ہیرو ایسے نہیں بنائے جاتے – مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہیرو کا تو پتا نہیں البتہ ہیروئن کے بارے میں میرا تصور بالکل واضح ہے۔ ایک مرتبہ دوستوں کے ساتھ یہ بحث ہوئی کہ کون سی فلمی ہیروئن زیادہ خوبصورت ہے، وہ کالج کے دن تھے، مادھوری اپنے عروج پر تھی، میں نے مادھوری کا نام لیا مگر پھر خیال آیا کہ تبو بھی کم نہیں سو ساتھ ہی اس کا نام بھی جوڑ دیا، پھر یکایک میری پاکستانیت جاگی اور میں نے کہا کہ نیلی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اگلے پانچ منٹ میں میرا بیان تبدیل ہو کر کچھ یوں ہو چکا تھا کہ پاک و ہند کی کوئی ایسی ہیروئن نہیں جس کے حسن پر تنقید کی جا سکے، ایک باریش اور متقی دوست نے اس بیان میں ہالی وڈ کا اضافہ بھی کر دیا۔ اس کے بعد یہ میٹنگ ان بیبیوں کے حق میں دعائے خیر و جملہ پوشیدہ و پیچیدہ خواہشات کے ساتھ برخاست ہو گئی۔

ہیرو کا معاملہ ذرا مختلف ہے، مطالعہ پاکستان میں جو کچھ ہمیں پڑھایا گیا اس کے بعد ہمارے ذہن میں یہ تصور راسخ ہو گیا کہ ہیرو کا مسلمان ہونا ضروری ہے، اس مسلمان نے اگر سر پر صافہ باندھ رکھا ہو، ہاتھ میں تلوار اٹھا رکھی ہو اور وہ مسلمانوں کے کسی لشکر کی قیادت کر رہا ہوتو بس سمجھیں کہ وہ ہیرو ہے قطع نظر اس بات سے کہ وہ کسی قسم کی اقدار کا پابند ہے یا نہیں۔ اب یہ اقدار کی پابندی کہاں سے آ گئی؟ ہیرو کے لیے اخلاقی فضیلت کا معیار کیوں کر مقرر کیا جاوے؟

کیا ہیرو بنانے کے لیے فقط یہ دلیل کافی نہیں کہ ہیرو میری مذہبی تہذیب کا امین ہے اور اس کی سحر انگیز شخصیت از خود میرے دل میں اتر جاتی ہے؟ اگر یہ باتیں مان لی جائیں اور ہیرو شپ کے لیے کوئی پیمانہ مقرر نہ کیا جائے تو پھر داعش کا ابوبکر بغدادی بھی کسی مسلمان کا ہیرو ہو سکتا ہے اور نیوزی لینڈ کی مساجد میں گھس کر مسلمانوں کا قتل عام کرنے والا دہشت گرد کسی مسیحی کا محبوب! لیکن ایک دودھ پیتا بچہ بھی جانتا ہے کہ یہ بات درست نہیں، دنیا میں جن لوگوں کو ہیرو مانا جاتا ہے ان کے لیے اخلاقی فضیلت کا ایک خاص معیار مقرر ہے، اقدار کا ایک سانچہ موجود ہے اور ”ویلیوز“ کا ایک پیمانہ دستیاب ہے۔

اس پیمانے میں رنگ، نسل، مذہب، علاقے یا کسی بھی قسم کے تعصب کی کوئی گنجائش نہیں، جو لوگ ہیرو شپ کے ایک خاص کڑے معیار پر پورے اترتے ہیں وہ چاہے کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں یا کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں، کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ ہیرو ہی رہیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہیرو شپ کا کڑا معیار کیا ہے؟

دنیا نے وقت کے ساتھ ساتھ کچھ عالمی اقدار طے کر دی ہیں، کوئی بھی دانش مند اور با ضمیر شخص ان اقدار کا انکار نہیں کر سکتا، مثلاً ظلم اور جبر کے خلاف لڑنا، غلامی کے خلاف جد و جہد کرنا، بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانا، غاصبانہ نظام کے خلاف انقلاب برپا کرنا، دنیا میں انصاف، رواداری، مساوات اور انسانی آزادیوں کے فروغ کے لیے کام کرنا وغیرہ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہیرو کے لیے ضروری ہے کہ اس کا اپنا کردار مثالی اور بے داغ ہو، ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر سوچتا ہو اور جنگی جنون میں مبتلا نہ ہو۔

ممکن ہے کچھ لوگ یہ دلیل دیں کہ ہمارے لیے تو مسلمان فاتح ہی ہیرو ہیں اور ہماری عظیم اسلامی ثقافت کا درخشندہ باب ہیں لہذا ہمیں اپنے بچوں کو انہی کے بارے میں پڑھانا چاہیے۔ اس دلیل کو اگر درست مان لیا جائے تو پھر اس کی رو سے یزید کو بھی ہیرو ماننا پڑے گا کہ وہ مسلمان بھی تھا اور فاتح بھی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہیرو بجا طور پر امام عالی مقام ہیں نہ کہ یزید۔

سو، وہ تمام فاتحین چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے تھا اگر محض علاقے فتح کر کے وہاں کے عوام کو محکوم بناتے گئے، ان کے سروں کے مینار بناتے گئے اور مفتوحہ علاقوں کی دولت لوٹ کر واپس لے گئے، وہ کسی اور کے ہیرو ہوں تو ہوں کم از کم ہمارے ہیرو نہیں ہونے چاہئیں۔ نادر شاہ درانی نے دلی میں قتل عام کروایا، لاکھوں نہیں تو ہزاروں بے گناہ افراد قتل ہوئے، ہندوستان میں لوٹ مار کی، اسے کیسے ہیرو مان لیں، تیمور لنگ نے انسانیت کی ایسی کون سی خدمت کی جس کی بنیاد پر اسے محبوب بنایا جائے اورنگ زیب نے اقتدار کی خاطر اپنے بھائی مروا کر کون سے اسلام کا جھنڈا لہرایا جس کی بنا پر اس کا مجسمہ بنوایا جائے؟

اسی طر ح علاقائی ہیرو والی دلیل میں بھی کوئی وزن نہیں، میں اگر پنجابی ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ لا محالہ رنجیت سنگھ ہی میرا ہیرو ہو گا، میرا ہیرو وہی ہوگا جو عالمی اقدار کے معیارات پر پورا اترتا ہوگا، سو اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بھگت سنگھ اس معیار پر پورا اترتا ہے، جس نے انگریز سامراج کے خلاف بے جگری سے لڑتے ہوئے اپنی جان دی، رائے احمد خان کھرل بھی ہیرو ہے، چہ گویرا پنجابی نہ ہونے کے باوجود بھی ہیرو ہے اور نیلسن منڈیلا مسلمان نہ ہونے کے باوجود بھی محبوب۔ ولیم والس فاتح نہیں تھا مگر تاریخ میں ہیرو ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا مگر وہ آج بھی ہیرو ہے۔ ہر قسم کے معیار پر پورا اترنے والا عبدالستار ایدھی میرا ہیرو ہے۔ قائد اعظم بھی ہیرو شپ کی عالمی تعریف پر پورے اترتے ہیں اور مہاتما گاندھی بھی اور کشمیر کے حریت پسند رہنما سید علی گیلانی بھی۔

آپ ہیرو شپ کا جو بھی معیار بنا لیں ایک مسئلہ پھر بھی موجود رہے گا، ایک قوم کا ہیرو دوسری قوم کا ولن کیوں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ عصبیت ہے۔ نریندر مودی بھارتی قوم پرستوں کا ہیرو ہے اور کشمیریوں کا ولن، بینجمن نتن یاہو اسرائیل کا ہیرو ہے اور فلسطینیوں کا ولن۔ عصبیت کوئی منفی خصوصیت نہیں، ہر لیڈر میں کوئی نہ کوئی عصبیت ہی ہوتی ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنا نظریہ تشکیل دیتا ہے، اگر آپ کو اپنے گاؤں سے محبت ہے اور آپ گاؤں والوں کی تعلیم کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو یہ علاقائی عصبیت ہی ہے جس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص برصغیر کے مسلمانوں کو پسماندگی سے نکالنا چاہتا ہے تو ایسی مذہبی عصبیت پر کوئی اعتراض نہیں بنتا۔

مسئلہ صرف تب پیدا ہوتا ہے جب عصبیت کی بنیاد پر کسی دوسرے علاقے یا مذہب کے لوگوں کو محکوم بنایا جائے، ان پر ظلم ڈھایا جائے، پھر یہ بات عالمی اقدار کے خلاف چلی جاتی ہے اور ایسا شخص ہیرو شپ کی تعریف سے باہر نکل جاتا ہے چاہے وہ کروڑوں ووٹ لینے والا نریندر مودی ہو، فلسطینیوں کا قاتل نتن یاہو یا افغانستان اور عراق پر حملہ کرنے والے جنگی مجرمان جارج بش اور ٹونی بلیر۔ سو، کوئی اگر راجہ داہر، محمد بن قاسم یا ارطغرل میں سے کسی کو بھی ہیرو سمجھنا چاہتا ہے تو شوق سے سمجھے، مگر اس کے لیے مقامی غیر مقامی یا مذہبی غیر مذہبی کی دلیل نہ دے، پشاور کے چرسی تکے اور لاہور کی دیسی مرغ کڑاہی کو علاقوں کی بنیاد پر پسند کیا جا سکتا ہے مگر ہیرو مذہب، علاقے یا تعصب کی بنیاد پر نہیں بنائے جا سکتے!

کالم کی دم :پاکستانیوں کو مبارک ہو۔ کم ازکم تاریخ کے مطالعے کا مسئلہ تو حل ہوا۔ کتابوں سے تو پہلے ہی ہمیں خدا واسطے کا بیر تھا رہی سہی کسر ڈرامہ ’ارطغرل‘ نے پوری کر دی۔ اسلامی تاریخ جاننے کے لیے اب ہمیں کسی مستند تاریخی کتاب کی ضرورت نہیں بس ٹی وی لگائیں اور ارطغرل دیکھنا شروع کر دیں۔ یہاں میں ایک اعتراف کرلوں کہ اب تک خاکسار نے اس ڈرامے کی ایک بھی قسط نہیں دیکھی، خدا بڑا غفور الرحیم ہے وہ میرا یہ گناہ معاف فرمائے گا۔
”ہم سب“ کے لیے خصوصی طور پر ارسال کردہ تحریر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 90 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *