ہیرو کی تلاش میں بھٹکنے والی قوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہیرو وہ ہوتا ہے جو ودیعت کی گئی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ذات سے بالاتر ہو کر مخلوق خدا کی فلاح کے لیے کوئی ایسا کار خیر سرانجام دے جس سے بنی نوع انسان فیض یاب ہوں ورنہ عام انسان تو صرف اپنے لیے خوشیاں تلاش کرتے زندگی کی شام کر دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں پچھلے دنوں ایک فضول بحث کا آغاز ہوا کہ ہمارا ہیرو راجہ داہر ہے یا محمد بن قاسم؟ راجہ داہر کے بارے میں یہ جان لیجیے کہ وہ ایک عامیانہ حاکم سے بھی بہت آگے کی چیز تھا جس نے اپنے اقتدار کے دوام کی خاطر نجومیوں کے کہنے پر اپنی ہی بہن سے شادی رچا لی۔ باقی رہے محمد بن قاسم تو ان کو تو اپنے ہی بھیجنے والوں نے ایک مہرے سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ چہ جائیکہ ہم آج تیرہ سو سال بعد یہ بحث کر رہے ہیں کہ ان دونوں میں ہمارا ہیرو کون تھا۔

برصغیر کے لوگوں کا ایک عام مزاج ہے شخصیت پرستی جس کی تسکین کے لیے کبھی ہم کسی مذہبی پیشوا کے مزار پر دھمال ڈال رہے ہوتے ہیں تو کبھی کسی سیاست دان کے جلسے میں آوے ہی آوے کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں۔ ہم نے بحیثیت مجموعی کبھی بھی اس ذہنی پراگندگی سے باہر آنے کی شعوری کوشش نہیں کی کہ کون اصلی ہیرو ہے اور کون سا ہیرو تراشیدہ ہے۔ کاش کسی روز ہم اس خود فریبی سے باہر آ جائیں اور یہ سوچنے کی زحمت کر لیں کہ انہوں نے ایسا کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ ہم ان کے لیے اتنے اتاولے ہو رہے ہیں۔ اس سے تو بہتر ہے کہ ہم جاوید میانداد کا شارجہ والا چھکا یاد کر کے خوش ہو لیں کہ کم از کم اس کھلاڑی نے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی پوری قوم کو تفاخر بھری خوشی عطا کر دی۔ یا پھر عبدالستار ایدھی کے لیے دعائے مغفرت کر لیں، کچھ تو ہیروز کا بھرم رہنے دیں۔

ہماری نصابی کتابوں میں ہمیں پڑھایا گیا کہ ایک تھے مغل بادشاہ جو اتنے نیک سیرت تھے کہ اپنی گزر بسر کے لیے قرآن پاک کی کتابت کرتے اور نماز کے دوران پہنے جانے والی ٹوپیاں سیتے تھے۔ جب ذرا تھوڑی بہت تاریخ سے آشنائی ہوئی تو جان کر حیران رہ گئے کہ یہ وہی نیک حضرت ہیں جنہیں اپنے اقتدار کے لیے باپ کو قید اور بھائیوں کی گردنیں اڑانیں پڑیں۔ ہمارا تو تب سے ان ہیروز سے ایمان اٹھ چکا۔

اب ذرا ایک نظر ماضی قریب اور موجودہ ہیروز کی عنایات کی طرف جن کے ہم سلطانی گواہ ہیں۔ کوئی روٹی کپڑا اور مکان کا خوش کن نعرہ دے گیا اور کوئی نوے دن کے لیے آیا اور گیارہ سال لے گیا، پھر آنیاں اور جانیاں ٹھہریں، کچھ عرصے کے لیے ہم ماڈرن ٹھہرے، پھر پانچ پانچ سال کی چھپن چھپائی، اور آج کل پھر آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے انصاف اور احتساب کی بتی کے پیچھے بھاگم بھاگ بے منزل چلے جا رہے ہیں۔ ذرا غور کیجیے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں ہمارے ہیروز ہمارے ساتھ یہ التفات رکھتے ہیں تو ماضی کے ہیروز اپنی رعایا کے ساتھ کیا سلوک کرتے رہے ہوں گے۔

ہمیں کوئی ان ہیروز سے بچائے جنہوں نے ہمیں ننگ دھڑنگ، ان پڑھ، بے وقعت، بے توقیر کر کے رکھ دیا۔ ہمیں تو حسرت ہی رہی کہ جیتے جی کسی اصلی ہیرو کا دیدار نصیب ہو جائے۔ اگر کوئی آپ کی نظر سے گزرا ہو تو بتائیے گا ضرور، مجھے انتظار رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رقیہ بانو آصف کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *