پاکستان اور ارطغرل غازی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارطغرل غازی سے ہمارا واسطہ کیا ہے؟ ہم پاکستانی یہ ڈرامہ کیوں دیکھیں؟

آئیے پہلے واسطہ سمجھیے۔ پاکستان کا خواب دیکھنے والے شاعر مشرق ”ڈاکٹر علامہ محمد اقبال“ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے غم اور ارطغرل غازی بارے کیا لکھتے ہیں

اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

”مولانا محمد علی جوہر“ تحریک آزادی ہند و بانی پاکستان کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ انہوں نے عثمانیہ سلطنت کے حق میں تحریک خلافت چلائی جس میں اس خطہ کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں نے اپنے زیور تک ترک عثمانیوں کی مدد کے لئے قربان کیے۔ 1919 ء میں اس سرزمین سے طبی قافلہ بھی ترک مدد کے لیے پہنچا۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمان ترک خلیفہ کو اپنا خلیفہ مانتے تھے۔ یہ سب ہماری ہی تاریخ کا حصہ ہے۔

تعلق کی سب سے بڑی وجہ جانیے۔ ”حضرت محمد ﷺ“ کی حدیث مبارک ملاحظہ فرمائیے

”یقیناً تم قسطنطنیہ فتح کر لو گے۔ کیا بہترین امیر ہوگا قسطنطنیہ کو فتح کرنے والا۔ اور کیا خوبصورت لشکر ہوگا جو قسطنطنیہ کو فتح کرے گا“

قسطنطنیہ آج کے ترکی کا استنبول ہے اور حدیث مبارک کی یہ فتح کی بشارت خلافت عثمانیہ کے نصیب میں آئی۔

مزید براں ہمارے اسلامی ہیروز مشترکہ ہی ہیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کوئی برصغیر کا باشندہ نہیں تھا مگر آج بھی پاکستان کے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا ہیرو ہے کیوں کہ اسلامی اقدار اور روایات بھی یکساں ہیں۔

پاکستانی یہ ڈرامہ کیوں دیکھیں؟

آئیے اب اس نقطہ پہ آتے ہیں۔ ڈیجیٹل زمانہ میں یہ ارطغرل غازی ڈرامہ دراصل اسلامی ریاستوں کے خلاف چلنے والی طویل ذہنی سازش پر ایک کاری ضرب ہے۔ گزشتہ جملہ محض مذہبی عقیدت میں نہیں لکھا بلکہ آپ کے سامنے عیاں ہے کہ آج بھی اسلام کے بنیادی رکن ”جہاد“ کے خلاف مسلمان نسل نو کی ذہن سازی کا پروپیگنڈا جار ی ہے۔ آج ہمارے ملک پاکستان میں ایسے کئی مذہبی سکالرز میڈیا پر نظر آتے ہیں جن کو جہاد کے نام سے ہی الجھن ہوتی ہے۔

روشن خیال اور معتدل اسلام جیسی اصطلاحات ہمارے اذہان میں بٹھائی جا رہی ہیں تاکہ جنگجو بہادر سپاہ سالاران کو ہم غیر مہذب اور ظالم گردانیں۔ محمد بن قاسم کو قاتل ڈاکو اور راجہ داہر کو ہیرو سمجھیں۔ وطن کا دفاع کرنے والے پشتون ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کو دہشت گرد اور پاکستان میں غدار وطن پشتونوں کو مظلومیت کی تصویر سمجھیں۔

یہاں قوم پرست جماعتیں بھی ہمارے نظریاتی دشمنوں کا آلہ کار بنیں۔ ضمیر فروشی کے عوض ملنے والی امداد نے ایسی محنت جمائی کے آج ہمیں سلطنت پاکستان میں ہی وجود پاکستان سے نفرت کرنے والے نادان قوم پرست ایک کثیر تعداد میں نظر آتے ہیں اور دوسری طرف پاکستان توڑنے والے سیاسی لیڈرز کے جیالوں اور مداحوں کی بھی کمی نہی۔

عقائد، نظریات اور سوچ کی حفاظت بہت ضروری ہے کیوں کہ اس کی کمزوری کے بہت بھیانک نتائج نکلتے ہیں۔ قادیانیت کے وجود کا مقصد بھی اسلامی نظریہ جہاد کو کمزور کرنا تھا جس کا شکار بن کر نہ جانے کتنے مسلمان اپنا ایمان گنواء بیٹھے۔ تاریخ و عقائد کو الجھا کر ہی امت مسلمہ کو شیعہ سنی طبقہ میں توڑا گیا۔ روشن خیال سپاہ سالار کے فلسفہ جہاد کی کمزوری نے ہمیں افغان جنگ میں دھکیلا اور اور تحفہ میں ایٹمی قوت کو موت بانٹنے والی دہشت گردی دی۔

المختصر آج ہمارے کمزور عقیدے، پست نظریے اور شکست خوردہ سوچ کو جلا بخشنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ پڑھنا آج مشکل جب کہ میڈیا پہ دیکھنا زیادہ آسان اور دلچسپ ہو چکا ہے۔

ارطغرل غازی ڈرامہ مسلمانوں کے تابناک ماضی کی ایک جھلک ہے۔ قرآن و احادیث کے حوالے، نبئی اقدس ﷺ کی مبارک زندگی کے واقعات، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بہادری، صبر انبیاء کے قصے، اولیاء کے ایمان افروز جملے بڑے فخر سے سننے کو ملتے ہیں اس ڈرامہ میں۔ اس ٹی وی سیریز کے گرافکس تو ہالی ووڈ سے کم معیاری ہو سکتے ہیں لیکن اس کے ڈائیلاگز سنہری حروف سے کم نہیں۔

فوری ثمرات میں اسلام آباد میں ایک تندور پہ ”نیکی کی ٹوکری“ اور یو ٹیوب پر پر اسلامی تہذیب کے حامل ڈرامہ کے ویوئر کی تعداد ملاحظہ کیجیے۔

اللہ رب العزت نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد سلمان نیازی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply