سحر انگیز اور دل موہ لینے والے موسیقار نثار بزمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

( 1924 سے 22 مارچ 2007 )
6 نگار ایوارڈ اور تمغہ حسن کارکردگی ( 1994 ) حاصل کرنے والے

میری نثار بزمی صاحب سے ڈرامائی ملاقات

میں نے 1981 کے اوائل میں اخبارات میں پڑھا کہ ملک کے نامور موسیقار نثار بزمی لاہور سے کراچی منتقل ہو گئے ہیں۔ اور یہ بھی کہ ای ایم آئی پاکستان،  کراچی اسٹوڈیوز میں گلوکارہ رونا لیلی سے ایک تجرباتی دھمال ریکارڈ کروا رہے ہیں۔

خاکسار نے 1978 میں اپنا پہلا کام، صدا بندی ، ڈسک کٹنگ ، کیسٹ ماسٹرنگ وغیرہ ای ایم آئی سے ہی سیکھا تھا۔ اس زمانے میں عباسی صاحب فیکٹری منیجر، عزیز صاحب چیف ساؤنڈ انجینئر اور منصور بخاری صاحب ( زیڈ اے بخاری صاحب کے چھوٹے بھائی ) یہاں کے منیجنگ ڈائرکٹر تھے۔

1981 کا ذکر ہو رہا ہے، میں ا س وقت پی ٹی وی کراچی مرکز میں معاون پروڈیوسر کی حیثیت سے شعبہ پروگرامز سے منسلک تھا۔ پروڈیوسر، سلطانہ صدیقی سے بات کی کہ کیوں نہ اپنا ہفتہ وار موسیقی کا پروگرام ”سر سنگم“ نثار بزمی صاحب سے کروایا جائے۔

یہاں ایک دلچسپ بات لکھتا چلوں کہ جس سازندے سے بھی اس بات کا ذکر کیا اس نے ایک ہی بات دہرائی کہ بزمی صاحب بہت ہی سخت طبیعت کے مالک ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں ایک روز دن کے گیارہ بجے ای ایم آئی کراچی اسٹوڈیوز کے انجینئر غیاث جیلانی اور Artist and Repertoire Manager ارشد محمود ( انہوں نے بعد میں پی ٹی وی کراچی مرکز سے اداکاری کی اور گیتوں، غزلوں کی موسیقی بھی ترتیب دی ) صاحب سے ملنے گیا اور اپنا مقصد بیان کیا۔ مشورہ یہ ہوا کہ بہتر ہو گا کہ اس پروگرام کے لئے بزمی صاحب سے میں خود بات کروں۔ یوں اسٹوڈیو کے کنٹرول روم میں پہلی دفعہ اس شخصیت کو دیکھا جس کو زمانہ نثار بزمی کے نام سے جانتا تھا۔

گلوکارہ اور سازندے اپنے اپنے کام سے فارغ ہو چکے تھے اور بزمی صاحب مکسنگ کروا رہے تھے۔ میں نے اندر داخل ہو کر بہ آواز بلند السلام علیکم کہا۔ انہوں نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا اور انہماک سے کام میں مصروف ہو کر مجھ سمیت اطراف سے لاتعلق سے ہو گئے۔ کسی وجہ سے کچھ دیر کو کام رکا تو میری طرف رخ کر کے آنے کا مقصد پوچھا۔ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا: ”بزمی صاحب! آپ کے بارے میں جو سنا تھا ویسے ہی پایا“ ۔

اس بات پر تھوڑا سا مسکرائے اور پوچھا ”کیا سنا تھا؟“ ۔
میں نے جوابا کہا ”یہ کہ بزمی صاحب بہت سخت اور غصہ والے ہیں“ ۔

اس بات پر دوبارہ مسکرا کر بولے ”دیکھو میاں! کسی نے پیسے دے کر اسٹوڈیو کی شفٹ لی ہوئی ہے۔ اب اس خریدے گئے وقت کو تمہارے ساتھ باتوں میں گزارنا پرلے درجے کی بد دیانتی ہوتی۔ ہاں! البتہ اب اس مختصر وقفہ میں ادھر ادھر کی بات کرنے یا چائے پینے میں کوئی ہرج نہیں“ ۔

ایسی بات کسی اس پائے کے شخص سے میں نے پہلی مرتبہ ہی سنی۔

راقم نے موسیقی کے پروگرام ”سر سنگم“ کے بارے میں بتایا اور ایک پروگرام ان سے کروانے کی خواہش ظاہر کی۔ ابھی میری بات ختم بھی نہ ہوئی ہو گی کہ انہوں نے فوری سوال داغ دیا:

” میاں تم ہی بتاؤ! تم کیا سوچ کر آئے ہو؟ میں یہ پروگرام کروں گا؟“ ۔ ان کے سوال نے تو چکرا کر رکھ دیا۔

” میرے حساب سے تو آپ نہیں کریں گے“ ۔ جوابا کچھ سچ ہی کہنا پڑا۔

” میں اپنی چند ایک شرائط کے ساتھ یہ پروگرام کر لوں گا“ ۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نرم لہجے میں کہ انہوں نے کہا۔

پھر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہنے لگے :

” پہلی بات یہ کہ جو گلوکار یا گلوکارہ طے ہو جائیں پھر تبدیل نہیں ہوں گے۔ دوسری بات یہ کہ اس پروگرام کی باقاعدہ ریہرسل میرے گھر میں ہی ہو گی۔ تیسرے یہ کہ جو دھن اور بول منتخب ہو جائیں گے وہ قطعاً تبدیل نہیں ہوں گے“ ۔

اندھا کیا چاہے دو آنکھیں! میں نے فوراً اثبات میں سر ہلا دیا۔ پھر اس کے بعد انہوں نے اپنی مشہور زمانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا :

” ایک اور بھی شرط ہے“ ۔
اس وقت میرے ذہن میں فوری خیال آیا کہ اب وہ توقع سے کہیں زیادہ پیسے مانگنے کی بات کریں گے۔

” میاں تم نے بتایا تھا کہ اسی ای ایم آئی میں تم نے کام سیکھا ہے، گویا موسیقی کی ابجد سے کچھ واقفیت تو ضرور ہونا چاہیے، لہذٰا اب تم اس پروگرام کی تیاری میں ہر ایک مرحلہ میں میرے ساتھ موجود رہو گے“ ۔ اب انہوں نے کن معنوں میں یہ بات کہی، میں نہیں جانتا البتہ اس خوبصورت شرط کی بدولت 15 دن میں نے بزمی صاحب کی دہلیز پکڑ لی۔

بزمی صاحب کا سلطانہ صدیقی اور میرا پروگرام ”سر سنگم“ کرنا:

بہر حال میں بزمی صاحب سے اپنی اس پہلی ملاقات کے بعد گراموفون کمپنی آف پاکستان کے اسٹوڈیو سے بھاگم بھاگ واپس پی ٹی وی آیا اور یہ معرکہ سلطانہ صدیقی کو سنایا جو بہت خوش ہوئیں۔ پھر اس وقت کے اسکرپٹ ایڈیٹر جناب مدبر رضوی صاحب سے ملاقات کی کہ بزمی صاحب کے لئے کس شاعر کو بلوایا جائے کیوں کہ بزمی صاحب کا کہنا تھا کہ بعض گیت دھن پر بھی لکھے جائیں گے۔

طے ہوا کہ ایک گیت میرؔا جی کا لیا جائے ایک عمران رزاقی کا جو اس وقت پی ٹی وی میں میرے ساتھ معاون پروڈیوسر تھا اور خاصہ اچھا شاعر تھا۔ باقی تمام گیت صابر ؔ ظفر صاحب سے لکھوا ئے جائیں۔ صابر ؔ ظفر کو بھی شاباش ہے کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ کام کیا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کے ساتھ کام کرنا تقریباً نا ممکن سی بات ہے۔ انہوں نے میرے سامنے ریکارڈ وقت میں بزمی صاحب کے لئے دھن پر اور دھن کے بغیر، بہت عمدہ گیت لکھے۔

گلوکارہ عابدہ پروین نے اپنے اول اول اردو گیت بھی اسی موسیقی کے ہفتہ وار پروگرام ”سر سنگم“ میں پیش کیے تھے۔ میراؔ ؔجی کے اس گیت کو عابدہ پروین کی آواز میں صدا بند کیا گیا:

مورکھ من کو کون سجھائے، کون اب دھیر بندھائے
کیسے بات بنے جب، بگڑی بات نہ کوئی بنائے

عمران رزاقی کا گیت گلوکار محمد علی شہکی کی آواز میں صدا بند ہوا :
محبتوں کے چراغ لے کر یہ لوگ جانے کہاں گئے ہیں

نہایت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ عمران رزاقی جیسا ذہین شخص، کچھ عرصہ بعد ’تہرے‘ قتل کے ایک جرم میں سینٹرل جیل کراچی چلا گیا اور وہاں خود پراسرار طور پر قتل ہو گیا۔

گلوکار امجد حسین، تحسین جاوید، فاطمہ جعفری، ٹینا ثانی، ماریہ حسین، یوسف لاثانی، جمال، ابراہیم ڈاڈا وغیرہ نے بھی اپنی اپنی جگہ بزمی صاحب کی دھنوں کا حق ادا کر دیا۔

اس زمانے میں صدا بندی کے لئے موزوں ریکارڈنگ میوزیشنوں میں وائلن بجانے والوں کی بڑی اہمیت تھی۔ ان میں مظہر حسین المعروف مظہر بھائی، مقصود بھائی، اشرف بھائی، منظور حسین اور سعید احمد کے نام تھے۔ بزمی صاحب نے مجھے مظہر بھائی کا نام دے کر ان کو بلوایا جو میوزک نوٹیشن لکھ اور پڑھ سکتے تھے اور انفرادی سولو وائلن بجانے کے مظاہرے کے سلسلہ میں بیرونی ممالک میں جا کر پاکستان کا نام روشن کر چکے تھے۔ موصوف بہت نفیس آدمی تھے، اس خاکسار سے بہت پیار کرتے تھے۔ مجھے وائلن کی معمولی سی شد بد تھی۔ صبح کا راگ ’بھیرو‘ بجا لیا کرتا تھا۔ اتنے بڑے وائلن نواز کے وائلن کو ہاتھ لگانا ہی میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔

پی ای سی ایچ سوسائٹی کا رہنے والا میرا گٹارسٹ دوست فرخ عابد بہت حیران اور پریشان ہوا جب میں نے اس کو بزمی صاحب کا پیغام پہنچایا کہ اس پروگرام کی ریکارڈ نگ کی ریہرسل میں آ جاؤ۔ پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لئے لکھتا چلوں کہ میں نے بھی بزمی صاحب سے اس لڑکے کے بلوانے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ اس کے ہاتھ میں بہت صفائی ہے۔ یہ بالکل وہی نتیجہ دے سکتا ہے جو وہ چاہیں گے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بزمی صاحب نے پہلے ہی سے بہتر سے بہتر بلکہ بہترین سازندوں کی معلومات کر لی تھیں۔

اس پروگرام کی ایک دو یادگار باتیں اور بھی ہیں۔ ہماری فلمی صنعت کے مشہور موسیقار جناب ماسٹر عنایت حسین کے بیٹے راحت، خاص طور پر لاہور سے اپنا ڈرم سیٹ لے کر آئے تھے۔ میرے دوست روح الدین خان عرف رونی جو اس وقت کراچی کے معروف ہوٹلوں میں الیکٹرانک کی بورڈز  بجایا کرتے تھے، ان کو بھی بلوایا گیا۔ روبن جون ایک ذہین کی بورڈ پلیئر تھا اور اس وقت موسیقار کریم شہاب الدین صاحب کے ساتھ کام کرتا تھا۔

میں نے بزمی صاحب سے ذکر کیا کہ روبن پڑھا لکھا سمجھ دار اور مزید سیکھنے کی طلب رکھنے والا ایک محنتی نوجوان ہے۔ اس کو بھی بلوایا گیا۔ یہ مشہور گلوکار ایس بی جون کا صاحبزادہ ہے۔ جون بھائی خود بھی بہت اچھے میوزک کمپوزر ہیں۔ انہوں نے فلم ’سویرا‘ میں موسیقار منظور حسین شاہ عالمی والے کی موسیقی میں فیاضؔ ہاشمی کا لکھا ہوا یہ لازوال گیت صدا بند کروایا تھا:

تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسین ہے

پروگرام ”سر سنگم“ کے گیتوں کی صدا بندی شالیمار ریکارڈنگ کمپنی میں ہوتی تھی جو اس وقت ریڈیو پاکستان کراچی کی مشہور گلوکارہ نگہت سیما کے گھر، گلشن اقبال میں واقع تھی۔ یہاں ساونڈ انجینئر جناب شریف، اکبر قریشی اور سلیم قریشی نے بڑی جانفشانی سے بزمی صاحب کے تمام گیتوں کی صدا بندی کی۔ پھر معمول کے مطابق ٹیلی وژن کراچی کے ’بی‘ اسٹوڈیو میں اس پروگرام کی ویڈیو ریکارڈنگ ہوئی اور یہ نشر بھی ہو گیا۔

علاوہ ازیں بزمی صاحب کی موسیقی میں ای ایم آئی پاکستان نے مسرت نذیر کی آواز میں ایک آڈیو کیسٹ تیار کی تھی جو بعد میں پی ٹی وی سے ویڈیو ریکارڈنگ کے ساتھ بھی نشر ہوئے۔ یہ کیسٹ اور ویڈیو دونوں بے حد مقبول ہوئے : ”پچھے پچھے آندا میری چال ویندا آئیں، چیر والیا ویکھدا آئیں وے میرا لونگ گواچا“ ۔

بزمی صاحب کے ہاں سحر زدہ صبح و شام:

ان دس بارہ دنوں میں علاوہ اس ایک کام کے، مجھے تو کچھ بھی یاد نہیں۔ میں شاعر تو نہیں، لیکن ان میں اٹھا بیٹھا ضرور ہوں۔ بزمی صاحب کے ہاں بسر ہوئے صبح شام میں نہ تو تن کا ہوش رہا نہ ہی کھانے پینے کی کوئی چاہ۔ بزمی صاحب کے ساتھ گزرا یہ مختصر سا عرصہ میری زندگی کا بہترین دور ہے۔ بزمی صاحب کو موسیقار کی حیثیت سے ایک عالم جانتا ہے، مگر میں نے اس پروگرام کے بعد جس نثار بزمی کی دہلیز پکڑ لی وہ ایک ایسی بزم تھی جس پر ہر وقت نثار ہو جانے کو دل چاہے۔ نہایت سیدھے سادھے، صاف گو، اجلے من والے نیک انسان تھے۔ ایک میں ہی نہیں، جو بھی ان سے ایک دفعہ ملا، بار بار ملا۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسا تاثر، ایسا سحر تھا کی دل ان کی جانب کھنچتا تھا۔

بزمی صاحب ایک شفیق باپ اور ذمہ دار شوہر بھی تھے۔ گھر میں مرغیاں اور مرغے پال رکھے تھے۔ چونکہ خود سادہ طبیعت والے تھے لہٰذا گھر بار میں سادگی نظر آیا کرتی۔ بڑے بیٹے کا نام وقار تھا جس کی مناسبت سے آپ کے مکان پر ’الوقار‘ کی تختی لگائی گئی تھی۔ دو چھوٹے بیٹے جڑواں تھے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان کی اولاد میں سے کوئی ایک بھی موسیقی سے رغبت نہیں رکھتا تھا۔

سید نثار کی ابتدا:

جل گاؤں، ریاست مہاراشٹرا، بھارت میں سید قدرت علی کے ہاں 1924 کو بچے کی پیدائش ہوئی۔ سید نثار احمد نام تجویز ہوا۔ کسے معلوم تھا کہ آگے چل کر یہ برصغیر پاک و ہند میں نام کرے گا۔ ابھی گیارہ بارہ سال کی عمر ہو گی کہ معاشی مسائل سے نبٹنے کی خاطر ان کو ( اس وقت ) بمبئی کی ایک نامور قوال پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا پڑی۔ سر تال خدائی عطیہ تھا جب کہ موسیقی کے اسرار و رموز سے کوئی واقفیت نہیں تھی۔ تب قسمت نے یاوری کی اور 1930 کے اواخر میں بمبئی کی موسیقی میں اہم شخصیت خان صاحب امین علی خان کی شاگردی میں چار سال رہے۔ یوں محض 13 سال کی عمر میں مروجہ راگ راگنیوں اور آلات موسیقی میں خاصی مہارت حاصل کر لی۔ 1939 میں صرف 15 سال کی عمر میں آل انڈیا ریڈیو میں اسٹاف آرٹسٹ ہو گئے۔ یہیں ( بمبئی ) کے ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہونے والے ڈراموں میں گیتوں کی طرزیں بھی بنائیں۔ ان کی بنائی ہوئی دھنوں پر رفیق غزنوی اور امیر بائی کرناٹکی جیسے نامور موسیقاروں اور فنکاروں نے گایا۔ یہ معمولی بات نہیں۔ ایسے کامیاب کام کے بعد سید نثار کی ماہانہ تنخواہ بڑھا کر پچاس روپے کر دی گئی جو اس وقت ایک معقول رقم مانی جاتی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *