ماں: ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں
اس وقت میں ان کی اکھڑتی سانسوں کو دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ میں وہ امرت دھارا کہاں سے لاؤں جوان کی زندگی لوٹا دے۔ شاید یہ امرت دھا رے کا زمانہ بھی نہیں تھا۔ جدید میڈیکل ٹیکنالوجی اور بہترین دوائیں اور مشینری اما ں کی دل کی دھڑکن، سانسوں، بی پی، کا جائزہ لے رہی تھی سب کچھ تو مشینوں پر میرے سامنے تھا، میری اپنی سانس ان کے سانس کے ساتھ آتی اور ان کی سانس رکتی تو لگتا میں بھی سانس لینا بھول جاتی تھی۔
میں ان ساری یادوں کو دہراتے ہوئے اماں کو ان اکھڑتی سانسوں کے ساتھ زندگی اور موت کی کشمکش میں یک ٹک دیکھ رہی تھی۔ پھر میں نے ان کے کان میں کلمہ پڑھنا شروع کیا۔ ابھی کل رات ہی کو تو اماں اپنے ٹوٹے الفاظ کے ساتھ کلمہ پڑھ رہی تھیں اور میں کچن سے بار بار آکر ان کو دیکھتی تھی۔ رات کو انھوں نے مجھے اپنے پاس بلایا، میں نے ان کے سینے پر سر رکھ دیا۔ انھوں نے میری کمر پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر۔ مجھے دیکھا۔ پتہ نہیں وہ کیسی الوہی مسکراہٹ تھی۔ ۔ ۔ شاید آخری مسکراہٹ تھی مجھے نہں پتا تھا۔ میں یسین شریف پڑھتے ہوئے سوچ رہی تھی اور اللہ سے دعا کر رہی تھی اللہ اک دفعہ پھر معجزہ کر دے۔ میری ما ں کو واپس لوٹا دے۔
میں سوچتی ہوں آج کے اس مادی دور میں لوگ اپنے نام اور دولت کی بنیاد پر شہرت حاصل کرتے ہیں۔ تحریک پاکستان پر کتنی ہی کتابیں لکھی گئیں لیکن بہت کم لوگ ان گمنام ہیروز کو جانتے ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ اس ملک پر قربان کر دیا اور اس ملک سے اک انچ زمین بھی نہیں مانگی۔ میرے والدین بھی انہی گمنام ہیروز میں سے تھے۔ قائد اعظم کی تحریک کے خاموش کارکن۔ ۔ اماں نانی اماں کے ساتھ فاطمہ جناح کے جلسوں میں باقاعدگی سے جاتی تھیں۔
جب ان لوگوں نے انڈیا سے ہجرت کی تو میرے والدین کو کوئینز بریج کے نیچے جہاں آج پی آئی ڈی سی بلڈنگ ہے وہاں مہاجروں کی بستی میں پاکستان آنے کے بعد جگہ ملی۔ بہت سے لوگ نہیں جانتے کے یہ سارا علاقہ پہلے قائد آباد کہلاتا تھا۔ اک دفعہ قائد اعظم اس مہاجر بستی میں آئے اور ان لوگوں سے درخواست کی کہ وہ یہاں اپنے آفس بنانا چاہتے ہیں اس لیے وہ لوگ کہیں اور شفٹ ہوجائیں۔ میرے والدین ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے خوشی خوشی قائد اعظم کے لیے وہ جگہ خالی کردی۔ بعد میں بحالی کمشنر نے انہیں کراچی کے مضافات لانڈھی میں پھینک دیا۔ اماں نے زندگی کا بڑا حصہ اسی کچے گھر میں گزارا سوائے ان چند سالوں کے جو انہوں نے اسلام آباد میں گزارے جب بابا اے ٹی نقوی کے ساتھ دارالحکومت اسلام آباد شفٹ ہو نے پر اسلام آباد چلے گئے۔
اماں کو لانڈھی والا اپنا کچا گھر بڑا پسند تھا۔ اور تھوڑے عرصے پہلے جب میں نے ان کی بیماری کے سبب وہ گھر ان کی اجازت سے بیچا تو وہ بہت اداس تھیں کیوں کے یہ ان کی یادوں کا سنہرا ماضی تھا۔ بابا نے بھی فیڈرل منسٹری میں کام کرنے کے باوجود اک انچ زمین اسلام آباد میں نہ لی اور ہم 92 میں پھر لوٹ کر کراچی والے گھر میں آگئے تھے۔ میرے والدین انہی خاموش کارکنوں کی طرح ہیں جن پر کتابیں یا گیت نہیں لکھے جاتے۔ کیونکہ کے وہ اس طبقہ سے تعلق رکھتے تھے جن کو سلامی یا انعام و اکرام سے نہیں نوازا جا تا۔
مجھے یاد ہے اماں نے ہمیں اپنے بچپن سے ہی خودداری کا سبق دیا اور غربت میں خود بھی خود داری سے کام لیا۔ ہمارا گھر جو ہمیں بحالی کمشنر نے دیا تھا جب ہم اسلام آباد گئے تو ہمارے کرائے داروں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ کیس کورٹ میں گیا۔ اماں نے اکیلے دم سے وکیلوں اور کچہریوں کو بھگتا اور آخر کار ہم نے کیس جیتا اور کرایہ دار ذلیل و خوار ہوئے۔ آج جب میں لوگوں کا ساتویں ویج بورڈ کا کیس لڑنے آئی ٹی ایں ای کورٹ جاتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ یہ جذبہ بھی اماں کا ہی دیا ہوا ہے مگر ہماری ابھی تک شنوائی نہیں ہوئی۔
جب تک ہمارے گھر کا مقدمہ کورٹ میں چلا ابا کی ساری تنخواہ کورٹ کچہری کے خرچے میں چلی جاتی اور اماں کو ہم سب کو پالنے کے لیے بڑی مشقت کرنا پڑتی۔ ہم اس زمانے میں پاپڑ بیلتے تھے اور جو روز کی مزدوری ملتی اس سے سوکھی روٹی ہی مل پاتی۔ مگر یہ اماں ہی کی قائل کرنے والی صلاحیت کا کمال تھا کہ ہم بچے، سوکھی روٹی پر پسی ہوئی لال مرچ کی چٹنی چکن رول کے مزے لے کر کھاتے، بیسن کے گاڑھے آمیزے سے توے پر بغیر گھی کے بنے ہوئے آملیٹ کی طرح کی ٹکیا آج کے چیز آملیٹ کا مزہ دیتی، اور لوکی اور توڑی کے چھلکوں اور چنے کی ڈال کو مکس کر کے بنائے ہوئے کباب آج کے شامی کباب کو مات دیتے، بیسن کے ہی کے آمیزے کے بنائے ہوئے قتلوں کا سالن آج کے مچھلی مصالحہ سے بہتر ہوتا اور ہم کوئی اعتراض نہ کرتے۔
کیوں کہ اماں نے کہا تھا کہ انہیں کسی سے اپنی غربت کے بارے میں کہنا خواہ و ہ ن کے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں اچھا نہیں لگتا۔ اور پھر وہ 71 کی جنگ کے بعد کا زمانہ جب راشن کی لمبی لائنوں میں لگ کر اماں مٹی کا تیل۔ آٹا اور چینی لے کر آتیں اور پھر برقع پہن کر کارپوریشن کے نلکے سے پانی بھرتیں یا ہمارے ساتھ جاکر ہماری مدد کرتیں تا کہ بڑے ٹین خود اٹھا لائیں۔
اور پھر 1992 میں ایک دفعہ پھر اک سیاسی پارٹی کے عہدیدار نے جب ہمارے مکان پر قبضہ کیا اور ہمیں بیدخل کر دیا اور دھمکیاں دیں تو اماں نے نہ صرف اس کا مقابلہ کیا بلکہ کہا کہ یہ گھر تو تمھیں ہی چھوڑنا پڑیں گا۔ یہ کہ کر آئیں اور اللہ سے دعا مانگی ا ور پھر چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ وہ عہدیدار اگلے ہی دن اپنا ساز و سامان چھوڑ کر راتوں رات فرار ہوئے اور آج تک ان کا کہیں نام و نشان نہیں۔
اپنی زندگی کے 50 سال جو انہوں نے بابا کے ساتھ گزارے ( سنہ 2000 جب بابا کا انتقال ہوا اس سال ان دونوں کی شادی کی 50 ویں سالگرہ تھی مگر ہم منا نہ سکے ) ، اور اس کے بعد کی زندگی بھی، اللہ پر اماں کے غیر متزلزل یقین سے بھرپور تھی۔ ان کی نمازیں، لمبے لمبے سجدے، ذکر دعائیں، اور پھر ان کے سچے خواب، جن کے ذریعے انہیں کافی چیزوں کا پہلے ہی سے پتہ چل جاتا تھا۔ سب کچھ انوکھا مگر یقین سے بھر پور تھا۔ دونوں دفعہ جب میں امید سے ہوئی تو مجھے اماں کو بتانے کے بجائے اماں کو خود ہی میرے گھر میں خوش خبری کا پتہ چل گیا۔ ان کے اور اللہ کے درمیان اک بہت عجیب رشتہ تھا یقین و اعتماد کا، جو ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا۔ وہ روحانی رشتہ جس میں انہیں اپنی ضرورت کے لیے صرف اللہ کو کہنا ہوتا تھا ہم تو صرف اس کی رضا کے مطابق عمل کرتے تھے۔
”میڈم ہمارا پیپر ورک مکمل ہو گیا ہے۔ باڈی لے جائیں“ ۔ نرس کی آواز مجھے ماضی سے حال میں لے آئی۔ میں نے غصے سے نرس کی طرف دیکھا ”باڈی“ یہ میری ماں ہیں ”۔ مگر نرس کے لیے یہ روٹین کی بات تھی۔ میں نے پھر خالی نظروں سے دروازے سے سفید چادر میں لپٹے ہوئے سرد جسم کو دیکھا۔“ سب ختم ہوگیا۔ اما ں چلی گئیں آخر کار ”۔ اور پھر ایمبولینس کا آنا۔ میرا اماں کے ساتھ سرد خانے تک کا اکیلے سفر اور دوسرے دن ان کو اپنے ہاتھوں سے غسل دے کر سجا سنور کر ان کے گھر بھیجنے کی تیاری کرنا، میرے لیے اک نا ختم ہونے والے خواب کی طرح تھا۔
ایسا خواب جس سے جاگوں گی تو اماں کہیں آس پاس ہی ہوں گی۔ ان کو آخری سفید کپڑوں میں ملبوس کرتے ہوئے میں پھر چونکی۔ اماں کو کبھی بھی ہلکے یا سوگوار رنگ پسند نہ تھے ”یہ کیا تم میرے لیے بیواؤں والے کپڑے لے آئی ہو۔“ ، ہمیشہ یہ کہتے ہوئے اپنے ناپسندیدہ رنگ کے کپڑے پھینک دیتیں۔ ان کو تو رنگوں سے پیار تھا خواہ وہ انسانی مزاج کے شوخ رنگ ہوں یا موسیقی ہو۔ گہنے چوڑیاں ہوں۔ شوخ رنگ اور شوخ موسیقی۔ انہوں نے زندگی کے اندھیرے دنوں میں بھی اپنے دلنواز قہقہوں، نغموں اور رنگوں سے زندگی کو زندہ رکھا۔ اب ان کا چہرہ سفید کفن میں اک الوہی روحانیت لیے ہوا تھا۔ مسکراتا ہوا، خاموش۔ ۔ ۔ جیسی کوئی خوبصورت خواب دیکھ رہی ہوں اور ابھی پٹ سے آنکھیں کھول دیں گی۔ زندگی موت کی طرف بھی کس زندہ دلی سے جا رہی تھی
ان کو رخصت کر نے سے پہلے نعت خوانی کہ یہ بھی ان کی ایک وصیت تھی کہ ان کی رخصتی میلاد پڑھ کر کی جائے تاکہ جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل سے براہ راست قبر میں پہنچیں گی تو منکر نکیر کے سوالوں اور قبر کے عذاب سے محفوظ رہیں گی۔ اللہ اللہ کیسا یقین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ تم یہ میلاد پڑھنا ”انہوں نے کئی بار مجھے کہا تھا۔ لیکن ان کے جیسی شیریں آواز کہاں سے لاتی۔ ۔ وہ جو لہک لہک کر نعتیں اور وعظ پڑھا کرتی تھیں۔ اور جب میلاد اکبر سے پڑھتے ہوئے اس قرآنی آیت پر آتیں تو ان کی آواز بے حد خوبصورت ہوجاتی“ تم فرما دو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں ( سورہ کہف 221۔ ان کی اللہ سے محبت ایسی ہی تھی۔
ان کو رخصت کرنے سے پہلے میرے صبر کے سارے بند ٹوٹ گئے۔ آنسوؤں کا اک سیل رواں تھا جو سب کچھ بہا کر لے کر جا رہا تھا۔ ”اماں بہت مشکل ہے آپ کی ہدایتوں پر عمل کرنا کہ تمھیں روئے بغیر تمھارے گھر کے لیے رخصت کردوں“ ۔
”ہمیں بھولنا نہیں“ ، آپ کی آواز کہیں دور سے کانوں میں گونجی۔ ۔ مرنے سے کافی عرصہ پہلے جب بھی کوئی اماں سے ملنے آتا تو ان کے جاتے ہوئے اماں ان سے کہتیں ”ہمیں بھول نہ جانا“ ۔ شاید ان کو معلوم تھا کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل دنیا کا اصول ہے۔ لیکن اماں! ہم آپ کو کیسے بھول سکتے تھے۔ آپ تو ہمارے رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہیں، دل و دماغ، گھر کے اندر اور باہر ہر طرف آپ ہی تو نظر آتی ہو۔ ہر چیز میں آپ کا ہی عکس ہے۔ آئینے میں خود کو دیکھوں تو اپنے بجائے آپ کے شبیہ ہی نظر آتی ہے۔
بے شک ہم سب کو اپنے خدا کی ہی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔ الوداع اماں جی۔
خاک مرقد پر تیری فریاد لے کر آؤں گا
اب دعا ئے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا۔ ۔ اقبال

