احفاظ الرحمن کے آخری نو دن: صحافت اور محبت کا آخری پڑاؤ


اس تحریک سے کچھ عرصہ قبل ہی یاماہا موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی نے صحافیوں کو آسان اقساط پر موٹر سائیکلیں دی تھیں۔ جب اچانک روپوشی اختیار کرنا پڑی تو احفاظ ایک بنک کی عمارت کے احاطے میں اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر گئے تھے۔ تحریک کی مصروفیت میں نہ انہیں مجھے بتانا یاد رہا اور نہ ہی مجھے خیال آیا۔ حالانکہ ہم جیسے غریب صحافیوں کے لئے اس زمانے میں نئی موٹر سائیکل ایک بہت بڑی لگثرری تھی۔ بہت دنوں بعد جب میں اس بنک گئی، میرے ساتھ شمیم عالم، شہناز احد اور شاید نزہت صادق بھی تھیں۔ بنک والوں نے بتایا کہ اتنے دنوں تک موٹر سائیکل کھڑی رہی تو انہوں نے پولیس کو فون کر دیا تھا اور پولیس نے وہ موٹر سائیکل لے جا کر کمپنی کو واپس کر دی تھی۔ احفاظ کے پاس پہلے بھی اپنی سواری نہیں تھی۔ شادی سے پہلے اور بعد میں بھی ہم گھومنے پھرنے کے لئے شمیم عالم کا نیلا ویسپا اسکوٹر استعمال کرتے تھے۔ ایک رات اسی اسکوٹر پر ہم کہیں سے واپس آ رہے تھے۔ رات کا وقت تھا، جب ٹریفک کا اتنا شور بھی نہیں ہوتا تھا۔ میں نے ساحر کا ایک گیت گانا شروع کر دیا۔ احفاظ جیسے ٹرانس میں آگئے۔ کافی دیربعد بولے ’تمہاری آواز بہت میٹھی ہے ”۔ اور نصف صدی سے چار سال کم ہونے پر ان آخری نو دنوں میں، میں نے ان کے سرہانے بیٹھ کر انہیں ساحر کا وہی گیت سنایا

وقت نے کیا، کیا حسیں ستم، تم رہے نہ تم۔ ہم رہے نہ ہم۔

تحریک کے دنوں ہم النو ر سوسائٹی میں کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ اس رات بھی میں اور فیفے گھر پر اکیلے تھے جب گیٹ کی گھنٹی بجی۔ سادہ کپڑوں میں ایک بھاری تن و توش کا آدمی گیٹ پر کھڑا تھا۔ ”احفاظ ا لرحمنٰ گھر پر ہیں“۔ ’وہ گھر پر نہیں ہیں‘ ۔ میں نے سختی سے کہا۔ ’ہم تلاشی لیں گے‘ وہ بولا۔ میں نے کنکھیوں سے دیکھا، گلی کے نکڑ پر پولیس کی گاڑی اور ساتھ ہی کچھ سپاہی کھڑے تھے۔ محلے والے آہستہ آہستہ گلی میں جمع ہونا شروع ہو رہے تھے۔ ان دنوں پولیس کو دیکھ کر میرا پارہ چڑھ جاتا تھا اور میں انہیں بے نقط سناتی تھی۔ ’میں گھر میں اکیلی عورت ہوں اور میں آپ کو اندر نہیں آنے دوں گی۔ اگر تلاشی لینی ہے تو جائیے لیڈی پولیس کو لے کر آئیے۔ ‘ مزید کچھ تکرار کے بعد وہ گیٹ سے واپس چلا گیا۔ اگلے روز مالک مکان نے ہمیں گھر خالی کرنے کو کہہ دیا۔

میں اور فیفے نارتھ ناظم آباد میرے والدین کے پاس رہنے چلے گئے اور ایک رات پولیس والے وہاں بھی آ دھمکے۔ دروازہ میرے بھائی یا والد نے کھولا ہو گا اور پولیس والے دندناتے ہوئے اندر چلے آئے اور پلنگوں کے نیچے جھانک کر اور الماریاں کھول کر احفاظ کو ڈھونڈنے لگے۔ میں شور مچاتی رہی کہ آپ سرچ وارنٹ کے بغیر کیسے تلاشی لے سکتے ہیں۔ لیکن ان کے کانوں پر جوں نہیں رینگی۔ احفاظ وہاں ہوتے تو انہیں ملتے۔ اب سوچتی ہوں تو شرمندگی ہوتی ہے کہ میرے والدین جنہیں بائیں بازو کی سیاست اور ہمارے انقلاب کے خواب سے کچھ لینا دینا نہیں تھا، خوامخواہ رگڑے میں آ گئے مگر اس وقت یہ سوچنے کی فرصت کسے تھی۔

’سب سے بڑی جنگ‘ کے مطابق اس تحریک کا اختتام 10 اکتوبر 1978 کو ہوا، جس کے دوران تقریبا´ چار سو کارکن گرفتار ہوئے جن میں مزدور، ہاری اور طلبہ بھی شامل تھے۔ آخری دنوں میں جناب منہاج برنا نے جو سکھر جیل میں تھے، تا دم مرگ بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ ان کی پیروی میں سندھ کی دوسری جیلوں میں بند تمام کارکنوں نے بھی تا دم مرگ بھوک ہڑتال کا آغاز کر دیا۔ اگرچہ اخبارات میں تحریک کی خبروں پر پابندی تھی، لیکن اس کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی تھی۔ ان حالات میں حکومت کو ایک بار پھر پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ تمام گرفتار شدگان کو رہا کر دیا گیا۔ اور مساوات کراچی پر سے پابندی اٹھا لی گئی۔

مساوات کراچی شیخ سلطان النیہان ٹرسٹ کے پرنٹنگ پریس میں چھپا کرتا تھا۔ بھٹو اور پیپلز پارٹی سے خائف ضیا حکومت نے اس ٹرسٹ کے اثاثوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اکتوبر میں ٹرسٹ نے مساوات چھاپنے سے انکار کر دیا۔ اور دو سو صحافیوں اور اخباری کارکنوں کو بے روزگار کر دیا۔ اس زمانے میں ممتاز ادیب اور صحافی ابراہیم جلیس صاحب اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ مساوات کے لئے بھاگ دوڑ کرتے ہوئے ان پر دل کا دورہ پڑا اور وہ اس جہاں سے رخصت ہو گئے۔ یہ ہم سب کے لئے ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔

احفاظ کی بے روزگاری کے دوران میں نے کچھ عرصہ ہفت روزہ محور اور پھر چھ ماہ کے لئے سوویت پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں کام کیا، افغان جنگ کی وجہ سے ضیا حکومت نے اس ڈپارٹمنٹ کو بند کر دیا تو مجھے روزنامہ امن میں ملازمت مل گئی جو ضیا ءالحق کی دست برد سے بچنے والا واحد اخبار تھا۔ اسے سرکاری اشتہارات نہیں ملتے تھے اور یہ صرف اپنی سرکولیشن کی بنا پر چلتا تھا۔ جمہوریت پسندوں اور ترقی پسندوں کے لئے یہی اخبار بچا تھا۔ میں امن ایمپلائز یونین کی صدر رہی اور دو ٹرمز کے لئے کے یو جے کی جوائنٹ سیکریٹری رہی۔

احفاظ کی پی ایف یو جے کی صدارت کے دور کے بارے میں بات کرنے سے پَہلے، مجھے اُس دور سے قبل کے دو اہم واقعات یاد آتے ہیں جن کا رقم کرنا بے حد ضروری ہے۔ پہلا واقعہ 90 کی دہائی کا ہے۔ 90 میں بہت حکومتیں آئی گئیں، ان ہی میں سے ایک حکومت کے دور میں یہ پہلا واقعہ پیش آیا۔ حکومت وقت کے انتہائی اونچے ترین حلقوں کی نظر کراچی پریس کلب کی پرائم لوکیشن پہ پڑ گئی۔ پپش کش آئی: ہم آپ کو اِس سے بھی بڑی جگہ دے دیں گے، یہ جگہ (یعنی کہ کراچی پریس کلب) ہمیں دے دیں۔ اُس وَقت حالانکہ احفاظ نہ پریس کلب اور نہ ہی کے یوجے کے عہدیدار تھے، لیکن اپنی شخصیت اور اپنے پرانے ریکارڈ کے باعث، اِس پیشکش کے سخت ترین مخالف بن کے ابھرے، اور انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی بھی طور صحافی برادری کمزوری یا موقع پرستی کا مظاہرہ نا کرے۔ یہ بات ظاہر ہے حکومت کے ان اونچے ترین حلقوں تک بھی پہنچ گئی۔ اُس وَقت کے اک بہت سینیر صحافی کے ذریعے، انہوں نے احفاظ کو پیغام بھجوایا: 6 کروڑ رو پے ڈیل میں سے تمہیں مل جائیں گے اگر خاموش رہو۔ اُس زمانے میں 6 کروڑ روپے بہت بڑی رقم تھی لیکن جو احفاظ کو جانتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ وہ شخص پیسوں میں نہیں تل سکتا تھا۔ احفاظ اپنی جگہ پر اڑے رہے، وہ سرخرو ہوئے اور کراچی پریس کلب نے اپنی جگہ برقرار رکھی۔ لہذا پریس کلب کی تاریخ میں یہ ایک انتہائی اہم بات ہے جو احفاظ نے اپنی خاکساری میں خود کبھی رقم نہیں کی اور میں خود بھی اب پہلی دفعہ، ان کے جانے پر، اس کا ذکر کر رہی ہوں۔

اک اور واقعہ نواز شریف کے دوسرے دورحکومت کا ہے۔ اُس وَقت کے احتساب بیورو کے چیف سیف الرحمٰن کی قیادت میں جنگ گروپ کو شکار بنایا گیا اور ان کے پیپرز ضبط کر لیے گئے۔ صحافیوں نے جنگ گروپ کے حق میں بڑی تحریک چلائی، جس میں احفاظ بھی پیش پیش تھے۔ صحافیوں نے بھوک ہڑتالیں کی اور ریلیاں نکالیں۔ اُس وَقت میر شکیل الرّحمٰن کو مدد اور حمایت کی اتنی سخت ضرورت تھی کہ انہوں نے احتجاج کرنے والے صحافیوں سے پریس کلب جا کر اپنی تقریر میں یہ وعدہ بھی کر لیا کہ وہ ویج بورڈ ایوارڈ کا نفاذ کریں گے لیکن ہوا یہ کہ جب حکومت نے جنگ گروپ کا پیچھا چھوڑ دیا، تو شکیل صاحب بھی ویج بورڈ ایوارڈ کو نافذ کرنے کی بات بھول گئے۔ احفاظ اور دوسرے سینیر احباب نے فیصلہ کیا کہ تحریک جاری رکھنی چاہیے اور اب اُس کا فوکس ویج بورڈ ایوارڈ کا نفاذ ہو گا۔

احفاظ اُس وَقت جنگ میں ہی میگزین اَیڈِیٹَر کی حیثیت سے ملازمت کرتے تھے۔ تحریک کو جاری رکھنے کے کا فیصلہ سینیر صحافیوں، اور کے یو جے کے عہدیداران نے مل کے لیا تھا ، لیکن ایک رات، جب احفاظ پریس کلب میں تنظیمی میٹنگ میں بیٹھے تھے تو انہیں میر شکیل الرّحمٰن کا فون آیا۔ یہاں سے آ گے کا واقعہ احفاظ کی زبانی، جیسا انہوں نے مجھے بتایا:

”میں سمجھ گیا مجھے فون کیوں آیا ہے، تحریک ختم کرنے کی بات کرنا چاہتے تھے اور چونکہ میں جنگ میں کام کرتا تھا اِس لیے اِس بات کا فائدہ اٹھا کر مجھ پر زور ڈالنا چاہتے تھے، حالانکہ میں تو کے یو جے کا عہدیداربھی نہیں تھا۔ میں پریس کلب سے بس لے کر جنگ پہنچا۔ جب میر شکیل صاحب کے آفس میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں اَیڈِیٹَر بھی بیٹھے ہیں۔ میں ویسے ہی بھرا بیٹھا تھا، اِس بات پر مجھے اور سخت غصہ آیا کہ میرے باس کو بھی اِس میٹنگ میں بٹھایا ہے، مجھ پر مزید پِریشَر ڈالنے کے لیے۔ بات چیت اَیڈِیٹَر صاحب ہی نے تحریک کے بارے میں شروع کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے انہیں فوراً شٹ اپ کال دے دی: ’کیا آپ ایک دفعہ بھی آئے جب آپ کے صحافی بھائی بہن بھوک ہڑتال میں بیٹھے ہوئے تھے؟ نہیں، بلکہ آپ بے شرمی کے ساتھ اپوزیشن جماعت کی گاڑیوں کے بونٹ پر بیٹھ کر ان کے ساتھ مزے کر رہے تھے، اب آپ ایک لفظ بھی اور نہ بولیں‘ اَیڈِیٹَر صاحب نے پھرکچھ بولنے کی کوشش کی تو میں پِھر سختی سے بولا: ’میں نے کہا آپ کو کہ آپ خاموش رہیں! ایک لفظ او ر نہیں‘ تو وہ چُپ ہو کر بیٹھ گئے۔ پِھر شکیل صاحب نے خود بات کی، وہی بات تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ ہم تحریک ختم کر دیں۔ میں نے انہیں یاد دلایا کہ کیسے مشکل وَقت میں صحافی برادری نے ان کا ساتھ دیا اور کیسے انہوں نے اُس وَقت وعدہ کیا تھا کہ وہ ویج بورڈ ایوارڈ کا نفاذ کریں گے۔ میں نے انہیں یہ صاف صاف بول دیا کہ ہم ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ کے لیے تحریک جاری رکھیں گے۔ میں جانے کے لیے اٹھا، دروازاے تک پہنچا تو پیچھے سے میر شکیل صاحب بولے : ’احفاظ صاحب یہ تحریک ختم ہو جائے تو اچھا ہو‘ میں نے پلٹ کر ان سے کہا:“ میر صاحب، ورکرز کو ان کا حق دے دیجئے، پاکستان میں انسان کی اوسط عمر 60 سال ہے، کب تک قورمہ بریانی کھائیں گے؟ ”ظاہر ہے کسی ادارے میں کام کرتے ہوئے اس کے مالک سے یہ بات کرنا بہت بڑی بات ہے۔ تحریک جاری رہی لیکن احفاظ کو یہ گلہ ہمیشہ رہا کہ صحافی تحریک کے بہت سے افراد میں وہ ثابت قدمی اور بے لوثی نہیں تھی جو موثر مزاحمت کے لئے ضروری ہوتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

3 thoughts on “احفاظ الرحمن کے آخری نو دن: صحافت اور محبت کا آخری پڑاؤ

  • 08/05/2020 at 12:18 شام
    Permalink

    بہت خوبصورت تحریر جو ایک ہیرو کوزندہ جاوید کرگئی۔مہناز آپا اور لواحقین کو اللہ صبر جمیل دے اور انھیں۔جنت میں بہترین مقام عطا۔فرمائے

  • 10/05/2020 at 6:53 صبح
    Permalink

    Bhuattttttt Aalaa Ma’am….aap ko apni yaadain, baatain silsila waar share karni chahien.ye aap ki nai nasal ke liay bhuat bharri khidmat hogi.Allah paak apko sabr e jameel ataa karay.Bilashuba aap ki apny mehboob shohar se muhabbat o aqeedat misali he.

  • 11/05/2020 at 11:58 صبح
    Permalink

    A great man, always be remember.

Comments are closed.