ہم بھیڑیے، ہم وحشی، ہم درندے
الفاظ نہیں ہیں میرے پاس کے اپنے جذبات کا اظہار کر سکوں۔ بلکہ شاید اپنے غم و غصہ کا یا پھر اپنی بے بسی کا۔
کئی دفعہ سمجھایا اپنے آپ کو کہ اب ایسا کچھ نہیں لکھوں گا، جو لوگوں کو اداس کردے، کیونکہ میرے اکثر قاری مجھ سے اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ میں انہیں اداس کردیتا ہوں، وہ میری تحریریں پڑھ کر پریشان ہو جاتے ہیں، ان کی امیدیں ٹوٹ سی جاتی ہیں۔
مگر کیا کروں مجھے شاید نظر ہی یہ سب کچھ آتا ہے، میں سنتا ہی سب برا ہوں۔ پورا ماہ رمضان المبارک خاموش رہا، باوجود اس کے کہ بہت کچھ سنا، دیکھا اور پڑھا، مگر پھر بھی اپنے لب سی لئے۔ مگر اب نہیں، بس بہت ہوگیا، اب میں بولوں گا بھی اور لکھوں گا بھی اور شور بھی مچاؤں گا۔
آج کے دن کی 3 شہ سرخیوں نے میرے تن بدن میں آگ لگادی، وہ بھی شاید صرف اس لئے کہ میرا کم ظرف ضمیر کبھی کبھی جاگ جاتا ہے، باوجود میری ہر ممکن کوشش کے میں اسے ابھی تک صحیح طرح سے سلا نہیں پایا ہوں۔
سرخی نمبر 1 : چودہ سالہ بچی کو آٹھ سے نو ماہ حبس بے جا میں رکھا گیا اور مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
سرخی نمبر 2 : نو سالہ بچے کو لاہور کے ایک پارک میں کسی امیر زادے کے کتوں نے بھنبھوڑ ڈالا، بچہ شدید زخمی۔
سرخی نمبر 3 : آٹھ سالہ بچی کو شدید زد و کوب کرنے کے بعد جان سے مار دیا گیا۔ بچی بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے ایک گھر میں صفائی ستھرائی کا کام کیا کرتی تھی۔ بچی کا قصور یہ تھا کہ اس سے صفائی کے دوران غلطی سے طوطے اڑ گئے تھے۔
لعنت ہے اس سوچ کے اوپر، اس ذہنی حاکمیت کے اوپر، اس انصاف اور مساوات سے مبراء معاشرے کے اوپر، اس معاشرے کے اندر بسنے والے کمینی اور گھٹیا سوچ کے انسانوں کے اوپر۔ لعنت ہے ہم سب پر کہ جو پچھلے 3 روز سے مسلسل امریکہ میں ہونے والے مظاہروں پر اپنے تبصرے کر رہے ہیں اور تھک نہیں پا رہے امریکی قوم کے قصیدے پڑھ پڑھ کر اور اپنے سوشل میڈیا کو نت نئی لوٹ مار کی وڈیوز سے سجا کر۔
لعنت ہے اس ہجوم کے اوپر جو پچھلے چند روز سے کچھ اداکاروں کی نجی زندگی میں بے جا مداخلت کرے جا رہے ہیں اور اپنی ذہنی اور جسمانی پسماندگی اور نفس کی بھوک کو مٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
گھن آ رہی ہے مجھے اس معاشرے میں بسنے والوں کو انسان کہتے ہوئے، ہم تو بھیڑیئے ہیں۔ ہم نفسیاتی اور جنسی امراض کے مارے ہوئے تعفن زدہ وجود ہیں۔ ہم وحشی ہیں جن کا تہذیب اور تمدن سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ہم درندے ہیں جو اپنی ہوس اور نفسانی بھوک کے غلام ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ پانچ وقت ہمارے کانوں میں پڑنے والی اذان کی آواز، جو محلے کی تمام مکتبہ فکر رکھنے والی مساجد سے بیک وقت گونجتی ہے، جس میں بار بار بھلائی کی طرف بلایا جاتا ہے، جب وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکی، جب اللہ کے گھر کا طواف ہمیں نہ بدل سکا، جب ہمارے روزے ہمارے اطوار اور نفس کو نہ سدھار پائے تو بھلا میری یہ بے ضرر سی تحریریں کیا کریں گی۔
ویسے بھی اللہ رب العزت نے بھلائی انسانوں کے لئے رکھی ہے نہ کہ ہم جیسے وحشی درندوں کے لئے۔


