کورونا کے بعد ٹڈی دل کا حملہ تیار


اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت سے متعلقہ تنظیم ایف اے او کی رپورٹ کے مطابق رواں سیزن میں ٹڈی دل سے بہت سے ممالک متاثر ہوئے ہیں جن میں پاکستان، ایتھوپیا، کینیا، صومالیہ، سوڈان، مصر، یمن، عمان، بھارت، سعودی عرب اور ایران شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ ٹڈی دل کے حملے قازقستان میں ہوئے ہیں۔

پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ نیا نہیں، اس سے قبل 1955 اور 1993 میں بھی ٹڈی دل کے حملے سے سندھ اور پنجاب کے کئی شہروں کی کپاس کی فصل تباہ ہوئی۔ رواں سیزن میں ٹڈی دل نے صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع میں تیسرا حملہ کیا ہے جس کی وجہ سے گندم اور سرسوں کی تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پنجاب کے وسطی اضلاع ساہیوال، وہاڑی، پاکپتن، اوکاڑہ سمیت متعدد شہر ٹڈی دل کی زد میں ہیں۔ ٹڈی دل کے لشکروں کی تعداد اور فصلوں پر بڑھتے ہوئے حملوں نے ماہرین حشرات کو حیرت زدہ کردیا ہے۔

ٹڈی کے انڈے دینے کا طریقہ عجیب ہوتا ہے، یہ جب انڈے دینے کا ارادہ کرتی ہے تو ایسی سخت اور بنجر زمین کا انتخاب کر تی ہے جہاں کسی انسان کا گزر نہ ہوا ہو، پھر اس زمین پر دم سے اپنے انڈے کے بقدر سوراخ کرتی ہے جس میں وہ انڈا دیتی ہے، وہیں رکھے رکھے زمین کی گرمی سے بچہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ٹڈی ان پرندوں میں سے ہے جو لشکر کی طرح ایک ساتھ پرواز کرتی ہے اور اپنے سردار کے تابع اور مطیع ہوتی ہیں اگر ٹڈیوں کا سردار پرواز کرتا ہے تو یہ بھی اسی کے ساتھ پرواز کرتی ہیں اور اگر وہ کسی جگہ اترتا ہے تو یہ بھی اسی کے ساتھ اتر جاتی ہیں۔

ٹڈی میں مختلف جانوروں کی دس چیزیں پائی جاتی ہیں گھوڑے کا چہرہ، ہاتھی کی آنکھ، بیل کی گردن، بارہ سنگا کا سینگ، شیر کا سینہ، بچھو کا پیٹ، گدھ کے پر، اونٹ کی ران، شتر مرغ کی ٹانگ اور سانپ کی دم ہوتی ہے۔ ٹڈی کا لعاب نباتات کے لیے زہر قاتل ہے اگر کسی نباتات پر پڑ جاتا ہے تو اسے ہلاک کر کے چھوڑتا رہے یہی وجہ ہے جس کھیت میں پہنچ جاتی ہے اس کو برباد کرتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ٹڈیوں کے حملے کی صورت میں ملک میں زراعت کو ہونے والے نقصانات میں گندم، چنے اور آلو کی پیداوار کے 15 فیصد ہوں گے جو تقریباً 205 ارب روپے تک پہنچ سکتے ہیں جبکہ 25 فیصد نقصان کا تخمینہ ربیع کی فصلوں کے لیے تقریباً 353 ارب روپے اور خریف کی فصلوں کے لیے تقریباً 464 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

ٹڈی دل کے حملوں اور فصلوں کی تباہی کے پیش نظر حکومت نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ٹڈی دل پر تحقیق کرنے کے لئے ملک کا پہلا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر قائم کر دیا ہے۔ پنجاب اور وفاقی ادارہ پلانٹ اینڈ پروٹیکشن کے تعاون سے ٹڈی دل کے حملے کو کنٹرول کرنے کے لئے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں ٹڈی دل کے کنٹرول کے لئے جنگی بنیادوں پر کارروائیاں جاری ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان خان بزدار اور وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمد لنگڑیال متعدد بار ٹڈی دل کی سرویلنس اور کنٹرول آپریشن کے تحت جاری سرگرمیوں کا موقع پر جائزہ لے چکے ہیں۔ محکمہ زراعت کی بروقت کارروائیوں سے ٹڈی دل کے حملہ سے پنجاب میں فصلوں کو ابھی تک کوئی قابل ذکر نقصان نہیں پہنچا۔

یاد رہے پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے فروری میں موسم گرما کے آغاز سے قبل ہی ٹڈی دل کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لئے ایگریکلچرل ڈیپارٹمنٹ کو پچاس ملین جاری کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ متعلقہ اضلاع کے لئے ضروری مشینری خریدی جاسکے جبکہ وفاقی حکومت نے بھی نیشنل ایمر جنسی ڈیکلئیر کر کے آٹھ ارب روپے کی منظوری دی تھی۔ اس وقت بلوچستان اور دیگر صوبوں سے ممکنہ طور پر آنے والے ٹڈی دل کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

بارکھان، ڈیرہ بگتی، ڈیرہ مراد جمالی اور کشمور میں ٹڈی دل کے جھنڈ دکھائی دے رہے ہیں۔ صوبہ بھر میں 28 لاکھ ایکڑ رقبہ ٹڈی دل سے صاف کرایا جا چکا ہے۔ ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے مقامی طور پر 10 گنا کم لاگت سے وہیکل ماؤنٹڈ مسٹ مشین تیار کی گئی ہے جو کارکردگی میں بہترین ہے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے مقامی وسائل سے تیار کردہ وہیکل ماؤنٹڈ مسٹ مشین میں دلچسپی کا اظہار کیاہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں خصوصاً پنجاب حکومت کو کورونا سے بچاؤ کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل سے بچاؤ کے لئے بھی ہنگامی بنیادوں پر مزید اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ ٹڈی دل کے باعث ملک میں غذائی قلت پیدا ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔

Facebook Comments HS