ٹڈی دل کا ایک چھوٹا حملہ: نوبل انعام یافتہ ادیبہ کا افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ اپنی موتی جیسی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھیں جیسے کسی بوڑھے کی آنکھیں ہوں۔ وہ اس پہ اپنی سخت دندانے دار ٹانگوں سے چپک رہی تھیں۔ ۔ ۔ اس نے کراہت سے اپنی سانس روک لی اور دوڑ کر دروازے سے گھر میں گھس گئی۔ ۔ ۔ اندر اس سے بھی زیادہ سخت طوفان کا احساس تھا۔ ۔ ۔ لوہے کی چھت گونج رہی تھی اور وہ دھات بجانے کا تڑاخ جو باہر سے آ رہا تھا، طوفانی گھن گرج جیسا تھا۔ ۔ ۔ اس نے باہر دیکھا۔ ۔ ۔ تمام درخت عجیب سے دکھ رہے تھے۔

بالکل ساکت۔ ۔ ۔ کیڑوں سے لدے ہوئے۔ ۔ ۔ ان کی شاخیں کیڑوں کے وزن سے زمین پہ جھک گئی تھیں۔ ۔ ۔ ہر طرف ٹڈیوں کے رینگنے سے زمین چلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ ۔ ۔ ایسا گھنا جھنڈ تھا کہ فرش تو دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔ پہاڑ کی طرف دیکھیں تو ایسا لگتا تھا کہ موسلا دھار بارش برس رہی ہے۔ ۔ ۔ اس نے سورج کی طرف دیکھا تو وہ بھی کیڑوں کے تازہ ہلے کے آنے سے ڈھک چکا تھا۔ ۔ ۔ یوں لگتا تھا آدھی رات کا وقت ہے۔ ایک آزردہ تاریکی ہر طرف چھائی تھی۔

اتنے میں درختوں کے جھنڈ سے چٹخنے کی آواز آئی۔ ایک شاخ ٹوٹ کر گری تھی۔ پھر دوسری گری۔ ۔ ۔ ڈھلوان پہ ایک درخت جھکتا چلا گیا تھا اور بوجھل ہو کے زمین پہ ڈھے گیا تھا۔ ۔ ۔ کیڑوں کی اس برسات میں سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔ ۔ ۔ مزید چائے اور پانی درکار تھا۔ ۔ ۔ مارگریٹ نے مہیا کیا۔ اس نے آگ جلائے رکھی اور ڈبوں میں مشروب تیار رکھے۔ ۔ ۔ شام کے چار بج گئے۔ ٹڈیاں اسی طرح کئی گھنٹے سروں پہ برستی رہیں۔ ۔ ۔

بوڑھا سٹیفن پھر گھر لوٹا۔ وہ اپنے ہر قدم کے ساتھ پیروں کے نیچے ٹڈیوں کو مسل دیتا تھا۔ ۔ ۔ اس کے اوپر ہر طرف ٹڈیاں چمٹی ہوئی تھیں۔ ۔ ۔ وہ اپنی پرانی ٹوپی کو ہوا میں لہرا تا، انھیں گالیاں بکتا، لعن طعن کرتا چل رہا تھا۔ ۔ ۔ دروازے پہ وہ کچھ دیر کو رکا۔ ۔ ۔ چمٹی ہوئی ٹڈیاں تیزی سے اتار کے پھینکیں اور ایک جست کے ساتھ ٹڈیوں سے محفوظ دیوان خانے میں داخل ہو گیا۔

’ساری فصل اجڑ گئی۔ کچھ نہیں بچا۔‘ اس نے اطلاع دی۔ ۔ ۔

دھات بجانے کی کھڑاک اب بھی جاری تھی۔ ۔ ۔ مرد اب بھی چلا رہے تھے۔ ۔ ۔ مارگریٹ نے پوچھا۔ ۔ ۔ ’تو پھر یہ سب کیوں جاری رکھا ہوا ہے؟‘

’ جو اصل جھنڈ ہے ٹڈی دل کا، ہم اسے اترنے سے روک رہے ہیں۔ ۔ ۔ وہ انڈوں سے لدا ہے۔ ۔ ۔ ٹڈیاں جگہ ڈھونڈ رہی ہیں جہاں وہ اتر سکیں اور انڈے دے سکیں۔ ۔ ۔ آج اگر ہم انھیں اپنے کھیتوں پہ اترنے سے روک سکے، یہی ہماری کامیابی ہو گی۔ اگر انھیں یہاں انڈے دینے کا موقع مل گیا تو ان سے نکلنے والی پھدکتی ٹڈیاں سب کچھ کھا جائیں گی۔‘ اس نے اپنی قمیض پہ چلتا ہوا ایک کیڑا اٹھایا اور اسے اپنے انگوٹھے کے ناخن سے چٹخ دیا۔ وہ انڈوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ ۔ ۔ ’سوچو یہی ٹڈیاں اربوں گناہ بڑھ جائیں تو۔ ۔ ۔ تم نے کبھی ٹڈیوں کی فوجیں آتی نہیں دیکھی ہوں گی؟ نہیں نا؟ خوش نصیب ہو۔ ۔ ۔‘

مارگریٹ کا خیال تھا کہ ٹڈیوں کا یہ بڑا جتھا بہت تباہ کن تھا۔ ۔ ۔

باہر زمین پہ پڑتی روشنی اب پیلاہٹ پکڑ چکی تھی۔ ۔ ۔ جیسے ہلکا زرد رنگ سایہ پڑنے سے گہرا ہو گیا ہو۔ اڑتی ٹڈیوں کے یہ بادل برستی بارش کی طرح کبھی گہرے ہوتے کبھی ہلکے۔ بوڑھا سٹیفن بولا۔ ۔ ۔ ’ان کے پیچھے اصل طوفان ہے۔ ۔ ۔ اصل جھنڈ وہ ہے۔ ۔ ۔‘

کیا وہ زیادہ خطرناک ہے؟ ’مارگریٹ نے خوفزدہ ہو کر پوچھا۔ ۔ ۔ بوڑھے نے پرزور انداز میں کہا۔ ۔ ۔‘ ہم برباد ہو گئے۔ یہ جھنڈ تو گزر جائے گا۔ مگر جب ایک بار یہ آ جائیں تو پھر یہ شمال سے ایک کے بعد ایک جتھے کی شکل میں آتے ہی رہتے ہیں۔ ۔ ۔ اور پھر ان سے پیدا ہونے والی ٹڈیاں۔ ۔ ۔ اب یہ سلسلہ تین چار سال چلے گا۔ ۔ ۔ ’

مارگریٹ دل ہار کے بیٹھ گئی۔ اگر یہ تباہی مقدر ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ اب آگے کیا کریں؟ ہم تینوں واپس شہر چلے جاتے ہیں۔ یہ سوچ کر اس نے بوڑھے سٹیفن کی طرف دیکھا۔ اس بوڑھے شخص نے چالیس سال اس جگہ کھیتی باڑی کی تھی۔ ۔ ۔ اور وہ اس سے پہلے بھی دو بار تباہ ہو چکا تھا۔ ۔ ۔ وہ جانتی تھی کوئی چیز اسے شہر جانے اور وہاں کلرک لگنے پہ راضی نہیں کر سکتی۔ ۔ ۔ اس کا دل اس بوڑھے کے لئے دکھی ہو گیا۔ ۔ ۔ وہ کس قدر مضمحل دکھ رہا تھا۔ ناک سے منہ تک پریشانی کی لکیریں گہری ہو گئی تھیں۔ ۔ ۔ بے چار ا بوڑھا آدمی۔ ۔ ۔ سٹیفن نے ایک ٹڈی پکڑی جو کسی طرح اس کی جیب میں گھس گئی تھی۔ اس نے اسے ایک ٹانگ سے پکڑ کر ہوا میں لہرایا۔ ۔ ۔ ’تمہاری ٹانگوں میں سٹیل کی کمانی جتنی طاقت ہے۔‘ اس نے ٹڈی سے دل لگی کرتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ گو کہ وہ پچھلے تین گھنٹوں سے ان ٹڈیوں سے لڑ رہا تھا۔ ۔ ۔ ضربیں لگا رہا تھا۔ ان پہ چلا رہا تھا۔ ۔ ۔ ان کے بڑے بڑے ڈھیر بنا رہا تھا تا کہ آگ میں جھونکا جا سکے۔ ۔ ۔ مگر اس ایک کو لے کر وہ دروازے تک گیا اور احتیاط سے باہر پھینکا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے مل جائے۔ جیسے کہ وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ ۔ ۔ مارگریٹ کو اس سے تسلی ہوئی۔ ۔ ۔ اچانک اسے احمقانہ سا لطف محسوس ہوا۔ ۔ ۔ اسے یاد آیا ان تین سالوں میں یہ پہلی دفعہ تھوڑا ہی تھا کہ ان مردوں نے اپنے آخری اور ناقابل تلافی نقصان کا اعلان کیا ہو۔ ۔ ۔

’ لڑکی۔ ۔ ۔ مجھے ایک جام بنا کے دو۔‘ مارگریٹ نے شراب کی بوتل اس کے آگے رکھ دی۔

اسی اثنا میں مارگریٹ کو خیال آیا کہ اس کا شوہر باہر ٹڈیوں کے طوفان کا سامنا کر رہا ہے۔ ۔ ۔ ڈبے بجا رہا ہے، آگ میں پتے جھونک رہا ہے۔ اور ایسے میں کیڑے اس کے پورے جسم پہ چپکے ہیں۔ ۔ ۔ اسے جھرجھری آ گئی۔ ’آپ لوگ انھیں خود کو چھونے کیسے دیتے ہیں؟‘ ۔ ۔ ۔ اس نے سٹیفن سے پوچھا۔ سٹیفن نے اس کی طرف ناگواری سے دیکھا۔ مارگریٹ کو ویسی ہی خجالت محسوس ہوئی جیسی اس وقت ہوئی تھی جب شادی کے بعد رچرڈ اسے لے کر گاؤں پہنچا تھا اور سٹیفن نے اس کے شہری حلیے پہ نظر ڈالی تھی۔ بالوں میں ڈالے گئے بل اور ان کی سنہری رنگت۔ ۔ ناخن، سرخ اور نوکیلے تراشیدہ۔ اب تو وہ باقاعدہ ایک کسان کی بیوی دکھتی تھی۔ آرام دہ جوتے اور مضبوط کپڑے کا لہنگا پہنے۔ ۔ ۔ شاید وقت کے ساتھ وہ ٹڈیوں کو بھی خود پر بیٹھنے کی برداشت پیدا کر لے۔

شراب کے چند جام چڑھا کر، بوڑھا سٹیفن میدان جنگ کی طرف واپس روانہ ہوا۔ ۔ ۔ اب کی بار وہ ان بھوری ٹڈیوں کی دمکتی لہروں میں سے راستہ بناتا آگے بڑھ رہا تھا۔

پانچ بج چکے تھے۔ ایک گھنٹے میں سورج غروب ہونے والا تھا۔ اس کے بعد ٹڈیاں کہیں نہ کہیں اتر جائیں گی۔ ۔ ۔ سر کے اوپر ان کے غبار اب بھی پہلے جیسا گھنا تھا۔ ۔ ۔ البتہ درخت اب خستہ ڈھیر دکھائی دے رہے تھے جن پہ بھوری شے چمک رہی تھی۔

مارگریٹ رونے لگی۔ ۔ ۔ کس قدر مایوس کن تھا یہ سب۔ اگر موسم خراب نہ ہوتا تو ٹڈیاں آ جاتیں ؛ اگر ٹڈیاں نہ آتیں تو سنڈیاں یا پھر آگ بھڑک اٹھتی۔ ۔ ۔ کچھ نہ کچھ ہر وقت ہوتا ہی رہتا۔ ۔ ۔ ٹڈیوں کے سرسرانے کی آوازیں یوں لگ رہی تھیں جیسے ایک بڑے جنگل میں طوفان اتر آیا ہو۔ ان بھوری چمکدار چڑھتی ہوئی لہروں کے نیچے زمین تو جیسے غائب ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ اس نفرت انگیز بھورے سیلاب میں غرق ہو گئی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے وزن سے چھت بھی گر جائے گی۔ ۔ ۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے دروازے بھی ان کا زور برداشت نہ کر پائیں گے۔ تمام کمرے ان سے بھر جائیں گے۔ ۔ ۔ ہر طرف گہرا اندھیرا چھا رہا تھا۔ ۔ ۔ اس نے کھڑکی سے باہر آسمان کی طرف دیکھا۔ ہوا تقریباً بند ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ ان گہرے بادلوں کی حرکت سے کہیں کہیں نیلا رنگ دکھتا تھا۔ ۔ ۔ وہ نیلے ٹکڑے سرد اور سپاٹ تھے۔ یقیناً اب سورج غروب ہو نے کو تھا۔ کیڑوں کے غبار میں اسے کچھ لوگ گھر طرف آتے دکھائی دیے۔ آگے آگے بوڑھا سٹیفن، بہادری سے چلتا ہوا، اور پیچھے اس کا شوہر نڈھال، تھکن سے چور۔ ۔ ۔ اور ان کے پیچھے ملازمین۔ سب کے اوپر کیڑے رینگ رہے تھے۔ باہر گھنٹیاں بجانے کی آوازیں تھم چکی تھیں۔ مارگریٹ کو اب ہزاروں ٹڈیوں کے پروں کی سرسراہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments