نفرت کے قبیلوں کے لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محبت کی وادی کے اس پار نفرت کے جزیرے ہیں۔ اور انسان کبھی اس پار کبھی اس پار، نفرت اور محبت کی پنڈولم پر لٹکتا ہوا ایک پتلا ہے۔ اس چھوٹی سی زندگی میں کچھ بھی نہیں سیکھ سکے لیکن اگر سیکھا تو وہ یہ ہے۔ کہ انسان کے لیے، اگر دنیا میں کچھ نقصان دہ ہو سکتا ہے تو وہ نفرت ہے

جس طرح محبت ایمان کو تقویت دیتی ہے بالکل اسی طرح نفرتیں کفر تک لے جاتی ہیں۔ نفرتیں محبتتوں کی قاتل ہوتی ہیں۔ سوائے محبت کی خوشبو کے نفرت کے تعفن کا کوئی توڑ ہے نہ علاج۔ ۔ ۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو ماں کی محبت کے لمس کا احساس قدرت اس کو تحفے میں دے دیتی ہے۔ ایک بلکتے ہوئے نومولود بچے کو جب اس کی ماں اپنی گود میں لیتی ہے تو معصوم کے سارے جسم میں طمانیت کی ایک لہر سرایت کر جاتی ہے۔ ماں کی مامتا کا یہ لمس بچے کی محبت کا پہلا تجربہ ہوتا ہے۔

قدرت سے محبت کا تحفہ لے آ کر پھر نہ جانے کیوں ہم اس دنیا میں نفرتوں کے قبیلے آباد کر لیتے ہیں۔ نفرتوں سے نابلد یہ انسان نہ جانے کب نفرت کا اسیر ہو جاتا ہے۔ محبت کے لیے کم پڑ جانے والی زندگی میں نہ جانے ہم انسان نفرت کے لیے وقت کیسے نکال پاتے ہیں۔ جس طرح محبتوں کے باسی دور سے پہچانے جاتے ہیں۔ اسی طرح نفرت کے قبیلے کے لوگوں کے انداز بھی نرالے ہوتے ہیں۔ اگر اہل محبت کے ہاں لاکھوں دلائل ہیں۔ تو نفرت والوں کے پاس کروڑوں جواز۔

نفرت کے مکان کا مکین کہتا ہے کہ جو میں کہتا ہوں۔ ہر کوئی کیوں نہیں کہتا۔ مجھے نفرت ہے۔ اور جو میں سہتا ہوں۔ کوئی اور کیوں نہیں سہتا مجھے نفرت ہے۔ یہ نفرت کے بیوپاری، محبتوں کے بازار میں ایک بھی خریداری نہیں کرتے۔ یہ آتے ہیں۔ اور محبتوں کے بھاؤ پوچھ کر آخر میں نفرت خرید کر گھر لے جاتے ہیں۔ نفرت کے قبیلے کے یہ لوگ کہتے ہیں۔ کہ یہ دریا اس طرف کو کیوں نہیں بہتا، ہمیں نفرت ہے۔ یہ بادل روز ایک راستے پر کیوں نہیں چلتے، بس ہمیں نفرت ہے۔

نفرت کی قبیلے کے یہ لوگ جگنو کو شب کے پردے میں نہیں دیکھ سکتے۔ یہ بلبل کے چہکنے کو ایک سازش سمجھتے ہیں۔ یہ کوئل کی آواز کو دھوکا کہتے ہیں۔ یہ رات کے پردے میں برستی چاندنی پر بھی شک کرتے ہیں۔ یہ پھول پہ بیٹھنے والی تتلی کو فاحشہ کا لقب دے دیتے ہیں۔ یہ بھنورے کے گنگنانے کو اچھا نہیں سمجھتے۔ یہ بھوک سے بلکتے ہوئے بچے سے تو منہ پھیر لیتے ہیں لیکن بھوکے بچے کی بھوک کی خاطر مزدوری پر نکلی ہوئی ماں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہیں ہر منزل اور ہر پڑاؤ پر اعتراض ہوتا ہے۔ یہ چلنے والوں کے ساتھ چل نہیں سکتے۔ اور یہ رکنے والوں کے ساتھ رک نہیں سکتے۔ یہ چلتے قافلوں کو روکنا چاہتے ہیں۔ جب لوگ چلتے ہیں تو یہ رک جاتے ہیں۔ اور جب لوگ رکتے ہیں۔ تو یہ چل پڑتے ہیں

ہمیں اللہ تعالی کی دی ہوئی اس خوبصورت کائنات میں بہرحال پھول اگانے ہیں۔ اپنے پھولوں بھرے چمن کو بچانے کے لیے ہمیں بہرحال کانٹے بکھیرنے والوں کو ڈھونڈنا پڑے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اہل محبت کو نفرت والوں کے اس قبیلے کا پتہ ہوتا ہے۔ کیونکہ جیسے محبت چھپ نہیں سکتی اسی طرح نفرت بھی ہر حال میں اپنے آپ کو آشکار کر دیتی ہے۔ محبتیں اکثریت میں ہوتی ہیں۔ لہذا اہل محبت کو نفرت کی اقلیت سے جنگ جیتنی ہو گی۔ نفرت کے قبیلوں کے ان چند لوگوں کو محبت سے بتانا ہو گا، پیار سے سمجھانا ہوگا۔ کیونکہ دنیا کی بقا کے لیے محبت کا فاتح عالم ہونا، بہرحال ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply