جھولی پھیلانے کی جسارت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب حاکمِ وقت خود جھولی پھیلائے اپنی رعایا سے بھیک کی استمداد کر رہا ہو، تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ ایسے وقت میں رعایا کا چندہ مانگنے کی جسارت کرنا کہیں جرم قرار نہ پائے۔ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ میری قوم کے خدا ترس، نیک اور پارسا مخیر حضرات جب اس مشکل وقت میں ایثار، قربانی اور توکّل کے سب اسباق کو پس ِپشت ڈال کر حالات کی خرابی کا رونا روتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پس انداز کرنے میں مصروف ہوں۔ جب ایک وبا بہت سے نقاب اتاردے اور بہت سی بساطیں، مہرے، چالیں تک الٹ جائیں، تو ایسے میں چندے کی توقع کیوں کر کی جاسکتی ہے! اگر اس چندے کی ضرورت کسی کا گھر بسانے، سر ڈھانپنے یا دو وقت پیٹ بھرنے کے لئے ہوتی، میں شاید تب بھی نہ بولتا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ میں ”عالم بی بی ٹرسٹ“ کی اُن بچیوں سے مل چکا ہوں، جن کی عزت نفس بچانے کے لئے مجھے یہ ساری تمہید باندھنا پڑی ہے۔

لوگوں کی سخت نظروں کا مقابلہ کرتی ان کماﺅ بیٹیوں سے جھاڑو پونچھا چھڑواکر فرح دیبا نے ان کے ہاتھ میں قلم کاغذ تھما دیئے۔ اُن کے بہتر مستقبل کے لئے اُن کے گھر والوں کو منایا۔ ان معصوم کلیوں نے اس چھوٹی سی عمر میں اپنے اردگرد پھیلی بھوک، غربت اور استحصال کے خلاف جہاد کیا، محض فرح کے دکھائے ہوئے خوابوں کو پانے کے لئے۔ اپنے کل کو محفوظ کرنے کے لئے، اپنی کھوئی ہوئی عزتِ نفس کو حاصل کرنے کے لئے یہ بچیاں اپنے معاشرے کے بنائے ہوئے طبقاتی نظام سے بھی لڑ گئیں اور فرح نے اُنہیں صفائی کے لئے جانے والے گھروں سے نکال کر اسکول کی بنچ پر لا بٹھایا۔ آج اس بُرے وقت میں اگر قوم کی یہ بیٹیاں مایوس ہو گئیں، تو پھر ان کی اُن امیدوں، آسوں اور خوابوں کا کیا ہو گا، جو اُنہوں نے فرح اور آپ سب پر اعتماد کرتے ہوئے دیکھے تھے!

اُن کی غربت، تنگ دستی تو انہیں واپس لے جانے کے لئے بُری طرح کھینچ رہی ہے تاکہ یہ کسی مالکن، وڈیرے، چودھری، سردار، بزنس مین کے گھر کی باندی بن کر ساری زندگی اپنی ایڑیاں گھساتی رہیں۔ مگر ہوسکتا ہے کہ میں اور آپ ان کے لئے کچھ کرسکیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس عید پر فضول خرچی کی مد میں لگنے والے پیسے ان ننھی بیٹیوں کو اپنے خوابوں میں بھرنے کے لئے رنگ مہیا کرسکیں۔ اس بار اگر آپ کے لئے طوافِ کعبہ بند ہے، تو ہوسکتا ہے کہ اس رقم سے ”عالم بی بی ٹرسٹ “ کے اسکول کی عمارت میں اپنا حصہ ڈال کر آپ کی آنکھوں کو ویسی ہی ٹھنڈک مل جائے اور ان بچیوں کو خود اعتمادی سے پڑھنے کے لئے چھت مہیا کرکے شاید برابر کا ثواب بھی۔

اس ملک کا مطلق العنان خدا یہ سب دیکھ رہا ہے کہ ایک بچہ اپنے فائیو اسٹار ہوٹل نما اسکول کی ملٹی میڈیا کلاسز میں کیمبرج سلیبس پڑھ رہا ہے تو دوسرا کسی گوٹھ میں درخت کے نیچے چلنے والے موبائل اسکول میں، جو گرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ سائے کی صورت گردش کرتا رہتا ہے۔ ایک بچہ کسی مدرسے میں میسر آنے والی چٹائی، ٹاٹ یا دری پر رٹّے مارتے وقت گزار دیتا ہے تو دوسرے کو یہ ٹاٹ بھی میسر نہیں۔ وہ کہیں اپنے نازک ہاتھوں سے فٹ بال سیتا نظر آتا ہے تو کہیں بھٹے پہ اینٹیں ڈھونے والا مزدور بن جاتا ہے۔ کہیں چھوٹو گیری اُس کا مقدر بنتی ہے تو کہیں غباروں سے کھیلنے کی اس عمر میں وہ یہی غبارے بیچنے لگ جاتا ہے۔ تقدیر کا جبر اُس کی بے فکر ہنسی چھین لیتا ہے۔ مگر فرح دیبا کا نازک دل ان معصوموںکے ہاتھ سے کام کرنے والے اوزار لے کر اُنہیں بھی کاغذ اور قلم تھمانے کی ٹھان لیتا ہے تاکہ یہ بچے اپنی تقدیر خود لکھ سکیں۔ ان بچوں کی ٹھٹھرتی زندگیوں کو کھلکھلاتی سانسیں دینے کی لگن اُسے بے کل کئے دیتی ہے۔

فرح جب اپنے علاقے میںکام کرنے والی ماسیوں کو دیکھتی ہے کہ کس طرح وہ گھر گھر ٹھوکریں کھاکر دو وقت کی روٹی کے لئے اپنی عزتِ نفس مجروح کرڈالتی ہیں تو ان کی بچیوں کی فکر اُسے لاحق ہوجاتی ہے۔ پھر وہ معاشرے کے کمتر طبقے کی بیٹیوں کی عزت اور اُن کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے بھی نکل پڑتی ہے۔ اخلاقیات سے عاری سماج میں جہاں درندگی عمر اور صنف کی قید سے آزاد ہوکر معصومیت ہتھیانے پر تلی ہوئی ہے اور بچیاں نشے کے عادی اپنے لاپرواہ باپوں سے بھی محفوظ نہیں رہیں، ایسے میں فرح دیبا کی گود ایک درس گاہ سے کہیں بڑھ کر ان سب کے لئے پناہ گاہ بن گئی ہے۔ یہ ماسیاں جیسے ہی اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے اُنہیں گود سے اتار کر کام پر نکلتی ہیں تو فرح اُنہیں گود لے لیتی ہے اور اُن کی معیاری تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ کتابوں، یونیفارم اور پیٹ پوجا کی ذمہ داری بھی اپنے نازک کندھوں پر اٹھالیتی ہے۔ وہ ”عالم بی بی ٹرسٹ“ کی بانی ہی نہیں بلکہ ان سب بچوں بچیوں کی ماں بھی ہے۔ اُس نے ان بچوں کو اتنا اعتماد دے دیا ہے کہ اب وہ خود اپنے خوابوں میں رنگ بھرسکتے ہیں۔ یہی اُس کا مقصدِ حیات ہے اور اُس کی سب سے بڑی عیاشی بھی۔

وہ سب لوگ جو ملکِ عظیم کے بچوں بچیوں سے ہونے والی درندگی کے بڑھتے واقعات پر کفِ افسوس ملتے نظر آتے ہیں، ان معصوموں پر ہونے والی جنسی زیادتی، تشدد اور اس کے نتیجے میں ہونے والی موت پر آنسو بہاتے ہیں، اُنہیں چاہئے کہ وہ فرح دیبا کا بازو بنیں۔ جس نے اپنے حصے کی شمع جلاتے ہوئے سالوں سے ایک کرائے کے اسکول میں ان نادار بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داری اٹھارکھی ہے۔

”عالم بی بی ٹرسٹ“ کے زیر انتظام ان بچوں اور اُن کے والدین کو کھلائے جانے والے دوپہر کے کھانے کو دیکھ کر میں حیران تھا کہ وہ فرح جو اپنے لئے ایک روٹی نہیں مانگ سکتی، جس کی دھیمی آواز کو سننے کے لئے کان لگانا پڑتے ہیں، وہ سینکڑوں مزدوروں کو کھانا کیسے کھلارہی ہے؟ فرح واقعتاً ایک ماں ہے۔ جس نے لاک ڈاﺅن کے اس دور میں بھی اپنے ان بچوں کو تنہا نہیں چھوڑا اور اب بھی روزانہ دوپہر کا کھانا اُن کے گھروں میں برابر پہنچ رہا ہے۔ ”عالم بی بی ٹرسٹ“ کی اس ماں کے عظیم مقاصد کو کامیاب بنانے کے لئے کیوں نہ ہم اپنی آواز اس دھیمی آواز کے ساتھ ملالیں!

اس ملک میں جہاں ریاست تو بنیادی شہری حقوق دینے میں ناکام ہوچکی ہے، ہمیں اپنے ”فرد“کومضبوط بنانا ہوگا۔ اپنا اعتبار دے کر ’ایدھی‘ جیسے مسیحا پیدا کرنا ہوں گے، جنہوں نے ہمارے دیئے ہوئے بھروسے کے بل بوتے پر معاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگوں کو سہارا دیا۔ شادی کی دستاویز کے محرومی میں پیدا ہونے والے بچوں اور یتیم بچوں کی سرپرستی کی۔ ڈاکوﺅں، ڈکیتوں، لاوارثوں کو باعزت طور پر دفنایا۔ ہم سیلاب میں ڈوبے یا زلزلے کا شکار ہوئے، اس ادارے کی مدد ہمارے شامل حال رہی۔ جس طرح ایدھی ہماری کمائی ہے، بالکل اسی طرح ہمیں ایوانوں سے مدد کی امید لگانے کی بجائے اپنا مستقبل خود بچانا ہوگا۔ جس طرح یہ مزدور عورتیں ”عالم بی بی ٹرسٹ“ پر اعتماد کرتے ہوئے صبح گھر سے نکلتے وقت اپنے بچے بچیاں یہاں چھوڑجاتی ہیں، بالکل اسی طرح آپ کو بھی فرح دیبا پر بھروسہ کرنا ہوگا تاکہ وہ ان بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی سرپرستی کے لئے اپنے اس ادارے کی عمارت تعمیر کرسکے۔ فرح سے امید لگانے والے یہ محکوم اگر مایوس ہوگئے تو پھر ہم اپنی صفوں میں خود ہی چھید کرڈالیں گے۔

”عالم بی بی ٹرسٹ “ کے اسکول کی تعمیر کے لئے فرح نے کسی فارن فنڈنگ کے حصول کے لئے بھاگ دوڑ نہیں کی ہے بلکہ وہ تو اپنے ہی لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے۔ اس ملک میں چندے پر چلنے والے بڑے بڑے پراجیکٹس کے سامنے ہو سکتا ہے کہ فرح کی یہ کاوش بہت چھوٹی ہو اور آپ کے لئے بہت معمولی بھی۔ مگر وہ اپنی دھیمی آواز کے باوجود مستقل مزاجی سے کھڑی ہے۔ آپ اُس کی آواز سنیں یا نہ سنیں، اُس کا بازو بنیں یا نہ بنیں، اُسے اپنا اعتماد بخشیں یا نہ بخشیں، مگر وہ یونہی کام کرتی رہے گی۔ اُس کی گود میں لاکھوں بچے نہ سہی مگر مقدور بھر وہ ان بچوں کی سرپرستی ضرور کرے گی، جب تک اُس کی سانسیں لکھی ہیں۔ آپ نہیں تو کوئی اور اُس کا بازو بن جائے گا۔ آج نہیں تو کل شاید یہی بچے عالم بی بی کی باگ ڈور ضرور سنبھال لیں گے۔ لیکن اگر آپ نے اپنے حصے کی ایک اینٹ ان بچوں کے نام نہ کی تو یاد رہے کہ آپ کا شمار اُن لوگوں میں ہوگاجو اس معاشرے میں ہونے والے ظلم اور زیادتی کی خبریں سنتے رہیں گے اور محض کڑھتے رہیں گے۔

www.aalambibitrust.org

+92 300 8495046

ALAM BIBI TRUST

A/C# 0783391471000489

Branch ID# 1747

7-B, Commercial Area, Pak Arab

Society, Feroze Pur Road, Lahore.

Muslim Commercial Bank (MCB)

IBAN is,

Pk55MUCB0783391471000489

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *