۔ آپ نے پریس کلب کو بکنے سے بچا لیا۔ آپ ہمارے ہیرو ہیں۔ ”

گیارہ اور بارہ اپریل کی درمیانی رات کو دو بجے میل نرس نے میرے کمرے کی گھنٹی بجائی، رات کو وہ احفاظ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی شکل سے لگ رہا تھا کہ احفاظ کی طبعیت بگڑ رہی ہے۔ میں ان کے کمرے کی طرف لپکی۔ ان کی انگلی پر لگے ہوئے آکسو میٹر پر کوئی ریڈنگ نہیں آ رہی تھی۔ یقیناً میٹر خراب ہو گیا ہے۔ میں نے آکسومیٹر اپنی انگلی پر لگایا تو وہ تو چل رہا تھا۔ بلڈ پریشر چیک کرو، میں نے نرس سے کہا۔ بلڈ پریشر کے آلے میں بھی کوئی ریڈنگ نہیں آ رہی تھی۔ انہیں آکسیجن لگی ہوئی تھی اور سانس چل رہا تھا۔ سہیلیوں کی آوازیں میرے کانوں میں گونج رہی تھیں ’ایسے موقع پر سورہ یٰسین پڑھنی چاہیے‘ ۔ میں نے جلدی سے قران شریف نکالا اور ان کے سرہانے کھڑے ہو کر سورہ یٰسین پڑھنے لگی۔ پھرمجھے خیال آیا کہ بیٹی کو بلا لینا چاہیے، میں جلدی سے اسے اٹھا کر لے آئی۔ وہ ڈاکٹر ہے، کمرے میں گھستے ہی صورت حال سمجھ گئی۔ اور نرس سے بولی ’آپ باہر چلے جائیں۔ اس وقت صرف فیملی ان کے پاس رہے گی‘ ۔ تھوڑی دیر بعد اس نے وڈیو کال پر ہیگ، ہالینڈ سے اپنے بھائی اور ہمارے بیٹے رمیز کو بھی لے لیا۔ یوں ان کے آخری لمحات میں ہم تینوں ان کے پاس موجود تھے اور ان سے باتیں کر رہے تھے۔ ہم مشرقی لوگ محبت کے اظہار کے معاملے میں ہمیشہ ہچکچاہٹ کا شکار رہتے ہیں لیکن اس رات آنسو بہاتے ہوئے ہم تینوں نے اپنی محبتیں ان پر نچھاور کرتے ہوئے انہیں رخصت کیا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ آ تو نہیں پائے مگر آن لائن میڈیا، پرنٹ میڈیا اور چینلز پر جس طرح ان سے محبت کا اظہار کیا گیا اور ان کی جدوجہد کو سراہا گیا، اس سے ان کی فیملی کو ان کی جدائی کا صدمہ سہنے میں بہت مدد ملی۔

میں دنیا سے رخصت ہونا چاہتا ہوں

اس کے قدرتی راستے سے سے

وہ مجھے سفید پتیوں سے ڈھکی

میری قبر کی طرف لے جائیں گے

وہ مجھے کسی تاریک جگہ پر دفن نہ کریں

جیسے کسی غدار کے ساتھ کیا جاتا ہے

میں ایک صاحب کردار آدمی ہوں

اور ایک صاحب کردار آدمی کی حیثیت سے

یہ چاہتا ہوں کہ جب مروں تو

میرا چہرہ سورج کی طرف ہو۔

(ہوزے مارتی۔ ترجمہ، احفاظ الرحمنٰ)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

3 thoughts on “احفاظ الرحمن کے آخری نو دن: صحافت اور محبت کا آخری پڑاؤ

  • 08/05/2020 at 12:18 شام
    Permalink

    بہت خوبصورت تحریر جو ایک ہیرو کوزندہ جاوید کرگئی۔مہناز آپا اور لواحقین کو اللہ صبر جمیل دے اور انھیں۔جنت میں بہترین مقام عطا۔فرمائے

  • 10/05/2020 at 6:53 صبح
    Permalink

    Bhuattttttt Aalaa Ma’am….aap ko apni yaadain, baatain silsila waar share karni chahien.ye aap ki nai nasal ke liay bhuat bharri khidmat hogi.Allah paak apko sabr e jameel ataa karay.Bilashuba aap ki apny mehboob shohar se muhabbat o aqeedat misali he.

  • 11/05/2020 at 11:58 صبح
    Permalink

    A great man, always be remember.

Comments are closed.