نیویارک میں کورونا رات کو سوتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل کرونا کی وبا کے دنوں میں جب مجھ سمیت سبھی اپنے آپ کو گھروں میں قید کیے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں، میں رات دیر گئے سیر کے لیے باہر نکلتا ہوں۔ اس گمان کے ساتھ کہ کرونا تو دن کے وقت ہوتا ہے۔ رات کو تو وہ آرام کرتا ہے اور خوب نیند پوری کرتا ہے۔ اس لیے رات کو مجھے کچھ نہیں کہے گا۔

نیویارک میں آج کل رات کے وقت ہوا میں قدرے خنکی ہوتی ہے۔ روز موسم تھوڑا بہت تبدیل ہوا ملتا ہے۔ کبھی ہلکی اور کبھی تیز ہوا چلتی ہے۔ ہفتے میں اوسطاً دو تین دن بارش تو ضرور ہوتی ہے۔ کبھی تیز اور کبھی پھوار نما۔ ہلکی ٹھنڈ کے ساتھ بہار کا موسم ابھی گیا نہیں اور موسم گرما ابھی دور ہے۔ موسم بدستور ایسا ہے کہ رات تو کیا دن کے وقت بھی کمبل کے بغیر سویا نہیں جا سکتا۔

آج رات بھی حسب معمول سیر کے لیے نکلا تو دور دور تک سڑکیں ویران ہی نظر آئیں۔ فضائی آلودگی سے پاک صاف نیلگوں آسمان شفاف اور کہیں کہیں سے دلکش سفید بادلوں سے ڈھکا ہوا نظر آ رہا تھا۔ ایسے میں پورا چاند آسمان پر چمک رہا تھا۔ کبھی وہ سفید بادلوں میں چھپ جاتا اور کبھی بادل اس کو چاروں طرف سے گھیر لیتے۔ کتنی ہی دیر ساکت کھڑا میں دلفریب چاند اور بادلوں کے درمیان جاری آنکھ مچولی میں کھویا رہا۔ ماحول میں رچی سوگواری کے باوجود ایک عجیب طرح کی ٹھنڈی میٹھی اور سحر انگیز خوشگواریت محسوس ہو رہی تھی۔ چند دلکش مناظر فون کے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیے۔

ایسے رومان پرور ماحول میں کتنی ہی پرانی فلموں کے وہ گانے یاد آئے جو چاند، چاندنی راتوں، ہوا اور بادلوں کے متعلق لکھے اور فلموں میں فلمائے گئے تھے۔ جیسے خصوصاً اپنے وقت کے یہ سپرہٹ گانے۔

”چاند تکے چھپ چھپ کے اونچی کھجور سے
ملنے کو آئی تھی، میں تو حضور سے
رات ہے یہ اجلی تو موسم دھلا سا
مہکی ہوا میں ہے دامن کھلا سا
چاند تکے چھپ چھپ کے اونچی کھجور سے ”۔

1957 ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”عشق لیلیٰ“ میں صفدر حسین کی موسیقی میں زبیدہ خانم اور سلیم رضا کی آواز میں مدہوش کر دینے والا یہ گانا صبیحہ خانم اور سنتوش پر فلمایا گیا تھا۔ فلم میں لاجواب پرفارمنس دینے والے اس مثالی جوڑے کی غالباً اس فلم کے بعد شادی ہو گئی تھی۔ سیر سے واپس آ کر رمضان کے باوجود یہ مدھر گانا ایک بار پھر سنا تو دل شاد ہو گیا۔ اور پھر یہ گانا

”یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی
تیری اک ادا پہ نثار ہے
مجھے کیوں نہ ہو تیری آرزو
تیری جستجو میں بہار ہے ”۔

1952 ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”سنگدل“ کے لیے طلعت محمود کے گائے ہوئے اس شہرہ آفاق گانے کو دلیپ کمار اور مدھو بالا پر فلمایا گیا تھا۔ راجندر کرشن کے لکھے اس گانے کی موسیقی سجاد حسین نے ترتیب دی تھی۔ ان دونوں گانوں کی شاعری میں بھی اور انہیں فلمائے جانے کے پس منظر میں بھی رات، چاند، ہوا، چاندنی اور بہتے پانی کے دلکش مناظر دکھائے گئے تھے۔ اتنے سال گزر جانے کے باوجود بھی ان جیسے گانوں کے متبادل تیار نہیں کیے جا سکے۔

امریکہ میں سال ہا سال سے رہتے ہوئے ایسا دلکش نظارہ اور رات کا ماحول آج پہلی بار دیکھا اور اسے خوب محسوس کیا۔ ورنہ ایسے لمحات میں تو راتیں اکثر سو کر ہی گزرتی ہیں۔ کورونا تیرا شکریہ کہ تو نے لوگوں کو دوبارہ نیچر سے قریب کر دیا ہے

نیویارک شہر جس کے متعلق مشہور ہے کہ ”نیویارک کبھی نہیں سوتا“ آج کل کرونا کی وبا کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی سویا سویا محسوس ہو رہا ہے۔ نیویارک کیا، پوری دنیا اب بدل گئی ہے۔ لوگوں کی اکثریت کے رویؤں میں چڑچڑا پن، اکتاہٹ، نفسیاتی و ذہنی اور طرح طرح کے سماجی مسائل جنم لے چکے ہیں۔ عوام کی اکثریت میں غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے تلخیاں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ ہر گھر کی کہانی کم و بیش ایک ہی طرح کی ہے۔

چاند اب عمارتوں اور درختوں کے پیچھے چھپ چکا تھا۔ قریبی گراؤنڈ میں متعدد چکر لگانے کے بعد واپس آتے ہوئے محسوس ہوا کہ ماحول میں بدستور گہرا سکوت اور افسردگی طاری ہے۔ کبھی کبھار کوئی گاڑی سڑک سے گزرتی تو زندگی کا احساس دلا جاتی۔ ایک دو بلیاں بھی اپنی چمکتی آنکھوں کے ساتھ ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتی اور چنگھاڑتی ہوئی دکھائی دیں۔

اس ماحول میں زیادہ تر گھر تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اکا دوکا گھروں کی لائٹیں جل رہی تھیں۔ ایک آدھ گھر میں ٹی وی آن ہونے کی وجہ سے ان کی رنگ برنگی روشنیاں کھڑکیوں کے شیشوں پر قوس و قزح رنگ بکھیرتی نظر آئیں۔

اس سے پہلے سائیڈ واک پر چلتے ہوئے دھیان بار بار چاند اور بادلوں کی جانب جا نکلتا۔ جہاں کا ہر بدلتا منظر قابل دید تھا۔ کم و بیش چالیس منٹ کی واک کے دوران فطرت کے حسین نظاروں میں مگن رہنے کی وجہ سے ایک لمحے کے لیے بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ کرونا نامی کوئی شے بھی ہے۔ جس نے نیو یارک سمیت پوری دنیا کی دوڑیں لگا رکھی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply