لڑکیاں پیڈ کے لیے اب فکر مند نہ ہوں


پاک سر زمین کی حدود میں انسانی زندگی سے جڑے بہت سے موضوعات پر بات کرنا، نا صرف ممنوع ہے، بلکہ کچھ معاملات تو ایسے ہیں جسے سننے سے وضو خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ پاکی نا پاکی کی سرحد میں داخل ہوتے دیر ہی نہیں لگتی۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اسکول کی بچیوں کے لیے 2020ء کا جو اہم اعلان کیا ہے، وہ اعلان آپ کو بتاتے میں ڈر رہا ہوں، کہ کہیں ہر وقت باوضو رہنے والے مومن کا وضو نہ ٹوٹ جائے یا کسی کی طہارت نہ جاتی رہے۔ پہلے ہی کرونا کے نام پر اہل مغرب، خصوصاً بل گیٹس مسلمانوں کے جین (GENE) تبدیل کرنے کی سازش کر چکے ہیں۔

اس پہ مستزاد نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن نے حکومت کی جانب سے  ہائی اسکولوں میں پڑھنے والی بچیوں کو ماہواری کے ایام میں پیڈ اور اس طرح کی دیگر اشیا فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بقول جسنڈا آرڈرن بہت ساری لڑکیاں ماہواری کے دنوں کی ضروریات پوری نہ کر پانے کی وجہ سے اسکول آنے سے گریز کرتی ہیں۔ انھیں اس طرح کی سہولیات اب نیوزی لینڈ حکومت مہیا کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی اشیا انسانی ضرورت کا سامان ہیں، آسائش نہیں۔

اسلام آباد، لاہور، کراچی جیسے کچھ بڑے شہروں کے نجی اسکول و کالج، طلبا و طالبات کو پاک سر زمین کے ممنوع موضوعات پر تعارفی بات چیت پڑھا دیتے ہیں، مگر سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی نظریاتی دیواریں پار کرنا، اس طرح کے موضوعات کے بس کی بات نہیں۔ ماہواری کے متعلق سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والی بچیوں سے بات کرنا اور ان کو آگاہی دینا، وطن عزیز کے نظریاتی سرحدوں کو پار کرنے جیسا ہے۔ اگر ہمارے یہاں سرکار کی طرف سے اس طرح کا کوئی اعلان (معجزہ) کیا بھی جائے، تو کیا وہ حکومت اگلے چوبیس گھنٹے اپنے اعلان پر قائم رہ پائے گی؟ انسانی شعور کا ارتقا، حیاتیاتی تبدیلیاں اور جنس جیسے موضوعات پاک وطن میں شجر ممنوع کے مانند ہیں۔ کسی حد تک نجی اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن دی جاتی ہے مگر سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں ان موضوعات پر بات کرنا گنہ کرنے جیسا ہے۔

پیڈ اور اس طرح کی اشیا تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اپنے سامان کی تشہیر کرنا ہوتا ہے۔ آج بھی پاکستان میں "امت” و "جسارت” جیسے اخبارات اور "تکبیر” جیسے جریدے اس طرح کی اشیا کے اشتہارات نہیں چھاپتے۔ دلیل یہ ہے کہ یہ اخبارات اور جریدے گھروں میں بھی پڑھے جاتے ہیں۔ فقیر کو یہ نایاب دلیل سکھر سندھ میں "امت” کے ایک خوبرو مجاہد نے دی تھی۔ وہ دن اور آج کا دن، اس پاپی من نے "امت” کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔

وہ عورتیں جو ان اشیا کو خریدنے جاتی ہیں، ان کو پیڈ اور اس طرح کا ضرورت کا سامان خریدتے وقت جن نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ وہی جانتی ہیں۔ اس طرح کی نا پاک نظریں پاک وطن ہی میں دکھائی دیتی ہیں۔ لڑکیاں تو یہ خریداری کیا کریں گی، وہ اپنے زبان تک پر ایسی ان "آلودہ اشیا”  کا نام تک نہیں لا سکتیں۔

لڑکی اور پھر عورت ہونا اس ملک میں کتنی بڑی سزا ہے۔ عمر سے جڑی حیاتیاتی اور جنسی تبدیلیوں سے ہر فرد گزرتا ہے، وہ عورت ہو چاہے مرد۔ لیکن اس تبدیلی کو جاننے کا حق صرف مرد کو حاصل ہے۔ کوئی اسکول، کالج اپنے نصاب میں اس طرح کے موضوعات شامل کنا چاہتا ہے، تو ایسے میں پردہ داروں کا پردہ چاک ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، حیا کا جنازہ نکل جاتا ہے اور بے حیائی کی وبا پھیلنے کا اندیشہ ہونے لگتا ہے۔

لکھاری، میڈیا سائنسز کا طالب علم ہے۔ پڑھنا، سیاحت کرنا اور لکھنا اس کے محبوب کاموں میں شامل ہے۔

Facebook Comments HS

اشفاق لغاری

لکھاری، میڈیا سائنسز کا طالب علم ہے۔ پڑھنا، لکھنا، گھومنا اور سیاحت کرنا اس کے محبوب کاموں میں شامل ہیں۔

ashfaq-laghari has 40 posts and counting.See all posts by ashfaq-laghari

One thought on “لڑکیاں پیڈ کے لیے اب فکر مند نہ ہوں

  • 05/06/2020 at 7:55 صبح
    Permalink

    تمام سرکاری سکول ایک جیسے نہیں حالات کسی حد تک بہتر ہوئے ہیں میں نے سرکاری اداروں میں تعلیم حاصل کی اس وقت 2002 میں ہمارے سکول میں Always کی جانب سے ایک ٹیم آئی تھی جنہوں نے ہمیں ایک فلم کے ذریعے ماہواری کے حوالے سے آگاہی دی تھی اور تمام بچیوں کو کتابچے اور پیڈ مفت فراہم کیے تھے جس طرح سے انھوں نے ہمیں سمجھایا تھا شاید ہماری مائیں نہیں سمجھاسکتیں۔۔۔اور آج بھی یہ کمپنی سکول و کالج اس مقصد کے لیے جاتی ہے رہی۔

Comments are closed.