کیا آپ مذہبی عقیدے اور وجودیت کے فلسفے کے فرق سے واقف ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل. . . سردار عمر
سردار عمر کا خط
قابل احترام سر!

میرا نام سردار عمر ہے (سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے بدلا گیا ہے ) . میں راولپنڈی پاکستان سے تعلق رکھتا ہوں, بین الاقوامی تعلقات کا طالب علم ہوں. میں ایک مشہور مذہبی گروہ (تبلیغی جماعت) کے مذہبی پس منظر سے تعلق رکھتا ہوں. میری تعلیم کا موضوع انٹرنیشنل ریلیشنز ہے جس میں تنقیدی سوچ کو اچھا سمجھا جاتا ہے لہذا مجھے اپنے معاشرتی اور ثقافتی عقائد کے حوالے سے کچھ نفسیاتی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے. ایگزسٹینشلزم کے فلسفے کے مطالعے نے میرے ذہنی سکون کو برباد کر دیا ہے. میری یونیورسٹی کے پروفیسروں نے مجھے آپ سے ان پیچیدگیوں پر بات کرنے کی سفارش کی. یہاں کچھ سوالات ہیں جو میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں.

(سوال 1 ) اپنے سیکولر نظریات کی وجہ سے مجھے معاشرتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ یہاں بہت کم لوگ ہیں جو میری بات کو سمجھ سکتے ہیں. جو مجھے افسردگی کی طرف لے جا رہا ہے. اس کا مقابلہ کیسے کروں?

(س 2 ) اگرچہ انسان ایک ہی وقت اور جگہ سے گزرا تو پھر مشرق وسطی اور جنوبی ایشیاء میں تجدید اور اصلاح میں تاخیر کیوں?

(س 3 ) متکلم اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سائنسی دریافتوں کا ذکر پہلے سے مقدس صحیفوں میں موجود تھا.
میں آپ کے مہربان جواب کا انتظار کروں گا. پاکستان سے بہت بڑا پرستار


ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

سردار عمر صاحب. . . آپ میری طرف سے اپنے پروفیسروں کا شکریہ ادا کریں جنہوں نے آپ کو مجھ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا.

آپ کے سوال دلچسپ بھی ہیں اور معنی خیز بھی جو آپ کی روشن خیالی اور سچ کو تلاش کرنے کے جذبے کی غمازی کرتے ہیں. میں آپ کے تینوں سوالوں کا مربوط انداز میں اکٹھے جواب دینے کی کوشش کروں گا.

جب ہم انسانی تاریخ اور انسانی شعور کے ارتقا کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف روایتوں نے جنم لیا اور فروغ پایا. ان تمام روایتوں میں سے چار روایتیں بہت مقبول ہوئیں.

پہلی روایت مذہبی روایت ہے. ایران میں زرتشت نے ایک خدا, وحی, آسمانی کتاب, نیکی بدی اور جنت دوزخ کا فلسفہ پیش کیا جو مشرق وسطیٰ میں بہت مقبول ہوا اور آج تک لاکھوں یہودی عیسائی اور مسلمان اس فلسفے کو دل سے لگاتے ہیں. اس روایت کے پیروکاروں کا ایمان ہے کہ اس دنیا میں ان کا امتحان ہو رہا ہے اور ان کی روح کو قیامت کے دن حساب کتاب دینا ہوگا.

دوسری روایت روحانی روایت ہے. ہندوستان میں بدھا اور مہاویرا نے اس روایت کو پیش کیا اور روح کا ایسا تصور پیش کیا جو باب بار دنیا میں آتی ہے اور جب کسی انسان کی روح کو نروان مل جاتا ہے تو وہ روح, روح کل کا حصہ بن جاتی ہے اور واپس دنیا میں نہیں آتی. آج بھی لاکھوں ہندو اور بدھسٹ اس فلسفے کے پیروکار ہیں.

تیسری روایت انسان دوستی کی روایت ہے جسے چین کے فلسفی کنفیوشس اور شاعر لاؤزو نے پیش کیا. ان کا موقف تھا کہ کسی انسان کو بہتر انسان بننے کے لیے کسی خدا یا مذہب کی کوئی ضرورت نہیں وہ اپنی عقل اور ضمیر کی روشنی سے اعلیٰ انسان بن سکتا ہے. کنفیوشس نے انسانیت کو سنہری اصول کا تحفہ دیا اور مشورہ دیا کہ دوسرے انسانوں سے ویسا ہی سلوک کرو جیسا کہ تم چاہتے ہو وہ تم سے کریں.

چوتھی روایت سائنسی روایت ہے جس کا آغاز یونان سے ہوا. اس روایت کو بقراط, سقرط, افلاطون اور ارسطو نے فروغ دیا. ان کے فلسفے کی کوکھ سے جدید سائنس نے جنم لیا. آٹھویں سے گیارہویں صدی تک مسلمان فلاسفروں نے یونانی فلسفیوں کی کتابوں کا ترجمہ کیا. یہ مسلمانوں کا سنہری دور کہلاتا ہے. اس دور میں الکندی, الرازی, الفارابی اور بو علی سینا جیسے طبیبوں اور دانشوروں کا بہت چرچا تھا. لیکن پھر ابو حامد غزالی کا دور آیا.

انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ سائنس, ریاضی اور طب کی کتابوں کو چھوڑ کر الہامی کتابوں کا مطالعہ کریں اور روحانیت کو گلے لگائیں. اس دور کے بعد مسلمان سائنس اور فلسفے سے دور اور مذہب اور روحانیت کے قریب ہوتے گئے. اس دور کے بعد مسلمانوں نے سائنسدان اور فلسفی پیدا کرنے کی بجائے شاعروں اور صوفیوں کو کثیر تعداد میں پیدا کرنا شروع کر دیا.

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ مسلمان فلسفیوں اور دانشوروں کی کتابوں سے مسلمانوں سے زیادہ عیسائیوں اور یہودیوں نے استفادہ کیا اور ان کے نظریات کی بنیادوں پر سائنس, فلسفے, طب اور نفسیات کی بلند و بالا عمارات تعمیر کیں.

جو کتابیں انسانی تاریخ میں الہامی کتابیں سمجھی جاتی ہیں میری نگاہ میں وہ لوک ورثہ کا حصہ ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں اور انہیں وزڈم لٹریچر کا حصہ سمجھتا ہوں. وہ کتابیں سائنس کی کتابیں نہیں اخلاقیات اور ادب کی کتابیں ہیں. میرا خیال کہ جب غیر مذہبی سائنسدان اپنی تحقیقی سے کوئی نئی دریافت کر لیتے ہیں تو مذہبی لوگ اپنی آسمانی کتاب کی استعاراتی تفسیر کرکے اس تحقیق کا آسمانی کتاب میں اس کا ذکر ڈھونڈ لیتے ہیں.

میں تورات, زبور, انجیل, قرآن اور گیتا کو ماننے والوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر سب علم ان کتابوں میں موجود ہے تو ہمیں اتنی تحقیق کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے, وہ آج کے دور میں کرونا یا کینسر کا علاج ہمیں بتا دیں. لیکن جب کوئی دہریہ سائنسدان جس نے الہامی کتابیں نہیں پڑھیں کرونا یا کینسر کا علاج دریافت کر لے گا تو یہ مذہبی رہنما کہیں گے کہ اس کا ذکر تو دو ہزار سال پہلے ہماری الہامی کتاب میں موجود تھا.

مغرب میں پچھلی دو صدیوں میں جن فلسفیوں اور سائنسدانوں کے نظریات نے مذہب کی بنیادوں کو ہلایا اور ہمیں معروضی انداز سے سوچنا سکھایا ان میں چارلز ڈارون, سگمنڈ فرائڈ, کارل مارکس, فریڈرک نیٹشے, برٹرینڈ رسل کے ساتھ ساتھ ژاں پال سارتر بھی شامل تھے جن کے فلسفہ وجودیت کا ذکر آپ نے اپنے خط میں کیا ہے.

آپ کے خط میں یہ پڑھ کر مجھے بالکل حیرت نہیں ہوئی کہ وجودیت کا فلسفہ پڑھنے کے بعد آپ پریشان ہوگئے. سچ تو یہ ہے مذہبی عقیدے اور وجودیت کے فلسفے میں ایک بنیادی تضاد ہے. مذہب پہلے نظریہ
essence
منواتا ہے پھر مصر ہوتا ہے کہ انسان اپنی زندگی
existence
اس نظریے کے مطابق گزاریں کیونکہ مذہبی سوچ کے مطابق
essence precedes existence

مذہب کے مقابلے میں وجودیت کا فلسفہ کہتا ہے کہ انسانی زندگی
existence
بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور کوئی بھی نظریہ
essence
ثانوی ہے کیونکہ
existence precedes essence.
مذہب عقیدے پر انسانی زندگی قربان کرتا ہے جبکہ وجودیت کا فلسفہ انسانی زندگی پر عقیدہ اور نظریہ قربان کرتا ہے. وجودیت کا فلسفہ ہر انسان کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے سوچ سمجھ کر کرے اور پھر اعمال کے نتائج کی ذمہ داری لے.

سردار عمر صاحب! آپ ایک روشن خیال نوجوان ہیں اور تنقیدی سوچ رکھتے ہیں. آپ اپنے سچ کی تلاش میں ہیں. آپ انٹرنیٹ کے دور میں زندہ ہیں. اب ساری دنیا کو سوشل میڈیا نے ایک عالمی گاؤں بنا دیا ہے. آپ کو انٹرنیٹ پر اپنے ہم خیال دوستوں کا حلقہ بنانا چاہیے. میں نے اپنے ادبی اور نظریاتی دوستوں کا جو حلقہ بنایا ہے اس کا نام فیملی آف دی ہارٹ رکھا ہے. آپ جب ایسے دوستوں کا حلقہ بنا لیں گے تو پھر آپ کو اپنے سوالوں خوابوں اور آدرشوں پر ندامت کی بجائے فخر ہوگا.

آپ کا تخلیقی ہمسفر.
خالد سہیل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 324 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *