پی کے 8303 کی ہونہار نیلم برکت علی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمعۃ الوداع کی روز گرنے والے پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 میں ہواباز اور کپتان سجاد گل سمیت ستانوے روشن چراغ گل ہو گئے۔ ہر متاثرہ شخص اپنی زندگی میں چمکتا دمکتا ستارہ تھا۔ اپنے خاندان کے باغ کا گل تھا، جن کے دم سے بہار بھی بہار تھی اور خزاں بھی دل کش معلوم ہوتی تھی۔ افسوس کہ ان سب گلوں میں نامکمل رنگ بھرے گئے تھے، جن کی زندگیوں کے الاؤ بیچ آسماں کے بجھنے تھے سو زندگی کی اوطاق پر جلتی سب روشنیاں مدھم ہوگئیں جو دوبارہ کبھی روشن نہ کی جائیں گی۔

ان ہی ستاروں میں سے ایک تارہ نیلم برکت علی کا بھی تھا جو کسی بے رحم لمحے کی قید میں آکر زمیں پر گر گیا۔ اب تو راکھ کا ٹھنڈا پڑا دھواں بھی اٹھنا بند ہوگیا ہوگا۔ نیلم برکت علی، ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ محقق اور معلمہ تھیں۔ انہوں نے سنہ 2012 میں کراچی یونیورسٹی سے حیاتیاتی/فضیاتی صنعت و حرفت (بائیو ٹیکنالوجی) میں بی ایس آنرز کرنے کے بعد نوٹنگھم یونیورسٹی، انگلینڈ سے اسسٹڈ ریپروڈکشن ٹیکنالوجی میں اعلیٰ تعلیم کی سند حاصل کی۔

پاکستان میں اپنی نوعیت کے منفرد ادارے ایڈوانس ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر (اے ای آئی آر سی) سے نیلم 2013 سے منسلک تھیں۔ اس آزاد ادارے کا مقصد پاکستان میں صحت کے متعلق تمام امور پر تحقیق کرنا ہے۔ نیلم برکت پاکستان میں موجود چند اعلیٰ پائے کی ایمبریالوجسٹس میں سے ایک تھیں۔ ضیاء الدین یونیورسٹی کے شعبہ بائیو میڈیکل انجینئرنگ کالج میں وزیٹنگ استاد کے فرائض بھی سرانجام دے رہی تھیں۔ صرف پاکستان میں ہی نہیں، نوٹنگھم میں تعلیم کے سلسلے میں قیام کے دوران انہوں نے براڈ گیٹ نرسنگ ہوم میں بھی خدمات سرانجام دیں۔

علاوہ ازیں، ان کی لاہور میں موجودگی کی وجہ ان کا کانسیپٹ فرٹیلٹی سنٹر سے منسلک ہونا تھا۔ نیلم صرف تیس برس کی تھیں اور دس سال کے قلیل عرصے میں انہوں نے وہ سب کر دکھایا بڑے بڑے نہیں کر سکتے۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی محنت، ذہانت اور قابلیت کے بل بوتے پر کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والی نیلم کی چمک اور تمکنت بہت پہلے ختم کر دی گئی۔ طیارہ حادثے میں ان کا جسد خاکی تک نہیں ملا۔

وہ نیلم جو جنینیات (ایمبریالوجی) کے شعبے میں مستند اور جدید تحقیق کرنے کا شغف رکھتی تھیں، جو زندگی کی ابتدا کو ہر طرح کے ماحولیاتی، جنیاتی خطرے سے پاک رکھنے کی جستجو میں محو تھی، ماں کی کوکھ میں نشو نما پاتے بچے کو پیدائشی معذوری اور جسمانی نقائص سے محفوظ رکھنے کی غرض سے اپنا دن رات ایک کر رہی تھیں، وہی نیلم بے دردی کے ساتھ حادثے میں زندگی کی دوڑ موت کے ہاتھوں ہار گئیں۔

نیلم کی ماں جنہوں نے بنا باپ اور کسی سہارے کے اپنی بیٹی کو پالا تھا، اپنے نیل گو درخت کو تمام تر مصائب کے باوجود پروان چڑھایا تھا، آج وہ ماں کہتی ہے کہ اس نے اکیلے اس معاشرے میں بیٹی پالی اور جب وہ اس سے چھن چکی ہے تو وہ پھر سے ویسے ہی تنہا ہوگئیں ہیں۔ ان کی بیٹی کی ساری زندگی کی محنت چند لمحات میں فضا میں بکھر گئی۔ ان کا واحد آسرا اور رشتہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ جس کے پاس اپنی جگر گوشے کی میت تلک نہیں، اس کو بس اب آس ہے تو اس فون کی گھنٹی کی جو ان کو مطلع کر سکے گی کہ ان کی نیلم کے ڈی ان اے کے نمونوں کی شناخت ہوچکی ہے۔

کیسا ہولناک سانحہ ہے کہ اپنے پیارے کا جسم بھی پہچان کے قابل نہیں رہا، راکھ میں ثبت جلے بدن اور ہڈیوں کے ریشے اپنوں کے بدن کے نمونوں سے ملاپ ثابت ہونے پر میتیں گھروں کو روانہ ہو رہی ہیں، وہ جو قدموں پر چل کر بغل گیر ہونے کی آرزو رکھتے تھے، وہ ڈبوں میں بند ہو کر روانہ کیے جا رہے ہیں۔

نیلم کی قریبی رفیق اور ساتھی صدف احمد نے فیس بک پر لکھتے ہوئے نیلم برکت علی کے ایک خواب کا ذکر کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ نیلم نے کچھ روز قبل ان سے رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔ نیلم نے مجھ سے استفسار کیا کہ ان کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا کیونکہ انہوں نے خوب میں دیکھا ہے کہ وہ اور ان کے رفیق شمعون بھائی ایک اسپتال میں اداس گھوم رہے ہیں اور صدف کے لئے پریشان ہیں۔ صدف احمد کہتی ہیں کہ نیلم کے اس محبت بھرے جذبے نے ان کو بے حد متاثر کیا کہ صرف ایک خواب نے نیلم کو بے تاب کر دیا تھا۔ وہ آہ بھر کر کہتی ہیں کہ ان کو کیا معلوم تھا کہ زندگی کیا رخ بدلے گی کہ ان کو اور شمعون کو نیلم کے لئے کراچی کے اسپتالوں میں نیلم کو مرجانے والوں اور بچ جانے والوں کی فہرستوں میں ڈھونڈنا پڑے گا۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ انہوں نے نیلم کے ساتھ بہت سی بہاریں اور کامیابیاں دیکھی۔ کراچی یونیورسٹی سے لے کر اے ای آئی آر سی کا سفر، ایام طالب علمی سے معلمی کی منازل پار کرنا، نوٹنگھم سے لاہور اور کراچی سے جامشورو کے راستے، سائنس کی دل دادہ لڑکیوں کے سفر سے لے کر حقوق نسواں کی علمبردار خواتین ہونے کا مرحلہ بھی خوب طے کیا اور ایک دوجے کے ہمراہ طے کیا۔

پاکستان میں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا بڑا کٹھن ہوتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کا حصول بھی پل صراط پار کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ یہ منزل طے ہو جائے تو کام کرنے کا شعبہ بھی مشکلات سے مزین ہی رہتا ہے۔ سماجی رکاوٹیں کبھی راستہ کاٹتی ہیں تو کبھی فکر معاش پیروں میں آبلے ڈال دیتی ہے۔ پدر شاہی نظام کی بناوٹی باڑ جنسی تعصب کی آڑ میں معراج پانے والی ان لڑکیوں کے پر جلانے پر مضر رہتی ہے۔ ان تمام بے فیض حد بندیوں اور تعصبات کے باوجود بھی شجاعت اور بہادری سے لڑتی لڑکیاں اپنا سکا منوا کر دم لیتی ہیں۔ نیلم ان ہی میں سے ایک تھیں جن کا ہنر ان کی پہچان تھا، جن کی قابلیت ہر چیز پر سایہ فگن تھی، ان کی محنت سے ہر جانبدار کی تنقید کو چپ کے قفل لگ چکے تھے اور اپنی ماں کی لاڈلی ہونہار نیلم آگے سے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔

نیلم واقع میں نیلم تھی۔ حیف سی حیف! تاروں جیسی نیلم جس کی کونپل ادارہ جاتی غفلت کے عوض تاریک راہ میں کچل دی گئی۔ نیلم کے ہمراہ اپنی زندگی کی رعنائیوں کا لطف اٹھاتے، اپنی دنیا میں جگمگاتے تارے آسماں سے ٹوٹ کر زمیں پر آن گرے۔ فنی خرابیوں سے لیس طیاروں کی بدتر حالتوں سے مجرمانہ آنکھ چرانے والے، ہمارے وطن کے زمرد، نیلم، مرجان کو موت کو شہادت کا طرہ امتیاز قرار دیتے بے زار نہیں ہو رہے۔ نیلم کی ماں اکیلی ہوگئی ہے، ان ستانوے لوگوں کی محبت کی کہانیاں نوحہ کناں ہیں اور نجانے ان کے زخم وقت کے ساتھ بھر بھی پائیں گے یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *