دواؤں کے حصول کو ہر صورت ممکن بنایا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم کسی فلم میں مہلک بیماریوں سے لوگوں کو دلیرانہ زندگی کی جنگ لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس پہ بہت رشک آتا ہے۔ ہم اس کردار کی صحت یابی اور زندگی کے لیے دعائیں بھی کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں اگر کوئی شخص خطرناک مرض کا شکار ہو جائے تو وہ ایک دلدوز اور دلخراش تجربہ ہوتا ہے۔ کسی بھی بیماری کا تعلق ذہن اور جسم دونوں سے جڑا ہوتا ہے۔ بیمار شخص اپنی ذہنی صحت کو برقرار رکھتے ہوئے جلد صحت یابی حاصل کر سکتا ہے۔

ڈاکٹرز اپنے مریضوں کی نفسیاتی، سماجی اور ملکی آب و ہوا اور بیماری کی نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے جلد صحت یابی کا باعث بن سکتے ہیں۔ بہت سے مریض جو خطرناک اور دائمی مرض کا شکار ہو جاتے ہیں اگر ڈاکٹرز انھیں شدید دواؤں کے نسخے جاری کرتے ہوئے خلوص کے ساتھ ان خطرناک دواؤں سے پیدا ہونے والے غیر مفید اثرات کے بارے میں جان کاری پیدا کریں تو بیماریاں جلد ختم ہو سکتی ہیں۔ بیشتر دواؤں کے استعمال سے ڈپریشن، ذہنی دباؤ، اضطراب، خوف اور تشویش جیسے اثرات مرتب ہونے کی وجہ سے بیماری دوگنا ہوجاتی ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وطن عزیز میں مریضوں کی جذباتی دل جوئی تو دور کی بات ہے ادویات کا ملنا تک محال ہے۔ 1976 ء کے ڈرگ ایکٹ کے مطابق ادویات کی فراہمی، معیار، خرید و فروخت، جعل سازی ان سب خصوصیات کی ضامن وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہوتی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی صحت عامہ کے محکمے کم از کم لاہور شہر میں دواؤں کی فراہمی میں مکمل طور پر فیل ہوچکے ہیں۔ ان میں بہت سی دوائیں ایسی ہیں جو زندگی کے بچاؤ کی ضمانت ہوتی ہیں۔

ان میں دمے، تھائی رائڈ، دل کی مختلف بیماریوں، درد شقیقہ اور جوڑوں کے درد وغیرہ جیسے مسائل شامل ہیں۔ آئین کے اسی ایکٹ کے مطابق دواساز کمپنیاں باقاعدہ منظور شدہ ہوں بلکہ ان کا فرض ہے کہ وہ دواؤں کی بروقت اور اطمینان بخش سپلائی جاری رکھیں لیکن دوائیں ہیں کہ ناپید ہوگئی ہیں۔ گھنٹوں سڑکوں پہ ایک میڈیکل سٹور سے دوسرے پہ خجل ہوتے ہیں مگر دوائیں شاید کوہ قاف چلی گئی ہیں۔ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے کرپشن فری یعنی اخلاقی بگاڑ سے عاری پاکستان کے وہ سنہری خواب دکھائے کہ اب میری آنکھوں میں اس سونے جیسے خوابوں کی دھوپ کی تمازت انھیں جلانے لگی ہے۔ ٹیلے ویژن کھولو اور چینل بدلتے جاؤ تو ہر جگہ وہی گھسے پٹے شریفوں اور زرداریوں کی بدعنوانیو ں کی داستان امیر حمزہ چلتی رہتی ہے۔ مجال ہے کوئی بھی نجات دہندہ آیا ہو! جو ہمیں ان لٹیروں سے چھٹکارا دلا کر پھر سے ہنسی خوشی زندگی گزارنے کی کیفیت سے روشناس کروا دے۔

کئی دنوں سے بہت سے مریض دوائیں نہ ملنے کی وجہ سے اپنی بیماری کے ہاتھوں تکلیف اٹھانے پر مجبور ہیں۔ جیبوں میں رقمیں لیے دوا فروشوں کی دکانات کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن سب بے سود۔ ملک بھر میں ایسے مریضوں کی کمی نہیں جو زندگی بچانے والی ادویات پر زندہ ہیں۔ بروقت دوائیں نہ ملنے کی وجہ سے ان کی حالت بگڑ جاتی ہے۔ آئین پاکستان میں قوانین تو موجود ہیں لیکن ارباب اختیار عمل درآمد کروانا یکسر بھول جاتے ہیں۔ کئی دنوں سے غیر رجسٹرڈ بھارتی ادویات فروخت کرنے والی دکانات جن میں المشہور شاہین کیمسٹ، ڈی واٹسن، راجہ فارمیسی، ڈی کیئر، اورنج فارمیسی، نیو ڈرگ فیئر کیمسٹ اینڈ سرجیکل اخبارات کی زینت بنی ہوئی ہیں۔

پچھلے سال بھی دارالحکومت کے شاہین کیمسٹ اور ڈی واٹسن سے جعلی ادویات پکڑے جانے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں جعلی وٹامن کی ڈبیوں پہ دھڑا دھڑ made in USA کی پیکنگ والی مہریں لگائی جارہی تھیں۔ اس کے بعد سنا کہ وہ دکانیں سیل ہوگئیں لیکن بہت جلدہی وہ پھر سے کھول دی گئیں۔ ایک تو ہمارے ہاں فارمیسی پہ باقاعدہ تربیت یافتہ فارماسٹ موجود ہی نہیں ہوتے، دوسرے وہ لوگ جو ڈاکٹروں کے لکھے ہوئے نسخے کے بغیر ہی مریضوں کو ہر قسم کی دوائیں دے دیتے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں نہ صرف دھڑلے سے غیر قانونی ادوایات کی فروخت بلکہ ہمسایہ دشمن ملک سے بڑے پیمانے پہ ان کی سپلائی بھی جاری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے میڈیکل سٹورز کو لائسنس آخر کن ضمانتوں پہ مہیا کیے جاتے ہیں۔ صحت جس کا زندگی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے کیا اسے اس طرح لٹیروں کے ہاتھوں میں دیا جاسکتا ہے؟ دوسری طرف ہمارے ڈاکٹرز (مسیحاؤں ) کا یہ حال ہے کہ مہینوں تک ان سے ملاقات کا وقت ہی نہیں ملتا۔

بھاری فیسیں آپ کے پاس موجود ہوں اور بھلے آپ ان کے وفادار اور باقاعدہ مریض ہی کیوں نہ ہوں لیکن وہ تو سنگھاسن پر براجمان ہیں اور اپنی سہولت کے مطابق ہی آپ کو وقت عطا کریں گے۔ اس کے لیے چاہے آپ تڑپتے رہیں یا ان کی بلا سے مر جائیں۔ میرا قلم آج ان مسیحاؤں کے خلاف زہر اس لیے اگل رہا ہے کہ ایک دن اچانک آپ کی دوا ختم ہو جائے اور بازاروں میں وہ دوا میسر ہی نہ ہو۔ دوسری طرف آپ اپنے ڈاکٹر کو مسلسل فون کریں لیکن آپ کو شاید جاہل سمجھ کر ڈاکٹرصاحب کا استقبال کنندہ آپ کی بات ہی نہ کروائے تو پھر اس کا حل کیا ہے؟

میں یہ بات اس ذاتی تجربے کی بنا پر کر رہی ہوں جس میں میں مبتلا ہوں۔ میری ایک دوا ہے جو steoroids اور cortisones کا مرکب ہے اچانک اپریل کے مہینے سے ناپید ہوگئی اور ڈاکٹر کے نسخے پر دیے گئے contact نمبر سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی تاکہ اس دوا کا نعم البدل پتا کرسکوں مگرمجال ہے جو ان صاحب (Receptionist) نے بات کروائی ہو۔ میرے یہ ڈاکٹر ایک معروف Rheumatologist ہیں۔ اب یہ کوئی سادہ دوا تو ہے نہیں جو اپنے آپ بدلوا لی جاتی۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مریضوں کو سخت ترین دواؤں پر ڈالتے ہوئے ان کو یہ شعور بھی دیا جاتا کہ اس دوا کے فائدے اور نقصانات کیا ہیں؟ اگر اچانک سے دوا کم یاب ہو جائے تو گھبرانے کی بجائے ہمارے دیے گئے رابطے کے نمبروں پہ بلاتکلف ہم سے بات کر لیں۔ لیکن افسوس! جس ملک میں صحت کے شعبے کو بڑی جاں فشانی سے تباہ کیا گیا ہواور جہاں عاقبت نا اندیش منصف کرسیوں پہ بیٹھے ہوں وہاں انسانوں کی قدر نہیں ہوتی۔ میں پچھلے چار ہفتوں سے تو اس دوا کے بغیر اور ڈاکٹر کی بے حسی کے ساتھ بہترین گزارا کر رہی تھی لیکن تقریباً دس روز پہلے میرے جسم میں کڑا پن کچھ اس طرح عود کر آیا کہ جیسے میرے بت کو کسی نے لوہے کے سانچے میں ڈھال دیا ہو۔

لاہور چھوڑ پنڈی اسلام آباد تک میں عزیز و اقارب کو دوا معلوم کرنے کا کہا لیکن دوا یوں غائب ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ ایسے میں میری چھڑی میری دیرینہ دوست کی طرح ساتھ نبھانے کو نکل آتی ہے۔ خدا بھلا کرے میری ڈاکٹر دوست کا جس نے کل آکر مجھے steoroid کا ٹیکہ ٹھونکا اور میں تھوڑا چلنے کے قابل ہوئی۔ اب آپ فیصلہ کریں کہ ہمیں بھلا شریفوں اور زرداریوں کی کرپشن کے قصوں سے کیا لینا دینا۔ ملکی وسائل اور ادارے تو عوام کی سہولیات کے لیے ہوتے ہیں۔

موجودہ حکومت سے استدعا ہے کہ خدارا ان کی بحالی کے لیے ٹاسک فورسز بنائی جائیں۔ میری بھرپور گزارش ہے کہ پاکستان فارما سوٹیکل انڈسٹری کو جلد از جلد دواؤں کے حصول کو ہر صورت ممکن بنایا جائے یا پھر میڈیا پہ ان کے نہ ملنے کی ٹھوس وجوہات دلائل کے ساتھ بتائی جائیں۔ خدارا! دواؤں کے حصول کو ہر صورت ممکن بنایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *