ارطغرل غازی نے کئی نقاب سرکا دیے ہیں
آپ نے شتر مرغ کا نام ہی نہیں سنا ہو گا بلکہ یقیناً اسے دیکھا ہوا بھی ہوگا۔ جتنا یہ خود عجیب ہے اتنا ہی اس کا نام بھی عجیب ہے۔ شتر مرغ فارسی زبان کا لفظ ہے جو دو الفاظ ”شتر“ اور ”مرغ“ کا مجموعہ ہے۔ شتر کا معنی اونٹ جبکہ مرغ کا معنی ہے پرندہ۔ اس لحاظ سے شتر مرغ کا مطلب ہوا اونٹ نما پرندہ یا پرندہ نما اونٹ۔ کسی نے اس سے پوچھا :تم شتر ہو یا مرغ؟ اس نے جواب دیا : میں شتر (اونٹ) ہوں۔ پوچھنے والے نے پوچھا : شتر ہو تو بوجھ کیوں نہیں اٹھاتے؟ اس نے جواب دیا : نہیں! میں مرغ (پرندہ) ہوں۔ پوچھنے والے پھر سوال داغا:اگر مرغ ہوتو اڑتے کیوں نہیں؟ اس نے دیدے گھماتے ہوئے جواب دیا: کیونکہ میں شتر ہوں۔ یعنی جب بوجھ اٹھانے کا وقت آئے تو یہ مرغ بن جاتا ہے اور جب اڑنے کا وقت آئے تو شتر بن جاتا ہے یعنی کام سے بھاگتا ہے۔
ڈرامے میں کرتوغلو، کوچابش اور سعد الدین کوپیک جیسے مختلف چہروں کو بے نقاب کرتے ارطغرل غازی نے پاکستان کے سیکولر طبقے کے چہرے پر پڑا ہوا پہلا نقاب غیر جانبداری اور روشن خیالی کا سرکا یا ہے۔ یہی وہ طبقہ تھا جس نے بے حیائی کا سامان صرف دوسرے ممالک سے امپورٹ کرنے کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ اسے سکرین کی زینت بنانے میں بھی صف اول کا کردار ادا کیا۔ جب بھی اسلامی روایات اور مقامی تہذیب کو تار تار کرتے کسی حیا باختہ ڈرامے یا فلم پر کسی فرد یا گروہ نے صدائے احتجاج بلند کی تو اس طبقے نے یہ کہہ کر اس کا ناطقہ بند کر دیا کہ فلم اور ڈرامے کا تعلق آرٹ سے ہے اور آرٹ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
لیکن جب سے ارطغرل نے پاکستان میں قدم جمائے ہیں اسی طبقے نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ارطغرل کی بجائے ہمیں مقامی ہیروز کو متعارف کرانا اور دکھانا چاہیے۔ یعنی جب بات انڈین اور مغربی فلموں کی پاکستان میں نمائش کی ہو تو یہ طبقہ ”بین الاقوامی“ بن جاتا ہے اور جب اسی اصول کے تحت غازی ارطغرل کی نمائش کی جائے تو یہ طبقہ ”مقامی“ بن جاتا ہے۔ بھئی سیدھی سی بات ہے کہ اگر تم آرٹ کی بین الاقوامیت پر یقین رکھتے ہو تو ارطغرل پر اعتراض کیوں اور اگر تم مقامی ہوتو مغربی اور انڈین فلموں کی وکالت کیوں؟
جب یہ نقاب ہٹ گیا تو شتر مرغ کی طرح نیت کے کھوٹ کو ظاہر کرتا ایک اور نقاب چڑھایا گیا کہ ”اس ڈرامے کی وجہ سے مقامی کلچر کو نقصان ہوگا او ر ترکی کا کلچر پروموٹ ہوگا“ ۔ بھئی بلی کب سے دودھ کی رکھوالی کرنے لگی؟ اور ویسے بھی اگر انڈین اور مغربی فلمیں دیکھنے سے پاکستانی کلچر کا نقصان نہیں ہوا تو خاطر جمع رکھیے اس ڈرامے سے بھی کوئی نقصان نہیں ہو گا۔
غرض کہ ارطغرل کی مخالفت کرتے سیکولر، لادین اور ملحد طبقے کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ارطغرل غیرملکی ڈراما ہے بلکہ انہیں درد اس بات کا ہے کہ ڈرامے نے ان کی بسائی دنیا بگاڑ دی ہے؟ اس ڈرامے نے یہ نقاب بھی الٹ دیا ہے کہ پاکستانیوں کے ہیرو ٹام کروز، ون ڈیزل، رسل کرو، جانی ڈیپ اور جارج کلونی جیسے لوگ نہیں بلکہ ارطغرل جیسے لوگ ہیں جن کے دلوں میں عظمت رسول اور خوف خدا کا احساس موجزن ہو اور ان کا جینا مرنا اپنی ذات یا قبیلے کے نہیں بلکہ امت مسلمہ کے لیے ہو۔
خود غرضی کی بجائے جو بھی ملت کی بات کرے گا وہی مسلمانوں کا ہیرو بنے گا چاہے وہ چھ سات صدیاں پہلے کا ارطغرل غازی ہو یا آج کا طیب اردگان۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ دنیا کے ہر اسلامی ملک کی جنتا اپنے حکمران کو بھلے نا پسند ہی کرتی ہو لیکن وہ طیب اردگان کو ضرور پسند کرتی ہے کیونکہ وہ صرف ترکی کی بات نہیں کرتا بلکہ ملت اسلامیہ کی بات کرتا ہے۔ پاکستان ہی کیا، برما، بھارت، فلسطین، ایران، عراق یا شام مسلمان جہاں بھی ظلم و بربریت کا شکار ہوتے ہیں تو اردگان چیخ اٹھتا ہے اور یہی بات ہے ارطغرل اور طیب اردگان کے ہیرو بننے کی قدر مشترک ہے۔ اب سیکولر طبقہ جتنا مرضی زور لگائے اگر کوئی کرتوغلو اور راجا داہر کو ہیرو نہ مانے تو اس میں ارطغرل یا محمد بن قاسم کا کیا قصور؟
ارطغرل غازی نے اس حقیقت سے بھی پردہ سرکا دیا ہے کہ کسی اسمبلی میں کھڑے ہوکر ایک تقریر جھاڑنے، ٹویٹر پر ٹرینڈ چلانے یا مقامی قرار دینے سے راجا داہر کو زبردستی ہیرو نہیں بنایا جاسکتا۔ آپ شوق سے راجا داہر کے ہیرو ہونے پر ٹرینڈ بھی چلوائیں، ڈراما بھی بنائیں اور یوٹیوب پر راجا داہر نامی چینل بھی بنا لیں آپ کو کس نے روکا ہے لیکن اگر ارطغرل غازی کی طرح اس کی پہلی قسط ایک ہی ہفتے میں ڈیڑھ کروڑ کی ویورشپ کو نہ پہنچے، نہ ہی وہ یوٹیوب ٹرینڈنگ پینل پر کئی دن نمبر ون پوزیشن پر برقرار رہے، نہ ہی اس چینل کو ایک ڈیڑھ ہفتے میں ساٹھ لاکھ لوگ ( 6000000 ) وزٹ کریں، نہ ہی بیس دنوں میں اسے 2.28 ملین لوگ سبسکرائب کریں اور نہ ہی اسے بین الاقوامی سطح پر 500 ارب مرتبہ دیکھا جائے تو پھر مان لیجیے کہ ہیرو وہ راجا داہر نہیں جس کے گیت آپ اسمبلیوں میں گائیں اور نہ ہی وہ سپائیڈر مین اور سپر مین ہیں جن کی تشہیر پر آپ کروڑوں روپے خرچتے ہیں بلکہ ان کے ہیرو محمد بن قاسم اور غازی ارطغرل جیسے وہ لوگ ہیں جن کے روپ میں ہر مسلمان اپنا آپ دیکھتا ہے۔
یہ نقاب بھی سرک گیا ہے کہ اس طبقے کو کبھی مقامی ہیروز کا خیال بھی تھا۔ اسی طبقے نے ان ڈراموں پر تنقید کی تھی جو ایسے مقامی افراد پر بنائے گئے تھے جنہوں نے انگریز سرکار کو تسلیم کرنے کی بجائے ان کے خلاف مزاحمت کی تھی اور ایسے ڈراموں کی حوصلہ افزائی کی جس میں اسلامی خاندانی نظام کا مذاق اڑایا جائے، شادی شدہ عورت دوسرے مردوں سے یارانے لڑائے، لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کرے، نوجوان بچیاں رات باہر گزارنے کو شخصی خودمختاری کہیں، ساس بہو کے جھگڑے عروج پر ہوں اور مقدس رشتوں کو ڈائیلاگ کے نام پر رگڑا لگایا جائے۔ جب کہا جاتا کہ اس طرح کے ڈرامے مناسب نہیں تو جواب دیا جاتا کہ قوم یہی دیکھنا چاہتی ہے اور اسلامی تاریخی موضوعات اور مقامی ہیروز پر بننے والے ڈرامے فلاپ ہو جائیں گے۔ ارطغرل غازی نے اس پروپیگنڈے کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
جب بات نہ بنی تو یہ نقاب اوڑھ لیا گیا کہ اس ڈرامے میں کام کرنے والے لوگ حقیقی زندگی میں بہت زیادہ بولڈ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس ڈرامے میں کام کرنے والے اداکار حقیقی زندگی میں واقعی بولڈ ہیں تو پھر ان سے اتنی تکلیف کیوں؟ ارطغرل نے اس نقاب کو بھی پلٹا دیا ہے کہ مسئلہ ان کے بولڈ ہونے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ بھلے ڈرامے میں سہی لیکن وہ اسلام، اللہ و رسول اور قرآن و حدیث کی بات کیوں کرتے ہیں؟ اسی ایک بات نے انہیں انتہائی بولڈ ہوتے ہوئے بھی اس طبقے کی نظر میں مجرم بنا دیا ہے۔
جب یہ پردہ بھی چاک ہو گیا تو کہا گیا کہ ڈراما غیرحقیقی ہے۔ جناب! آپ شوق سے اسے غیرحقیقی کہیں لیکن کتابوں میں لکھی اس حقیقت کو کیسے جھٹلائیں گے کہ قائی قبیلے نے صدیوں دنیا پر راج کیا تھا اور مغربی سفیر سلمان شاہ کے حضور کو عرضیاں پیش کیا کرتے تھے؟ ترکی میں موجود ارطغرل کے مزار کو صفحہ ہستی سے کیسے مٹائیں گے؟ اس کے بیٹے عثمان اول کی قبر، اس کی بنائی سلطنت عثمانیہ اور اس سے کیے گئے معاہدہ لوزان کو کیسے جھٹلائیں گے؟ غازی ارطغرل کے پہلو میں واقع اس کے جانثار ساتھی ترگت کی قبر کا انکار کیسے کریں گے اور ترکی کے میوزیم میں موجود اس کے مشہور عام کلہاڑے کو کیسے غائب کریں گے؟ حقیقت یہی ہے کہ ارطغرل نے بہت سوں کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوڑا ہے۔


