ماں: ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں
ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نا یا ب ہیں ہم
شہر بانو شریف کے قلم سے
ڈاکٹر ضیا الدین ہسپتال ناظم آباد کے کمرہ نمبر 310 میں آپ کی سانسوں کے زیروبم کو دیکھتے ہوئے مجھے پورا یقین تھا کہ آپ ایک بار پھر زندگی کی طرف لوٹ آئیں گی، ماضی میں بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ ہم آپ کو تقریباً ادھ موئی حالت میں ہسپتال لے کر گئے اور چند گھنٹے کے بعد آپ نے مسکراتے ہوئے آنکھیں کھول لیں اور اپنے مسیحا کی طرف دیکھا اور کہا ”بیٹی میں ٹھیک ہوں۔ یہ میری منجھلی بیٹی ہے۔“ لیکن اس بار ایسا لگتا تھا کہ آپ نے آنکھیں نہ کھولنے کی قسم کھائی تھی۔
11 اکتوبر 2015 کی رات 11 بج کر 15 منٹ پر آپ نے اس جہان فانی کو چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے ملنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس دفعہ آپ نے ہم سب کو مایوس کردیا۔ پچھلے 5 سالوں میں تین دفعہ جب ہم تمام امیدیں کھو چکے تھے اور اللہ کی رضا میں راضی ہونے کی کوشش کر رہے تھے تو آپ اچانک ہنستی مسکراتی زندگی کی طرف لوٹ آئیں تھیں۔ اسی سال ماہ مئی میں جبکہ آپ پر فالج کا ایک شدید حملہ ہوا تھا، تو ڈاکٹرز آپ کو کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا دیکھ کر حیران رہ گئے تھے کیونکہ ان کے خیال میں تو آپ کو اس وقت کوما میں ہو نا چاہیے تھا۔ کیونکہ رپورٹ میں ایسا ہی آیا تھا
لیکن آپ ہمیشہ کی طرح مسکرا رہی تھیں اور صرف اک ڈیڑھ ماہ کی گھر اور ہسپتال میں محنت اور خدمت سے زندگی کی طرف گامزن تھیں آخر کار بالکل ٹھیک ہو گئیں اور دوبارہ وہی زندگی ہنسنا بولنا، کبھی گانا اور کبھی ڈانٹنا۔ ٹی وی پر خبریں دیکھ کر تبصرہ کرنا اور شام کو میری واپسی پر اپنا تبصرہ سنانا۔
آخری دفعہ جب میں آپ کو اکتوبر میں ہسپتال سے لا رہی تھی تو ڈاکٹر نے کہا ”آپ ایک چھے سات ماہ کے بچے کو گھر لے جا رہی ہیں جوکہ اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتا (اماں ڈاکٹرز کی لاپرواہی کی وجہ سے آپ اپنی قوت گویائی کھو چکی تھیں ) ، اس لئے ان کا بے حد خیال رکھنا ہے۔ اور ہم سب نے اپنی جان لڑا دی اور آپ بھی تو اتنی ہی کوشاں رہیں اپنی صحتیابی کے لئے۔ جلد ہی چھوٹے چھوٹے الفاظ بولنے لگیں۔ پھر آپ کے چہرے سے ہم آپ کا مطمح نظر جان لیتے۔ آپ کا پیار، غصہ، احتیاط، ناراضگی ہر طرح کے احساسات آپ کے چہرے پر پڑھ لیتے۔ شاید جذبات کو الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ تو یہ 6۔ 7 ماہ کا بچہ بڑا ہونے لگا۔ لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔
11 اکتوبر بروز ہفتہ اس ایک لمحے نے مجھے برف کی طرح منجمد کر دیا۔ کراچی کی اکتوبر کی گرمی مگر مجھے لگا کے میں کسی برفانی خطے میں آگئی ہوں۔ کپکپی سی طاری ہوگئی، بستر پر آپ کے زرد ہوتے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا، سانسوں کا زیروبم جو میرے لیے آپ کی زندگی کی نوید تھا، خاموش سا لگ رہا تھا۔ میں نے اپنا خشک ہوتا ہوا گلا ہاتھوں سے جکڑ لیا، آنسو اندر ہی اندر گر رہے تھے۔ انہونی ہونے جا رہی تھی۔ حقیقت قبول کرنا ناممکن سا لگ رہا تھا۔
نرسنگ اسٹیشن تک کا چھوٹا سا راستہ لگتا تھا قیامت کا فاصلہ ہو گیا ہے۔ میرے کہے بغیر میرا چہرہ دیکھ کر ڈاکٹرز نرسیں اماں کے کمرے کی طرف بھاگے۔ میں بھی ان کے ساتھ آئی مگر انہوں نے مجھے باہر ہی روک دیا۔ اور تھوڑی دیر بعد وہ خبر سنا دی جو جانتے ہوئے بھی میں سننا نہ چاہتی تھی ”ہمیں افسوس ہے آپ کی والدہ اب اس دنیا میں نہیں“ مگر میرے چاہنے سے کیا ہوتا۔ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے
آپ کی ہدایتیں میرے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ ”جب میں مر جاؤں تو مجھے میرے آخری گھر پہنچانے میں جلدی کرنا۔ اور سنو، آپ کی آواز پھر سے کانوں میں گونجی،“ لوگوں کا انتظار مت کرنا کہ تمھیں کھانا دیں۔ جب مجھے میرے گھر (آپ ہمیشہ سے اپنی قبر کو اپنا گھر کہا کرتی تھیں ) پہنچا دو تو فوراً باورچی خانے جا کر اپنا کھانا خود بنانا (ہائے رے خودداری، یہ سبق ساری زندگی سنا) ۔ ہدایات تو بالکل سادہ تھیں مگر ان پر عمل کرنا اتنا ہی مشکل۔
اماں نے یہ ہدایات زبانی اتنی بار دہرائی تھیں کہ ہم تینوں بہنوں کو ازبر ہوگئی تھیں۔ اور اکثر ایسے مواقع پر ہم ان کو کہتے۔ ”یہ کیا بات ہوئی اماں کہ ہم آپ کے مرنے پر روئیں بھی نہیں!“ اور آپ کا ہمیشہ کا کہا ہوا جواب ہوتا ”ارے بیٹا کسی کے رونے سے کوئی رکا ہے کبھی؟“ آپ کے لیے ہر چیز کہنا اور کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تھا۔
مگر وقت کے اس لمحے میں میں میرے لیے آپ کی منطق کو قبول کرنا یا سمجھنا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا اور میں رو رہی تھی، آپ سے کیے ہوئے وعدے کی پہلی وعدہ خلافی اماں جی اور دوسری وعدہ خلافی بھی ہونا ہی تھی کے یہ سوچ کر بھی دل بیٹھا جاتا تھا کے آپ کی ہدایت کے مطابق کھانا پکاؤں اور کھاؤں آپ کے بغیر، آج یا اگلے کئی دن تک، یہ اک اور وعدہ خلافی۔ اور پھر آپ کی ہدایت کہ مجھے میرے گھر جلدی بھیجنا، یہ بھی مشکل ہو رہا تھا کیوں کہ باجی فون پر رو رہی تھیں ”دیکھو اماں کو میرے بغیر رخصت نہ کرنا۔ دیکھو میرا کل تک انتظار کرو۔ ہزار میل دور دوسرے شہر میں روتی ہوئی اماں کی پہلوٹھی کی بیٹی کی بات ٹالنا بھی ممکن نہیں تھا۔ وعدہ خلافی۔ اماں سمجھ نہیں آرہی کہ آپ کی وصیتوں پر عمل کروں یا دنیا دیکھوں۔ میں نہیں چاہتی کے آپ کی دوسری دو بیٹیاں سمجھیں کے میں خود مختار ہوگئی ہوں۔ خدا کا شکر ہے کہ باجی اگلی صبح آگئیں۔ باجی کے بعد فردوس کو بھی کنٹرول کرنا مشکل تھا کیوں کہ اپنی شدید بیماری کے سبب وہ پہلے ہی اداس تھی کہ وہ آپ کے پاس آخری لمحات میں نہیں تھی۔
ہسپتال کا عملہ اپنی تیاریوں میں مصروف تھا، آپ کی پوری زندگی میرے سامنے کسی فلم کی طرح گھوم رہی تھی۔ کم از کم وہ سال جو میں نے ہوش میں آپ کے ساتھ گزارے۔ آپ نے مجھے ہمیشہ یہ بتایا کہ میں آپ کی بڑی منتوں اور مرادوں کی بیٹی ہوں۔ میں نے جب بھی زندگی میں آپ کی کسی بات پر اختلاف کیا آپ ہمیشہ کہتیں ”ہاں تمھیں اسی دن کے لیے تو بچایا تھا“ ۔ مجھ سے پہلے دو بہن بھائی وہ کھو چکی تھی۔ میں ان کے لیے خدا کی طرف سے اک تحفہ تھی۔
اکثر میری پیدائش سے متعلق کئی بار کے دہرائے ہوئے قصوں کو بیان کرتے ہوئے ہو یہ شعر گنگنایا کرتی تھیں ”کیا کیا منتیں نہ مانیں بیوفا تیرے لئے“ ۔ یہی رمضان کا مہینہ تھا جب میری پیدائش کا وقت قریب آگیا تھا۔ اماں کے مطابق وہ روزہ سے تھیں لیکن شدید درد زہ سہنے کے باوجود انہوں نے دائی اماں کو روزہ توڑنے سے انکار کر دیا اور مغرب تک انتظار کرنے کو کہا۔ اس لئے کوئی دوا نہیں لی۔ اس زمانے میں پیدائش گھروں پر ہی ہوتی تھی۔
ان کے مطابق انہوں نے جیسے ہی روزہ کھولا میں نے دنیا میں آنکھ کھولی۔ لیکن مجھ سے پہلے دو بچے کھونے کی وجہ سے اماں میری زندگی کی طرف سے کافی فکرمند تھی اور بہت کچھ ٹونے ٹوٹکے پہلے ہی کر چکی تھیں۔ کسی نے مجھ سے پہلے مر جانے والی بہن کے بعد کہا دیکھو اب دوبارہ جب امید سے ہونا تو اپنے ہونے والے بچے کو دوسروں سے پیسے جمع کر کے کپڑے بنا کر پہنانا بعد میں خیرات کر دینا۔ اور اماں میری بار امید سے ہوئیں تو وہ رشتہ داروں کے گھر گئیں اور سب سے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کیے تاکہ میرے کپڑے بنائیں۔
زندگی کے پہلے سال میں نے یہی مانگے ہوئے پیسوں کے کپڑے پہنے۔ پھر کسی نے ان کو بتایا کے اس کی پیدائش کے چھٹے روز اس کے کان چھید دو اور اس کے لیے لوگوں سے پیسے جمع کر کے سونے کی بالیاں ڈالو۔ اماں پھر اسی حالت میں لوگوں کے پاس گئیں اور پیسے جمع کر کے چھوٹی چھوٹی سونے کی بالیاں لاکر میرے کانوں میں منت کی بالیاں ڈالیں۔ اس غربت کے زمانے میں خاندان میں سونے کی بالیاں پہننے والی میں پہلی لڑکی تھی۔ جب میں 5 سال کی ہوئی تو پانچویں سالگرہ پر ان بالیوں کو بیج کر اس کا کھانا پکوا یا گیا اور غریبوں میں بانٹا گیا۔
اور اس کے بعد میں خاندان کی واحد بچی تھی جس کی سالگرہ ہر سال باقاعدگی سے منائی جاتی اور اس روایت کو زندہ رکھا جاتا کہ کھانا پکا کر کم آمدنی والے لوگوں میں بانٹا جاتا۔ یہاں تک کہ میری شادی کے بعد بھی میرے والدین نے اس روایت کو برقرار رکھا۔ اور اس کے علاوہ کسی نے ان کو بتایا کے جب بچہ پیدا ہو تو اس کو پہلا غسل دے کر مسجد میں چھوڑ آنا اور کہنا ”اے اللہ اگر آپ اس بچے کو لینا چاہتے ہیں تو ابھی لے لیں میں بعد میں نہیں دوں گی“ ۔ ایسا گستاخانہ کلام وہ بھی خدا سے۔ آج کے مذہبی اسکالر شاید اس پر فتویٰ بھی صادر کردیں لیکن وہ جو کہتے ہیں نا کے بچے کی پیدائش اور مامتا خدا کا معجزاتی مظہر ہیں۔
ایک ماں کا کئی ماہ تک بچے کو اپنی کوکھ میں سنبھالنا اور پھر تخلیق کے مشکل ترین مرحلے سے گزرنا خدا کے معجزے سے کم نہیں۔ یہ خدا کی ایسی نعمت ہے جس کا انکار کیا ہی نہیں جاسکتا۔ ”اور یہ معجزہ ہمارے گھر بھی ہوا کیونکہ یہ اک ماں ہی ہے جو اپنے خالق حقیقی سے اپنی اولاد کی زندگی کے لیے اس طرح بات کر سکتی ہے۔ اسی لئے خدا نے اگر کسی دنیاوی رشتے کو اپنے محبت کو جانچنے کا پیمانہ بنایا تو وہ یہی رشتہ ہے جسے ماں کہتے ہیں۔
وہ کہتا ہے کہ میں اپنی مخلوق سے 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔ سو اس طرح میں زندگی کی طرف آئی۔ اللہ کو زندگی دینا تھی، سو بہانہ بن گیا اور ماں کو اپنی دعا پر قرار آگیا اور اپنے خالق کی ربوبیت پر کامل یقین۔ اللہ کا تحفہ تھا میری ماں کے لیے میری زندگی۔ اور اسی رب نے بعد میں بھی مجھے تین دفعہ موت کے منہ سے بچا کر کر اماں کی جھولی میں ڈال دیا۔ تین دفعہ ایسا ہوا کے میں شدید بیمار ہوئی اور ڈاکٹرز نے جواب دے دیا۔
خود اماں اک دفعہ بالکل امید چھوڑ چکی تھیں میری زندگی کی طرف سے، جب میری سانس اکھڑ رہی تھی تو انہوں نے مجھے اس تکلیف میں دیکھ کر میرے منہ پر سفید چادر ڈال ڈی، تاکہ مجھے جاتے ہوئے دیکھنے کی تکلیف نہ ہو۔ اسی وقت کسی پڑوسن نے کہا اس کو امرت دھارا دے دو۔ جو کہ اس زمانے میں آب حیات سمجھا جاتا تھا۔ اماں نے باجی کو کہا کہ جاؤ اور امرت دھارا لے آؤ۔ باجی کا بھی بچپن کا زمانہ تھا سو باہر آکر وہ کھیل میں لگ گئیں اور بھول گئیں۔
اماں مجھے چھوڑ کر باجی کو ڈھونڈنے نکلیں اور جب انہیں کھیلتے دیکھا تو ڈانٹ ڈپٹ کر پھر بھیجا کہ امرت دھارا لے کر آؤ، اس طرح امرت دھارا آیا۔ اماں نے ڈرتے ڈرتے چادر میرے چہرے سے ہٹائی۔ ان کے مطابق میری سانسیں یوں تو اکھڑ رہی تھیں مگر میں زندہ تھی۔ اماں نے امید و بیم کی کیفیت میں امرت دھارا میرے حلق میں انڈیل دیا۔ تھوڑی دیر میں سانس بحال ہوگئی، مجھے نہیں معلوم یہ امرت دھارے کا کمال تھا یہاں اماں کی خاموش دعاؤں کا، کہ میں زندگی کی طرف لوٹ آئی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


