امریکہ میں فسادات: تصویر کا دوسرا رخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مانا کہ صدر ٹرمپ نے سفید فام نسل پرستی کو بڑھاوا دے کر سیاہ فاموں کے لیے زندگی مشکل بنائی ہے۔

مان لیا کہ ہر سیاہ فام امریکی جرائم پیشہ یا زہریلا نہیں ہوتا، ان میں مثبت شخصیت رکھتے ذمہ دار شہری بھی ہوتے ہیں۔

یہ بھی مان لیا کہ سفید فام پولیس والے صحیح نہیں ہوتے، ان میں سے بہت سے آفیسرز نسل پرست ہوتے ہیں۔

لیکن ہمیں تصویر کے دونوں رخ دیکھنے چاہیں۔

مجھے ایک بار ہیوسٹن کے پولیس ایک آفیسر نے بتایا تھا کہ پولیس کا قانون نافذ کرنا اور سیاہ فاموں کی گرفتاری کرنا کبھی بھی خوبصورت نہیں ہوتا۔ سیاہ فام چاہے وہ غلط ہوں یا صحیح، پولیس اریسٹ کی ہر صورت میں مزاحمت کرتا ہے۔ بدتمیزی، زور آوری اور گالم گلوچ کرتا ہے، بیشتر سیاہ فام گرفتاری کے سین پر موقع ملتے ہی یا بعد میں گینگ اپ کر کے پولیس والوں کو جان سے مارنے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔

میں اپنے شہر ہیوسٹن میں دو بچوں کی ماں ایک سفید فام امریکی پولیس آفیسر کے ڈیوٹی کے دوران قتل کو نہیں بھلا پا رہا۔ جسے پچھلے سال لوگوں سے اسلحے کے زور پر لوٹ مار کرنے والے اور ڈرگز بیچنے والے ایک سیاہ فام لڑکے نے اریسٹ سے بچنے کے لیے بے دردی سے اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر مار ڈالا تھا۔

اس کے بعد ہیوسٹن کے کئی سیاہ فاموں نے اس جرائم پیشہ نوجوان کو قانون کی گرفت سے بچانے کے لیے فنڈز جمع کیے اور زوردار میڈیا کیمپین چلائی کہ لڑکا بے قصور ہے، لڑکا ڈر گیا تھا، لڑکا نفسیاتی مریض ہے، لڑکا مظلوم سیاہ فام طبقے سے ہے، لڑکے کو ایک موقع اور ملنا چاہیے۔

امریکہ میں سیاہ فاموں کی جانب سے اپنی نسل کے لوگوں کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ یہ وہ عمومی رویہ ہے جو امریکی سیاہ فاموں کی صفوں میں کثیر تعداد میں موجود جرائم پیشہ افراد اور ان کے ساتھیوں کے ہر صورت میں بچائو کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

ایسے میں کہیں گہیوں کے ساتھ گھن پس جائے تو سیاہ فاموں کی مظلومیت کا کان پھاڑتا بین شروع ہو جاتا ہے۔ پورا امریکہ جلائے جانے کی مہم شروع کر دی جاتی ہے۔

کیوں سیاہ فام کے ہاتھوں ماری جانے والی گوری پولیس آفیسر عورت کے حق میں اور کالوں کی نسل پرستی یا سسٹم کے خلاف امریکہ میں کوئی مظاہرے نہیں ہوئے، کیوں نہ دکانیں اور گاڑیاں جلیں اور نہ ہی لوٹ مار ہوئی۔ کیونکہ بیشتر گورے لوگ نسلی فخر کے باوجود امریکہ سے، محنت سے، تعمیر سے، سسٹم اور قانوں کی عملداری سے رغبت رکھتے ہیں۔

میں ہیوسٹن شہر میں رہتا ہوں جہاں حالیہ برسوں میں شہر میں دیسیوں کے بےشمار سٹورز اور پیٹرول پمپس یا گیس سٹیشنز زیادہ تر کالوں نے لوٹے ہیں، وہاں کام کرنے والے دیسی کیشیئرز کو بے دردی سے قتل کیا ہے۔ دیسیوں نے کالوں کے اس عمومی ظلم پر کوئی بلوہ کیوں نہیں کیا۔

گورے نے کالے کو اس کی ڈرگ ڈیلنگ، اندھی لالچ، بدمعاشی، ہڈ حرامی، مفت خوری، نوسربازی، چوری، لوٹ مار، غیر ذمہ داری اور دیگر تمام منفی رویوں کے باوجود اسے ایک دور میں غلام بنانے کے تاوان کے طور پر جتنی سہولیات اور معاشی و معاشرتی حقوق دیے ہیں۔ ان سہولیات کے عشرِ عشیر کا حق بھی کالوں نے امریکی معیشت یا معاشرے کی بہتری کے لیے واپس نہیں کیا ہے۔

بیشک بعض مرتبہ کچھ کالوں کے ساتھ بے جا سختی ہوتی ہے لیکن بہت سےجرائم پیشہ سیاہ فام افراد قتل اور ڈکیتی کی درجنوں وارداتوں کے باوجود بدمعاشی، دھمکی، دھونس دھاندلی، چندے کے پیسے کے زور پر اچھے سے اچھا وکیل کر کے، پبلک پراسیکیوٹر یا سرکاری وکیل پر دبائو ڈال کے، ثبوت اور گواہ مٹا کے، تو کبھی مظلومیت کا ازلی رونا رو کے، کبھی کسی قانونی سقم کے سہارے بچ جاتے ہیں۔

قانون کو ہر صورت پامال کرتے ان کے جرائم کے فہرست طویل ہوتی جاتی ہے اور بالآخر یہ کسی خوفزدہ، کسی دل جلے یا کسی نسل پرست گورے پولیس آفیسر کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔

چند ایک کو چھوڑ کے یہ ان کا امریکی معاشرے میں عمومی کردار ہے۔ امریکی ریاست ٹیکساس میں میرے شہر ہیوسٹن سے باہر کسی متعصب ترین گوروں کے محلے میں رات دو بجے بھی مجھے لٹنے، پٹنے، گالیاں کھانے یا قتل ہونے کا اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا کہ کسی کالوں کے محلے میں دن دیہاڑے ہوتا ہے۔

یہ ہے امریکہ کے کالوں کی عمومی حقیقت جو ان کے خلاف گورے پولیس آفیسرز کے تشدد کی بڑی وجہ ہے، بجائے اس کے کہ کائونٹی شہر و ریاست کی سطح پر محنت، ایمانداری، احساسِ ذمہ داری، مثبت رویوں اور ہنرمندی سے معاشرے کا تعمیری فرد بن کے آگے آیا جاتا اور اپنی عوامی نمائندگی بڑھا کر پولیس رفارمز کے لیے مناسب قانون سازی کی جاتی۔ سیاہ فاموں نے پہلے سے مشکلات کے شکار ملک میں اپنے احتجاج کی ایک نئی لہر کے ساتھ ساتھ انارکی، لوٹ مار اور سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی ہے۔ یہ ہے تصویر کا وہ دوسرا رخ جس پر بیشتر لوگ بات نہیں کر رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *