قومی مالیاتی کمیشن میں صوبوں کو حاصل مالی وسائل میں کمی کی کوشش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان چار یونٹس پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے، یہ چار یونٹس سندھ، پنجاب، خیبر پختون خوا (کے پی کے) اور بلوچستان ہیں، جب کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر براہ راست وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ کا قیام 1951 میں عمل میں لایا گیا اور پھر 1973 کے متفقہ پاکستانی آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت معاشی پروگرام کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا۔ آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق صدر مملکت پر لازم ہے کہ ہر پانچ سال گزرنے پر اگلے پانچ سال کی مدت کے لئے اگلے نئے این ایف سی کی تشکیل دے تاکہ تمام وفاقی یونٹس کی متفقہ رائے سے ایوارڈ منظور کیا جائے اور اگلے پانچ سالوں کے لئے نافذ کر دیا جائے۔

اس ایوارڈ کا قیام وفاق اور صوبوں میں مالی عدم توازن کو کنٹرول کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا تاکہ چاروں صوبوں میں مالی وسائل کا یکساں انتظام کیا جا سکے، تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد اس پروگرام کی تجدید لازم ہے۔

این ایف سی ایوارڈ (نیشنل فنانس کمیشن) کے ذریعے مالی وسائل کی تقسیم وفاقی حکومت کے جمع کردہ ٹیکسوں جس میں کارپوریٹ ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایکسپورٹ ڈیوٹی وغیرہ سمیت آمدنی پر ٹیکس شامل ہیں کو تمام وفاقی اکائیوں کے مابین تقسیم کیا جاتا ہے۔

اس وقت جمع شدہ رقوم میں سے وفاقی حکومت کو 5۔ 42 فیصد جبکہ صوبوں میں 5۔ 57 فیصد تقسیم ہوتا ہے۔ صوبوں کے درمیان مالی اعانت کی تقسیم، 2010 تک آبادی پر مبنی تھی جس کے حساب سے 5۔ 57 فیصد وسائل میں سے بڑا حصہ صوبہ پنجاب نے وصول کیا۔

ساتویں این ایف سی ایوارڈ 2010 تک چھوٹے صوبوں طویل عرصے سے قائم زیادہ آبادی کے باعث بڑا حصہ وصول کرنے پر اپنی تشویش کا زور شور سے اظہار کرتے رہتے اور آبادی پر مبنی معیار میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔

تبدیلی کے مطالبے پر صوبوں کے مابین مالی وسائل کی تقسیم کے لئے نسبتاً ایک بہتر فارمولا پیش کیا گیا، جس کے حساب سے آبادی کا وزن 82 فیصد، غربت اور پسماندگی کو 10.3 فیصد، محصولات کی وصولی کو 5 فیصد اور آبادی کی کثافت 2.7 فیصد کا وزن دیا گیا۔ اس نئے فارمولے کے تحت ساتویں ایوارڈ کا اعلان مئی 2010 میں صوبوں کی اتفاق رائے ہوا جس میں اہم ترین بات پنجاب کا اپنے حصے میں سے 5.62 فیصد چھوٹے صوبوں کے حوالے کرنے تھا۔ اس نئے فارمولے کے تحت، تقریباً 51.74 فیصد پنجاب کے حصے میں 55۔ 24 فیصد سندھ؛ 14.62 فیصد خیبر پختون خواہ؛ اور صوبہ بلوچستان کے لئے 09۔ 9 فیصد مختص کیا جا چکا ہے۔

قومی مالیاتی کمیشن کی بابت اس مختصر جائزے کے ساتھ یہ بات جاننا ضروری ہے کہ سال 1951 میں اس مالیاتی کمیشن کی بنیاد رکھ دی گئی لیکن اس پر من و عن عملدرآمد کے نہ ہونے سمیت سست روی اور ریاست کے غیرمنصفانہ طرزعمل نے رفتہ رفتہ ملک کے مشرقی بازو میں محرومی اور اجنبیت کو فروغ دیا، حتی کہ 1971 تک بیس برس کے قلیل عرصے میں حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا، مطلق العنان پالیسی سازوں کے ون یونٹ اور غیرمنصفانہ مالیاتی نظام کو ملک پر زبردستی تھوپنے کی وجہ نے مشرقی پاکستان میں آزادی کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچا دیا۔

اس اندوہناک سانحے اور ون یونٹ جیسے غیرفطری نظام کے خاتمے کے باوجود ملک کے مالی وسائل کے بارے میں منصفانہ اور تمام اکائیوں کے لیے قابل قبول فارمولے تک پہنچنے میں نہ صرف بے حد سست روی اختیار کی جاتی رہی بلکہ ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود آج تک صوبوں اور وفاق کے درمیان انتہائی حساس نوعیت کے مالی معاملات طے ہونا باقی ہیں، جن میں صوبوں کا خودمختاری میں اضافے کا مطالبہ درحقیقت وسائل میں اپنے اپنے حصے میں اضافے سے براہء راست جڑا ہے۔

سال 2008 تک کا طویل صبر آزما سفر طے کرنے کے بعد آئین میں جس 18 ویں ترمیم کو متفقہ طور پر متعارف کروایا گیا اس کا اہم ترین ستون نیشنل فنانس کمیشن اور اس سے متعلق تشریح ہے، حقیقت یہ ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں، مالیاتی کمیشن کے متفقہ نکات میں وفاق کی موافقت میں تبدیلی کی جاری کوشش صوبوں میں ایک مرتبہ پھر احساس محرومی کو ابھارنے کا سبب بنے گی۔ خیال رہے کہ وفاقی اکائیوں کے لیے مختص کیے جانے والے وسائل پر ہر پانچ برس بعد نظرثانی کیے جانے کا اصول پہلے سے طے ہے جس پر نظر ثانی کو لگ بھگ دس برس گزر چکے ہیں، یہ نظرثانی وفاقی اکائیوں کے حصے میں اضافے کی مجاز ہے جبکہ اس میں کمی کا کسی کو کوئی اختیار نہیں۔

اس کے باوجود، حالیہ برسوں میں ان طے شدہ اصولوں کے بارے میں چند حلقوں کی جانب وفاق کی موافقت اور صوبوں کے اختیارات پر بے اطمینانی کا اظہار شروع کیا گیا، اس بے اطمینانی نے ملک کی ترقی پر سودا کرتے ہوئے دلجمعی سے کام کرتی ہوئی ایک ایسی منتخب جمہوری حکومت کی بساط لپیٹنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا جو پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کی نظر میں ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے طور پر کامیابی سے پیش کر رہی تھیں جس کی کامیابی سے اتنے وسائل پیدا ہو چکے ہوتے کہ آج کی جانے والی مزید وسائل کی فرمائش صوبوں کا حصہ چھیڑے بغیر پوری کی جا سکتیں لیکن اقدامات اس کے برعکس ہونے اور رسہ کشی پیدا کر کے ایک غیر مقبول حکومت کو ہی مسلط نہیں کیا، بلکہ مسلط کی جانے والی حکومت اور پالیسی ساز دونوں اس بنیادی بات کو فراموش کیے رہے۔

18 ویں ترمیم کے بعد وفاق کے پاس موجود شعبوں جن میں واپڈا، پی آئی اے، پاکستان ریلویز اور پاکستان اسٹیل ملز جیسے دیو ہیکل شعبوں کی کارکردگی کو بہتر بنا کر منافع بخش بنانے پر توجہ مرکوز کریں تاکہ صوبوں کے وسائل پر آنکھیں نہ گاڑنی پڑیں یا پھر ان شعبوں کو تیزرفتاری سے نجی شعبے کے حوالے کرنے پر کام کیا جائے جو یقیناً وفاق کے لیے ٹیکسوں کی صورت میں آمدنی بڑھانے کا بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ سابق حکومت کے نیشنل گرڈ میں 11000 میگاواٹ بجلی شامل کرنے سے لوڈ شیڈنگ میں خاطر خواہ کمی ضرور واقع ہوئی لیکن موجودہ حکومت مالیاتی طور پر نہ واپڈا کے نقصانات کم کر سکی نہ ہی صارفین کے بلنگ شعبے میں بہتری لا سکی، یہی صورت پی آئی اے، اسٹیل ملز اور ریلویز کی ہے۔

این ایف سی ایوارڈ سے ایک بڑی شکایت دفاعی اخراجات کے لیے رقم کی کمی بتائی جارہی ہے، جبکہ ملکی وسائل کا سب سے بڑا حصہ ملک کے دفاعی شعبے پر خرچ کیا جا رہا ہے، دفاع کے لیے رقم کی مانگ میں ٹھہراؤ پیدا کرنے کے لیے اصولی اور بنیادی طور پر ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جن سے سرحدوں کے اس پار دوستانہ مراسم قائم ہو سکیں جو نہ صرف وفاقی اخراجات میں کمی کا باعث ہوسکتے ہیں بلکہ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ سے ملک کی مجموعی مالیاتی صورتحال مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی، روزگار میں روز افزوں اضافہ اور عام شہری کا معیار زندگی بلند ہو سکے گا، مثبت حکمت عملی دفاعی اخراجات کے بوجھ کو کم نہ کرسکے پھر بھی اضافے کو روک سکتی ہے اور ملکی وسائل کا جائز اور ضروری حصہ صحت اور تعلیم کے شعبوں پر خرچ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے وافر معدنیاتی وسائل اور زرعی پیداوار کے باوجود غریب ممالک کی فہرست میں آتا ہے، ناقص حکمت عملی کے نتیجے میں قومی ترقی کی شرح 8۔ 5 فیصد سے گرتی ہوئی سال 2019۔ 2020 میں 2 فیصد تک پہنچ چکی تھی کہ کووڈ۔ 19 کی وبا نے بحران مزید سنگین بنا دیا، اس پر ملک کے ساتھ مزید ستم ظریفی حکومت کی معاشی ٹیم کا ناکارہ ہونا، یاد رہے کہ اس وبائی صورتحال نے دنیا کے امیر ترین ممالک کو جھنجھوڑ کے پھینک دیا ہے۔

کووڈ۔19 کے دور میں پاکستان جیسے غریب ملک کو اپنی تاریخ کی بدترین شرح ترقی کا سامنا ہے جو سال 2020۔ 2021 میں مثبت کے بجائے منفی 2 فیصد کی خطرناک شرح کو چھونے جا رہی ہے، عام شہری کے متعلق یہ حقیقت جاننا بھی انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کی فی کس آمدنی جو سال 2017۔ 2018 میں 1، 629 ڈالر فی کس تھی اور اس آمدنی میں اضافہ ریکارڈ ہو رہا تھا، پچھلے دو برسوں میں خراب معاشی منصوبہ بندی کی وجہ سے بجائے اضافہ حاصل کرنے کے کم ہوتی ہوئی 1260 ڈالر رہ گئی ہے جس میں مزید کمی آنا متوقع ہے۔

ان حالات میں زمینی حقائق سے منہ موڑنا دراصل ریت میں گردن چھپا لینے کے مترادف ہو گا جس سے خطرہ ٹلنے کے بجائے بڑھے گا۔ اس صورتحال میں دفاعی اخراجات خاطر خواہ کمی کا تقاضا کرتے ہیں بجائے اس کے کہ ان میں اضافہ کیا جائے، وقت پرزور مطالبہ کر رہا ہے کہ صوبوں پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کے بجائے عقل و دانشمندی سے مسلسل پھیلتے چلے جا رہے محکماتی معاملات کو Titanic بننے کے بجائے بوجھ اور حجم میں کمی لائی جائے، غریب قوم سے مزید کی فرمائش نہ کی جائے اور اگر کمی لانے کے امکانات بالکل نہ ہونے کی صورت میں ان اخراجات کو مزید پھیلنے سے روکنے کو یقینی بنایا جاسکے۔

ملک میں تیزی سے بڑھتی بیروزگاری، آبادی کا 35 فیصد غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہونا ہم سے بچے کھچے سرمائے کو بھی خطرے میں ڈال دینے سے روک رہا ہے، دفاعی اخراجات میں کمی کی حکمت عملی وفاق کے تمام یونٹس کا وفاق پر اعتماد مضبوط کرنے کا باعث ہو گی اور بیک وقت ملک کو خدانخواستہ 1971 جیسے کسی سانحے سے یقینی طور پر بچانے کا باعث بھی ہو گی اور ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی ضمانت بھی، ریاست کا ملک اور اس کے شہریوں کے لیے ماں کا مضبوط کردار جم کر سامنے آئے گا، ملک کی عوام ہی دراصل دفاع کا ہر اول دستہ ہے جس کے مورال اپنی فوج سے محبت کرنے میں اضافے اور ملک کے دفاع کو ناقابل شکست بنانے کے لیے کافی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *