راولپنڈی میں گھریلو ملازمہ بچی کی ہلاکت پر پاکستان میں سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریپ

iStock
فائل فوٹو

پاکستان کے شہر راولپنڈی میں ایک آٹھ سالہ گھریلو ملازمہ بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعے نے ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

یہ بچی ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئی۔ راولپنڈی پولیس نے مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث ایک جوڑے کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کے مرکزی ملزم حسن صدیقی ہی بچی کو ہسپتال لے کر آئے اور پھر اسے وہاں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

پولیس کے مطابق ’ملزم کے مطابق بچی نے صفائی کرتے ہوئے اُن کے گھر میں موجود دو قیمتی طوطے غلطی سے پنجرے سے اڑا دیے تھے۔ جس کے بعد حسن صدیقی اور ان کی بیوی نے طیش میں آ کر بچی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

پولیس نے بتایا کہ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرِ علاج بچی کے جسم کے مختلف اعضا، خاص کر رانوں کے درمیان زخموں کے نشانات تھے اور ڈاکٹر کے مطابق بچی سے مبینہ طور پر جنسی زیادتی بھی کی گئی تھی جس کی تصدیق کے لیے خون کے نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھیج دیے گئے ہیں۔

اس واقعے کی تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد سے سوشل میڈیا ویب سائٹس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ٹوئٹر پر #JusticeForZohraShah (جسٹس فار زہرہ شاہ) گذشتہ کئی گھنٹوں سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔

مینا گبینا نامی ایک صارف نے سوال کیا کہ ’آپ ایک سات سال کی بچی کو اپنے گھر میں کام کے لیے کیسے ملازمت پر رکھ سکتے ہیں؟ کیسے؟ آپ ایک سات سال کی بچی کو کیسے مار سکتے ہیں؟ کیسے؟ آپ ایک سات سال کی بچی کو پرندوں کو پنجرے سے آزاد کرنے پر کیسے قتل کر سکتے ہیں ؟ کیسے؟‘

ایک اور صارف ندا کرمانی نے لکھا کہ ’بچوں کو نوکری پر رکھنا بند کریں، یہ استحصال کی بدترین شکل ہے۔ ان حالات میں بچے غیر محفوظ ہوتے ہیں اور انھیں بدسلوکی کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اِن کے والدین کو نوکری دیں۔ ان (بچوں) کی سکول جانے میں مدد کریں۔ سب بچوں کے ساتھ اپنے بچوں جیسا سلوک کریں، عزت اور ہمدردی کے ساتھ۔ ایک اچھے انسان بنیں۔‘

پاکستان میں کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

ملک میں اس سے قبل بھی ایسے بہت سے واقعات پیش آئے ہیں جن میں معمولی سی بات یا غلطی پر کمسن ملازمین پر بدترین تشدد کیا گیا ہو۔ ماضی میں پیش آئے ایسے واقعات کے بعد معاشرے میں اور سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا مگر اس کے باوجود اس نوعیت کے واقعات گاہے بگاہے خبروں میں آتے رہے ہیں۔

اور واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے جنوری 2019 پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ صوبائی اسمبلی سے پاس کیا تھا جس کے تحت پندرہ سال سے کم عمر کے بچوں سے گھریلو ملازمت نہیں کرائی جائے گی۔ اس قانون پر تاحال عمل نہیں کیا گیا ہے۔

تصویر کے اس رُخ کی جانب بھی بہت سے صارفین نے روشنی ڈالی ہے۔

رامین نامی صارف نے لکھا کہ ’آئے روز ٹوئٹر پر کسی کے لیے انصاف مانگنے کے لیے ایک ٹرینڈ چلتا ہے، پھر جیسے ہی ٹرینڈ ختم ہوتا ہے ہم زیادتی کے/کی شکار فرد کو بھول جاتے ہیں، اور پھر ایک اور واقعہ رونما ہوتا ہے، ایک اور ٹرینڈ چلتا ہے، اور ہم پھر بھول جاتے ہیں۔ انسانیت کہاں چلی گئی ہے؟‘

راولپنڈی میں پیش آئے دلخراش واقعے کے بعد جہاں ایک جانب لوگ ملزمان کو جلد کیفرِ کردار تک پہنچانے اور انصاف کا تقاضہ کر رہے ہیں وہیں بہت سے لوگ یہ تقاضہ کر رہے ہیں کہ کم عمر بچوں کو ملازمت پر رکھنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

طاہرہ کلیم نامی ایک صارف نے اپنی تنظیم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25A پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتی ہیں، اس آرٹیکل کے تحت پانچ سے 16 برس کی عمر کے ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ انھوں نے لکھا کہ خاص کر لڑکیوں کی تعلیم ان کی حفاظت کی بہترین ضامن ہے۔

مہر نامی ایک صارف نے لکھا کہ آج بھی ہمارے ملک میں گھریلو ملازمین کی فلاح و بہود کے لیے آواز اٹھانے والی کوئی یونین، ایجنسی یا کوئی اور پلیٹ فارم نہیں ہے۔ ’کسی کی کیسے ہمت ہوئی کہ اتنی چھوٹی عمر کی بچی کو ملازمہ رکھا؟ یہ پہلا مجرمانہ فعل نہیں کہ اشرافیہ میں سے کسی نے چھوٹی عمر کے گھریلو ملازم کو قتل کیا ہو۔‘

اس بحث کے دوران انسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کی چند پرانی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جن میں وہ پارلیمان اور اپنے دفتر میں اپنی نشست پر بظاہر سوئی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

ان تصاویر کے ساتھ یاسف نامی صارف نے لکھا کہ ’زہرا سات برس کی عمر میں ایک گھر میں کام کر رہی تھی جو بچوں سے مزدوری کروانے کے قانون کی خلاف ورزی ہے، اور پھر اُس پر تشدد کیا گیا اور اسے قتل کردیا گیا۔ مگر ہماری وزیر برائے انسانی حقوق جنھیں ان قوانین کو نافذ کروانا چاہیے وہ نیند کے مزے لوٹ رہی ہیں۔‘

یاسف کے علاوہ بہت سے دیگر افراد نے بھی وزیر برائے انسانی حقوق کی یہی تصاویر شیئر کی ہیں اور ان پر اور ان کی وزارت پر اسی نوعیت کے اعتراضات کیے ہیں۔

اسامہ ذوالفقار باباخیل نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’مجھے ابھی پتا چلا ہے کہ پاکستان میں ایک بچے کی زندگی چند پرندوں کے نقصان سے بھی کم ہے۔‘

فریا بٹ نے بہت سے دیگر ٹوئٹر صارفین کی طرح ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک کھلے پنجرے سے دو پرندے اڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور اُن ہی الفاظ کا استعمال کیا جو باقی سب کر رہے ہیں کہ پرندے پنجرا چھوڑ گئے، ایک فرشتہ دنیا چھوڑ گیا۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14068 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp