جب آپ فکشن نگار سے کچھ زیادہ کی توقع رکھتے ہیں۔ ۔ ۔
میں نے کیی دفعہ محسوس کیا، قاریین کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو مجھے ایک ایسے منصب پر دیکھنے کا خواہشمند ہے، جہاں میں چٹکی بجاتے ہی اس دنیا سے، نفرت کے رنگ کو غائب کر دوں گا۔ فنکار یا ادیب کے پاس نہ الہ الدین کا چراغ ہے نہ توقع اور خواہشوں کو پورا کرنے والا جن۔ ادیب کچھ سطحوں پر اتنا کمزور اور چھوٹا ہوتا ہے کہ بادل کی گھن گرج سے بھی کانپ اٹھتا ہے۔
آنکھوں کے آگے اس معصوم بچے کا چہرہ ابھرتا ہے جس سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر خوفناک شیر اچانک جنگل سے نکل کر تمہارے سامنے آ گیا تو کیا کرو۔ اور بچے نے معصومیت سے جواب دیا تھا کہ میری ہستی ہی کیا۔ جو کچھ کرے گا وہ شیر کرے گا۔ سن دو ہزار بیس تک آتے آتے دنیا ایک ایسے نظام کا حصہ بن گئی ہے جہاں سائنس اور ترقی کی ریس ہے اور جس دنیا کے بارے میں یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس سے زیادہ تہذیب یافتہ دنیا کا تصور نا ممکن ہے۔
لیکن اسی کا دوسرا پہلو ہے کہ اس دنیا میں خوفناک جنگیں ہیں۔ ایڈز اور کینسر جیسی بیماریاں ہیں۔ دہشت گردی ہے، فضائیہ حملے ہیں۔ تیسری اور چوتھی دنیا کے ممالک کا جائزہ لیں تو چھوٹی اور بڑی مچھلیوں کے خوفناک کھیل ہیں۔ معاشرے میں آئی ہوئی تبدیلیوں کا ذکر کریں تو مشہور ناول نگار ہرمن ہیسے کے ناول ڈیمیان کی یاد آتی ہے۔ ہرمن نے لکھا کہ پرانی دنیا کو زوال آ چکا ہے۔ ایک نئی دنیا سامنے ہے۔ اور اس نئی دنیا میں اخلاقیات کو کوئی دخل نہیں ہے۔
یہ دنیا ایک خوفناک سرنگ میں داخل ہوچکی ہے۔ سائبرورلڈ، نئی ٹکنالوجی، بدلتا ہوا نظام، گلیشیئر کے پگھلنے اور سائیوں میں گھاس اگنے تک کے واقعات نے نئے نظام اور بدلے ہوئے موسم کی گواہی دے دی ہے۔ اس لیے الکٹرانک میڈیا کا معاشرے کی تبدیلی میں کیا رول ہے، اس سے قبل اس نئی تہذیب اور معاشرے کی جھلک دیکھنا بھی ضروری ہے۔ ہم جس دنیا میں ہیں وہاں ہر روزگ گینگ ریپ کی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت اس حد تک گر چکی ہے کہ انڈین کانومی گریٹ ڈپریشن کی شکار ہے۔
میڈیا چینلس اپنے ہاٹ شوز میں اب ننھے ننھے بچوں کو اتار رہے ہیں۔ ڈانس شوز، ٹیلنٹ بلٹ جیسے پروگرام میں اب یہ ننھے معصوم بچے اشتعال انگیز اور پررونٹیڈ معاشرے کا ذائقہ بن رہے ہیں۔ یہ وہی دنیا ہے، جہاں ماحولیات پر ناکام بحثیں ہوتی ہیں، جہاں گجرات اور مظفر نگر جیسے دنگے عام ہیں جہاں مودی جیسے قاتلوں کی تاجپوشی ہوتی ہے جہاں سوائن فلو، سارس اور ڈینگو جیسی بیماریوں کے پس پشت بھی ایک ظالم و جابر سماج اور معاشرہ کے عکس کو دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں بین الاقوامی معاہدے، سمجھوتے، قوانین سب طاق پر رکھے ہوئے ہیں۔ اور میڈیا دولت کے نشے میں پیڈ چینل بن چکا ہے۔
ادیب، فکشن نگار صرف اپنے خیال کی دنیا بسا سکتا ہے۔ اور کویی ضروری نہیں کہ دنیا خوبصورت ہو۔ یا فکشن نگار کوئی ایسا فرشتہ ہو، جس کی تمام باتیں سچ پر مبنی ہوں۔
ہندستان سے بین الاقوامی اور مغربی معاشرے تک سچ نہیں جھوٹ بکتا ہے۔ اچھی باتیں نیوز نہیں بنتیں، خوفناک اور ڈراؤنی خبریں خبر بن جاتی ہیں۔ میڈیا جانتا ہے، کیا فروخت کرتا ہے اور کیا فروخت کرنے سے ٹی آر پی بڑھتی ہے اور میڈیا کبھی جنس کا کاروبار کرتا ہے، انسانی نفسیات کا جائزہ لیجیے تو الکٹرانک میڈیا نے گھر بیٹھے آپ کے اندر کی خوفناک بھوک کو جگا دیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ بھوک پہلے نہیں تھی۔ یہ بھوک ہمیشہ سے تھی۔
ارتقا اور سائنسی ایجادات کی ریس میں ہم ایک طرف ماحولیات کی دوجن ویلی کی عصمت کی لوٹ رہے ہیں اور دوسری طرف ایک نہ ختم ہونے والا سیاسی بحران پیدا ہوا ہے۔ اور یہ بھی اس تہذیب کا سچ ہے کہ دہشت پسندی، بھگوا آتنک واد، القاعدہ تہذیبیں سراٹھا رہی ہیں۔ اور دیکھا جائے تو انہیں فروخت کرنے اور خبروں میں ذائقہ پیدا کرنے کام یہ ہمارا الکٹرانک میڈیا کر رہا ہے۔ میڈیا نے ہمیں اس نظام یا معاشرے کا حصہ بنادیا ہے جہاں Disorder ہیں۔
مینٹل ڈس آرڈر۔ ہم ایک آئیڈینٹیٹی ڈس آرڈر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس مہذیب ترین دنیا میں جہاں بم پھٹ رہے ہیں۔ جنگیں ہو رہی ہیں۔ آدھے ادھورے بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے۔ جہاں راکٹ لانچرس، میزائلس اور اٹیک نے انسانوں سے تحفظ چھین لیا ہے۔ اور اس نظام سے تھکے ہوئے لوگ ایک دن مرسی ڈیتھ کی اپیل بھی کرنے لگتے ہیں۔ انسان کی سرشت میں جس محبت اور آزادی کو دخل ہے، میڈیا نے اس محبت اور آزادی پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
تیزی سے آگے بڑھتی دنیا میں، قدرے پچھڑے اور دقیانوسی لوگوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔
یہاں جنگ برائے جنگ ہوتی ہے۔ آدمی کو بچانے کے لئے اربوں، کھربوں کے میزائل خرچ کردیئے جاتے ہیں۔ ۔ ۔ اور لاکھوں آدمیوں کو مار کر لاکھوں آدمیوں کے بچنے کا جشن منایا جاتا ہے۔ ۔ ۔
فکشن نگار یہاں تک آتے آتے بھی خاموش ہو جاتا ہے۔
ہم ایک بہت بڑے بازار میں الجھ کر بونے بن گئے ہیں۔ ایک بہت بڑا بازار جو ہماری سنسکرتی، ہماری جڑوں سے الگ ہے۔ ۔ ۔ ہم اس بازار کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر پری ہسٹارک ڈائنا سور بن کر۔ ۔ ۔ پانچ کروڑ سال پیچھے جاکر ہم اس بازار میں اپنی گھس پیٹھ جمانا چاہتے ہیں۔
اور اچانک کوئی کورونآ وائرس ہمارے درمیاں آ جاتا ہے اور کہتا ہے، انسان سے زیادہ کمزور کچھ بھی نہیں۔
یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں؟ کیونکہ ایک وقت آتا ہے جب آپ کو کچھ لوگ اس منصب پر دیکھنے لگتے ہیں، جہاں امید ہے، انصاف ہے اور بیداری کا راستہ۔ ایک وقت آتا ہے جب ادیب، فکشن نگار اپنے منصب سے بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر بہتر ہے کہ فکشن نگار یا ادیب کو اسی جگہ رہنے دیا جائے، جہاں بوسیدہ کاغذات پھیلے ہیں، اور اس کے دماغ میں وقت کی ٹرینیں چل گھوم رہی ہیں۔ وہ پیغمبر ہے نہ سیاست دان، وہ اتنا کمزور ہے کہ اس کا بھروسا اجتماعیت پر ہے۔ وہ اکیلے چل بھی نہیں سکتا۔ قطار میں ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
کورونا۔ کورونا۔ کیا کورونا کے خوف سے آپ زندگی جینا چھوڑ دیں گے۔ کھانا پینا چھوڑ دیں گے؟ اداس ہو کر مرنے کے لئے خود کو گھر کی تنہائیوں میں دفن کر لیں گے۔ ؟ مجھ سے کہا گیا، یہ کہانیوں کا دور نہیں ایکشن کا دور ہے۔ ایکشن لیجیے۔ پوری اردو دنیا میں ادب برادری سے، مجھ سے زیادہ ایکشن کس نے لیا ہوگا؟ کیا میدان میں تلواریں لہرانا ایکشن لینا ہے؟ سر کٹانا ایکشن لینا ہے؟ بے مقصد، خود کو نمایاں کر کے ہلاک ہو جانا ایکشن لینا ہے؟
تو میں نے یہ بھی کیا۔ جان مصیبت میں ڈالی۔ سب سے زیادہ لکھا۔ دھمکیاں ملیں۔ خوف زدہ نہیں ہوا۔ لکھتا رہا اور آج بھی لکھ رہا ہوں۔ میرا ناول مرگ انبوہ بھی ایک ایکشن ہے۔ صرف ناول نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اردو والے پڑھنا بھول گئے ہیں۔ اردو ادیبوں اور ہمارے پیارے نقاد کو پڑھنے کی فرصت نہیں ہے۔ مرگ انبوہ کو پڑھنے کی ذمہ داری بھی لی، تو قارین نے۔ جن کو کتابیں بھیجی گین، ان میں ایک فی صد نے بھی پڑھنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ کیوں؟ کیونکہ لوگ پڑھنا بھول گئے ہیں۔ جینا بھول گئے ہیں۔ اداس ہو گئے ہیں۔ اور اس خوش فہمی میں ہیں کہ زمانہ ان کا کیا بگاڑے گا۔ جبکہ زمانہ الٹی چال چل چکا ہے۔ بے رحم ساعتوں نے ہمارا گھر دیکھ لیا ہے۔ ہر وہ شخص نشانے پر ہوگا جو حکومتی اقدام کا مخالف ہے۔
ہاں تو، مجھ سے کہا گیا، یہ ایکشن لینے کا دور ہے۔ ایک ادیب سے جو قلم کو تلوار بنا سکتا ہے مگر سیاست میں نہیں آ سکتا۔ میرا ایکشن، میرے قاری چھ برسوں سے مسلسل دیکھ رہے ہیں۔ 2012 میں، میں نے آتش رفتہ کا سراغ لکھا۔ یہ بھی ایکشن تھا۔ میں دیکھ رہا تھا، ایک دنیا تبدیل ہو رہی ہے۔ ایک مخصوص نظریے نے آہستہ آھشتہ شبخون مارنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ ایک ادیب کو یہ کرنا چاہیے۔ وقت کا احتساب ضروری ہے۔ حالات کا تجزیہ ضروری ہے۔ افسانہ، ناول، ادب، ا ان شاخوں سے برآمد نہیں ہوتے، جہاں پتجھڑ ہے۔ کمزور فلسفوں کا پت جھڑ، جہاں اندھے ہونے کا مظاہرہ ہے۔ میں نے مرگ انبوہ کے شروع کے صفحات میں لکھا۔
اگر ایک کمرے میں لاشیں سڑ رہی ہوں تو آپ دوسرے کمرے میں آرام سے کیسے رہ سکتے ہیں؟
میں بھی نہیں رہا۔ ادب کو مشن بنایا۔ مضامین لکھے۔ ناول۔ کہانیاں۔ سب میرے مشن کا حصہ۔
بہت سے چوہے، اب یہ چوہے خطرناک بن چکے ہیں۔ یہ آپ پر حملہ کریں گے۔
جب اردو دنیا بے خبری کی نیند میں مبتلا تھی، میں اپنی نیندوں کے حصار سے باہر نکل آیا۔ یہ ایک گونگے کا سانحہ نہیں تھا۔ یہ ایک با خبر ادیب کا زندہ ہونا تھا۔ اور مجھے کویی شکایت نہیں کہ میرے پڑھنے والے میرے ملک سے کہیں زیادہ باہر کے ملکوں میں ہیں۔ اور یہاں تخیل کی دنیا میں، سرسبز خوابوں کی دنیا میں سر فروشی کا جذبہ رکھنے والے، اور وہ لوگ جو ذوقی سے واقف ہی نہیں، ذوقی سے سوال کرتے ہیں کہ یہ وقت کہانی لکھنے کا نہیں، ایکشن لینے کا ہے۔ میں مضامین لکھتا ہوں، تو میرے مضامین بھی ایکشن ہیں، ادب بھی۔ اور میرا ضمیر مطمئن ہے کہ میں نے ادب کو ان حالات میں بھی بھر پورا جیا ہے
کیا لاک ڈاؤن میں آپ ہنسنا بھول گئے؟ کورونا کے خوف سے کفکا کے میٹا مارفوسس میں تبدیل ہو گئے؟ یا کسی چوہے، چمگاڈر میں؟ اگر آپ ان حالات میں جی رہے ہیں تو یہ بھی ایکشن ہے۔
عالمی سیاست آپ کو قید رکھنا چاہتی ہے۔ گرتی معیشت صرف ہندوستان کا مسئلہ نہیں ہے۔ کلینڈر سے 2020 کونکال کر نشانہ پر رکھا گیا۔ کورونا سے جنگ یہ ہے کہ آپ زندگی کرنا نہ بھولیں۔ عشق کریں، بچوں کی شادی کریں، مسکرائیں بھی، جو زندگی کورونا سے پہلے جیتے تھے، اس زندگی کواحتیاط کے ساتھ بر قرار رکھیں۔
اور یہ یاد رکھیں، سب کے ایکشن مختلف ہوں گے۔
ہم کورونا کے ساتھ ایک نئی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم جینا بھول جاییں۔


