اپنے مرحوم کالج کی یاد میں (1963-2003)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سر سید احمد خاں نے بجا طور پر گجرات کی تعلیمی اور جغرافیائی حیثیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسے خطہ یونان سے تعبیر کیا تھا۔ برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کے لیے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں قیام پاکستان کے بعد یہاں تعمیر ہونے والے بہت سے تعلیمی اداروں کے نام سر سید احمد خاں کے نام پر رکھے گئے۔ یہ ایک لحاظ سے بجا طور پر ان کی تعلیمی خدمات کا اعتراف بھی تھا۔

1963ء میں گجرات میں بھی ایک کالج کا قیام سر سید احمد خاں کے نام پر عمل میں لایا گیا تھا۔ ابتداء میں سر سید انٹر کالج گجرات کے قیام کی منظوری ایک پرائیویٹ کالج کے طور پر ہوئی تھی۔ بعدازاں چند سالوں کے بعد اسے ڈگری کالج کا درجہ مل گیا۔

1972 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے لیے نیشنلا ئیزیشن کی پالیسی لائی گئی۔ جس کے تحت ملک کے اور حصوں کی گجرات کے بہت سے پرائیویٹ سکول کالجز بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے۔

گجرات میں زمیندار کالج اور زمیندار سائنس کالج جیسے بڑے کالج اس پالیسی کی نذر ہو گئے۔ تعلیمی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دینے والی یہاں کی ایک شیخ فیملی کے قائم کردہ تین تعلیمی ادارے، سر سید کالج گجرات اور اس کے دو سکول پبلک سکول نمبر 1 اور پبلک سکول نمبر 2 بھی نیشنلا ئیزڈ ہو گئے۔ نیشنلا ئیزیشن کی یہ پالیسی 1977 ء تک نافذ العمل رہی۔ اور ملک بھر میں نجی شعبے میں چلنے والے بہت سے ادارے گورنمنٹ ملکیت میں چلے گئے۔

گجرات میں 1963 ء میں قائم ہونے والے سر سید انٹر کالج کے بانیوں میں سرِ فہرست مرحوم شفقت اللہ شیخ، عظمت اللہ شیخ (اے۔ یو سہگل) تھے۔ جبکہ اس کالج کے قیام، اس کی منظوری کے حصول میں خط و کتابت سے لے کر راولپنڈی میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے جا کر ملاقاتیں کرنے تک گجرات کی ایک تیسری شخصیت کی انتھک کاوشیں بھی شامل تھیں۔ جن کا تذکرہ عام طور پر بہت کم سننے میں آتا ہے۔

ان کا نام تھا حکیم سید محمد ارشاد۔ جنھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ گجرات کی ان دو واحد شخصیات میں شامل ہیں۔ جنہیں عالمی ادارے گینیز بک آف ورلڈ نے ایڈیٹر کے نام سب سے زیادہ خطوط لکھنے اور شائع ہونے کے باعث عالمی ایوارڈ سے نوازا۔

حکیم سید محمد ارشاد پاکستان کے انگریزی اخبارات خصوصاً پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹرز کے نام خطوط لکھنے میں شہرت رکھتے تھے۔ مرحوم حکیم سید محمد ارشاد 40 سال تک متواتر پاکستان کے انگلش اخبارات خصوصاً پاکستان ٹائمز کو ایڈیٹر کی ڈاک کے عنوان سے خطوط لکھتے رہے۔

انکے 602 ریکارڈ خطوط شائع ہوئے۔ 1963 ء ایسا سال جب انہوں 42 خطوط ایڈیٹر کے نام لکھے جو سب کے سب مختلف اخبارات میں شائع بھی ہو گئے۔ اس منفرد ریکارڈ کے اعتراف میں 2001 ء حکیم سید محمد ارشاد کا نام گینیز ورلڈ ریکارڈز کی سالانہ اشاعت میں شامل کیا گیا۔ خوبصورت انگلش نثر نگاری میں انہیں ملکہ حاصل تھا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے لکھے خطوط کے تین مجموعے شائع ہوئے۔ حکیم سید محمد ارشاد پیشے کے لحاظ سے ماہر تعلیم تھے۔ قیام پاکستان سے قبل وہ متحدہ ہندوستان میں ہیڈ ماسٹر تعینات تھے۔

وہ 8 فروری 1908 کو ملیر کوٹلہ (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے اور 17 اکتوبر 1987 ء کو وفات پائی۔ حکیم سید محمد ارشاد اپنی وصیت کے مطابق گجرات کے سائیں کاواں والا قبرستان میں سپرد خاک ہیں۔

گجرات سے دوسرے گنیز بک ریکارڈ ہولڈر جسٹس (ر) محمد الیاس ہیں۔ جنھوں نے دینا میں سب سے کم عمر ترین (ساڑھے 21 سال) کی عمر میں سول جج بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

گجرات کی تحصیل کھاریاں کے گاؤں چک فاضل سے تعلق رکھنے والے اور منفرد صلاحیتوں کے مالک رئٹائرڈ جسٹس محمد الیاس کی ساری زندگی مختلف اعزازات سے بھری پڑی ہے۔ ان کے اس کارنامے پر گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ ز نے ان کا نام اپنی 1991 ء کی اشاعت میں شامل کیا۔ (لاہور میں مقیم جسٹس ( ر) محمد الیاس صاحب حیات ہیں اور آج کل اپنی بیماری کے باعث صاحبِ فراش ہیں۔ ( گجرات کی ان دونوں ہستیوں کی شخصیت الگ مضامین کی متقاضی ہے۔

اب واپس سر سید کالج کے قیام کی طرف آتے ہیں۔ 1963 میں جب اس کالج کے قیام کی منظوری ہو گئی تو گورنمنٹ زمیندار ڈگری کالج اور گورنمنٹ سائنس کالج جی ٹی روڈ کے بعد گجرات میں لڑکوں کا یہ تیسرا کالج تھا۔

جب 1963 ء میں سر سید کالج میں کلاسوں کے آغاز کا مرحلہ آیا تو شیخ شفقت اللہ نے اپنے دوست حکیم سید محمد ارشاد سے جو کالج کے قیام میں ان کے ساتھ پیش پیش تھے سے درخواست کی کہ وہ اپنے بڑے صاحبزادے سید مسعود ارشاد کو اس کالج میں داخل کروائیں۔ حکیم صاحب راضی ہو گئے اور اس طرح سید مسعود ارشاد سر سید کالج کی تاریخ میں اس کی ابتدائی کلاس کے پہلے بانی سٹوڈنٹ تھے جن کو رول نمبر 1 الاٹ ہوا۔

کالج کی شروع ہونے والی پہلی کلاس میں ایک سو کے قریب سٹوڈنٹس شامل تھے۔ پہلی ساری کلاس صرف آرٹس کے طلباء پر مشتمل تھی۔ فرسٹ ائیر کلاس جب سیکنڈ ائیر میں پرموٹ ہو گئی تو پھر دوبارہ فرسٹ ائر میں داخلے ہوئے۔ اور پھر ریگولر سلسلہ شروع ہو گیا۔

کالج کی پہلی کلاس کے دیگر بانی سٹوڈنٹس میں چوہدری سیف اللہ وڑائچ رول نمبر 12 (حال مقیم کینیڈا) شامل تھے۔ ان کے علاوہ ابتدائی نمایاں طالب علموں میں پاک فین گجرات کے احسان اللہ (جن کا گزشتہ سال انتقال ہو گیا) امین فین کے منیر پشاوری، جن کا رول نمر 21 تھا۔ چوہدری محمد طارق (جسٹس ریٹائرڈ) ، چوہدری عظمت (فتح سنز ٹرانسپورٹ) ، سعید آف ہلال ٹینریز، ارشاد راجپوت، (پی ٹی وی آرٹسٹ) ، مرزا صدیق رول نمبر 82 ( عزیز فرنیچر۔ حال مقیم اسلام آباد ) ، شیخ محمد سعید ( سترہ سال پہلے وفات ہو پا چکے ہیں۔ وہ سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی تاج محمد خیال کے بھتیجے تھے )

انکے علاوہ دیگر بنیادی طلباء میں محمد اقبال (ریلوے رئٹائرڈ) ، خاقان بابر (شماریاتی افسر اسلام آباد) ، ملک پرویز (بزنس مین آئل اینڈ پٹرول) ، ظہیر حسین بٹ ( بزنسمین) ، محمد ریاض (ڈیسنٹ فرنیچر) شامل تھے۔

کالج کی بانی کلاس کے کچھ اور طالب علموں میں ریلوے روڈ کے محمد منہاس، جو بعدازاں ایڈووکیٹ بنے۔ (کچھ سال پہلے ان کا انتقال ہو چکا ہے ) اسی طرح ڈھکی دروازہ سے اختر حسین اب ( مرحوم) اور قمر سیالوی روڈ سے شبیر حسین شامل تھے۔ اس کے علاوہ محلہ خواجگان سے شیخ شاہد ہمارے کلاس تھے۔ شیخ شاہد بعد ازاں حبیب بینک میں اے وی پی رہے۔ ان کے بڑے بھائی کا پرانا لاری اڈہ گجرات میں شیزان ہوٹل بھی تھا۔ ایک ملک جاوید تھے۔ جو بعدازاں گورنمنٹ ہائی سکول ملیار ضلع گجرات سے بطور پرنسپل رئٹائر ہوئے۔ آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں۔

جب سر سید کالج کی پہلی کلاس شروع ہوئی تو کالج کی موجودہ بلڈنگ نہیں تھی۔ پبلک سکول نمبر 2 کی عمارت میں دو حصے تھے۔ ایک حصے میں کلاس کے جی تا کلاس پنجم کی کلاسسز ہوتی تھیں جبکہ دوسرے حصے میں کلاس ششم تا دہم کے طالب علم پڑھتے تھے۔

اس طرح سر سید کالج کی پہلی کلاس کا آغاز پبلک سکول نمبر 2 کے KG سیکشن کے دو کمروں سے ہوا۔ اس دوران کالج کی موجودہ بلڈنگ کی تعمیر کا آغاز ہو گیا جس کو مکمل ہونے میں تقریباً دو سال لگے۔ بعد ازاں پھر کالج کی کلاسیں اس کے نیے تعمیر شدہ بلاک میں منتقل ہو گئیں۔

کالج کے ابتدائی دور میں زیادہ تر اساتذہ شیخ شفقت اللہ صاحب کے پبلک سکول نمبر 1 اور پبلک سکول نمبر 2 سے آئے۔ کالج آنے والے زیادہ تر استاد ایم اے پاس تھے۔

پبلک سکول نمبر 2 سے وسیم بیگ مرزا صاحب سکول کے ساتھ ساتھ کالج میں بھی پڑھانے لگے۔ دیگر اساتذہ میں پبلک سکول نمبر 1 رانا صفدر علی، ملک محمد یوسف کالج میں آ گئے۔ مرے کالج سیالکوٹ سے فدا صاحب نے بطور انگلش لیکچرر جائن کیا۔ پبلک سکول 1 میں مرزا شوکت علی معروف ٹیچر تھے۔ انہوں نے بڑی عزت کمائی اور بعد ازاں اپنے تعلیمی ادارے بھی بنائے اور کامیابی سے چلائے۔ مرزا شوکت علی کا چند سال پہلے انتقال ہوا ہے۔

محمد عابد وزیر آباد سے پڑھانے آتے تھے کافی مضبوط اور گھٹے ہوئے بدن کے مالک تھے۔ کالج میں پہلوان کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔ کافی دیر بعد میں پھر دوسرے اساتذہ جن میں مرزا اکرم خالد نے 1971 ء میں کالج جائن کیا۔ وہ 1975 ء تا 1981 حکومت پاکستان کی طرف سے ڈپوٹیشن پر نائجیریا میں رہے۔ جہاں وہ نائجیریا کے تعلیمی اداروں میں پڑھاتے رہے۔

جاوید اکرام شیخ حال مقیم (ورجینیا۔ امریکہ) نے بھی کالج کے ابتدائی سالوں میں کچھ عرصہ درس وتدریس کے فرائض سرانجام دیے۔ علامہ وقار حسین طاہر بھی کالج قائم ہونے کے چند سال بعد کالج سٹاف میں شامل ہو گئے تھے۔ اور بعد میں دیگر اور اساتذہ بھی کالج میں آتے چلے گئے۔

ابتداء میں مختصر عرصے کے لیے کالج کے پہلے بانی پرنسپل شیخ شفقت مرحوم تھے۔ پھر تھوڑے عرصے بعد ہی باقاعدہ پرنسپل کا چارج انعام اللہ شیخ نے آ کر سنبھال لیا۔ جو اس سے پہلے وزیر آباد میں نصرت گرلز کالج کے نام سے اپنا ادارہ چلا رہے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک بطور پرنسپل اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ان کے بعد پھر عظمت اللہ شیخ صاحب سر سید کالج کے پرنسپل بنے۔ ان کے بعد رانا صفدر علی، وسیم بیگ مرزا، ملک محمد یوسف نمایاں پرنسپل رہے۔ افتخار الدین طارق راٹھور اس کالج کے آخری پرنسپل تھے۔ مجھے بھی اس کالج میں 1981 تا 1985 پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس دوران مرحوم عظمت اللہ شیخ اور رانا صفدر علی پرنسپل رہے۔

ستمبر 2003 ء میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کالج کی ”تبدیلیٔ جنس“ عمل میں لائی گئی اور سر سید احمد خاں کے نام پر 40 سال سے قائم اس کالج کا نام سر سید سے فاطمہ جناح گرلز کالج رکھ دیا گیا۔

گویا بقول سرفراز شاہد
(ان سے ذرا معزرت کے ساتھ۔ شعر کی ترتیب تھوڑی الٹ پلٹ کر دی ہے )
یہی کالج تھا وہ ہمدم جہاں سلطان پڑھتے تھے
یہی کالج ہے اب جہاں ”سلطانہ“ پڑھتی ہے

سر سید کالج سے متعلق میری ان ابتدائی معلومات کا ایک ذریعہ کالج کے بانی طالب علم، حکیم سید محمد ارشاد مرحوم کے صاحبزادے اور کالج کے رول نمبر 1 سید مسعود ارشاد ہیں۔ جو ماشاءاللہ اچھی صحت اور بہترین یادداشت کے ساتھ حیات ہیں۔

ماہر تعلیم سید مسعود ارشاد اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے درس تدریس سے منسلک ہیں۔ گجرات میں اپنی اکیڈیمی چلاتے ہیں۔ انگلش کے بہترین استاد ہیں۔ انہوں نے کمال مہربانی کی اور جب بھی میں نے ان سے درخواست کی انہوں نے میرے سوالوں کے جواب میں انتہائی جزیات میں جا کر کالج کے ابتدائی دور کے متعلق معلومات دیں۔

ان کے علاوہ کچھ معلومات کا ذریعہ کینیڈا میں مقیم مسعود صاحب کے کلاس فیلو دوست چوہدری سیف اللہ وڑائچ بنے۔ جن سے کچھ معلومات بذریعہ سید مسعود مجھ تک پہنچیں۔ اور اتفاق سے آج کل سیف اللہ وڑائچ پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ اور تاحال کروونا کی وجہ سے ان کی کینیڈا واپسی ممکن نہیں ہو سکی۔

سرسید کالج گجرات کے ابتدائی دور کے حوالے سے تیار کردہ اپنے اس مضمون کے لیے میں نے کالج میں داخل ہونے والے پہلے سٹوڈنٹ سید مسعود ارشاد صاحب کا بذریعہ فون خصوصی انٹرویو کیا۔

1947 ء میں قیام پاکستان کے تین ماہ بعد گجرات کی معروف علمی و ادبی شخصیت اور گینیز ورلڈ ریکارڈ ہولڈر سید محمد ارشاد کے ہاں پیدا ہونے والے 72 سالہ سید مسعود ارشاد نے کالج میں گزرے اپنے ابتدائی ماہ و سال کی حسین یادوں کے حوالے سے کہا کہ

” کالج کا ابتدائی دور انتہائی مسحور کن اور سنہری یادوں سے بھرپور تھا۔ میرے والد کالج کے روح رواں دونوں بھائیوں شیخ شفقت اللہ اور شیخ عظمت اللہ کے قریبی دوست تھے۔ اور اس کے علاوہ شیخ شفقت اللہ کا صاحبزادہ شیخ رفعت اللہ بھی پبلک سکول نمبر 1 میں میٹرک تک میرا کلاس فیلو تھا۔ پھر کالج میں بھی وہ ہمارے ساتھ ایک سال پڑھتا رہا۔ پہلی کلاس کے بانی طلباء میں شامل تھا۔ ایک سال پڑھنے کے بعد پھر وہ کالج چھوڑ گیا۔ اور فین انڈسٹری کے بزنس میں چلا گیا۔ بعدازاں جواں عمری میں ہی اس کی وفات ہو گئی تھی۔

میرے والد حکیم سید محمد ارشاد صاحب سے اصرار کر کے شیخ شفقت اللہ مرحوم نے مجھے اپنے کالج میں داخل کروایا تھا۔ ان کا میرے والد سے وعدہ تھا کہ آپ نے کالج منظور کروانے میں ہمارے شانہ بشانہ بڑی جدوجہد کی ہے۔ لہذا آپ کا بیٹا ہی ہمارے کالج کا پہلا سٹوڈنٹ ہو گا۔ اگر وہ چاہتے تو یہ اعزاز اپنے بیٹے رفعت اللہ شیخ کو بھی دے سکتے تھے مگر انہوں نے میرے والد سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کیا۔

میرے والد صاحب نے ایک دن مجھے کہا کہ تم جا کر شیخ شفقت اللہ صاحب سے مل لو۔ میں پبلک سکول نمبر 2 میں اکیلا آ کر شیخ صاحب سے ملا انہوں نے مجھے کہا کہ تم ساتھ بنے کالج آفس میں جا کر داخلہ فارم جمع کروا دو۔ اور اس طرح ایڈمیشن کے بعد کالج آفس سے ملی رسید پر میرا رول نمبر 1 لکھا ہوا تھا ”۔

سید مسعود نے کا کہنا تھا کہ اس دور کی یادیں تو بے شمار ہیں ”ہماری کلاس میں 100 سے زائد سٹوڈنٹس تھے۔ اور پبلک سکول نمبر 2 کے، کے جی سیکشن کے دو کمروں پر مشتمل کالج شروع کیا گیا تھا۔ ہمارے ادھر ہوتے ہی کالج کے موجودہ بلاک کی تعمیر شروع ہو گئی تھی جو ہمارے انٹرمیڈیٹ پاس کرنے تک مکمل ہو گئی۔ پھر ہماری سیکنڈ ائیر کی کلاس کچھ عرصہ نئے تعمیر شدہ بلاک میں ہوتی رہی۔ 1965 ء میں میں سرسید کالج سے انٹرمیڈیٹ پاس کر کے گورنمنٹ زمیندار کالج گجرات چلا گیا۔

کالج میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سید مسعود نے کہا کہ

”مرے کالج سیالکوٹ سے آئے ہمارے لیکچرر فدا حسین صاحب نے کالج کی پہلی کرکٹ ٹیم بنائی اور مجھے اس کرکٹ ٹیم کا کپتان بنایا گیا۔ جو کہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی۔ کالج کی کرکٹ ٹیم نے پہلی بار انٹر کالجیٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لیا۔ اس ٹورنامنٹ کا انعقاد ملٹری کالج سرائے عالمگیر کی گراؤنڈ میں ہوا۔ ابتداء میں ہم نے کچھ میچ جیت لیے اور فائنل کے لیے کوالیفائی کر گئے۔ مگر ہمارا فائنل میں مقابلہ ملٹری کالج کی ٹیم سے ہوا۔ ہم فائنل ان سے ہار گئے۔ مجھ سمیت ہمارے دوسرے بیٹسمین ملٹری کالج کے بالروں کے آگے نہ ٹھہر سکے۔ انہوں نے زور دار باؤنسر مار مار کر ہماری خوب دھلائی کی تھی“ ۔

مسعود ارشاد نے ماضی کی بیتی یادوں میں ڈوبتے ہوئے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ

” اب بھی کم و بیش 57 سال گزرنے کے باوجود بھی میں جب کبھی ملٹری کالج سرائے عالمگیر کے آگے سے گزرتا ہوں۔ تو بے اختیار مجھے اپنے کھیلے گئے کرکٹ میچوں کے وہ سحر انگیز مناظر بے ساختہ یاد آتے ہیں۔ خصوصاً ملٹری سکول کے بالروں کے سنسناتے ہوئے تیز رفتار باؤنسروں کی بازگشت مجھے لاشعور میں اب بھی اپنے کانوں کے قریب سنائی دیتی ہے۔ لش گرین گراؤنڈ اور وہ ہم دوستوں کے بے ساختہ قہقہے فلم کی کہانی کی طرح میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔ کیا خوبصورت یادوں سے بھرپور دن تھے“ ۔

اپنے استادوں کے متعلق انہوں نے کہا کہ ”بعد میں ہمارے بہترین استاد فدا صاحب واہ کالج چلے گئے جہاں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد وہ انگلینڈ منتقل ہو گئے۔ جہاں چند سال قبل ہی ان کا انتقال ہوا ہے“ ۔

”وسیم بیگ مرزا صاحب کیا عالیشان شخصیت اور انگریزی کے کلاسک استاد تھے۔ میرے پسندیدہ ترین رہے۔ ان کی ڈریسنگ ہمیشہ کمال کی ہوتی۔ گھر سے اکثر تھری پیس سوٹ زیب تن کر کے“ سالم ٹانگے ”پر کالج آیا کرتے تھے۔ اسی طرح رانا صفدر علی بھی اردو ادب کے منجھے ہوئے استاد تھے۔ اور خوب ڈوب کر پڑھایا کرتے تھے“ ۔ (ماضی کے دونوں نامور پروفیسر پرنسپل بن کر رئٹائرڈ ہوئے۔ بیماری کے باعث آج کل دونوں صاحبِ فراش ہیں )

اس طرح کالج کے دوسرے سال پرنسپل انعام اللہ شیخ صاحب نے کالج کی فرسٹ ائر اور سیکنڈ ائیر کلاسسز کا ایک تفریحی اور مطالعاتی ٹور ترتیب دیا جو درہ طورخم گیا۔ وہ دورہ بڑا معلوماتی اور ایڈونچر سے بھرپور تھا۔ اس ٹور پر سٹوڈنٹس کے ہمراہ پرنسپل انعام اللہ شیخ، رانا صفدر علی اور وسیم بیگ مرزا صاحب گئے تھے۔ میں نے درہ طورخم کے مقام پر ٹرپ کی یاد گار فوٹو بنائی۔ کیمرے کے پیچھے کھڑا ہونے کی وجہ سے میں فوٹو میں نہ آ سکا۔ اور اس دور کی یہی تصویر محفوظ ہے میرے پاس۔ جو میری اس کالج میں گزاری حسین یادوں کا اثاثہ ہے ”۔

40 سال کے بعد 2003 ء میں گورنمنٹ سر سید ڈگری کالج کا نام اور اس کی حیثیت تبدیل کرنے کے فیصلے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سید مسعود ارشاد نے کہا کہ ”جب یہ کالج گرلز کالج کے طور پر تبدیل ہوا تھا تو انہیں انتہائی صدمہ پہنچا تھا۔ کالج سے سرسید کا نام ہٹایا جانا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ جس نے بھی ایسا کیا ہے وہ شاید برصغیر کے مسلمانوں کے لئے تعلیم کے میدان میں سرسید احمد خاں کی خدمات سے لاعلم ہیں۔ یہ ظلم ہوا ان کے ساتھ بھی اور ان کے نام پر بنے گورنمنٹ سر سید کالج کے ساتھ بھی“

آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آ سکی کہ آخر اچھے بھلے 40 سال سے قائم کالج کی جنس اور نام تبدیل کرنے کی نوبت کیوں آئی۔ کالج کو بچانے کے لیے اس کے اساتذہ اور طلباء مسلسل تین ماہ ہڑتال پر بھی رہے۔ مگر شنوائی نہ ہو سکی۔

ستمبر 2003 میں اس کالج کے نام اور حیثیت کو مردانہ سے زنانہ میں تبدیل کر دیا گیا۔ گجرات کے اکثر حلقوں میں اتنے سال گزر جانے کے باوجود بھی یہ چہ میگوئیاں اب بھی عام ہیں کہ ایک ( ق) لیگی وزیر کی نظر تھی کالج سے ملحقہ وسیع زمین پر، مگر داؤ نہ لگ سکا۔ تاہم زمین ابھی بھی موجودہ زنانہ کالج ہی کی ملکیت ہے۔ جو آج کل یونیورسٹی آف گجرات کا کیمپس ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply