ماں کا دن بمقابلہ ماں کی دین
کچھ موضوعات پر بات کرنا یا لکھنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ میرے لیے یا تو ان شخصیات، لوگوں اور موضوعات کے حوالے سے بات کرنا کٹھن ہوتا ہے، جن کے بارے میں میری معلومات بالکل کم ہوں، یا پھر ان کے بارے میں، جن کو آپ بہت زیادہ جانتے ہوں، یا جو دل کے بہت قریب ہوں۔ دوسرے قسم کے موضوعات کے حوالے سے یہی فیصلہ کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے کہ بات شروع کہاں سے کی جائے۔
اور جب دل کے قریب رہنے والی ہستیوں میں سے سب سے ممتاز کردار پر لکھنے کی بات ہو، جو اس دنیا میں ہمارے ظاہری وجود برپا کرنے کی وجہ بنی ہے، تب تو تحریر و تقریر کے تمام تر گر، دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، اور اپنی ہر تحریر پھیکی محسوس ہوتی ہے۔ سچ بھی یہی ہے کہ ”ماں“ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر میکسم گورکی کی طرح کوئی فصاحت و بلاغت، فن اور ہنر کے دریا بہا دے، مگر پھر بھی قلمکار کو لگے گا کہ وہ اس موضوع کے ساتھ انصاف نہیں کر سکا۔ اور اس مضمون کا حق بھی یہی ہے کہ حق ادا نہ ہو۔
ہر سال مئی کے مہینے کا دوسرا اتوار، ”ماں کے عالمی دن“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پچھلے برس یہ دن 12 مئی کو منایا گیا تھا اور میں نے اسی دن ”ہم سب“ کے لیے لکھنے کا آغاز کیا تھا۔ میری پہلی تحریر 13 مئی 2019 ء کو ”ماں! تو مجھ سے خوش تو ہے ناں!“ کے عنوان سے شایع ہوا تھا، اور آج ایک برس کے بعد ”ہم سب“ کے لیے اپنی 84 ویں تحریر بھی اسی ہستی پر لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں، جس نے مجھے یہ نطق عطا کیا، کہ میں آپ سے مخاطب ہو سکوں۔
ویسے تو ہر وجود فطری تقاضوں کے مطابق عقل و شعور کی منازل طے کرتا ہے، لیکن انسان کی اولین درسگاہ بہرحال اس کی ماں کی گود ہی ہوتی ہے، جہاں سے جس نوع اور معیار کے اسباق وہ سیکھتا ہے، وہ اس کی تاعمر کے حاصل کردہ علم کی بنیاد ثابت ہوتے ہیں۔ رشتوں کی بھیڑ میں ایک ایسا الگ تھلگ، منفرد ترین اور یکتا ترین رشتہ، جس کے بارے میں ہر اظہار بے معنی لگے۔ ۔ ۔ اور یوں لگے کہ جیسے ہم اظہار کی ناکام کوشش کر رہے ہوں۔ ۔ ۔ جس کی گہرائیوں کو بیان کرنا عملاً ناممکن ہو، جس کو صرف محسوس ہی کیا جا سکتا ہو۔ ۔ ۔ ایک ایسا رشتہ، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جس کے بارے میں سوچ کر ہی آپ کی آنکھیں بھیگ جاتی ہوں۔ (چاہے ماں آپ کے ساتھ اور پاس ہی کیوں نہ ہو۔ )
قرآن فرماتا ہے : ”اور ہم نے آدمی کو حکم دیا کہ اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے۔ اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے۔“ (سورہ احقاف: آیت نمبر 15 )
بخاری اور مسلم دونوں میں آیا ہے کہ: ”ایک شخص نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور عرض کی کہ ’یا رسول اللہﷺ! لوگوں میں سے کون میرے اچھے سلوک و صحبت کا سب سے زیادہ حقدار ہے؟‘ آپﷺ نے فرمایا: ’تمہاری ماں۔‘ اس شخص نے کہا، ’پھر کون؟‘ آپﷺ نے فرمایا: ’پھر تمہاری ماں۔‘ اس شخص نے مزید پوچھا: ’پھر کون؟‘ سرکار دو عالمﷺ نے ارشاد کیا: ’پھر تمہاری ماں۔‘ اس شخص نے چوتھی مرتبہ پوچھا: ’اس کے بعد کون؟‘ آپﷺ نے فرمایا: ’پھر تمہارے والد۔‘
بخاری اور مسلم دونوں میں حضرت عاصمہ بنت ابوبکر سے مروی ایک اور حدیث بھی آتی ہے کہ: ”صلح حدیبیہ کے دوران، میری والدہ، جو اس وقت کافر تھیں، مکہ سے مجھ سے ملنے آئیں۔ میں نے رسول اللہﷺ کو ان کی آمد سے آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ انہیں مدد کی ضرورت ہے۔“ آپﷺ نے جواب میں فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“
ابوداؤد اور ابن ماجہ کی ایک حدیث پاک کے مطابق ابو سعیدی سے روایت ہے کہ ”ہم ایک بار رسول اللہﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے، کہ قبیلہ سلمہ کا ایک شخص آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی:“ یا رسول اللہ! ﷺ کیا میرے والدین کے مرنے کے بعد بھی ان کے مجھ پر کوئی حقوق ہیں؟ ”رسول اللہﷺ نے فرمایا:“ ہاں! آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ان کو اپنی مغفرت اور رحمت سے نوازے۔ انہوں نے جو وعدے کسی سے کیے ہیں، اسے پورا کریں، اور ان کے متعلقین اور ان کے دوستوں کا احترام کریں۔ ”
ماں کی محبت، شفقت، مرتبے اور اس رشتے کی انفرادیت کے حوالے سے قرآن و حدیث سے لے کر عظیم ہستیوں کے اقوال تک، اس قدر خوبصورت تشبیہات سے مزین افکار موجود ہیں کہ جن کو پڑھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہر عام سے عام شخص کے پاس ماں کی تعریف الگ الگ ہے۔ ۔ ۔ اپنی اپنی ہے۔ ۔ ۔ اور یقیناً ان میں سے ہر تعریف اور احساس، قابل قدر بھی ہے۔ دنیا کے سخت مزاج ترین اشخاص نے بھی جب اپنی ماں کے بارے میں اظہار خیال کیا، تو ان کے احساسات کی نرمی دیکھ کر یقین نہ آیا کہ یہ وہی شخص ہے، جس نے زندگی بھر انسانوں کا خون بہایا ہے۔ اڈولف ہٹلر ( 1889 ء۔ 1945 ء) جیسا سفاک شخص، جب اپنے شاعری کے قلم سے اپنی ماں کے بارے میں گویا ہوا تو کہا:
جیسے بڑھتی ہے ماں بڑھاپے کو،
اس کی پیاری وفا شعار نظر،
زندگی کو نہ دیکھ پاتی ہے
جیسے دیکھا کیے تھی وہ پہلے
روشنی اس کی روز جاتی ہے۔
اس کے پاؤں میں جب تھکن پیہم،
گھر سی کر جائے یوں بڑھاپے میں
وہ نہ پہلے سے اپنے جسم کا بوجھ،
اپنے پاؤں کے بل اٹھا پائے
یوں جو ہوجائے تو سہارے کو،
اس کو بازو ادھار دے دینا۔
اپنی تم خوشگوار سنگت کے،
پر مسرت سے سلسلے دینا
کیونکہ وہ لمحۂ اذیت بھی،
ایک دن عین تم پہ آنا ہے،
اس کے غمناک الوداعی جب،
اس سفر نے تمہیں رلانا ہے
تم سے پوچھے اگر تری ماں کچھ،
پیار سے اس کا تم جواب بھی دو
وہ اگر پھر وہی سوال کرے،
پیار سے پھر اسے وہ بات کہو
تیسری بار بھی جو دہرائے،
پھر بھی جھنجھلائے بن شفیق رہو۔
عین شائستگی سے دہرا دو،
پھر وہی بات، اور خفا مت ہو۔ ۔ ۔
وہ کوئی بات گر نہ سمجھے تو،
پیار سے اس کو بیٹھ سمجھاؤ
ورنہ وہ تلخ وقت آئے گا،
اس کے لب کچھ نہ بول پائیں گے
اس کا منہ کچھ نہ مانگ پائے گا۔ ۔ ۔
یہ موضوع ہی ایسا ہے، جس پر بات کرتے شعلہ بھی پگھل جائے۔ ریڈیو پر آج سے 15 ایک سال پہلے میں ایک کمرشل کمپنی کی جانب سے ”ماں“ کے موضوع پر ”ماں تجھے سلام!“ کے عنوان سے ایک ہفتہ وار پروگرام کی میزبانی کیا کرتا تھا۔ اس پروگرام کے ایک سیگمنٹ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کی مشہور شخصیات کے ساتھ ہم ان کی ماں کے بارے میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ مجھے ان تمام مشاہیر، جن کے میں نے اس پروگرام میں انٹرویوز کیے، ان میں سے کوئی ایسی شخصیت یاد نہیں ہے، جو اسٹوڈیو سے روتے ہوئے نہ گئی ہو، حالانکہ ان میں سے کئی شخصیات کی مائیں حیات تھیں، مگر پھر بھی شاید یہ موضوع ہی ایسا ہے کہ اس پر بات کرتے ہوئے آنکھوں کے جام چھلک ہی جاتے ہیں۔
معروف اور سینیئر اداکار شکیل صاحب نے اس پروگرام کے لیے مجھے انٹرویو دیتے ہوئے اپنی ایک انوکھی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواہش کرنا تو بیوقوفی ہے کہ میں اپنی مرحومہ والدہ سے اس دنیا میں دوبارہ مل سکوں۔ اللہ نے چاہا تو ان سے روز محشر ملاقات ہوگی۔ مگر میں نے سنا ہے کہ مغربی دنیا (خاص طور پر صوتی دنیا سے متعلق آڈیو سائنسدان) اس تحقیق میں مصروف ہیں کہ اس کائنات کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک کی تمام آوازیں اس فضا میں موجود ہیں۔ اور اب وہ ان تمام آوازوں کو الگ الگ محفوظ کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، کہ کسی طرح سے وہ آوازیں کسی آلے کے ذریعے ریکارڈ کی جا سکیں۔ یہ بظاہر تو بڑا مشکل بلکہ ناممکن سا کام لگتا ہے، مگر اگر میری زندگی میں ایسا ممکن ہو سکا تو میں جن دو ہستیوں کی آوازیں دوبارہ سننا چاہوں گا، ان میں سے ایک تو وجہ وجود کائنات، حضرت محمدﷺ ہیں، اور دوسری شخصیت میری ماں ہیں۔ کیونکہ میری والدہ کی وفات کو اتنا عرصہ گزر چکا ہے کہ ان کی میرے پاس کوئی یادگار محفوظ نہیں ہے۔ نہ ان کی کوئی تصویر۔ نہ ان کی آواز۔ ”
سال میں ماں کا ایک دن منایا جائے، یا ہر روز ماں کے دن کے طور پر منایا جائے، کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں اس ماں کی مرضی، خوشنودی، رضا اور فیصلوں کو اہمیت کتنی دیتے ہیں۔ کیا ہم اسے گھر کا ایک اضافی پرزا سمجھ کر اپنی قبر کالی نہ کرنے کے ڈر سے، فقط قہر الہی سے بچنے کے لیے، اس کا خیال رکھنے کا محض فرض ادا کرتے ہیں؟ یا واقعی اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلوں میں اس کی رائے، بلکہ ”فیصلوں“ کو اولین اہمیت دیتے ہوئے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔
کیا ہم صرف اس کی محدود مالی ضروریات کا خیال رکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں؟ اور اپنے ضمیر کو یہ کہہ کر تسلی دیتے رہتے ہیں کہ ”ان کی تمام ضروریات زندگی کا خیال رکھ تو رہا ہوں۔“ یا پھر اس بات کا پتا چلانے کی کبھی سعی بھی کی ہے، کہ گھر کے باقی افراد کا رویہ ان کے ساتھ کیسا ہے اور آپ کی غیر موجودگی میں ان کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔ ہمیشہ ان کی ظاہری صحت کا خیال رکھتے ہوئے ان کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں؟
یا کبھی ان دکھوں، تکلیفوں اور طبی بیماریوں کی ”اصل وجوہات“ کھوجنے کی بھی کوشش کی ہے، جو اگر نہ ہوں، تو وہ صحتمند رہے۔ ویسے تو شاید ہم یہ کہنے کے لیے حق بجانب ہوں کہ ہمارا ہر دن ”مدرس ڈے“ ہے، مگر سال کا یہ ایک دن اگر ہمیں ان تمام سوالات پر سوچنے کا موقع دیتا ہے اور ہم اس کے بعد والے باقی ماندہ دن اس ماں کے ایک رات کے رتجگے کی صحیح معنوں میں قیمت ادا کرنے کی (ناکام ہی سہی) کوشش کرتے ہیں، تب بھی اس دن کی افادیت کچھ کم نہیں، اور یہ دن منانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔


