ارطغرل: غیروں پہ کرم، اپنوں پہ ستم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل پیارے پاکستان میں کرونا وبا کے ساتھ ایک اور ٹرینڈ جو بہت تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے۔ وہ وزیر اعظم اور ان کے چہیتے وزیروں کی جانب سے پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کی دل آزاری ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال نیشنل ٹیلی ویژن پر ایک غیر ملکی، غیر مستند بلکہ مسخ شدہ تاریخی ڈرامہ ارطغرل کی نمائش ہے۔ یہ ڈرامہ نہ صرف پاکستانی عوام کو تاریخی طور پہ گمراہ کر رہا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ پاکستانیوں میں انتہا پسندی کو عروج پہ لے کے جا نے میں اپنا اہم کردار نبھا رہا ہے۔

اس کا ایک اہم ثبوت سوشل میڈیا پہ وائرل ہونے والا ایک کلپ ہے جس میں ارطغرل سے متاثر ایک ایمانی مسلمان اپنے سامنے صلیب کے نشان والے لباس پہنے مسیحیوں کو گالی گلوچ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

ایک اور مثال صوبائی وزیر برائے سکول ایجوکیشن ( جن کو خود کسی سکول میں اخلاقی تعلیم کی اشد ضرورت ہے ) کے ایک جاری کردہ سرکلر کی ہے جس میں موصوف نے کرسمس کو ایک مغربی اور فضول تہوار قرار دے کر اس کا ذکر ریاضی کی ایک کتاب میں سے نکالنے کا حکم صادر کیا تھا۔ جس کو بعد میں شدید تنقید کے بعد وزیر اعظم کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کے اصولوں کے عین مطابق معافی مانگ کر تبدیل کر دیا گیا۔

مسیحی اقلیتوں کے علاوہ دوسری اقلیتوں پر حکومتی سرپرستی میں ڈھائے جانے والے مظالم کی ایک الگ اور لمبی داستان ہے جن سے ہر ذی شعور بخوبی آگاہ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت جان بوجھ کر ایسے اقدامات کر رہی ہے یا سوچے سمجھے بغیر ان سے یہ کام ہو جاتے ہیں؟

جواب کوئی بھی ہو دونوں ہی صورتوں میں یہ صورتحال پاکستانی اقلیتوں کے لیے تشویش ناک ہے۔ ذاتی طور پہ مجھے یہ حکومت صرف جذباتی اور کھوکھلی نظر آتی ہے جس نے عملی طور پہ ابھی تک کچھ کیا ہے اور نہ ہی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت میں کوئی بھی اقلیتوں کے حقوق کو کچھ نہیں سمجھتا اور ان کو صرف ایک جنس کے طور پہ ٹریٹ کیا جا رہا ہے جس کا ناروا استعمال حکومت سمیت تمام طاقتور طبقہ اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔

مجھے ایک مثال یاد آ گئی کہ کسی جنگل میں جمہوری حکومت بنی اور شیر کی جگہ بندر کو منتخب سربراہ چن لیا گیا۔ عوام بہت خوش تھے کہ انہیں اپنی پسند کا حکمران مل گیا ہے۔ ایک دن کچھ شکاریوں نے جنگل پہ حملہ کر دیا اور جانوروں کو مارنا شروع کر دیا۔ سارے جانور اس مشکل وقت میں اکٹھے ہو کر بندر کے پاس اپنی بپتا سنانے کے لیے حاضر ہوئے۔

بندر  نے ان کی بات بڑے دھیان سے سننے کے بعد ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں مارنا شروع کر دیں۔ سارے جانور حیران ہو کے دیکھ رہے تھے کہ بندر ابھی کچھ حکمت عملی بتائے گا لیکن بندر بس چھلانگیں لگاتا رہا۔ آخر کار تھک کہ کسی نے پوچھ ہی لیا جناب آپ نے حل بتانا ہے کہ کیسے اس مسئلے سے نپٹا جائے بندر نے کچھ دیر بعد گہری نظروں سے جمہور کی طرف دیکھ کر ایک تاریخی جملہ کہا ”بھاگ دوڑ تو بہت کی ہے لیکن بنا کچھ نہیں“ ۔

خیر یہ تو ایک غیر متعلقہ بات تھی لیکن اصل بات یہ ہے کہ اقلیتیں غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں اور حکومت اپنی دوستی نبھانے کے چکر میں اپنی ملکی اقلیتوں کو بے چینی اور بے یقینی کی صورتحال میں دھکیل رہی ہے۔ اس وقت جہاں پوری دنیا انسانی برابری پہ زور دے رہی ہے وہیں ملک پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اقلیتوں کو کھڈے لائن لگا رہی ہے۔ ایک بڑا مشہور گانا تھا۔

غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم
اے جان وفا یہ ظلم نہ کر
رہنے دے ابھی تھوڑا سا بھرم
اے جان وفا یہ ظلم نہ کر
ہم چاہنے والے ہیں تیرے
یوں ہم کو جلانا ٹھیک نہیں
محفل میں تماشا بن جائیں
اس طرح بلانا ٹھیک نہیں
مر جائیں گے ہم مٹ جائیں گے ہم
اے جان وفا یہ ظلم نہ کر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *