اداکارہ عظمیٰ اور ملک ریاض کی بیٹیاں آمنے سامنے، تھانے میں کیا ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عام طور پر میں کرائم سے متعلق خبریں نہیں دیکھتا کیوں کہ یہ میری بیٹ ( ٹی وی میں رپورٹر کو ایک شعبہ دیا جاتا ہے جس سے متعلق خبریں اس کی ذمہ داری ہوتی ہیں۔ جسے بیٹ کہا جاتا ہے ) نہیں ہے۔ مگر 27 مئی کی رات 10 بجے مجھے دفتر کی طرف سے اچانک کال موصول ہوتی ہے۔ اکرام! آپ فوری طور پر ڈیفنس تھانہ سی پہنچیں، ڈپٹی بیورو چیف کی آواز تھی۔ ٹھیک 11 بجے میں اپنی گاڑی سے نکلتا ہوں تو سامنے پولیس سٹیشن کی خوبصورت عمارت نظر آتی ہے۔ ظاہر ہے یہ تھانہ بادامی باغ نہیں بلکہ ڈیفنس تھا، عام تھانوں سے مختلف ہونا یقینی تھا۔

جیسے ہی میں گاڑی سے نکلا، تھانے سے سول کپڑوں میں ملبوس ایک شخص باہر آیا اپنی سفید رنگ کی پرائیویٹ لینڈ کروزر میں سوار ہوا۔ اس کے ساتھ دو خواتین بھی تھیں، میں نے لپک کر ایک خاتون کے پاس پہنچنے کی کوشش کی تو اس نے گاڑی کا دروازہ تیزی سے بند کر دیا۔ اس اثنا میں پیچھے سے لڑائی جھگڑے کی آوازیں کان میں پڑیں تو فوراً میری توجہ ادھر کو ہو گئی۔

یہ آوازیں پولیس سٹیشن کے مرکزی دروازے پر کھڑے اس سپاہی کی تھیں جو میرے کیمرہ مین غلام عباس پر چلا رہا تھا۔ تم کون ہو؟ کس سے پوچھ کر فوٹیج بنا رہے ہو؟ میں یہ کیمرہ توڑ دوں گا، کیا یہ تمہاری پرائیویٹ پراپرٹی ہے؟ چلو بھاگو یہاں قریب مت بھٹکنا۔ سپاہی کے سوالوں اور حکم نامے کا سلسلہ رکا نہ تھا کہ میں بول پڑا، رکو! میں رپورٹر ہوں۔ آپ مجھ سے بات کیجئے۔ آپ کس قانون کے تحت میڈیا کو سرکاری عمارت کی فوٹیج بنانے سے روک رہے ہیں؟ کیا آپ کو معلوم ہے اس عمارت کے ذمہ قانون کی عمل داری یقینی بنانا ہے؟ جواب ندارد۔

اندر سے ایس ایچ او زاہد باہر نکلتے ہیں۔ بنانے دو فوٹیج کچھ نہیں ہوتا۔ سپاہی کو حکم جاری ہوتا ہے۔ میں پھر اسی لڑکی کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ جو اب گاڑی کے سیاہ شیشوں میں نظر نہیں آتی۔ کیا یہ لڑکی عظمیٰ ہے؟ میں پاس کھڑے ایک نوجوان سے پوچھتا ہوں۔ نہیں وہ اندر ہے، جواب ملتا ہے۔

اس دوران دفتر سے بیورو چیف شہزاد حسین بٹ مجھے ڈائل کرتے ہیں۔ روایتی لہجے میں سوال کان میں پڑتا ہے، راجہ تم کدھر ہو؟ کیا حسان نیازی سے ملاقات ہوئی؟ ایف آئی آر کا کیا بنا؟ سر بس دو منٹ دیں، میرے جواب پر فون بند ہو جاتا ہے۔ اس دوران گیٹ سے ایک شخص باہر نکلتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک سے زائد موبائل فونز ہیں اور سبھی بج رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہوں حسان نیازی اشارہ کرتے ہیں کہ بھائی دو منٹ دیں بس ابھی آیا۔

میں کیمرہ مین کو حسان نیازی کی فوٹیج بنانے کا کہتا ہوں، اتنے میں گیٹ پر مجھے ایک دوسری لڑکی نظر آتی ہے۔ میں نے اپنا فون نکالا، ٹویٹر پر عظمیٰ خان کو دیکھا اور سامنے کھڑی لڑکی کی طرف دیکھا۔ خوف زدہ چہرہ، تھکا ہارا اور نحیف جسم لئے یہ لڑکی وہی تھی جس کی مجھے تلاش تھی۔ میں کیمرہ مین کو اب نئی ڈائریکشن دیتا ہوں تو پاس کھڑے نوجوان اشارتاً مجھے حسان نیازی کی طرف جانے کا کہتے ہیں۔ اس اثنا میں میرا فون پھر بجتا ہے۔

میں سیدھا حسان نیازی کو ہی فون پکڑا دیتا ہوں جو اب اس لمحے ایس ایچ او سے بحث و تکرار میں مصروف ہیں۔ ہمیں نا قابل ضمانت ایف آئی آر چاہیے، حسان کا ایک ہی مطالبہ تھا۔ میرے فون کے ذریعے اب حسان میرے باس سے مخاطب تھے۔ اگلے ہی لمحے یہ سلسلہ دراز ہوتا ہے اور حسان ہمارے سی او اور تجزیہ کار عارف حمید بھٹی سے بات کر رہے ہوتے ہیں۔ مطالبہ دہرایا جاتا ہے۔ اس دوران ایس پی کینٹ اندر سے نکلتے ہیں اور اسی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر رخصت ہوتے ہیں جس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔ ایس پی ہمارے سوالوں کے جواب دیے بغیر چل دیے۔

اب رات کے 12 بج رہے تھے۔ انگریزی کیلنڈر نے 27 کی بجائے 28 مئی کی تاریخ ظاہر کردی تھی۔ میں پولیس کے رویے سے نالاں ہو کر غصے میں گیٹ کے اندر داخل ہو جاتا ہوں۔ اب کی بار مجھے سپاہی بھی نہیں روک رہا۔ ایس ایچ او اپنے کمرے (جس کے باہر ان کی پلیٹ لگی تھی) کو چھوڑ کر سامنے ایک دوسرے چھوٹے کمرے میں ٹیلی فون پر مصروف ہیں۔ کمرے کا ماحول پریشان کن ہے۔ غالباً ایف آئی آر میں کون سی شامل دفعات شامل کرنی ہیں اس پر اعلی افسران کی ایس ایچ او سے بات چیت جاری تھی۔

میں شیشے سے جھانک کر اندر آنے کی اجازت مانگنے ہی والا تھا کہ ایک اہل کار اشارہ کرتے ہیں سر آپ کون؟ تعارف کے بعد ہدایت ملی کہ ایس ایچ او کے کمرے میں انتظار فرمائیں۔ اندر داخل ہوا تو ایک نوجوان شخص سے میرا تعارف ہوا۔ معلوم ہوا کہ صاحب ملک ریاض کی طرف سے بطور وکیل تھانے میں ایف آئی آر کی کاپی لینے حاضر ہوئے ہیں۔ ان کا نام ظہیر عباس چغتائی تھا۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ کیس پر ان کا موقف لیا تو وہی الزامات دہرائے گئے جو عثمان ملک کی اہلیہ آمنہ عثمان ایک ویڈیو بیان میں جاری کر چکی تھیں۔

میرا اگلا جملہ تھا، ظہیر صاحب ویسے آف دی ریکارڈ پوچھ رہا ہوں، میں نے جلدی میں دو چار سوالات کیے، جب ہمارے درمیان کچھ بے تکلفی سی پیدا ہو چکی تو میرے استفسار پر انہوں نے جیسے یہ قبول کر ہی لیا تھا کہ در اصل ملک ریاض کی بیٹیوں کے اوپر لگے الزامات درست ہیں مگر یہ سب عثمان اور عظمیٰ کے بیچ بڑھتے ہوئے تعلقات کی وجہ سے ہوا۔ ان کا کیا ہوا عمل نہیں بلکہ ردعمل ہے۔ اور ہماری موکلان نے کسی کا گھر نہیں پھلانگا بلکہ وہ گھر عثمان کی ہی ملکیت تھا جو کہ وہاں خود موجود تھا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عثمان دراصل ملک ریاض کی سالی کے بیٹے ہیں، یعنی ملک ریاض عثمان کے خالو ہیں۔ اور اس واقعے کی رات ملک ریاض کی بیٹیاں عنبر اور پشمینہ ملک بھی گھر میں داخل ہوئی تھیں۔

ٹھیک 12 بجکر 30 منٹ پر ایس ایچ او اندر داخل ہوئے اور فاتحانہ لہجے میں گویا ہوئے، ایف آئی آر تیار ہے۔ ساتھ ہی ایک اہلکار کو ہدایت ہوئی کہ تین کاپیاں لائی جائیں۔ حسان نیازی کا مطالبہ اب بھی ختم نہ ہوا۔ دہشتگردی کی دفعات کیوں نہیں شامل کیں؟ حسان کے استفسار پر ایس ایچ او نے سر کے پچھلے حصے میں خارش کی۔

اتنے میں میں نے ایف آئی آر کی کاپی تمام میڈیا رپورٹرز کو بھیج دی، جو کہ بے تابی سے منتظر تھے۔ کم ہی چینلز پر ایف آئی آر کی خبر چلی۔ کسی نے ٹکر ( پٹی) چلا کر جان بخشی کروائی تو کسی نے سرے سے ہی خبر دبا دی۔ جس نے ہمت کی بھی تو الفاظ کچھ یوں تھے، ماڈل عظمیٰ خان کی درخواست پر تھانہ ڈیفنس میں با اثر افراد کے خلاف مقدمہ درج، فلاں چینل کی خبر کے بعد پولیس حرکت میں آ گئی وغیرہ۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply