میرے لاڈلے بلے کی کہانی میری زبانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں مڈل کلاس گھرانوں میں گھر پر پالتو جانور رکھنا ایک ٹیبو ہے۔ بالخصوص کتے یا بلی کو رکھنا تو بالکل قابل قبول نہیں کہ اس حوالے سے خود ساختہ مذہبی توجیہات اور دیگر توہمات کی بھرمار ہے۔ زیادہ سے زیادہ طوطے رکھ لیتا ہے کوئی۔ ہمارے گھر میں بھی کوئی دس سال سے ایک طوطا موجود ہے جو ہمارا چھٹا فیملی ممبر ہے۔ ہم اسی طوطے کو بطور پالتو جانور رکھ کر خوش تھے۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ کبھی کوئی اور پالتو جانور ہمارے گھر یا دل میں جگہ بنا سکتا ہے مگر قدرت کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں۔ اس نے ہمیں ایک سرپرائز دینے کا فیصلہ کر لیا۔

کوئی دو سال پہلے موسم گرما کی ایک روز صبح میں اٹھ کر کچن میں گئی تو وہاں سلیب کے نیچے بلی کے چار ننھے ننھے بچے آنکھیں موندے پڑے تھے، انہیں دیکھ کر حیران ہو رہی تھی کہ بھائی نے بتایا کہ رات کو بلی ان کو یہاں لائی ہے۔ چاروں بچے بہت خوبصورت تھے۔ ہم سب ان کو دیکھ کر خوش تھے کہ یہ ہمارے ننھے مہمان تھے۔

تھوڑی دیر بعد ان کی ماں آ گئی اور انہیں دودھ پلانے لگی۔ ہم ان بن بلائے مہمانوں کی آمد سے حیران و پریشان تو تھے مگر کسی نے ان سے پیچھا چھڑانے کی بات نہیں کی کہ ہم میں انسانیت باقی تھی۔

خیر اس دن کے بعد سے بلی اور اس کے چار ننھے بچوں نے مستقلا ہمارے گھر پر ہی ڈیرہ ڈال لیا۔ پہلے کچن میں رہے، پھر کمرے میں، پھر برآمدے میں۔ شروع میں ہم انہیں دودھ دے دیتے بعد میں گوشت منگوا کر دینے لگے۔ چاروں بچوں نے آنکھیں ہمارے گھر کھولیں، چلنا، بھاگنا دوڑنا ہمارے گھر سیکھا۔ چاروں بچے اب تین سے چار ماہ کے ہو گئے تھے مگر بے حد معصوم تھے۔ گھر سے باہر کبھی نہ جاتے۔ بلی اب انہیں اکثر چھت پر دھوپ میں لے جاتی کہ سردیاں شروع تھیں اور یہیں سے ان کی بدقسمتی شروع ہوئی۔

جانے کیا ہوا ایک دن ایک بچہ بیمار ہوگیا، دن کو پہلے نڈھال ہوا پھر رات کو اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی اور مر گیا، اگلے دن دوسرے بچے کے ساتھ بھی یہی ہوا، اسے ویٹرنری ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے مگر ڈاکٹر کی جگہ اس کا کمپاونڈر ملا جس نے غلط دوا دے دی، اور دوسرا بچہ مر گیا، تیسرے دن تیسرا بچہ مر گیا، ایک دن چھوڑ کر پانچویں دن یہ نڈھال نظر آیا تو اسے بھائی ڈاکٹر کے پاس لے گیا اور تب اصلی ڈاکٹر مل گیا جس نے اسے انجیکشن لگا کر دوا دی اور یہ بچ گیا۔ شاید اس کی قسمت اچھی تھی۔ اس کی ماں اور ہم اس کے بچنے پر بہت خوش ہوئے۔ بچ جانے والے بچے کا رنگ سفید اور براؤن تھا۔

تب سے یہ ہمارا لاڈلا بن گیا۔ اس کے کھانے پینے کا خیال ہم سب رکھتے۔ سب سے زیادہ میں اس سے اور یہ مجھ سے مانوس ہوا۔ روزانہ گھنٹوں میری گود میں بیٹھا رہتا، مجھ سے کھانے پینے کی فرمائشیں کرتا، مجھ سے توجہ مانگتا، پیار کرواتا۔ پچھلے سال تک تو سوتا بھی میرے ہی بستر پر میرے پاس تھا۔ اب یہ بڑا ہو گیا تھا مگر عادتیں اس کی بچوں والی تھیں۔ اس کی ماں آتی تو اس کے ساتھ کھیلتا رہتا۔ اس کی ماں ایک دن گئی تو لوٹ کر نہ آئی جس کے بعد یہ کئی دن تک اداس رہا۔ تفتیش پر پتا چلا کہ اس کی ماں نے ہمسائیوں کے گھر بچے دیے تھے اور ہمسائے اس بلی کو اس کے بچوں سمیت دور اپنے جانوروں کے ڈیرے پر چھوڑ آئے اور اس طرح میرے بلے کی ماں اس سے بچھڑ گئی۔ بلا کچھ دن اداس رہا پھر جلد سنبھل گیا کہ اب ہم اس سے زیادہ پیار کرتے اور وہ ہمارے گھر کا ساتواں فیملی ممبر بن چکا تھا۔

میری امی جن کو بلیاں پسند نہیں بھی بلے سے بہت پیار کرتی اور اس کا خیال رکھتی ہیں۔ میں باہر سے گھر آؤں تو یہ فوراً میرے پاس آتا اور پیار کرواتا ہے۔

اس کے ساتھ تصاویر بنوانا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے کہ یہ ہمارا سپر ماڈل ہے اور سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر دلچسپ کیپشن کے ساتھ پوسٹ کرنا میری عادت ہے جس پر مجھے اکثر مذاق کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے کہ یہ بندی تو پاگل ہے جو ایک بلے کو اتنی اہمیت دیتی ہے۔

بڑا ہونے پر بلے نے آوارہ گردی کرنی شروع کر دی۔ اوراس کی ازلی معصومیت اڑن چھو ہوگئی۔ پہلے سارا دن گھر پر رہنے والا اب بس کھانے پینے اور منہ دکھائی کے لیے ہی گھر آتا ہے۔ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر آتا ہے کھاتا پیتا ہے اور یہ جا وہ جا۔ اس کو زبردستی گھر بٹھانے کی کوشش کریں تو رونا دھونا مچا دیتا ہے کہ جیسے اس پر کسی نے ظلم عظیم کر دیا ہو۔

جب خود دل کرتا ہے تو چند دن بعد ہمارے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے کہ لو آ گیا میں تمہارے پاس، تم کو وقت دے رہا ہوں اب۔ کر لو مجھے پیار۔

ایک بار گھر سے باہر گیا تو تین تک واپس نہ آیا، میں بہت پریشان رہی کہ کہیں کسی حادثے کا شکار نہ ہو گیا ہو پر شکر ہے واپس لوٹ آیا۔ دروازہ بند ہو تو ایک پاؤں سے انسانوں کی طرح دروازے پر دستک دیتا ہے۔ دستک کی آواز سن کر لگتا یونہی ہے جیسے کوئی انسان دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو۔

ہمارا گھر ہی اس کا گھر ہے۔ یہ جہاں بھی جائے لوٹ کر اپنے گھر اپنوں کے پاس ہی واپس آتا ہے۔ اس نے کبھی گھرمیں گندگی نہیں پھیلائی۔ کسی کھانے پینے کی چیز کو نہیں چھیڑتا کچھ کھانا ہو تو ہم سے مانگتا ہے۔

بھلے سے اب یہ گھر کم ٹکتا ہے مگر ہمارے لیے اس کی محبت ابھی بھی وہی ہے۔ یہ اب بھی ہمارا فیملی ممبر ہے۔ اب دو سال کا ہو گیا ہے مگر ہمارے لیے تو بچہ ہی لے۔ بہت سیانا اور سمجھدار ہے۔ اس نے ہمیں سکھایا کہ جانور بھی محسوسات، جذبات و سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ یہ ظاہر و باطن سے ایک جیسا ہے۔ دھوکا نہیں دیتا۔

یہ ہمارا ہے اور ہم اس کے۔ مجھے موقع ملا تو ایسے اور پالتو جانور بھی گھر میں رکھوں گی اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کا مشورہ دوں گی کہ یہ بہترین پالتو جانور ثابت ہوتے ہیں اور یہ ہماری محبت اور توجہ کے حقدار بے ضرر سے جانور ہیں۔ یہ خدا کی تخلیق ہیں اور سراپا محبت۔ پس آپ بھی گھر پر بلی یا بلا رکھیں تب جانیں گے کہ یہ آپ کو کیسے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بس آزمائش شرط ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فروا رحمان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *