ناں! آصف مسکرانے پر تمہارا کچھ خرچ ہوتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنی اب تک کی زندگی میں ایسا وقت تو کبھی نہیں آیا تھا جب ہر صبح آنکھ کھلنے کے ساتھ ایک اندوہناک سے دکھ، مایوسی، نا امیدی اور خوف کی لہریں سارے شریر میں سر تا پیر دوڑنے لگتی ہوں۔ صبح صادق کی سپیدی بدترین حالات میں بھی اکثر امید کا پیغام ہی دیتی ہے۔ یکم جون کی رات کوئی تین بجے آنکھ کھل گئی۔ رات کے اس پہر کی اذیت کو کم کرنے کے لیے موبائل کھولا۔ جیسے کلیجے پر گھونسہ پڑا۔ آصف فرخی کے دنیا سے چلے جانے کی خبر تھی۔ ”نہیں نہیں نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کے کون سے مرنے کے دن تھے۔ ہم جیسے بوڑھے لوگ بیٹھے ہیں۔“ اب اضطراری حالت میں حمید شاہد کی پوسٹ پر لکھ رہی ہوں۔ ”حمید یہ کیسے ہوا؟“ سعدیہ قریشی سے پوچھ رہی ہوں۔

اتنا متحرک، ادب کی مایہ ناز لیجنڈری شخصیت جس کا اوڑھنا بچھونا ادب تھا۔ دنیا کے بہترین ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالنے والا ادیب، افسانہ نگار، مترجم، دنیا زاد جیسے منفرد اور اعلیٰ معیار کے ادبی پرچے کا مدیر اور شہرزاد جیسے ادارے کا پبلشر، ادبی میلے سجانے والا، انگریزی کا کالم نگار۔ اس کی ذات کے بے شمار پہلو اور ہر پہلو میں وہ کم و بیش بہترین۔

ڈان کے ادبی میگزین Books and authors کے صفحات اس کی خوبصورت تحریروں سے سجے ہوتے۔ ڈان میں چار لوگوں کو پڑھنا میرے لیے اتوار کے دن ناشتے کی طرح ہی ضروری ہوتا۔ اردشیر کیکاؤس جی، سیرل المیڈا، انتظار حسین اور آصف فرخی۔

یکم جون کی اس رات کو میرے لیے سونا دشوار ہوگیا تھا۔ خود سے پوچھتی تھی میں کس سے اس کی ناگہانی موت کی بات کروں۔ کشور ناہید سے، فاطمہ حسن سے، زاہدہ حنا سے، حمید شاہد سے۔ فجر کی اذان ہوئی اور جیسے ضبط تو قابو سے باہر ہوگیا۔

کچھ ہی پہلے کا ملنا یاد آیا تھا۔ وہ کمزور لگتا تھا۔ شیشوں کے عقب سے جھانکتی آنکھوں اور ہونٹوں پر سناٹا سا تھا۔ خیر سنجیدہ تو وہ ہمیشہ ہی رہتا تھا۔ پر جانے اس دن کیا ہوا جب وہ نیلم اور مجھ سے ملنے ہمارے پاس آیا۔ علیک سلیک اور خیر و عافیت جیسے رسمی جملوں کے بعد مجھ سے رہا نہ گیا۔ ”آصف خدا کے لیے مسکرایا کر۔ ہنسا کر ناں اس پر تمہارا کچھ خرچ ہوتا ہے۔ اور وہ مسکرایا۔ ہمارے ساتھ بیٹھا خوب باتیں کیں اور ہم نے تصویریں بنائیں۔

انتظار حسین سے بڑی گہری محبت اور عقیدت کے ساتھ پسرانہ قسم کی گہری انسیت بھی تھی۔ ان کی وفات پر رشتہ داروں نے میت فوراً شاہ جمال والی امام بارگاہ میں رکھ دی۔ صبح کے کوئی نو بجے جب میں گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔ کونے میں مجھے آصف فرخی تنہا خاموش کھڑا نظر آیا۔ فاصلے پر اصغر ندیم سید کھڑے تھے۔ ایک دو اور لوگ تھے۔ اصغر ندیم سید سے ملنے کے بعد میں آصف کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ گہرے دکھ اور یاس کی چادر میں لپٹا ہوا یوں جیسے اس کا قیمتی اثاثہ کوئی لوٹ کر لے جائے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے علیحدگی بھی اس کے لیے ایک گہرا جذباتی صدمہ تھا۔ جس ادارے کو اس نے بہت نایاب قسم کی کتابوں کے تحفے دیے۔ اس نامی گرامی ادارے کو ادب نواز ہونے کا ٹائٹل دلوانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس سے یوں آناً فاناً علیحدگی سوہان روح تھی۔

پر ایک اور محاذ پر وہ بڑا گھائل تھا۔ یہ اس کی ذات کا اس کے اندر کا محاذ تھا۔ پتہ نہیں بڑے اور جنونی لکھاریوں کی بیویوں کو یہ آگاہی کیوں نہیں ہوتی ہے کہ وہ جن کے لڑ لگی ہیں وہ عام لوگ نہیں ہیں۔ منفرد اور خاص ہیں۔ کچھ کام لینے ہیں قدرت نے ان سے۔ بلاشبہ ان کے ساتھ بشری کمزوریاں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ تاہم دل کو بڑا اور ظرف کو اعلیٰ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پشت پر تعاون دینے والا ہاتھ اور گھر کا سکون اہم ہے جو انہیں بکھرنے نہ دے۔ بیشتر بڑے لکھنے والے کم عمری میں دنیا سے چلے گئے۔ ان کی موت کے بڑے اور اہم عوامل میں یا محبوبہ تھی یا بیوی۔

دنیا زاد اس کا وہ عشق تھا جس کے معیار پر وہ کبھی سمجھوتا نہیں کرتا تھا۔ جسے منفرد بنانے میں وہ عالمی اور ملکی سطح کے سیاسی اور سماجی نوعیت کے اہم اور حساس معاملات پر دنیا بھر کے ادیبوں کو اپنے پرچے میں اکٹھا کر لیتا تھا۔ اس کتابی سلسلے کا ایک نمبر ہی نہیں کبھی کبھی دو دو نمبر نکال کر انہیں تاریخی اور ادبی دستاویز بنا تا۔ اس کا یہ کام کسی معرکے سے کم نہیں تھا۔

سالوں پہلے یاد پڑتا ہے اس کا پہلا فون شمال کے شورش زدہ علاقوں بارے میری لکھی گئی کسی کہانی بارے تھا۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ کہانیاں چار پانچ ہیں تو سہی مگر وہ امن کے دنوں کی ہیں۔ ان کی تہذیبی و تمدنی اور علاقائی مسائل کے پس منظر کو ابھارتی ہوئی۔

اس کی تنقیدی آنکھ میں بلا کی وسعت تھی۔ روس کے سفر نامے کا ایک باب پیٹرز برگ کا موتی ”پیٹر ہاف“ بھیجا۔ اب فون پر سوال جواب۔ یہ کیا بھیجا ہے آپ نے۔ کیوں کیا ہوا؟ فنون میں چھپنے والا آپ کا ہر سفر نامہ پڑھنا میرے لیے ضروری ہے۔ آپ کے اس مضمون میں عمارت کا حسن اور فطرت کا حسن تو بہت ہے مگر انسان کہاں ہیں؟ میں جیسے سناٹے میں آ گئی۔ اس نے کتنے اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اس کا ایک لائن کا یہ جملہ مستقبل میں میرے لیے ہمیشہ راہنما بنا۔

شام کی خانہ جنگی شاعری کے کے لیے رنگ و آہن کے آئینے میں ایک طویل مضمون تھا جسے اس نے نہ صرف چھاپا بلکہ تعریف بھی بہت کی۔

اسپین سے واپس آئی تو سپینش شاعر گارشیا لورکا کی شاعری اور شخصیت نے اتنا متاثر کیا کہ اس پر تفصیلی کام کیا۔ دنیا زاد کو بھیج دیا۔ مضمون آدھا چھاپا شاعری والا حصہ اڑ گیا۔ پوچھا تو سننے کو ملا۔ دراصل شاعری والا حصہ کمزور ہے، ”آصف شاعری کے اس ترجمے کو انتظار صاحب نے دیکھا اور بہت پسند کیا ہے۔ ترجمے میں میرا گرو بورس پاسترنک ہے جو نفس مضمون کا رس نکالتا اور پھوک چھوڑ دیتا ہے۔“

دراصل ہمارے درمیان ایک وقت ایسا بھی آ گیا تھا جب تعلقات میں کھچاؤ اور لاتعلقی کا عنصر آ گیا۔ وجہ بس چھوٹی سی غلط فہمی ہی تھی۔ ادھر ادھر کی باتیں کرنا کبھی مجھے پسند نہیں رہا۔ میں نے بھی کچھ توجہ نہ کی اور نہ ہی صفائیاں دینے کی کوشش کی۔

کچھ ماہ سے میرے اندر جیسے ایک خلش سی تھی کہ اس بار جب وہ لاہور آئے گا تو اس سے کھل کر بات کروں گی۔ مجھے تو اپنی زندگی کے لالے تھے اور جانتی نہیں تھی کہ گنگا الٹی بہہ نکلے گی۔

آصف تم تو ہمارے بیٹے جیسے تھے۔ تمہارے جانے کے ابھی دن نہیں تھے۔ مرتے جو نہ کچھ دن اور تو کیا بگڑتا تیرا والی بات مجھے نہیں کہنی۔ یہاں مجبوری ہے۔ جس کا اسٹیشن آ گیا اسے تو ہر صورت اترنا ہی اترنا ہے۔ بس دعائیں اور ڈھیروں دعائیں اور پیار تمہارے لیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *