منٹو زندہ باد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میں اس سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو پہلے سے ہی ننگی ہے۔ میں کالی تختی پر سفید چاک استعمال کرتا ہوں تاکہ کالی تختی اور نمایاں ہو جائے“ ۔

یہ مشہور الفاظ عظیم افسانہ نگار اور لکھاری سعادت حسن منٹو کے ہیں۔ جو 11 مئی 1912 میں پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں پاپروڈی میں پیدا ہوا تو کسے معلوم تھا کہ ایک مسلم کشمیری جج کے گھر میں پیدا ہونے والا یہ سعادت حسن بڑا ہو کر اپنی صدی کا ایک عظیم افسانہ نگار ”منٹو“ بنے گا۔ اور اپنے افسانوں اور کہانیوں سے اپنے ارد گرد پائے جانے والی سماجی برائیوں کا پردہ ایسے چاک کرے گا جس سے اس منافق سماج کی چیخیں نکل جائیں گی۔

سعادت حسن کے، منٹو بننے کے سفر کا آغاز اس وقت ہوا جب 1933 میں اکیس سال کی عمر میں اس کی ملاقات ایک سکالر عبدالباری علیگ سے ہوئی۔ جنھوں نے اس کا ٹیلنٹ بھانپتے ہوئے اسے لکھنے کا مشورہ دیا۔ جس کو ذہن میں رکھتے ہوئے سعادت حسن نے کچھ مہینوں میں ہی مشہور فرانسیسی لکھاری وکٹر ہیوگو کے ناول ”دی لاسٹ ڈے آف اے کنڈمڈ مین“ کا اردو میں ترجمہ کر ڈالا۔ جسے لاہور کے اردو بک سٹال نے چھاپا اور ساتھ ہی سعادت حسن کو لدھیانہ کے ایک اخبار ”مساوات“ کے ایڈیٹوریل بورڈ میں نوکری مل گئی۔

اس سے سعادت حسن کو کافی حوصلہ ملا اور اس نے علی گڑھ یونیورسٹی میں گریجویشن میں داخلہ لیا اور پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کو بھی جوائن کیا۔ جس کے بعد وہ 1934 میں بمبئی (اب کا ممبئی) آ گیا جہاں مختلف اخباروں، میگزینوں اور فلموں کے لیے لکھنے کے دوران اس کو نور جہاں، نوشاد، عصمت چغتائی، شیام اور اشوک کمار جیسے دوست ملے وہاں اس نے فورس لین جو کہ بممبئی کے ریڈ لائٹ ایریا کا مرکز تھا، وہاں رہتے ہوئے اپنے آس پاس کے ماحول کو بہت باریک بینی سے محسوس کیا۔ جس نے اس کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا اور اس نے ان طوائفوں اور بازاری عورتوں کے بارے میں بھی لکھا جن کا ذکر کرنا بھی تب اس وقت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ جس کی وجہ پر اس کی ذات پر فتوے لگائے گئے۔

حالانکہ وہ تو صرف ان کے درد کو محسوس کرتا تھا اور ان کے حوالے سے سماج کی منافقت پر بات کرتا تھا جہاں پر وہ عورتیں تو ویشیا اور ناپاک تھیں مگر وہاں پر جانے والے مرد وہاں سے ہو کر بھی پاک اور معتبر ٹھہرتے تھے۔ اور منٹو پر تنقید کرنے والے بڑی آسانی سے اب کہہ دیتے ہیں کہ اس نے بس فحش عورتوں کے بارے میں لکھا۔ لیکن ان کو اس کا عورت کو عزت دینے کے حوالے سے کہا ہوا وہ قول یاد نہیں رہتا جب وہ کہتا ہے کہ ”عورت کو ایسے عزت دو کہ اسے اپنا آپ نیا اور خوب صورت محسوس ہو“ یا پھر جب وہ سماجی نا انصافی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”تم جانتے ہو اس سرمایہ پرست دنیا میں اگر مزدور مقررہ وقت کے ایک ایک لمحے کے عوض اپنی جان کے ٹکڑے تول کر نہ دے تو اسے کام کی اجرت نہیں مل سکتی۔ لیکن یہ رونا رونے کا کیا فائدہ“ ۔

منٹو نے اس کے بعد ریڈیو کے لیے بھی بہت سے ڈرامے لکھے اور اس دوران اس کی شادی اس کی صفیہ سے ہوگئی۔ باقی پوری دنیا کے لیے وہ سعادت حسن منٹو تھا مگر صفیہ کے لیے ہمیشہ وہ سعادت صاحب ہی رہا۔ لیکن صفیہ کے سعادت صاحب کی پہلی محبت تو شراب تھی۔ ہاں دوسری صفیہ ضرور تھی، جس کے ساتھ وہ ہمیشہ اپنی پہلی محبت کو ترک کردینے کا جھوٹا وعدہ اپنی موت تک کرتا رہا۔ اور سعادت صاحب کی صفیہ اس کے باوجود بھی اس سے اور اپنی پیاری بیٹیوں سے اسی طرح بے مثال محبت کرتی رہیں۔

پھر 1947 میں پارٹیشن ہوئی۔ جس کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور خون خرابے کو دیکھنے کے بعد منٹو اندر سے ٹوٹ گیا۔ اور اس نے اتنے بے گناہ انسانوں کی جانیں چلے جانے اور اس دوران وقوع پذیر ہونے والے دلخراش واقعات کا بہت گہرا اثر لیا اور اپنے شاہکار افسانے ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ ، ”کھول دو“ اور ”ٹھنڈا گوشت“ تخلیق کیے جنھوں نے اس کے فن کو دوام بخش دیا۔ اس کے ان اور دیگر افسانوں کی وجہ سے اس پر فحش نگار لکھاری کے فتوے لگائے گئے اور مقدمے بھی قائم کیے گیے۔ منٹو جنوری 1948 میں لاہور آ گیا لیکن اپنا دل تو وہ بممبئی میں ہی چھوڑ آیا تھا جس کا اسے ہمیشہ قلق رہا۔

لاہور آکر اس نے مختلف رسالوں اور میگزینوں کے لیے لکھنا شروع کردیا۔ اور پاک ٹی ہاؤس کو اپنا مسکن بنالیا۔ مگر یہاں بھی سماج کے ان ٹھیکیداروں نے اس کی جان نہ چھوڑی اور یہاں پر بھی اس پر مقدمات قائم ہوئے۔ جن میں سے ایک کی سماعت کے دوران جج کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ ”وہ ایک لکھاری ہے۔ اور ایک لکھاری جو بھی محسوس کرتا ہے وہی لکھتا ہے۔ اور اس نے بھی یہی کیا“ ۔ پھر اپنے اوپر فحاشی کے فتوے لگانے والے سماج کے ٹھیکیداروں کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا تھا

” وہ مجھے پاگل کہتے ہیں۔ وہ جن کی نبض حیات دوسروں کے خون کی مرہون منت ہے۔ وہ جن کا فردوس غربا کے جہنم کی مستعار اینٹوں سے استوار کیا گیا ہے۔ جن کے ساز عشرت کے ہر تار کے ساتھ بیواؤں کی آہیں، یتیموں کی عریانی، بے سہارا بچوں کی صدائے گریہ لپٹی ہوئی ہے۔ کہیں مگر ایک زمانے آنے والا ہے جب یہی پروردہ غربت اپنے دلوں کے مشترکہ غم میں اپنی انگلیاں ڈبو ڈبو کر ان لوگوں کی پیشانیوں پر اپنی لعنتیں لکھیں گے۔“ اور ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے سماج میں جب معصوم کلیوں کی عزتیں تار تار کی جارہی ہیں۔ یہ وہی زمانہ جس کے بارے میں منٹو نے یہ کہا تھا۔

اپنے بممبئی کے چھوٹ جانے کا دکھ، اپنی ذات پر تنقید کے نشتر چلانے والوں اور اس کے ساتھ گھٹیا سلوک روا رکھے جانے والوں کا دکھ، اور اپنے اردگرد موجود ہزاروں مجبور لوگوں کے دکھ کو دل میں لئے، حد سے زیادہ شراب نوشی کرنے کی بنا پر 18 جنوری 1955 کے دن صرف تینتالیس سال کی عمر میں ہی منٹو اس دنیا سے چل بسا اور جاتے ہوئے ایک وصیت بھی کر گیا کہ اس کی قبر کے کتبے پر یہ لکھا جائے کہ ”وہ بڑا افسانہ نگار تھا یا خدا“ ۔

اس کی اس وصیت پر تو مکمل عمل نہ ہو سکا۔ مگر سعادت حسن منٹو اپنے سماج کو سچ کا آئینہ دکھاتے ہوئے ایسا شاہکار ادب تخلیق کر گیا جس نے اسے ہمیشہ کے لیے امر کردیا۔ جس پر اس کی موت کے بعد ہی سہی اسے ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اس پر کتابیں لکھی گئیں۔ آج گوگل نے اس کے ایک سو آٹھویں جنم دن پر ڈوڈل بنا کر اس کی عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

اس کی زندگی پر پاکستان اور بھارت میں فلمیں بنائی گئیں۔ جن میں سے اس کی ذات پر 2015 میں سرمد سلطان کھوسٹ کی ہدایت کاری میں بنائی گئی فلم دیکھنے راولپنڈی کے سینی پیکس سینما جانے کا اتفاق ہوا۔ فلم کے اختتام پر جب بھیگی ہوئی آنکھوں کے ساتھ باقی لوگوں کے ساتھ مل کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں تو وہاں منٹو کے ایک مداح نے منٹو زندہ باد کا نعرہ لگا دیا۔ جس سے سینما ہال اس نعرے سے گونج اٹھا۔ منٹو واقعی زندہ باد ہے اور ہمیشہ زندہ باد ہی رہے گا کیونکہ اس کی ذات سچ کا جو استعارہ بنی ہے وہ آج اور آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ بنی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply