مکس اچار سسٹم اور ٹھکیدار کی بیٹی
وایئرل ویڈیو میں جو دیکھایا گیا، وہ کسی فلمی سین اور کمانڈو ایکشن سے کم نہیں تھا۔ خیر شہری علاقوں میں ایسے کمانڈو ایکشن ہوتے رہتے ہیں۔ کمانڈوز کوئی خلائی مخلوق تھوڑی ہیں۔ جو بندہ اپنے فائلوں کو پہیہ لگاتا ہو۔ اس کے لئے اپنا کمانڈوز بھرتی کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ یہ بندہ تو ماہر نفسیات ہے لفافے کو دیکھ کر مضمون پڑھ لیتا ہے اور لفافے کے اندر مضمون، جاری ہونے والے آرڈرز، دستخط کرنے والے ہاتھوں، بولنے والی زبان، اور اردگرد پائے جانے والے مادی اشیا کو ان کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق دام لگا لیتا ہے۔ پہلے ادوار میں موصوف فراخدل، سخی، ہمدرد اور غریبوں کا ساتھی ہوا کرتا تھا۔
تقاضا وقت کا جو دکھاتا ہے اصلیت اپنی
یہ جو خون مجھے لگا ہے۔ میرا اپنا ہے
خیر اس میں اس کی کیا غلطی سرمایہ دارانہ نظام میں غریبوں کا خون چوسا جاتا ہے، تب ہی تو نظام آگے چلتا ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے۔ اس کو جھٹلایا نہیں جاتا۔ خیر یہ الگ بحث ہے۔
اب آتے ہیں نئے پاکستان کی طرف۔ جب وہ آئے گا عمران، سب کی جان، بڑھے گی اس قوم کی شان بنے گا نیا پاکستان۔
جب یہ نعمہ عطاء اللہ عیسی خیلوی صاحب کی زبانی سنتے تھے جذبات سے خون کھول اٹھتا تھا، کیونکہ ہم جذباتی لوگ ہیں۔ اب عمران بھی آ گیا، سب کی شان تو تھا ہی لیکن نئے پاکستان کی امید لئے بیٹھے ہیں۔ کب نیا پاکستان بنے گا۔ یا نعرہ نیا نظام وہی پرانا رہے گا۔ ہم کرونا یا دوسرے کسی وائرس سے مرے نہ مرے یہ لا قانونیت ہمیں لے ڈوبے گی۔ میں کسی کا تعلق یا کسی کے کردار کے بارے میں نہیں کہہ سکتا۔ ایف آئی آر کاٹنا، ذمہ دارون کو پکڑنا، پوچھ گچھ کرنا، کیس بنانا یہ تو پولیس کا کام ہے۔ پنجاب پولیس ایف آئی آر نہیں کاٹ سکتا، کیس کیا خاک بنائے گا۔ ویسے ایک آئڈیا ذہن میں آ گیا۔ بحریہ ٹاؤن کا سکیوریٹی سسٹم دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں۔ بندے کا دماغ بھی ہے اچھی ٹیم بھی۔ پنجاب میں جتنے بھی تھانے ہیں ملک ریاض صاحب کو ٹھیکے میں دیا جائے۔ نیا پاکستان بنے نہ بنے تھانے تو نئے بنین گے۔ اسی طرح ہم یہ مکس اچار والے سسٹم سے آس لگانا چھوڑ دیں گے۔
کیونکہ ہمارا اصل حکمران وہ ہیں جس کے جیب میں پیسہ ہو۔ اور جو قبائلی علاقوں، سندھ، پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں لا قانونیت کی چکی میں پسے ہوئے مظلوموں کو انصاف دلانے میں کردار ادا کرے۔ جہاں غیرت کے نام پر نو عمر لڑکوں اور لڑکیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم جھوٹ بولنے، ناپ تول میں کمی کرنے، ملاوٹ کرنے، حرام کھانے، ایک دوسرے کے لئے گڑھا کھودتے ہوئے غیرت نہیں آتی۔ خیر معاملہ حساس ہے۔
ویسے ہمیں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے کیمرے اور مائیک کا ہونا ضروری ہے۔ جرم بھی کیمرے کے سامنے ہو، ظالم اور مظلوم دونوں کیمرے میں صاف نظر آتے ہو۔ میرا مطلب واقعہ اچھی طرح فلمایا گیا ہو۔ تبھی ہمارا وزارت انسانی حقوق جاگ جائے گا۔ ورنہ نیند میں خلل نہیں ڈالنے کا۔ یہ تو اس کی بڑا پن ہے۔ اس نے ویڈیو بنا دیا سوشل میڈیا پر ڈال دیا، ہم جیسے غریبوں کو اوقات دکھانے کے لئے۔
انسانی حقوق والوں سے درخواست ہے دور دراز علاقوں میں کیمرے کی سہولیات مہیا نہیں ہوتے۔ بغیر ویڈیو اور ریکارڈنگ کے انصاف فراہم کی جائے۔ اگر ویڈیو کی سہولت ہو بھی ایسے پیشہ ور کیمرا مین کہاں سے لائیں گے جو ملک صا حب کے پاس ہوتا ہے۔


